Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 677)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 677)

وتمنع المرأۃ الشابۃ من کشف الوجہ بین رجال لا لانہ عورۃ بل لخوف الفتنۃ الخ

 اور جوان عورت کو( نامحرم) مردوں کے سامنے چہرہ کھولنے سے روکا جائے گا ( اور یہ روکنا) اس وجہ سے نہیں کہ چہرہ (نماز کے) ستر میں داخل ہے بلکہ اس لیے کہ ( نامحرم) کے سامنے چہرہ کھولنے میں فتنہ کا خوف ہے۔(درمختار،شامی ص ۲۸۴ج۱)

شیخ ابن ہمام ؒ زادالفقیرمیںشرائط نمازبیان کر تے ہوئے لکھتے ہیں:

وفی الفتاوی الصحیح ان المعتبر فی فسادالصلوٰۃ انکشاف مافوق الاذنین و فی حرمۃ النظر یسوی بینھا ای مافوق الاذنین وتحتھما

فتاویٰ کی کتابوں میں ہے کہ مذہب صحیح یہ ہے کہ کانوں سے اوپر( یعنی بال اورسر) کے کھل جانے سے نماز فاسد ہوگی اور غیر مردوں کے لیے کانوں کے اوپر حصہ اورکانوں کے نیچے کا حصہ یعنی چہرہ وغیرہ کے دیکھنے کاایک ہی حکم ہے یعنی دونوں حصوں کا دیکھنا حرام ہے۔

بہت سے لوگ نماز بھی پڑھتے ہیں اوراپنے کو دیندار بھی سمجھتے ہیںاور پردہ کوبھی مانتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ پردہ کے سخت احکام مولویوں نے ایجاد کیے ہیں، یہ لوگ ملحدین بددین لوگوں کی باتوںسے متاثر ہیں، جن لوگوں کے دلو ں میں تھوڑا بہت اسلام سے تعلق باقی ہے ان کو راہ حق سے ہٹانے کے لیے شیطان نے یہ نئی چال چلی ہے کہ ہرایسے حکم کو جس کے ماننے سے نفس گریزکرتا ہومولوی کا تراشیدہ بتادیتا ہے اور اس کی بات کوباور کرنے والے اس دھوکہ میں پڑے رہتے ہیں کہ ہم نے نہ تو اسلام کو جھٹلایا،نہ قرآن کے ماننے سے پہلو تہی کی بلکہ مولوی کے غلط مسئلہ کاانکار کیاہے۔ کاش یہ لوگ اپنی مومنانہ ذمہ داری کا احسا س کرتے اور علماء حق سے گھل ملکر ان کے ظاہر وباطن کا جائزہ لیتے اور ان کے بیان کردہ مسائل کے دلائل معلوم کر کے اپنے نفوس کومطمئن کرتے ،علماء حق اپنی طرف سے کسی بھی مسئلے کا کوئی حکم اپنی طرف سے تجویز کر کے امت کے سر نہیں منڈھتے اورنہ وہ ایسا کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ چونکہ علماء کرام کو قرآن و حدیث کی تشریحات اور احکام شرعیہ کی پوری پوری تفصیلات معلوم ہیں،نیز دین کی وسعتیں اور رخصتیں بھی جانتے ہیں اورشرعی پابندیوںاورعزیمتوں سے بھی واقف ہیں ،اس لیے تحریراً اور تقریر اً احکام شرعیہ کی حدود و قیود اور ضوابط و شرائط سے امت کو آگاہ فرماتے رہتے ہیں، اسکولوں اور کالجوں کے پڑھے ہوئے نیم ملا چونکہ شریعت کا پورا علم نہیں رکھتے، اس لیے حقائق شرعیہ اور بالکل متفق علیہ مسائل دینیہ کو مولوی کی ایجاد کہہ کر ٹال دیتے ہیں اور یہ عجیب تماشا ہے کہ جس مسئلہ پر عمل نہ کرنا ہو اس سے بچنے کے لیے ایجاد مولوی کابہانہ پیش کردیتے ہیں، حالانکہ نماز، روزہ وغیرہ کے جن مسائل پر عمل کرتے ہیں وہ بھی تو مولویوں نے ہی بتائے ہیں لیکن چونکہ ان سے گریز کرنے کی نیت نہیں ہے اس لیے ان کو صحیح مانتے ہیں، میدان قیامت میں جب پیشی ہوگی تو کیا ایسی کج روی اور حیلہ سازی جان بچا سکے گی۔

عہد رسالت میںپردہ کا خاص اہتمام تھا

 حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سید عالمﷺ نے تین روز خیبر اور مدینہ منورہ کے درمیان قیام فرمایا، تینوں روز حضرت صفیہ رضی اللہ عنہانے آپ ﷺکے ساتھ شب باشی کی( اوروہیں جنگل میںولیمہ ہوا) ولیمہ میں کوئی گوشت روٹی نہیں تھی( بلکہ متفرق قسم کی دوسری چیزیں تھیں) آنحضرتﷺ نے چمڑے کے دستر خوان بچھانے کا حکم فرمایا، جس پر کھجوریں اور پنیر اور گھی لا کر رکھ دیاگیا ، میں لوگوں کوبلالایااور لوگوں نے ولیمہ کی دعوت کھائی( پورے لشکر میں سے جن کو نکاح کا علم نہ ہوا تھا وہ) لوگ اس تردد میں رہے کہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے آنحضرتﷺ نے نکاح فرمالیا ہے یاباندی بنالیا ہے، پھر ان لوگوں نے خود ہی اس کا فیصلہ کرلیا کہ آپﷺ نے ان کو پردہ میں رکھا تو ہم سمجھیں گے کہ آپﷺ کی بیوی ہیں اور اُمہات المومنین میں سے ہیں، ورنہ یہ سمجھیں گے کہ آپﷺ نے ان کولونڈی بنالیا ہے چنانچہ آپ ﷺ نے جب کوچ فرمایا تواپنی سواری پر ان کے لیے پیچھے جگہ بنائی اور ان کوسوار کر کے ان کے اور لوگوں کے درمیان پردہ تان دیااس سے سب سمجھ گئے( صحیح بخاری ص ۷۷۵ ج ۲ باب البناء فی السفر)

۷ھ میں نبی کریمﷺ غزوئہ خیبر کے لیے تشریف لے گئے ،خیبر میں یہودی رہتے تھے ( ان میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کاباپ حیی بن اخطب بھی تھا) اس جنگ میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہاکاشوہر قتل ہوگیا تھا ،جنگ کے ختم پر جب قیدی جمع کئے گئے تو ان میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہابھی تھیں، حضورﷺ نے ان کو آزاد کر کے نکاح فرمالیا۔

حضرات صحابہؓ میں یہ بات بہت مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی تھی کہ حُرہ یعنی آزاد عورت کو پردہ میںرہنا لازم ہے ، اسی لیے انہوں نے خود ہی فیصلہ کرلیا کہ اگر آنحضرتﷺ نے ان کو پردہ میں رکھاتوہم سمجھیں گے کہ آپﷺ کی بیوی ہیں ورنہ یہ سمجھیں گے کہ آپﷺ نے ان کولونڈی بنالیاہے ،پھر جب روانگی کے وقت آنحضرتﷺ نے ان کے اور لوگوں کے درمیان پردہ تان لیا توسب نے سمجھ لیا کہ لونڈی نہیں ہے بلکہ بیوی ہیں، اگر اس زمانہ میں پردہ کا رواج نہ ہوتا تو حضرات صحابہؓ کے دلو ں میں یہ سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔

اوپر کے مسئلہ میں لونڈی سے مراد شرعی لونڈی ہے، جو کافر عورتیں میدان جہاد سے قید ہو کر آتی تھیں اور امیر المومنین ان کو مجاہدین پر تقسیم کردیتا تھا وہ شرعی لونڈیاں بن جاتی تھیں، مسلمانوں نے جب سے شرعی جہاد چھوڑا ہے اس وقت سے غلام اور لونڈی بھی موجود نہیں رہیں، جو عورتیں ملازمت اور مزدوری پر گھروں میں کام کرتی ہے یہ لونڈیاں اورباندیاں نہیں ہیں، ان کو پردہ کا ویسا ہی اہتمام کرنا لازم ہے جو ہر آزاد عورت کے لیے ضروری ہے، اسی طرح جو لڑکے امیر گھرانوں میں ملازم ہوتے ہیں جب بالغ ہوجائیں یابلوغ کے قریب پہنچ جائیں تو ان سے پردہ کرنا لازم ہے۔ کیسی بے شرمی بات کی بات ہے کہ نوکروں کے سامنے بہو بیٹیاں آتی ہیں اور ذرابھی گناہ اور عیب نہیں سمجھتیں۔

(جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online