Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

گند کم جہاں پاک (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 646 (Talha-us-Saif) - Gand Kam Jahan Pak

گند کم جہاں پاک

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 646)

دودن پہلے اُس شخص کی موت کی تاریخ گذری جس کے مرنے پر زمین نے کہا تھا خس بلکہ گند کم جہاں پاک

زمینی مقامات کی آپس میں لڑائی ہوئی کہ اس بدبودار روح کو قبض کروانے کی سعادت کسے ملے، بیت الخلاء کے دلائل مضبوط تھے وہ جیت گیا، اس نے کہا کہ اس شخص کا زندگی بھر مجھ سے مضبوط رشتہ رہا، سو بار تو یہ پیشاب کرنے میرے پاس آیا کرتا تھا، ویسے بھی جہاں بیٹھتا اس جگہ کا ماحول لیٹرین کردیتا، منہ سے گندی بدبو شراب نوشی کی وجہ سے، جسم سے گندی بدبو بدکرداریوں کی وجہ سے، قلم سے گندی بدبو، تحریر سے گندی بدبو، گویا یہ سراپا لیٹرین ہے اسے میرے حوالے کیا جائے، سو اسے آخری وقت ایسی بیماری لگی جس کا تعلق لیٹرین سے تھا، جب وہ خود جا جا کر ہلکان ہوگیا اور ہلنے جلنے کے قابل نہ رہا تو لیٹرین خود چل کر اس کے بستر سے آ لگا یوں ایک متعفن روح متعفن ماحول میں قبض ہوئی۔

اہل لاہور کوا ﷲ تعالیٰ جزائے خیر دے انہوں نے اس گند کو ایسے ہی اپنے شہر سے رخصت نہیں ہونے دیا بلکہ خوب گند سے نوازا۔ جنازے پر گند سے بھرے لفافوں، گندے کپڑوں اور کوڑے کرکٹ کی اتنی بارش ہوئی کہ باید و شاید۔ میت کی نگرانی کے لئے آئے ہندو، سکھ اور گورے فوجی بھی بھاگ گئے۔ پھر قادیان پہنچنے تک ذلت افزائی کا سلسلہ جاری رہا۔ اہل لاہور کے عمل سے اﷲ راضی ہوا اور تحریک ختم نبوت میں ہزاروں شہداء اس شہر کے نصیب میں آئے۔ جی ہاں! اﷲتعالیٰ جن سے راضی ہوتے ہیں اُن میں سے شہداء لیتے ہیں۔

ویتخذ منکم شہداء

پیشاب سے اس کے اس قدر محکم تعلق کے پیش نظر ایک عاشق رسولﷺ مجاہد ختم نبوت جناب جانباز مرزا مرحوم نے کسی بات پر قسم کھالی کہ میں مرزے کی قبر پر  پیشاب کروں گا۔ قسم پوری کرنے قادیان گئے تو وہاں قبر پر سخت پہرہ پایا۔ براء ۃ ضروری تھی اس لئے ترکیب سوچی، ذہن میں حل آگیا، بازار گئے، روح کیوڑہ کی بڑی بوتل خریدی، اس پر خوبصورت مصنوعی پھول چڑھائے، روح کیوڑہ گراکر اس میں پیشاب کیا اور قبر پر آکر ایمانی جذبات سے لبریز ہو کر پوری بوتل بہادی۔ پھر فاتحہ پڑھنے کے انداز میں ہاتھ اٹھائے اور جتنی گالیاں یاد تھیں دے ڈالیں۔ آپ سوچئے! امرتسر کے ایک ٹھیٹھ پنجابی کو کتنی گالیاں یاد ہوں گی۔ واہ مرزے تیری قسمت۔

