Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری (تابندہ ستارے۔670)

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 670)

جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں مالِ غنیمت دیا تو میرے حصہ میں کچھ جوان اونٹ آئے۔میں وہ اونٹ ہانک کر اپنے اس ساتھی کے پاس لے گیا۔ وہ باہر آئے اور ایک اونٹ کے پیچھے کے تھیلے پر بیٹھ گئے ا ور کہنے لگے:ان اونٹوں کو پیچھے لے جائو( میں پیچھے لے گیا) پھر انہوں نے کہا:ان کو آگے لے جائو( میں ان کو آگے لے گیا)پھر انہوں نے کہا:مجھے تو تمہارے یہ جوان اونٹ بڑے عمدہ نظر آرہے ہیں۔ میں نے کہا:یہی تو وہ مالِ غنیمت ہے جس کے دینے کا میں نے اعلان کیا تھا۔ اس بڑے میاں نے کہا:تم اپنے یہ جوان اونٹ لے جائو اے میرے بھتیجے! ہمارا ارادہ تو تمہارے مالِ غنیمت کے علاوہ کچھ اور لینے کا تھا۔ امام بیہقی کہتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمہارے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کے بدلہ میں ہم دنیا میں مزوری لینا نہیں چاہتے بلکہ ہمارا ارادہ تو اجر و ثواب میں شریک ہونے کا تھا۔

 حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اللہ کے راستہ میں کسی کوکوڑادوںیہ مجھے ایک حج کے بعد دوسرا حج کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔

اجرت لے کر جہاد میں جانا

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضورﷺ نے ایک سریہ میں بھیجا۔ ایک آدمی نے کہا کہ میں آپ کے ساتھ اس شرط پر جاتا ہوں کہ آپ میرے لیے مالِ غنیمت میں سے ایک مقدار مقرر کردیں۔ پھر وہ کہنے لگا:اللہ کی قسم !مجھے پتہ نہیں تمہیں مالِ غنیمت ملے گا یانہیں اس لیے آپ میرے حصہ کی مقدار مقرر کردیں۔ میں نے اس کے لیے تین دینار مقرر کردئیے۔ ہم غزوہ میں گئے اور ہمیں خوب مالِ غنیمت ملا۔ میں نے اس آدمی کو دینے کے بارے میں نبی کریمﷺ سے پوچھا، حضورﷺ نے اس کے بارے میں فرمایا:مجھے تو اسے دنیا و آخرت میں بس یہی تین دینار ملتے ہوئے نظر آرہے ہیں جو اس نے لے لیے ہیں( اور اسے ثواب نہیں ملے گا)

حضرت عبداللہ بن دیلمیؒ سے روایت ہے کہ حضرت یعلی بن منیہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ حضورﷺ نے غزوہ میں جانے کے لیے اعلان فرمایا۔ میں بہت بوڑھا تھا اور میرے پاس کوئی خادم بھی نہیں تھا۔ میں مزووری پر غزوہ میں جانے والا آدمی تلاش کرنے لگا کہ میں اسے مالِ غنیمت میں سے اس کا پورا حصہ دوںگا، مجھے ایک آدمی مل گیا۔ جب غزوہ میں جانے کا وقت آیا تو وہ میرے پاس آکرکہنے لگا کہ پتہ نہیں مالِ غنیمت کے کتنے حصے بنیں گے اور میراکتنا حصہ ہوگا، اس لیے کچھ مقدار مقرر کردو۔ پتہ نہیں مالِ غنیمت ملے گا یا نہیں۔ چنانچہ میں نے اس کے لیے تین دینار مقرر کردیئے۔ جب مالِ غنیمت آیا تو میں نے اسے اس کا پورا حصہ دینا چاہا لیکن مجھے وہ ( تین ) دینار یا د آگئے۔ چنانچہ میں نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ااور اس آدمی کی ساری بات میں نے آپﷺ کو بتائی۔ آپﷺ نے فرمایا:میرے خیال میں تو اسے اس غزوہ کے بدلہ میں دنیا اور آخرت میں صرف وہ دینار ہی ملیں گے جو اس نے مقرر کیے تھے( نہ ثواب ملے گا اور نہ مالِ غنیمت کا حصہ)

دوسرے کے مال پر غزوہ میں جانے والا

حضرت میمونہ بنتِ سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:یا رسول اللہ!ہمیں اس آدمی کے بارے میں بتائیں جو خود غزوہ میں نہ جائے اور اپنامال دوسرے کو دے دے تاکہ وہ اس مال کو لے کر غزوہ میں چلا جائے، تو اس دینے والے کو ثواب ملے گا یا غزوہ میں جانے والے کو ملے گا؟آپﷺ نے فرمایا:دینے والے کو اس کے مال کا ثواب ملے گا اور جانے والا جیسی نیت کرے گا اسے ویسا ملے گا ( اگر ثواب کی نیت کرے گا تو ثواب ملے گا ورنہ مال ملے گا ثواب نہیںملے گا)

اپنے بدلے میں دوسرے کو بھیجنا

حضرت علی بن ربیعہ اسدی ؒ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے بیٹے کو غزوہ میں اپنی جگہ بھیجنے کے لیے لایا۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بوڑھے کی رائے مجھے جوان کے غزوہ میں جانے سے زیادہ پسند ہے۔

اللہ کے راستہ میں نکلنے کے لیے مانگنے پر نکیر

حضرت نافعؒ فرماتے ہیں کہ ایک طاقتور نو جوان مسجد میں آیا اس کے ہاتھ میں لمبے لمبے تیر تھے اور وہ کہہ رہا تھا کہ اللہ کے راستے میں جانے کے لیے کون میری مدد کرے گا؟

حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اسے بلایا، لوگ اسے لے کر حضرت عمررضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ آپؓ نے فرمایا: اپنے کھیت میں کام کرانے کے لیے کون اسے مجھ سے مزدوری پر لیتا ہے؟ایک انصاری نے کہا:اے امیر المومنین! میں لیتا ہوں۔ آپؓ نے فرمایا:ہر مہینہ اسے کتنی تنخواہ دوگے؟اس انصاری نے کہا:اتنی دوں گا۔حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا:لو، اسے لے جائو۔ چنانچہ اس نوجوان نے ان انصاری کے کھیت میں کئی مہینے کام کیا۔ پھر حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اس انصاری سے پوچھا کہ ہمارے مزدور کا کیا ہوا؟اس نے کہا:اے امیر المومنین! وہ بہت نیک آدمی ہے۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor