Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

تُرک الیکشن (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 649 (Talha-us-Saif) - Turk Election

تُرک الیکشن

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 649)

ترکی کے انتخابات کا بہت غلغلہ تھا جو اختتام کو پہنچا اور الحمد للہ اہل ایمان کی امنگوں کے مطابق پہنچا۔ صدر رجب طیب اردگان بھی اپنے عہدۂ صدارت کا انتخاب جیب گئے اور ان کی پارٹی نے بھی پارلیمان میں میدان مار لیا۔ دیکھا جائے تو یہ انتخاب محض رجب طیب اور ان کے مخالف امیدواروں کے درمیان نہیں تھا بلکہ یہ اس بد فطرت اور بدطینت یورپ کا اسلام پسندی سے مقابلہ تھا،جس کا بظاہر تو یہی دعویٰ ہے کہ وہ جمہوریت کو مذہب سے بھی مقدس جانتے ہیں ، عوامی رائے کی قدر ان کے ہاں نعوذ باللہ شرائعِ الہی سے بھی بڑھ کر ہے اور وہ دنیا بھر میں یہی نظام چاہتے ہیں جس میں عوام کے حق نمائندگی کو تسلیم کیا جائے، وہ دنیا کے دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے بھی انکاری رہتے ہیں لیکن انہوں نے ترکی کے حالیہ انتخابات کے دوران کھل کر اردگان کی مخالف قوتوں کو سپورٹ کیا ، اپنے میڈیا کے ذریعے حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کیا ، کئی نامور چینل اس پورے عرصے کے دوران اردگان کی کردار کشی کے لئے وقف رہے اور انہوں نے ہر طرح سے تُرک عوام کی اکثریت کی رائے پر اَثر انداز ہونے کی بھرپور کوشش کی۔ ان انتخابات سے پہلے ہونے والی ایک ناکام فوجی بغاوت کے پیچھے بھی مغرب کی یہی ذہنیت کار فرما تھی اور انہوں نے اپنے ظاہری دعووں کے برعکس منتخب عوامی حکومت پر شب خون مارنے کی ایک کوشش کی تھی جسے عوام کی قوت نے ہی باہر نکل کر ناکام بنا دیا تھا۔ اس رسوائی سے بوکھلائے ہوئے یورپ نے اب سیاسی انداز میں بھرپور کوشش کر کے دیکھ لی مگر یہ بھی ناکام رہی۔

تُرک عوام کی اپنے لیڈر کے ساتھ والہانہ وابستگی اپنی جگہ۔ یہاں منظر یہ تھا کہ دنیا بھر میں بسنے والے ان مسلمانوں کی اکثریت اردگان کے لئے دعاگو اور ان کی کامیابی کی متمنی تھی جو دین اور اُمت کے حوالے سے دردمندانہ سوچ رکھتے ہیں یا وہ خود کسی سطح پر عالمی استعمار کے ہاتھوں مظلومیت کا شکار ہیں۔