ماننے والے حرمان نصیب کہتے ہیں کہ مرزا نعوذ باللہ نبی، مسیح، سلطان القلم اور نجانے کیا کیا تھا جبکہ جاننے والوں کا فرمان ہے کہ وہ ایک بدکردار ، احمق جھوٹا اور گندہ انسان تھا۔ کاش ماننے والے بھی پہلے اسے جان لیتے۔ عقلاً بھی ماننے کا مرحلہ جاننے کے بعد آتا ہے لیکن ان کی عقلوں پر پردے پڑے ہیں اس لئے انہوں نے جانے بغیر مان لیا، آج اہل ایمان سے بات کرتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ ضیغم اسلام حضرت چنیوٹی رحمہﷲ تعالیٰ فرمایا کرتے تھے کہ کسی قادیانی سے مسیح، مہدی کے مسائل میں الجھنے کی بجائے اسے مرزے کو شریف آدمی اور اچھا انسان ثابت کرنے پر مناظرے کا کہا کرو ایک منٹ بھی میدان میں جم نہیں سکے گا اور اگر وہ اس موضوع پر بات سن لے تو اس کے ایمان کی طرف لوٹ آنے کی امید بھی زیادہ ہوتی ہے۔

آئیے!ہم ذرا اس موضوع کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

جھوٹا

انبیائ، اولیاء سچے ہوتے ہیں کبھی جھوٹے نہیں ہوسکتے، و ہ تو دنیا کو حق منوانے حق ثابت کرنے آتے ہیں اور اگر ان کی باتوں میں تناقض ہو تو انہیں کون مانے گا اور ان کے دین کو، ان کی دعوت کو سچا کون کہے گا؟

مرزا کی کتابیں، رسائل اور اشتہارات ملاحظہ فرما لیجئے! جھوٹ ہی جھوٹ، تناقض ہی تناقض ہے۔ اس نے آئندہ کے واقعات کی جو خبریں دیں وہ سب جھوٹ نکلیں اور تو اور اپنے بارے میں جو انکشافات بنامِ الہام کیے وہ بھی سب غلط نکلے۔ چند ایک ملاحظہ کیجئے:

مجھے الہام ہوا ہے کہ میری عمر ۸۰ سے دو تین سال اوپر یا نیچے ہوگی…

مرزا ۶۸ سال کی عمر میں مرا جس کے اور ۸۰ کے درمیان۱۲  سال کا طویل فاصلہ ہے۔

میری شادی محمدی بیگم سے ہوگی بلکہ کردی گئی ہے…

محمدی بیگم حالت اسلام میں فوت ہوئیں مرزا کی ان سے شادی نہ ہوسکی۔

مولانا ثناء ﷲ امرتسری، مولانا عبدالحق غزنوی، ڈاکٹر عبدالحکیم اور عیسائی پادری عبدﷲ آتھم کے بارے میں کہا کہ یہ سب اس کی زندگی میں مریں گے۔

مرزا کی لیٹرینی موت کے وقت یہ سارے زندہ تھے۔

اس نے کہا کہ مجھے وعدہ کیا گیا ہے کہ تیری موت مکہ یا مدینہ میں ہوگی۔

آپ پڑھ چکے ہیں کہ اس کی موت کہاں واقع ہوئی۔

اس نے کہا کہ مرنے سے پہلے اس کی ایک بیوہ عورت سے شادی ہوگی اور ایک بیٹا پیدا ہوگا جو اس کی نبوت کی بڑی نشانی ہوگا۔

نہ شادی ہوئی نہ بیٹا اور یہ بات اس دجّال کے جھوٹے ہونے کی نشانی بنی۔

قادیانی کہتے ہیں کہ نبی سے بتقاضائے بشریت کچھ باتیں غلط ہوجاتی ہیں یا اسے نسیان ہوسکتا ہے۔ بفرض محال یہ بات درست بھی ہو تو ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اس کی ہر بات ہی غلطی اور نسیان کا شاہکار ہو۔ اہل ایمان کئی بار قادیانیوں کو چیلنج کرچکے ہیں کہ مرزا کی جو باتیں ٹھیک نکلیں اس کی کتابوں سے اکٹھی کردیں لیکن کچھ ملے تو پیش کریں۔

احمق

تفصیل کیا بیان کرنی ایک قصہ سن لیں ایمان تازہ ہوجائے گا اور مرزا کا احمق ہونا بھی سمجھ آجائے گا۔

شیخوپورہ میں ایک نوجوان نے مرزا کو الّو کا پٹھا کہہ دیا۔ گالی مرزا کی شان سے چھوٹی تھی شاید اسی لئے قادیانیوں نے پرچہ کٹوادیا۔ نوجوان کو پیش ہونے کا حکم آگیا۔ حضرت مولانا لعل حسین اختر رحمہ اﷲ مقدمے کی پیروی کے لئے پہنچ گئے۔ عدالت میں مدعی نے کٹہرے میں آکر دعویٰ پیش کیا کہ اس نوجوان نے ہمارے مذہبی پیشوا کو گالی دے کر ہمارے جذبات مجروح کیے ہیں۔ حضرت نے سوال کی اجازت لے کر اس سے پوچھا کہ بتاؤ اس نے کیا گالی دی؟

قادیانی مخمصے میں پھنس گیا کہ وہ اپنے منہ سے گالی کے الفاظ کیسے کہے۔ اس نے یہ کہہ کر جان چھڑانا چاہی کہ مجھے اب الفاظ یاد نہیں آرہے۔ حضرت نے فرمایا کوئی حرج نہیں میں گالیاں دینا شروع کرتا ہوں جہاں وہ الفاظ آئیں مجھے بتادینا۔ یہ کہہ کر انہوں نے اردو پنجابی میں مرزا پر گالیوں کی بوچھاڑ شروع کردی۔ سو سے زیادہ گالیاں دے کر پوچھا کہ گالی آئی؟

قادیانی نے بوکھلا ہٹ میں سر نفی میں ہلادیا پھر ایک سیشن گالیوں کا اور لگا کر پوچھا! اب آئی؟قادیانی کے تن میں جان باقی ہوتی تو جواب دیتا۔ پھر انہوں نے فرمایا جج صاحب میں آپ سے ایک سوال کرسکتا ہوں؟

ضرور کیجئے!

ایک آدمی جو یہ کہتا ہو کہ میں ۹ ماہ اپنے ہی پیٹ میں حمل میں رہا پھر خود ہی پیدا ہوگیا۔ جو جوتے کے سیدھے الٹے پاؤں میں باوجود نشانی ٹانگنے کے فرق نہ کرسکتا ہو۔ جو گڑ کو ڈھیلا سمجھ کر اس سے استنجاء کرلیتا ہو اور ڈھیلے کو گڑ قرار دے کر کھاجاتا ہو۔ جو استاد کی چارپائی کے نیچے سے برآمد ہو اور وجہ پوچھنے پر بتائے کہ میں چارپائی کے نیچے لیٹ کر استاد کا پہرہ دے رہا تھا تاکہ بچے انہیں تنگ نہ کریں۔ اسے کیا کہنا چاہئے؟

الّو کا پٹھا! جج صاحب نے برجستہ جواب دیا۔

بس جناب آپ کا اور اس مسلمان نوجوان کا جرم ایک ہی ہے، اس نے بھی اسی شخص کو الّو کا پٹھا کہا ہے۔

مرزا نے دعویٰ کیا کہ قرآن میں جس ابن مریم کا ذکر ہے وہ میں ہوں۔ دلیل مانگی گئی کہ تمہاری ماں کا نام تو مائی گھسیٹی ہے اور تمہارا باپ بھی موجود ہے۔

ابن مریم کی ماں کا نام مریم (علیہا السلام) تھا جیسا کہ ظاہر ہے اور وہ معجزۃً بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے۔

اس نے کہا میں پہلے مریم بنا، پھر مجھے حمل ہوا، نو ماہ بعد اسی حمل سے میں خود پیدا ہوگیا۔ پھرمائی گھسیٹی جو کچھ پیٹ میں لے کر نوماہ گھسیٹتی پھری وہ کوئی گیس کا بگولا تھا؟۔

اب آپ بتائیے! ایسے آدمی کو آپ کیا نام دینا پسند کریں گے؟؟

چمارُالقلم

آپ سوچ رہے ہوں گے یہ کیا خطاب ہوا تو یہ دراصل قادیانیوں کا جواب ہے جو مرزا کو سلطانُ القلم کہتے ہیں۔

سلطان القلم وہ ہوتا ہے جس کی تحریر پڑھ کر لوگ عش عش کر اٹھیں نہ وہ کہ جس کی تحریر پڑھ کر غش کھا جائیں یا غثیان (قے) شروع ہوجائے۔

سلطان القلم وہ ہوتا ہے جس کے پاس استعارات تمثیلات کا خوبصورت ذخیرہ موجود ہوتا ہے۔وہ ناگوار بات کو بھی ایسے انداز اور لطیف استعارات سے ادا کرنے پر قادر ہوتا ہے جن سے وہ بات گوارہ ہوجاتی ہے اور سمجھ آجاتی ہے۔ ایک ایسا شخص جسے نماز میں خشوع وخضوع کی حقیقت سمجھانے کے لئے مثال ملی تو بازاری عورتوں کے ساتھ ناجائز تعلقات کی اور انبیاء کے اونچے خاندانوں میں سے آنے کی حکمت کی تمثیل ملی تو بیت الخلاء صاف کرنے والے بھنگیوں سے۔ اسے سلطان القلم تو نہیں چمار القلم ہی کہا جا سکتا ہے۔ سچ ہے جس بندے کی ساری زندگی کا محور ہی زنانِِ بازاری کے ساتھ بدکرداری اور بیت الخلاء میں جاجا کر حاجت برآری ہو اسے ان کے علاوہ مثال ملے کہاں سے؟؟

ایک بار میں نے اپنے ایک مضمون میں اسے مراقی (مرگی کا مریض) لکھا تھا پروف ریڈر صاحب نے اپنے اجتہاد سے اسے مراثی کردیا۔ بات ٹھیک تھی اس لئے اسے ایسے ہی رہنے دیا گیا-اس کی تحریریں پڑھیں تو آپ بھی اسے ایسا ہی کوئی خطاب دینے پر مجبور ہوجائیں گے۔

امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء ﷲ شاہ بخاری نور ﷲ مرقدہ فرمایا کرتے تھے:

لوگو! ہوشیار رہوگھسیٹی کا بچہ تمہیں گھسیٹ کر جہنم میں نہ لے جائے۔

مائی گھسیٹی کے بچے نے مسلمانوں کو جہنم کی طرف گھسیٹنے اور ایمان سے محروم کرنے کے لئے دو عقیدوں پر وار کیا۔ عقیدہ ختم نبوت اور نظریۂ جہاد۔

اس نے جہاد کے معنیٰ کو مشکوک کیا، اس کے بارے میں غلط تاویلات گھڑیں اور اس کے مصداق کو خلط کیا، اس کو آنجہانی ہوئے ۰۰ ۱سال ہوگئے، عقیدہ ختم نبوت پر ڈاکہ قادیانیوں نے اصل روپ میں ڈالا تھا وہ پکڑے گئے اور خوب پکڑے گئے۔ نظریۂ جہاد پر ضرب لگانے کے لئے اس ملعون جماعت کو مسلمانوں کے اندر اسلامی لبادے اوڑھے لوگ مل گئے ہیں جو امت مسلمہ کے ایمان وعقیدے کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ مرزا ملعون نے اپنے دعویٰ نبوت ومسیحیت کا اصل مقصد خود یہ بیان کردیا کہ وہ امت مسلمہ کو جذبہ جہاد سے محروم کرنے کے لئے منظر عام پر آیا ہے۔ ہم قادیانیت اور قادیانی کا مذاق اڑاتے رہے اور اس کا اصل مقصد پورا ہوتا رہا تو وہ ملعون کامیاب ہوجائے گا۔ اس لئے اس موقع پر یہ عزم تازہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم اگر حقیقت میں اس فتنے کو شکست دینا چاہتے ہیں تو ہمیں دعوت جہاد اور صحیح اسلامی نظریہ جہاد کی اتنی محنت کو اپنا شعار بنالینا چاہئے کہ امت کہ ہر فرد کے کانوں تک قرآن میں بیان ہونے والا جہاد پہنچا دیا جائے۔

جی ہاں! یہ ہے مرزائی کی اصل شکست اور یہ ہے اس کی حقیقی رُسوائی۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online