Bismillah

648

۳۰رمضان المبارک تا۶شوال ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۵تا۲۱ جون۲۰۱۸ء

مومن کی شان (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 645 (Talha-us-Saif) - Momin ki Shan

مومن کی شان

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 645)

مؤمن کی حقیقی شان کیا ہے؟

’’محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں اور وہ جو اُن کے ساتھ ہیں کفار پر انتہائی سخت ہیں باہم نرم دل ہیں‘‘ ( الٓایۃ)

مؤمن کفار پر سخت ہوتا ہے اتنا سخت کہ کفار اس سختی کو محسوس کرتے ہیں:

’’ اور چاہیے کہ وہ تم میں سختی پائیں‘‘ ( التوبۃ)

یعنی سختی کو صرف دل میں دَبائے رکھنے کا حکم نہیں بلکہ اُسے اِس طرح ظاہر کرنے کا حکم ہے کہ وہ کفار کو  محسوس ہو، وہ اس کی تپش کا اِحساس کریں اور اس سختی کے آثار انہیںبَرملا نظر آئیں۔

اِظہار کرنے کا بھی ایک ’’اُسوہ‘‘ ایک نمونہ مقرر کر دیا گیا:

’’ بے شک تمہارے لئے بہترین نمونہ حضرت اِبراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں میں ہے جب انہوں نے اپنی قوم ( کے کفار) سے کہا: بے شک ہم تم سے بے زار ہیں اور ان سے جنہیں تم اللہ کے سِوا پوجتے ہو۔ ہم نے تمہارا اِنکار کیا اور ہمارے تمہارے درمیان دشمنی اوربیر ہمیشہ کے لئے ظاہر ہو گیا‘‘ ( الممتحنۃ)

یعنی ہمارے اور تمہارے درمیان اگر کوئی تعلق ہے تو صرف ’’دشمنی‘‘ اور ’’بیر‘‘ ہے اور یہ تعلق عارضی نہیں ، وقتی نہیں ’’اَبَداً‘‘ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہے ’’ العداوۃ‘‘ کھلی دشمنی، ’’البغضاء ‘‘ دل کا بیر و بغض …

حضرت سیدنا اِبراہیم خلیل اللہ علیہ السلام اپنی قوم سے اِعلان فرما رہے ہیں کہ بس ہمارا اور تمہارا تعلق انہی دو جہتوں میں محدود ہے۔ اس کے سوا اگر کوئی تعلق محبت اور دوستی کا قائم ہو سکتا ہے تو صرف اس وقت:

’’یہاں تک کہ تم اکیلے اللہ تعالیٰ پر ایمان  لے آؤ‘‘ ( الممتحنہ)

اور آپ کے اس اعلان کو قیامت تک ایک مؤمن کے لئے اُسوۂ حسنہ اور پسندیدہ طرز عمل قرار دے دیا گیا ہے اور پھر جو اس تعلق میں جس قدر ترقی کرتا چلا جائے گا اُسی قدر اللہ تعالیٰ کا محبوب، مقرَّب اور پسندیدہ شخص بن جائے گا۔

دیکھئے! کائنات کی سب سے مقدس، اَعلیٰ ، اَرفع اور معیارِ حق جماعت کی صفات کا  ذکر ہوا تو سب سے اولیت جس صفت نے پائی وہ کون سی ہے؟

’’وہ کفار پر انتہائی سخت ہیں‘‘ ( الفتح)

جب اس جماعت کی صفات بیان ہوتی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اِرتداد اور دین سے روگردانی کے عمومی ماحول کے وقت اپنے دین کی نصرت اور غلبے کے لئے خود منتخب فرمائے گا تو اس میں بھی ذکر ہوتا ہے:

’’عنقریب اللہ تعالیٰ لائے گا ایسی قوم کو جن سے وہ محبت کرتا ہو گا اور وہ اس سے محبت رکھتے ہوں گے۔ ایمان والوں پر نرم دِل ہوں گے، کفار کے خلاف سخت ہوں گے، اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور ملامت گروں کی ملامت کی پرواہ نہ کرتے ہوں گے‘‘ ( المائدۃ)

صحابہ کرام میں سے کچھ لوگوں کی خاص مدح میں ایک آیت اُتاری گئی۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اس ایمانی بغض و عداوت کا وہ درجہ پایا تھا کہ انہوں نے اس کے زیر اثر اپنے نسبی رشتے داروں کو تہہ تیغ کر دیا تھا:

’’ آپ ایسی کوئی قوم نہ پائیں گے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اور ان لوگوں سے بھی دوستی رکھتے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں گو وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے کے لوگ ہی کیوں نہ ہوں‘‘ ( المجادلہ)

حضرت لاہوری قدس سرہ کے ترجمے سے واضح ہو رہا ہے کہ اللہ اور قیامت پر ایمان اور کفار کے ساتھ دوستی و محبت کا تعلق ایک دل میں جمع ہی نہیں ہو سکتے اگرچہ وہ کفار اتنے قریبی ہی کیوں نہ ہوں اور جو مؤمن اس کڑی شرط کو پورا کر لیتا ہے اُسے اِنعام کیا ملتا ہے؟ اِسی آیت میں ارشاد ہے:

’’ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے اِیمان کو لکھ دیا ہے‘‘ ( المجادلہ)

یعنی جو قلب کفر و کفار کی نفرت و بغض سے لبریز ہو ، اللہ تعالیٰ اس پر اِیمان کو یوں نقش فرما دیتے ہیں جس طرح حروف کاغذ پر نقش ہو جاتے ہیں کہ جدا نہیں کئے جا سکتے۔

کامل مؤمن کی یہی شان قرآن میں جا بجا بیان ہوئی اور جہاں کسی مؤمن کا طرز عمل اس شان سے الگ ہوتا نظر آیا، وہیں اسے تنبیہ ہوئی۔ دوستی کا جذبہ آیا، کہیں ان کی جان بچانے کی کوشش ہوئی، کہیں ان کے خلاف قتال میں ذرا سی سستی کا شائبہ آیا، کسی نے پیغام بھیجا یا ایسا اشارہ بھی کر دیا جس سے کچھ نرمی مترشح ہوئی تو قرآن مجید کی آیات سرزنش اور تنبیہ لے کر نازل ہو گئیں۔

جب حقیقی مؤمن کی یہ شان ہے تو مقابل میں بھی اُسے انہی جذبات و احساسات کا ملنا فطری چیز ہے، کفار کی حالت تو یہ بیان ہوئی کہ وہ ان نام نہاد مسلمانوں سے بھی قلبی محبت اور دوستی کا جذبہ نہیں رکھتے جو ان کی دوستی ، محبت اور معاونت کا دَم بھرتے ہیں تو ان مسلمانوں کے بارے میں ان کے دِل کے خیالات کیا ہوں گے جو اِسی اِیمانی بغض و عداوت کو شعار رکھتے ہیں:

’’وہ تم پر انگلیاں چباتے ہیں مارے غضب کے ‘‘ ( آلِ عمران)

اللہ تعالیٰ جب ایسے مسلمانوں کو اپنی نصرت سے نواز کر طاقتور کر دیتا ہے تو اس کے ذریعے :

’’کفار کے دِل جلائے‘‘ ( الفتح)

کے مقصد کی تکمیل ہوتی ہے۔ اور سورۃ التوبہ میں تو ایسے ’’جہادی‘‘ مؤمن کی یہ عجیب شان بیان ہوئی کہ وہ کوئی بھی قدم اُٹھاتا ہے تو اس سے ان کفار کے دِل جلتے ہیں اور اُن کا غیظ و غضب بھڑک اٹھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اُن سے وعدہ فرماتا ہے کہ دشمنوں کو جلانے والے ہر قدم پر وہ انہیں اجر و ثواب کے خزانے عطاء فرمائے گا اور جلنے والے کفار کو خبر دی جاتی ہے:۔

’’ مرے رہو اپنے غصے میں‘‘ ( آلِ عمران)

یہی مناظر دیکھ دیکھ کر جلتے رہو، کڑھتے رہو، مرتے رہو، تمہارا یہ شوق کہ تم اِن دل جلانے والے حقیقی مسلمانوں کا خاتمہ دیکھو، کبھی پورا نہیں ہو سکتا، بدر سے سرینگر تک، خیبر سے غزَّہ تک اور مُوتہ سے قندھار و قندوز تک یہ تمہیں ہمیشہ نظر آتے رہیں گے اور ان کے قدموں کی دھمک تمہارے دل جلاتی رہے گی۔

بات لمبی ہو گئی۔ آج کا کالم بس صرف مبارکباد دینے کے لیے لکھنا تھا جماعت کے کارکنوں ، معاونین اور محبین کے لئے۔ ہندوستان کے سب سے کثیر الاشاعت میگزین میں رپورٹ پڑھی تھی تب سے طبیعت پر عجیب سی سرشاری طاری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں سے وابستہ فرما دیا ہے جن کا جہاد ، دعوتِ جہاد اور عزائم تو کفار و مشرکین کو تکلیف دیتے تھے، اُن کا حجامہ کرنا بھی اللہ کے دشمن مشرکین پر بھاری گذر رہا ہے۔’’الرحمت‘‘ والے تو جذبۂ خدمت خلق کے تحت مریضوں کے جسموں پر بلیڈ کے ہلکے سے کٹ لگاتے ہیں تاکہ فاسد خون اور امراض نکل جائیں معلوم نہیں تھا کہ اس عمل سے مشرکین کے دلوں پر آرے اور برچھے چل رہے ہیں…

سبحان اللہ!

واقعی سچے مؤمن ہیں وہ لوگ جن کا ہر قدم، ہر عمل مشرکین کو تکلیف دیتا ہے۔

واقعی صحابہ کرام کے سچے پیروکار ہیں وہ لوگ ، واقعی بدر والوں کے حقیقی فرزند ہیں وہ جن کے ہر کام کی چوٹ مشرکین کے دل پر پڑتی ہے۔

خدا کی قسم!

دل کو یہ سوچ کر جتنی سرشاری ہوتی ہے اتنی کسی اور بات سے نہیں ہوتی کہ ہمارا رشتہ اس’’ جیش‘‘ سے ہے جسے ابوجہل کی موجودہ ذریت اپنا سب سے بڑا دشمن مانتی ہے اور جس کے ہر کام ہر بات کی تکلیف مشرک محسوس کرتے ہیں اور جلتے ہیں۔

کہاں میں اور کہاں یہ نکہتِ گُل

نسیمِ صبح تیری مہربانی

اور ہاں اَہلِ ایمان کو مبارکباد کے بعد دشمنوں کو بھی قرآن کا پیغام پہنچے:

’’ کہہ دیجئے تم اپنے اِسی غضب میں مر جاؤ۔‘‘( آل عمران)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online