Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری (تابندہ ستارے۔672)

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 672)

حضرت جابر رعینیؒ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک لشکر کو رخصت کرنے کے لیے اس کے ساتھ پیدل گئے اور فرمایا:تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس کے راستہ میں ہمارے پائوں غبار آلود ہوئے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا:ہمارے پائوں ( اللہ کے راستہ میں) کیسے غبار آلود ہوگئے ہم تو ان کو رخصت کرنے آئے ہیں؟(اللہ کے راستہ میں تو نہیں نکلے) حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے فرمایا:ہم نے ان کو تیار کیا اور ان کو( یہاں تک) رخصت کرنے آئے اور ان کے لیے دعاء کی( لہٰذا ہمارے یہ قدم بھی اللہ کے راستہ میں ہیں)

حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں کہ میں ایک غزوہ میں گیا تو حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ ہمیں رخصت کرنے کے لیے ہمارے ساتھ گئے۔ جب ہمیں رخصت کرکے واپس جانے لگے تو فرمایا:آپ دونوں کو دینے کے لیے اس وقت میرے پاس کچھ ہے نہیں، لیکن میں نے حضور اقدسﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کسی چیز کو اللہ کے سپرد کردیا جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرماتے ہیں، اس لیے میں آپ لوگوں کے دین کو اور امانت کو اور آپ لوگوں کے اعمال کے خاتمہ کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔

 جہاد سے واپس آنے والے غازیوں کا استقبال کرنا

حضرت سائب بن یزیدرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ غزوئہ تبوک سے واپس مدینہ تشریف لائے تو لوگوں نے آپﷺ کا استقبال کیا اور میں نے بھی بچوں کے ساتھ ثنیۃ الوداع جا کر حضور ﷺ کا استقبال کیا۔

حضرت سائب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضورﷺ غزوئہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو لوگ آپﷺ کا استقبال کرنے کے لیے ثنیۃ الوداع تک آئے۔ میں نو عمر بچہ تھا، میں بھی لوگوں کے ساتھ آگیا اور ہم نے آپﷺ کا استقبال کیا۔

 رمضان شریف میں اللہ کے راستہ میں نکلنا

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضورﷺ کے ساتھ غزوئہ بد ر اور فتحِ مکہ کا سفر رمضان شریف میں کیا۔

 حضرت عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دو غزووں کا سفر حضورﷺ کے ساتھ رمضان شریف میں کیا:ایک غزوئہ بدر کا اور دوسرے فتح مکہ کا اور ہم نے دونوں میں روزہ نہیں رکھا تھا۔

 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ غزوئہ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ تین سو تیرہ تھے، جن میں مہاجرین چھہتر(۷۶) تھے اور کفار کو بدر میں سترہ رمضان کو جمعہ کے دن شکست ہوئی تھی۔

امام بزار نے بھی یہی روایت ذکر کی ہے لیکن اس میں یہ ہے کہ اہل بدر تین سو دس سے کچھ زیادہ تھے اور ان میں انصار دو سو چھتیس تھے۔ اور اس دن مہاجرین کا جھنڈا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔

 حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضورﷺ اپنے سفر میں تشریف لے گئے اور حضرت ابو رُہم کلثوم بن حصین بن عتبہ بن خلف غِفاری رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا خلیفہ بنا کر گئے اور دس رمضان کو حضورﷺ نے یہ سفر شروع فرمایا۔ آپﷺ نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا اور آپﷺکے ساتھ تمام لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا، جب آپ عسفان اور مقام اُمج کے درمیان کدید چشمہ پر پہنچے تو آپﷺ نے روزہ افطار فرمادیا۔ پھر وہاں سے چل کر آپ مرالظہران جا کر ٹھہرے۔ آپﷺ کے ساتھ دس ہزار صحابہ تھے۔

 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ حضورﷺ فتحِ مکہ کے سال( فتح مکہ کے لیے) رمضان شریف میںتشریف لے گئے اور مقام کدید پہنچنے تک آپﷺ نے روزہ رکھا( اور وہاں پہنچ کر کھول دیا)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ حضورﷺ فتحِ مکہ کے سال رمضان شریف میں تشریف لے گئے اور آپﷺ نے روزہ رکھا ہوا تھا اور راستہ میں ٹھیک دوپہر کے وقت مقام کدید پر آپﷺ کا گزرہوا۔ لوگوں کو پیاس لگ گئی اور لوگ( پانی کی تلاش میں) گردنیں لمبی کرنے لگے اور وہ پانی پینے کے لیے بیتاب ہوگئے۔ اس پر حضورﷺ نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا یہاں تک کہ سب لوگوں نے پیالہ دیکھ لیا،پھر آپﷺ نے پانی پیا اور باقی سب لوگوں نے بھی پانی پیا۔

اللہ کے راستہ میں نکلنے والے کا نام لکھنا

’’بخاری ‘‘میں روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی مرد( نامحرم) عورت کے ساتھ تنہائی میں ہرگز نہ ملے اور نہ ہی کوئی عورت محرم کے بغیر سفر کرے۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor