Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 675)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 675)

سورۂ نور کی آیت بالا کی ہم نے مزید تشریح وتوضیح اس لیے کی ہے کہ قرآن سے پردہ اور احکام پردہ کا ثبوت مانگنے والوں کو اپنی کج روی کا علم ہوجائے، آیت بالا میں اول غض بصر (آنکھیں نیچی کرنے) کا حکم دیا ہے، پھر عورتوں کو مامور فرمایا ہے کہ زینت اور مواقع زینت کے پوشیدہ رکھنے کا اہتمام کریں، یہ بات کہ نامحرموں کے سامنے چہرہ کھولے رہیں اور نا محرم ان کو دیکھا کریں، آیت سے ثابت کرنا سخت نادانی ہے۔

عورتوں کو گھروں میں رہنے کا حکم

سورۂ احزاب میں ارشاد ہے:

اے نبیﷺ کی بیبیو! تم معمولی عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم تقویٰ اختیار کرو پس تم (نامحرم مرد سے) بولنے میں (جبکہ ضرورتاً بولنا پڑے) نزاکت مت کرو کیونکہ اس سے ایسے شخص کو میلان قلبی ہو جائے گا جس کے دل میں روگ ہو(بلکہ) تم قاعدہ کے موافق بات کرو (جسے پاکباز عورتیں اختیار کرتی ہیں) اور تم اپنے گھروں میں رہو اور زمانہ قدیم کی جہالت کے دستور کے موافق مت پھرو اور تم نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرو۔

ان آیات میں اول تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ کسی غیر محرم سے ضرورتاً اگر بات کرنی پڑے تو گفتگو کے انداز میں نزاکت اور لہجہ میں جاذبیت کے طریقہ پر بات نہ کریں، جس طرح چال ڈھال اور رفتار کے انداز سے دل کھنچتے ہیں، اسی طرح گفتار کے نزاکت والے انداز کی طرف بھی کشش ہوتی ہے، عورت کی آواز میں طبعی اور فطری طور پر نرمی اور لہجہ میں دل کشی ہوتی ہے، پاک نفس عورتوں کی یہ شان ہے کہ غیر مردوں سے بات کرنے میں بہ تکلف ایسا لب ولہجہ اختیار کریں جس میں خشونت اور روکھا پن ہو تاکہ کسی بد باطن کا قلبی میلان نہ ہونے پائے۔

دوسرا حکم یہ ارشاد فرمایا کہ تم اپنے گھروںمیں رہو، اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں کے لئے شب وروز گزارنے کی اصل جگہ ان کے اپنے گھر ہی ہیں، شرعاً جن ضرورتوں کے لئے گھر سے نکلنا جائز ہے پردہ کے خوب اہتمام کے ساتھ بقدر ضرورت نکل سکتی ہیں۔ آیت کے سیاق سے واضح طور پر معلوم ہورہا ہے کہ بلا ضرورت پردہ کے ساتھ بھی باہر نکلنا اچھا نہیں ہے، جہاں تک ہوسکے نامحرم کی نظروں سے لباس بھی پوشیدہ رکھنا چاہئے۔

جاہلیت اولیٰ کے دستور کے مطابق پھرنے کی ممانعت:

تیسرا حکم یہ دیا گیا ہے کہ زمانہ قدیم کی جاہلیت کے مطابق پھر امت کرو، زمانہ قدیم کی جہالت سے عرب کی وہ جاہلیت مراد ہے جو حضور اکرمﷺ کی بعثت سے پہلے عرب کے رواج اور سماج میں جگہ پکڑے ہوئے تھی، اس زمانہ کی عورتیں بے حیائی اور بے شرمی کے ساتھ بلا جھجھک بازاروں میں ، میلوں میں اور گلی کوچوں میں بے پردہ ہوکر پھراکرتی تھیں اور بن ٹھن کے نکلتی تھیں اور سرپر یا گلے میں فیشن کے لیے دوپٹہ ڈال دیا، نہ اس سے سینہ ڈھکا، نہ کان اور نہ چہرہ چھپایا، جدھر کو جانا ہوا چل پڑیں، مردوں کی بھیڑ میں گھس گئیں، نہ اپنے پرائے کا امتیاز نہ غیر محرموں سے بچنے کا فکر،یہ تھا جاہلیت اولیٰ کا رواج اور سماج جو آج بھی اسلام کا دعویٰ کرنے والی عورتوں میں جگہ لے چکاہے اور نئے مجتہدین پردہ شکنی کی دعوت دے کر اسی جاہلیت اولیٰ کو ترقی دینا چاہتے ہیں، جس کے مٹانے کے لیے قرآن کریم کا نزول ہوا، سورۂ احزاب ہی میں ارشاد ہے:

اور جب تم ان سے کوئی چیزمانگو تو پردہ کے باہر سے مانگا کرو۔

یہاں بعض لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آیات بالا میں امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کو خطاب ہے، پھر آپ دوسری مسلمان عورتوں پر اس قانون کو کیوں لاگو کرتے ہیں؟ یہ لچر سوال شریعت کا بھرپور علم نہ ہونے کے باعث اٹھایا جاتا  ہے۔ اگر قرآن کے مزاج سے یہ لوگ واقف ہوتے اور اس کو جان لیتے کہ قرآن کا خطاب خاص اور مورد عام ہوا کرتا ہے تو ایسا سوال نہ کرتے، حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم ،ائمہ مجتہدین، سلف صالحینؒ ہمیشہ یہی سمجھتے اور کہتے آئے ہیں کہ ان آیات میں گو ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو مخاطب کیا گیا ہے لیکن یہ احکام تمام عورتوں کے لئے عام ہیں، اجماع امت اور احادیث نبویہ (علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ) سے  یہ امر ثابت شدہ ہے کہ ان آیات کا حکم امت کی تمام مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کے لئے عام ہے۔

ایک موٹی سمجھ والا انسان بھی (جسے خدا کا خوف ہو) ان آیات سے یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہوگا کہ جب ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے لئے یہ حکم ہے کہ اپنے گھروں ہی میں رہا کریں اور جاہلیت اولیٰ کے دستور کے مطابق باہر نہ نکلیں، حالانکہ ان کو تمام مومنین کی مائیں فرمایا گیا ہے (وازاوجہ امھاتھم) تو امت کی دوسری عورتوں کے لئے بے پردہ ہوکر نکلنا کیونکر درست ہوگا؟ شرف اور احترام کے باعث امت کی نظریں جن مقدس خواتین پر نہیں پڑسکتی تھیں، جب ان کو بھی قرار فی البیوت(یعنی گھروں میں رہنے) کا حکم دیا گیا ہے تو جن عورتوں کی طرف قصداً نظریں اٹھائی جاتی ہوں اور خود یہ عورتیں بھی مردوں کو اپنی طرف مائل کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں ان کو جاہلیت اولیٰ کے طریقہ پر باہر نکلنے کی کیسی اجازت ہوگی؟ کیا یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ خاندان نبوت کی چند خواتین کو مستثنیٰ کرکے امت کی کروڑ ہا عورتوں کو قدیم زمانہ کی جاہلیت کی طرح باہر پھرنے کی اجازت قرآن شریف کی طرف سے دی گئی ہو؟ آیات مذکورہ میں جو احکام مذکور ہیں ذرائع فساد کو روکنے کے لئے ہیں اور ظاہر ہے کہ دوسری عورتیں ان ذرائع سے روکنے کی زیادہ محتاج ہیں،پھر عام عورتوں کو ان احکام سے مستثنیٰ کرنا جہالت نہیں تو اور کیا ہے؟

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online