Bismillah

648

۳۰رمضان المبارک تا۶شوال ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۵تا۲۱ جون۲۰۱۸ء

واہ بدر… (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 647 (Talha-us-Saif) - Wah Badar

واہ بدر…

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 647)

واہ بدر!

واہ بدر والے!

نریندر مودی اور اس کے لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ کاش کشمیر میں بھی کوئی ہوتا جو لوگوں کو سمجھاتا کہ ’’بدر‘‘ اب حجت نہیں رہا تاکہ ہندوستان کو اور بدرکے دن رُسوا ہونے والے ابوجہل کی موجودہ ذریت کو یہ دن ہائی الرٹ اور سرینگر سے دہلی تک اور منیا کماری تک پھیلے خوف و دہشت میں نہ گذارنا پڑتا…

لیکن’’بدر‘‘ تو حجت ہے… اس لیے نہ صرف مسلمانوں بلکہ کفار کے لئے بھی حجت ہونے کا اعلان قرآن مجید میں ہو چکا ہے۔ ’’بدر‘‘ تو فرقان ہے اور فرقان عارضی نہیں ہوتے مستقل ہوا کرتے ہیں۔ اس لئے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں اور جب تک دنیا میں ایمان و شرک موجود ہیں ’’بدر‘‘ اپنی حجت اور فرقان والی شان منواتا رہے گا۔

اس سال کا یوم بدر تو بڑی عجیب شان والا تھا۔ ہم تو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ویسے تو سال بھر لیکن اس دن بطور خاص ’’بدر‘‘ والوں سے نسبت جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بدر کا تذکرہ ہوتا ہے۔ اس کا پیغام پہنچانے کی سعی کی جاتی ہے۔ اس کا حجت ہونا سمجھایا جاتا ہے اور دور حاضر کے بدری لشکروں سے جوڑنے کی محنت کی جاتی ہے لہذا اس سال بھی اس دن بھی یہ سب کچھ ہوا۔ ہمارے بدری بھائی جو ابوجہل کی ذریت سے برسرپیکار ہیں وہ بھی پوری کوشش کرتے ہیں کہ اس دن بدر والے معرکے برپا ہوں۔ مشرکین کے لاشے گریں، زمانے کے ابوجہل اندھے کنووں کا رزق بنیں۔ کفر کی ذلت و رسوائی ہو۔ ان پر ’’ یوم عقیم ‘‘ بن کر یہ دن گذرے۔ وہ اس خوف، شکست اور خواری کا سامنا کریں جو بدر والے یوم الفرقان میں ان کا مقدر بنی تھی۔ وہ اپنی کوشش میں کامیاب بھی رہتے ہیں الحمد للہ۔ لیکن اس بار جو عجیب ہوا وہ یہ تھا کہ بدر کو ہم سے زیادہ مشرکوں نے یاد کیا۔ شاید مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو تو علم و احساس ہی نہ ہو گا کہ آج کون سا دن چل رہا ہے لیکن مشرکین کے چینل چلا چلا کر بدر بدر کی دُہائیاں دے رہے تھے۔ بدر کی تاریخ ہندوستان کے چینلوں پر بیان ہو رہی تھی اور ابوجہل کی ذریت خود اپنی قوم کو بدر کا تعارف کرا رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی شان اور پیغام بدر کی طاقت تو دیکھئے! ہم مچلتے رہتے ہیں کہ اس دن سرحد پار ہماری آواز پہنچے اور ہم انہیں سنا سکیں کہ آج بدر ہے، شرک کی تباہی ، رسوائی اور مشرکین کی بربادی والا دن۔ لیکن اسباب کا نہ ہونا آڑے آتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستان میں مشرک کی غلامی کو سیکولر ازم کے لبادے میں قبول کر چکے کروڑوں اہل ایمان تک بدر کا عزت ، سربلندی، شرک کی غلامی سے نجات والا پیغام پہنچائیں لیکن کیسے ممکن ہو؟…

اللہ تعالیٰ کی شان۔ ہندوستان میں سارا دن بدر کا ذکر ہوا اور بدر کا پیغام ہر مسلم ومشرک تک پہنچا۔ نہ ہمارا وقت لگا نہ مال۔  بے شک بدر حجت ہے اور بدر کا پیغام انتہائی طاقت والا ہے۔ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طاقت ہے اور وہ ایسی جگہوں تک بھی پہنچ جاتا ہے جہاں تک پہنچنے کے بظاہر کوئی اسباب نہیں ہوتے…

بدر کے دن فیصلہ ہوا تھا کہ بدر والے کامیاب ہیں۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور ان کی کامیابی ایسی ہے کہ اب ان کے بعد کوئی اس مقام کو نہ پا سکے گا۔ فرشتوں کو یہ بات اس وقت بتا دی گئی جب بدر والے اس میدان میں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ وفاداری اور جانثاری کا عہد نبھانے کے لئے کھڑے ہوئے تھے۔ فرشتوں کو حرص ہوئی کہ وہ بھی کامیاب جماعت کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے زمین پر اترنے اور اس جماعت کا حصہ بننے کی اجازت مانگ لی جو قبول کر لی گئی۔ملائکہ نازل ہوئے اور انہوں نے قتال میں حصہ لیا۔ فرشتوں نے یہ بات سمجھائی کہ ’’بدر والے‘‘ کامیاب ترین لوگ ہیں لہذا جو ان کے ساتھ شامل ہو جائے گا کامیابی پا لے گا اور یقینی طور پر پا لے گا۔

بدر والے ایک شان کے ساتھ کھڑے تھے۔ ملائکہ کو اس شان کے حصول کی بھی حرص ہوئی۔ ملائکہ سواری کے محتاج نہیں لیکن انہوں نے بدر والوں جیسی سواری مانگی۔ ملائکہ لباس کے محتاج نہیں مگر پھر بھی انہوں نے اہل بدر جیسا پہناوا مانگا۔ یہ سب کیوں تھا؟… صرف یہ بتانے کے لئے بدر والوں کا حلیہ اور شان اپنانا بھی کامیابی اور تقرب ہے۔

بدر کے میدان آج بھی سجے ہوئے ہیں کیونکہ ان  کے ہمیشہ سجے رہنے سدا آباد رہنے کی خبر حضرت آقا مدنی ﷺ نے دی ہے۔ دنیا نے پچھلے سترہ سال اپنا سب سے زیادہ مال، سب سے زیادہ اسلحہ اور سب سے زیادہ ذہن استعمال کر لیا کہ بدر والوں کو روک لیں مٹادیں ختم کر دیں لیکن وہ ناکام رہے اور ناکام ہی رہیں گے۔ بدر ہے تو شرک کا گھر پورے دو دن اس کے نام سے گونجتا اور پیغام سے لرزتا رہا۔ بدر والے ہیں تو ان کی آمد کے خوف سے ایک سپر پاور کانپتی رہی۔ کامیابی ہے ان کے لئے اور ان کے ساتھ جڑ جانے والوں کے لئے جنہیں فرشتوں کی طرح ان کی صفوں میں اترنے کی حرص ہو جائے۔

بدر والے منصور تھے، موید تھے اور غالب رہے۔ ان کی مدد بارش کے ذریعے بھی کی گئی ، ملائکہ بھی ان کی نصرت کے لئے اتارے گئے اور دشمنوں کی آنکھوں پر پردے ڈال کر بھی ان کی تائید کی گئی۔ وہ دشمنوں کو اپنی اصل تعداد سے زیادہ نظر آئے اور ان کا رعب بھی کفار کے قلوب پر جما دیا گیا۔ کیا آج یہی منظر نہیں؟… بالکل ہے بشرطیکہ دل کی آنکھیں بند نہ ہوں۔ میں کل ہی مقبوضہ کشمیر سے آنے والا ایک وائس میسج سن رہا تھا۔ آپ بھی سنئے!

’’یار جسے اللہ تعالیٰ کو دیکھنا ہو کشمیر میں آ کر دیکھ لے۔ خدا کی قسم اتنے کیمپ ہیں قدم قدم پر اور اتنی آرمی ہر وقت گشت پر ہوتی ہے کہ عقل سے سمجھا ہی نہیں جا سکتا کہ حملہ کہاں سے کیا جا سکتا ہے اور نکلا کس طرف جا سکتا ہے۔ لیکن پھر حملہ بھی ہو جاتا ہے اور ہم نکل بھی جاتے ہیں۔ یار مان لو کہ اللہ مجاہدین کے ساتھ ہے‘‘…

