خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 617)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 617)

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے فرمایا: جس نے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا اور یہ کام صرف اللہ کے لیے کیا تو اس کے ہر بال کے عوض جس پر اس کا ہاتھ گزرے گا چند نیکیاں ملیں گی اور جس نے کسی یتیم بچی یا بچہ کے ساتھ اچھا سلوک کیا جو اس کے پاس رہتا ہو تو میں اور وہ جنت میں اس طرح سے ہوںگے۔لفظ ’’اس طرح سے‘‘ فرماتے ہوئے آپ ﷺ نے اپنی دونوں انگلیاں ( بیچ والی اور شہادت کی انگلی) ملالیں ( احمد وترمذی)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضوراقدسﷺسے اپنی سخت دلی کی شکایت کی ، آپﷺ نے فرمایا: تو یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا کر،ور مسکین کو کھانا کھلایا کر۔( احمد)

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: میں اور وہ عورت جس کے رخساروں پر سیاہی آگئی ہو قیامت کے دن ان دونوں( انگلیوں یعنی بیچ کی انگلی اور اس کے پاس والی شہادت کی انگلی)کی طرح(قریب قریب) ہوںگے، پھر اس عورت کی صفت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا : سیاہ رخساروں والی عورت سے وہ عورت مراد ہے جو صاحب حیثیت اور خوبصورت تھی، اپنے شوہر سے بیوہ ہوگئی اور اس نے اپنے یتیم بچوں کی پرورش کے لیے اپنے نفس کو(دوسرا نکاح کرنے سے) روکے رکھا،یہاں تک کہ وہ بچے بڑے ہو کر اس سے جدا ہوگئے( یعنی خدمت کے محتاج نہ رہے) یا وفات پاگئے۔( ابو دائود)

جس عورت نے اپنے یتیم بچے کی پرورش کے لیے قربانی دی، دوسرا نکاح نہ کیا اور بچوں کی خدمت اور دیکھ بھال میں لگے رہنے کی وجہ سے اس کا رنگ بھی بدل گیا حسن و جمال والے چہرہ پر سیاہی آگئی، اس کے لیے حضور اقدسﷺ نے یہ فرمایا : میں اور وہ عورت جنت میں اس طرح سے…قریب قریب ہوںگے جیسے ہاتھ کی بیچ کی انگلی اور شہادت کی انگلی آپس میں قریب قریب ہے، اللہ اکبر! اللہ تعالیٰ کیسے بڑے مہربان ہیں کہ انسان اپنے بچوں کو پالے اور اتنا بڑا مرتبہ پائے۔

حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تم کو افضل صدقہ نہ بتادوں؟(پھر) جواب میں فرمایا : افضل ترین صدقہ یہ ہے کہ تیری بیٹی تیری طرف واپس لوٹائی جائے( یعنی طلاق یا شوہر کی وفات کی وجہ سے اپنے میکہ میں واپس آجائے) اور تو اس پر خرچ کرے، اس کے لیے تیرے سوا کوئی کمانے والا نہ ہو۔( ابن ماجہ)

یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے فضائل معلوم کرنے کے بعد ہر مسلمان کو اپنے محاسبہ کی طرف خیال جائے گا کہ یتیموں کے ساتھ ہم حسن سلوک کرتے ہیں یا اس کے خلاف بدسلوکی سے پیش آتے ہیں،ہم بھی چاہتے ہیں کہ ان کے محاسبہ میں شریک ہوجائیں، سب سے زیادہ ہم ان لوگوں کو متفکر کرنا چاہتے ہیں، جن کے خاندان میں کسی کی وفات ہوگئی ہو اور مرنے والے نے اپنے پیچھے نابالغ بچے چھوڑے ہوں اور ان نابالغ بچوں کی پرورش اور خدمت خاندان کے کسی ایک فرد یا چند افراد کے ذمہ پڑگئی ہو، یہ نابالغ بچے یتیم ہو تے ہیں اور جن کے والد نے یا اور کسی مورث نے جو مال چھوڑا ہو وہ ان بچوں کی ملکیت ہوتا ہے، عام طور سے چونکہ میراث تقسیم کئے بغیر اپنی مرضی سے جہاں چاہے خرچ کرتا ہے ان یتیم بچوں پر بالغ ہونے تک تھوڑا بہت مال خرچ ہوتا ہے اور باقی مال دوسروں پر خرچ ہوجاتا ہے، مثلاً چچا اور بڑابھائی اپنے اوپر اور اپنی اولاد پر خرچ کر دیتے ہیں اور بلکہ بعض مرتبہ پوری جائیداد اپنی اولاد کے نام منتقل کردیتے ہیں اور جب یتیم بچے بالغ ہوجاتے ہیںتو ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا، اس طرح سے یتیموں کے مال بے جا کھانے اور ان کی جائیداد غصب کرنے کے گنہگار ہوتے ہیں جس کا وبال اور عذاب بڑا ہے۔

 قرآن مجید میں ارشاد ہے:

ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما انما یاکلون فی بطونھم نارا و سیصلون سعیرا

بے شک جو لوگ یتیموں کے مال بطور ظلم کے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ ہی بھرتے ہیں اور عنقریب دہکتی آگ میں داخل ہوںگے۔

٭…٭…٭