ترک لیڈر پچھلے کچھ عرصے میں عالَم اِسلام کے اس واحد حکمران کے روپ میں سامنے آئے جس نے اُمت مسلمہ کے سلگتے مسائل پر دیگر حکمرانوں کی نسبت ایک اچھا اور حق کے قریب موقف اختیار کیا۔ انہوں نے بعض مواقع پر عالمی سطح کے ان فورمز پر اُمت کے حوالے سے بلند آہنگی سے گفتگو کی جہاں دیگر حکمران صرف اپنے ذاتی یا ملکی مسائل سے آگے نہیں بڑھتے۔شامی مظلوم عوام کی مدد کے لئے اپنے ملک کی سرزمین کا کھول دینا، ملکی وسائل کا ایک بیش قدر حصہ ان کی بحالی پر خرچ کرنا، انہیں باعزت باوقار پناہ فراہم کرنا اور ان کی فلاح کے لئے ہر ممکن ذریعہ بروئے کار لانا تو ان کا ایسا کارنامہ ہے جس نے ہر مسلمان کے دل میں بہرحال ان کے لئے ایک قدر و منزلت پیدا کر دی ہے۔ مسئلہ فلسطین پر کھل کر بات کرنے والے بھی وہ واحد حکمران رہ گئے ہیں کیونکہ عرب لیڈران نے بھی اس معاملے پر عمومی پسپائی کی روش اپنا رکھی ہے۔ اسی طرح برما میں روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے تاریخ کے بدتریب ظلم و ستم کے ہنگام بھی انہوں نے ہی سب سے نمایاں کردار ادا کیا اور جس قدر ممکن ہو سکا ان مسلمانوں کی راحت رسانی کا بندوبست کیا اور برما کی ظالم حکومت سے عملی احتجاج بھی کیا۔ ان تمام عوامل کی وجہ سے انہیں دنیا بھر کے مسلمانوں میں مقبولیت حاصل ہوئی اور عالم کفر ان سے خائف و نالاں ہوا۔ اسی طرح ترکی کی بدترین سطح تک گر چکی معیشت کو بغیر کسی عالمی طاقت اور مالیاتی ادارے کی مدد کے ایک باعزت مقام تک لانا، ترکی میں شعائرِ اسلام کے حوالے سے ایک صدی کے لگ بھگ عرصے سے جاری جبر واستبداد کی پالیسی کو تدریجاً ختم کرنا، سیکولر ازم کی نحوست میں سرتا سر ڈوبے ملک اور معاشرے میں ایک واضح قوت کے ساتھ اسلامی شعائر، اعمال اور تعلیم کو فروغ دینا اور ہر معاملے میں یورپ کے دست نگر ملک کو عالمی سطح پر ایک متوازی قوت کے مقام پر لاکھڑا کرنا ان کے ایسے کارنامے ہیں جن کا اعتراف ان کے دوست دشمن سب کرتے ہیںا ور انہی باتوں نے انہیں تُرک قوم میں ہر دلعزیز رہنما بنا دیا ہے۔

ہمارے کچھ لوگ ان کے بارے میں اِفراط کا شکار ہیں اور بہت سے لوگ تفریط کا۔ اِفراط زدگان نے انہیں امیر المومنین، خلافتِ عثمانیہ کا علمبردار، مجاہدِ اسلام اور نہ جانے کیا کچھ بنا رکھا ہے اور ان کے کارناموں کو اصل سے بہت بڑھا کر یوں اپنی قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ گویا اردگان نے ایک مکمل اسلامی معیاری ( آئیڈیل) معاشرہ قائم کر دیا ہے اور ترکی کی یوں تصویر کشی کرتے ہیں کہ گویا وہ ایک مکمل اسلامی فلاحی ریاست کا روپ دھار چکا ہے۔ اس کے برخلاف جب لوگ میڈیا پر ترکی کے معاشرے کی اصل تصویر کو دیکھتے ہیں تو حیران ہوتے ہیں کہ یہ کیسا اسلامی معاشرہ ہے؟…

حقیقت یہ ہے کہ اس حوالے سے جتنا کام اردوگان کر چکے ہیں اس سے بہت زیادہ ابھی باقی ہے۔ ترکی کے اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات اور عسکری معاہدے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ ترکی میں ابھی تک سیکولر ازم کی نشانی کے طور پر زنا، شراب نوشی ، ہم جنس پرستی وغیرہ جیسے قبیح جرائم کو مکمل قانونی تحفظ حاصل ہے حالانکہ ایک اسلامی ریاست کے اولین فرائض میں ان جرائم کی بیخ کنی کرنا ہے اور ان جرائم کا کسی بھی معاشرے میں قانونی وجود اسے اسلامی معاشرے کی شناخت سے محروم کر دیتا ہے۔ اب جو لوگ ان سب چیزوں کے باوجود اسے ایک آئیڈیل معاشرے کے طور پر اُمت کے سامنے پیش کر رہے ہیں انہیں خود سوچنا ہو گا کہ ان کا یہ عمل کس حد تک درست ہے۔ اسی طرح اس نظام کی زیادہ مدح سرائی مسلمانوں کی جمہوریت پر یقین کو پختہ کرتی ہے جو بہرحال ایک اسلامی نظام حکومت نہیں ہے۔ عملی و نظریاتی خرابیوں سے بھرپور یہ نظام اگر کسی سطح پر بامرِ مجبوری قابل قبول ہے بھی تو صرف اسی صورت میں جب اس میں موجود ایسی قباحتوں کو ختم یا تبدیل کر لیا جائے جو اگر اصل شکل میں رائج ہوں تو ایمان بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ مسلمانوں کا اصل نظام حکومت اسلامی خلافت ہے اور عالم میں اصل اور پائیدار تبدیلیاں کبھی بھی جمہوریت یا ایسے کسی دیگر نظام کے ذریعے نہیں، جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے نافذ ہوتی ہیں۔ ترکی کی مثال سے اصل سبق یہی ہے کہ جہاد کے علاوہ کسی بھی طرح جو تبدیلی لائی جائے گی وہ ناقص ہو گی، ادھوری ہو گی کبھی بھی کامل نہیں ہو سکتی۔ اس لئے اہل افراط بس اسی حد تک مدح سرائی کریں جس حد تک تبدیلی ایک زمینی حقیقت کے طور پر واقع ہوئی ہے۔

اور اہل تفریط کا معاملہ یہ ہے کہ وہ یا تو جمہوریت کو ہی کفر قرار دے کر اس کے ذریعے آنے والی کسی بھی سطح کی خیر کو ماننے پر آمادہ نہیں ہوتے یا پھر وہ اعداد و شمارکے اس کھیل میں الجھے ہوئے ہیں کہ کتنے فی صد اسلامائزیشن ہوئی اور کتنے فی صد سیکولر ازم باقی ہے۔ لہٰذا وہ ماحصل کو نظر اندازکرکے اب تک جو کچھ نہیں ہو سکا اس کی بناء پر اردوگان کو کوئی رعایت دینے پر آمادہ نہیں۔ ایسے حضرات اگر صرف ایک بات پر غور کریں تو شاید افاقہ ہو۔

دنیا میں گزشتہ بیس سال میں اسلامی ممالک کی اکثریت نے اسلام سے سیکولر ازم کی طرف سفر کیا ہے۔ کئی کٹر اسلامی شناخت رکھنے والے ملک اور معاشرے ان دو عشروں میں کس قدر بدل گئے ہیں یہ جاننے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں معمولی عقل و فہم والے شخص کے لئے بھی یہ سب واضح ہے۔ ایسے میں دنیا میں کون سا واحد اسلامی ملک ہے جس نے یہ سفر اُلٹی جانب کیا ہے یعنی سیکولر ازم سے اسلام کی طرف؟…

جواب واضح ہے کہ صرف ترکی…

کیا یہ ایک کارنامہ کم ہے کسی شخص یا معاشرے کی اچھائی کو واضح کرنے اور جانچنے کے لئے؟…

لہذا ہم تو دل سے یہی سمجھتے ہیں کہ ترک قوم، ترک معاشرہ اور ترک لیڈر اردوگان باوجود اپنی بہت سے کمزوریوں ، کوتاہیوں  اور بد عملیوں کے خراج تحسین کے بھی مستحق ہیں اور دعاء کے بھی۔

رجب طیب اردوگان کی فتح مبارک ہو۔ ہماری دعا اور تمنا ہے کہ وہ اپنے اس دور حکومت میں اسلام کی طرف سفر کی مزید منازل طے کریں اور امت مسلمہ کے اجتماعی مسائل پر مزید جرأت مندانہ موقف اختیار کریں اور ان مسائل کے عملی حل کی جانب قدم بڑھائیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online