یہ ساتھی محض دو ماہ پہلے دو بیلوں کو ہنکا کر اپنی زمینوں میں ہل چلاتا تھا اور اب بدر والے میدان نے اسے وہ ایمان اور یقین عطاء کیا ہے کہ وہ دوسروں کو ایمان سمجھا رہا ہے۔ سبحان اللہ وبحمدہ۔ میں سن رہا تھا اور سرشار ہو رہا تھا کہ ان میں سے نہیں تو کم از کم ان کے ساتھ تو ضرور ہوں اور ان سے سچی محبت بھی نصیب ہے۔ یہ کوئی تھوڑے نصیب کی بات ہے؟…

کل ہی ایک اور میسج بھی سننا نصیب ہوا۔ پورے کشمیر اور ہندوستان میں یوم بدر کی مناسبت سے 16 اور سترہ رمضان المبارک کو ہائی الرٹ تھا۔ تمام کیمپوں اور گشتی پارٹیوں کو ایکسٹرا حفاظتی اقدامات کی تاکید اور الرٹ ٹی وی پر ہر گھنٹے نشر ہو رہے تھے لیکن انہی حالات میں سولہ کو سات اور سترہ کو چار حملے ہوئے۔ یہ حملے کیمپوں پر بھی ہوئے اور گشتی پارٹیوں پر بھی۔ مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے اہم کشمیری رہنما شکریہ ادا کر رہے تھے اور صرف اپنی طرف سے نہیں پوری کشمیری قوم کی طرف سے۔ کشمیری ویسے ہی محبت کے خمیر میں گندھی ہوئی قوم ہیں۔ اظہار محبت اور اظہار تشکر میںبہت جذباتی واقع ہوئے ہیں لیکن ان کا والہانہ انداز تو قابو سے باہر ہو رہا تھا۔ جیش نے کشمیری قوم کا سرفخر سے بلند کر دیا۔ جیش نے کشمیریوں کے دل آج فتح کر لیے۔ ہم یقین کر بیٹھے تھے کہ آج کچھ نہیں ہو پائے گا لیکن جیش کے شیروں نے انہونی کو ہونی کر دکھا یا۔ اس چند ایک منٹ کی گفتگو میں مبارکباد اور شکریہ کا لفظ بلا مبالغہ ایک درجن بار تو ضرور آیا ہو گا۔ کشمیر کے اہل ایمان اہل عزیمت کے ساتھ ہمارا یہی رشتہ ہے اور دو طرفہ رشتہ ہے۔ شام کو اہل کشمیر بھی جیش کے جھنڈے تھامے سڑکوں پر نکل آئے۔ ہندوؤں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر عَلَم لہراتے اس کشمیری نوجوان کی تصویر آپ کو اسی ایمانی رشتے کی گہرائی سمجھا رہی ہے۔

بدر کا دن تجدید عہد کا دن ہے۔ قرآن میں ایک اس قوم کا تذکرہ ہے جس نے اپنے نبی سے کہا تھا کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑ لو ہم یہاں بیٹھے ہیں اور ایک اس جماعت کا جس نے کہا تھا کہ ہم آپ کے ساتھ زمین کے آخری کونے تک جانے کو تیار ہیں۔ ایک جماعت کا نام بنی اسرائیل ہے اور ان کا انجام ہے ’’ لَعَنّٰہُمْ‘‘ ( ہم نے ان پر لعنت مسلط کر دی) اور دوسری جماعت کا نام صحابہ کرام ہے اور ان کا انجام ہے ’’رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ‘‘ ۔ نریندر مودی کو ، ٹرمپ کو اور غامدی کو خبر ہو کہ مسلمانوں میں بات صرف انہی کی نہیں سنی جا رہی جو انہیں بنی اسرائیل کے پیچھے چلنے کی تبلیغ کرتے ہیں اور مسلمانوں کے لیے انہیں حجت قرار دیتے ہیں بلکہ اب بدر کی زندہ حجت کے پیچھے چلانے والے بھی میدان میں ہیں۔ ان کی زبان سے بھی اس کی دعوت ہے اور عمل سے بھی۔ بدر حجت ہے ایمان والوں کے لئے بھی اور کفار کے لئے بھی۔

اہل ایمان کو شرک کے گھر میں گونجتا یوم بدر مبارک ہو۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online