Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 678)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 678)

سفر میںشادی اورولیمہ:

حدیث بالا میں جو واقعہ مذکور ہے ہم لوگوں کے لیے ایک اور اعتبار سے بھی قابل عبرت ہے، آنحضرتﷺ نے سفر ہی میں نکاح فرمالیا اور سفر ہی میں شب زفاف ہوگئی اور ولیمہ بھی وہیں ہوگیا، لوگوں نے شادی بیاہ کے لیے بڑے بکھیڑے تجویز کر رکھے ہیں، ان بکھیڑوں کی وجہ سے شادیوں میں دیر ہوجاتی ہے اور بھاری قرضوں سے زیر بار ہوجاتے ہیں۔ دنیا بھر کے عزیز و اقارب جمع ہوں، جوسفر کے اخراجات کر کے آئیں اور عورتوں کی تراشی ہوئی رسموں کی پابندی ہو، مکان لیپ پوت کرمزین کیے جائیں، دولہا دلہن کے لیے بہت جوڑے بنیں، زیورات تیار ہوں اور اسی طرح کی بہت سی قیدیں اورشرطیں پیچھے لگا رکھی ہیں جو خاندانوں کے لیے عذاب بنی ہوئی ہیں، ان رسوم کو بہت سے لوگ مصیبت سمجھتے تو ہیں مگر عورتوں کے پھندے میں اور رواج کے شکنجہ میں اپنے کو ایسا پھنسار کھا ہے کہ سنت کے موافق سادہ طریقہ پر بیاہ شادی کرنے کوعیب جانتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہدایت فرمائے۔

 ایک بات اس حدیث سے یہ معلوم ہوئی کہ حضورﷺ نے جو اس موقع پر ولیمہ کیا، اس میں گوشت روٹی نہیں تھی بلکہ کچھ پنیر تھا اور کچھ دوسری چیزیں تھیں، حاضرین کے سامنے وہی رکھ دی گئیں معلوم ہوا کہ ولیمہ بغیر بکرے کاٹے اور قیمتی کھانے پکوائے بھی ہوسکتا ہے اور غریب آدمی بھی ولیمہ کی سنت پر عمل کر سکتا ہے، اس طرح کے ولیمہ سے گونام نہ ہوگا، جس کے آج کے مسلمان حریص ہیں مگر سنت ادا ہوجائے گی۔

مصیبت کے وقت بھی پردہ لازم ہے

حضرت قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ ایک صحابی عورت جن کو اُمّ خلادکہا جا تا تھا، رسول اللہﷺ کی خدمت میں اپنے بیٹے کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی غرض سے حاضر ہوئیں، ان کابیٹا ( کسی غزوہ میں )شہید ہوگیا تھا، جب وہ آئیں تواپنے چہرے پر نقاب ڈالے ہوئے تھیں ان کا یہ حال دیکھ کر کسی صحابی نے کہا کہ تم اپنے بیٹے کا حال معلوم کرنے کے لیے آئی ہواور نقاب ڈالے ہوئے ہو؟

حضرت اُمّ خلاد رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ اگر بیٹے کے بارے میں مصیبت زدہ ہوگئی ہوں تو اپنی شرم و حیا کھو کر ہر گز مصیبت زدہ نہ ہوں گی( یعنی حیا کا چلا جانا ایسی مصیبت زدہ کردینے والی چیز ہے جیسے بیٹے کا ختم ہوجانا) حضرت اُمّ خلاد رضی اللہ عنہا کے پوچھنے پر حضورﷺ نے جواب دیا کہ تمہارے بیٹے کے لیے دوشہیدوں کا ثواب ہے انہوں نے عرض کیا: یارسول اللہ!کیوں؟ارشاد فرمایا :اس لیے کہ اسے اہل کتاب نے قتل کیا ہے۔( سنن ابو دائود ص ۳۳۶، کتاب الجہاد باب فضل قتال الروم)

اس واقعہ سے بھی ان مغربیت زدہ مجتہدین کی تردید ہوتی ہے جو چہرہ کو پردہ سے خارج کرتے ہیں اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پردہ ہر حال میں لازم ہے۔ رنج ہو یا خوشی، نامحرم کے سامنے بے پردہ ہو کر آنا منع ہے۔ بہت سے مرد اور عورت ایسا طرز اختیار کرتے ہیں کہ گویا ان کے نزدیک شریعت کا کوئی قانون مصیبت کے وقت لاگو نہیں ہے،جب گھر میں کوئی موت ہوجائے تو اس بات کو جانتے ہوئے کہ نوحہ کرنا سخت منع ہے، عورتیں زور زور سے نوحہ کرتی ہیں جنازہ جب گھر سے باہر نکالا جاتاہے توعورتیں دروازے کے باہر تک اس کے پیچھے چلی آتی ہیں اور پردہ کا کچھ خیال نہیں کرتیں، خوب یاد رکھو، غصہ ہو یا رضامندی، خوشی ہو یا مصیبت ہر حال میں احکام شریعت کی پابندی کرنا لازم ہے۔

علاج کرانے میں پردہ کا اہتمام واجب ہے

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اُمّ المومنین حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضور اقدسﷺ سے سینگی لگوانے کی اجازت طلب کی، لہٰذا آنحضرت ﷺ نے ابو طیبہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اُمّ سلمہ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کوسینگی لگا دیں۔

یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابوطیبہ رضی اللہ عنہ سے جو سینگی لگوائی تو میرے خیال میں اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہاکے دودھ شریک بھائی تھے یانابالغ لڑکے تھے( مشکوٰۃ شریف: ص ۲۶۸ از مسلم)

اس حدیث سے معلوم ہواکہ عورت کے علاج کے سلسلہ میں بھی پردہ کا خیال رکھنا ضروری ہے، اگر معالج کے سامنے بے پردہ ہوکر آجانے میں کچھ حرج نہ ہوتا تو حضرت جابررضی اللہ عنہ کو یہ کیوں بتانا پڑتا کہ ابو طیبہ رضی اللہ عنہ حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہاکے دودھ شریک بھائی یا نابالغ لڑکے تھے،ہمارے زمانہ کے لوگوں کاعجیب حال ہے کہ جن خاندانوں اور گھروں میں پردہ کااہتمام ہے علاج کے سلسلہ میں ان کے یہاں بھی پردہ کا خیال چھوڑ دیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor