Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

الیکشن (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 650 (Talha-us-Saif) - Election

الیکشن

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 650)

اوہو…یہ سڑک ٹوٹی ہوئی ہے۔ ہمیں ووٹ دیجئے ہم یہ سڑک بنوا دیں گے…

لیکن جناب پچھلے پانچ سال بھی تو آپ کی ہی حکومت تھی۔ اس دوران آپ کو خیال کیوں نہ آیا؟…

دیکھئے ہم نے میٹرو بنوائی۔اس سے پہلے موٹر وے بنوائی۔ اورنج ، گرین اور نہ جانے کن کن رنگوں کی ٹرینیں چلائی ہیں، اب ایک بار پھر منتخب کیجئے ہم یہ سڑک بھی بنوا دیں گے…

اچھا آپ کے ہاں پانی کا مسئلہ ہے۔ ایسا کیجئے ہمیں ووٹ دیجئے ہم پانی کے چشمے جاری کر دیں گے۔ نہریں بہا دیں گے۔ اگر ان سے مسئلہ حل نہ ہواپہاڑوں سے گلیشئر اُٹھا کر آپ کے شہر کے قریب لا کر رکھ دوں گا۔ جتنا پانی مرضی لے لیجئے گا۔ یہ سب سابقہ حکومت کی نا اہلی ہے کہ پانی دستیاب نہیں ہے…

مگر جناب سابقہ حکومت تو آپ کی تھی…

جی جناب اس لئے کہہ رہے ہیں کہ انہیں ووٹ دینے کی بجائے ہمیں ووٹ دیجئے۔ ہماری حکومت آئے گی تو پانی کا مسئلہ ہی نہیں رہے گا۔ہر طرف پانی ہی پانی ہو گا۔ یہ سب سابقہ حکومت کی نا اہلی ہے کہ آپ کو پانی نہیں مل رہا۔

صاحب! ان سے پہلے آپ کی حکومت تھی۔ پانی اس وقت بھی نہیں ملتا تھا۔

جی مگر وہ ہم سے پہلی حکومت کی نا اہلی تھی…

بہت افسوس ہوا یہ دیکھ کر کہ آپ کی طرف شدید لوڈ شیڈنگ ہے، بجلی نہیں ہے، بچے گرمی سے بلک اور بزرگ سسک رہے ہیں، دیکھئے ایک ماہ پہلے تک ہماری حکومت تھی بجلی کی کتنی فراوانی تھی۔ ہمارے جاتے ہی لوڈشیڈنگ کا عفریت دوبارہ ملک پر ٹوٹ پڑا ہے مہنگائی کا جن بوتل سے باہر نکل آیا ہے۔

لیکن جناب یہ تو سمجھائیے کہ آپ کے جاتے ہی بجلی کہاں چلی گئی اور آتے ہی کہاں سے لوٹ آئے گی؟ کیا آپ لوگوں نے جاتے جاتے قومی دولت کی طرح بجلی بھی برطانیہ اور سوئزرلینڈ تو نہیں بھیج دی؟…

دیکھئے برطانیہ اور سوئزرلینڈ کا نام نہ لیجئے۔ ہماری امی بیمار ہیں اور ہم بہت دُکھی ہیں…

آپ چھوڑئیے ان سب کو بس مجھے ووٹ دیجئے، ان تینوں پارٹیوں نے تو اقتدار کی باریاں لگائی ہوئی ہیں۔ ایک آتا ہے لُوٹ کر چلا جاتا ہے اور دوسرا لوٹ کر آ جاتا ہے۔ آپ گزشتہ تین دہائیوں سے انہی کو بار بار اقتدار سونپ کر دیکھ رہے ہیں لیکن آپ کی تقدیر نہیں بدلی۔مسائل جوں کے توں بلکہ روز افزوں ہیں۔ ان سب نے آج تک سوائے آپ کو لوٹنے اور قومی دولت سمیٹنے کے اور کیا کام کیا ہے؟ نہ بجلی نہ پانی نہ روزگار نہ امن۔ کیا دیا ہے انہوں نے آپ کو؟ بس آپ اب ان کے ہاتھوں میں مزید ذلیل ہونے سے بچئے اور ہمیں ووٹ دیجئے۔ ہم آپ کی ایک ایک مشکل حل کر دیں گے۔ بجلی وافر ہو گی۔پانی سنبھالے نہ سنبھلے گا۔ تعلیم بالکل مفت ہو گی، علاج معالجے کی وہ سہولیات میسر کریں گے کہ گورے بھی رشک کیا کریں اور روزگار کے تو اتنے مواقع فراہم کریں گے کہ ہر شہری دو دو نوکریاں کرے تب بھی سیٹیں پُر نہ ہوں۔ آپ ایک بار ہم پر اعتماد کر کے دیکھئے…

لیکن جناب آپ کی شکل تو کافی جانی پہچانی لگ رہی ہے۔ پہلے روٹی شوٹی پارٹی کے لئے بھی آپ ہی ووٹ مانگنے آئے تھے۔اس کے بعد پی پی پی پیارے اور پی پارٹی کی طرف سے بھی آپ اقتدار میں تھے اور پچھلی بار شیر کی دُم پر سوار ہو کر آپ آئے تھے تو اب آپ کو ووٹ دے کر نیا تجربہ کیا ہو گا؟…

دیکھئے وہ میں سیاست میں تجربات سے گذر رہا تھا۔ ایک ایک پارٹی کا تجربہ کیا لیکن ثابت ہوا کہ سب صرف اقتدار ،اختیار کے بھوکے اور قومی دولت کے لٹیرے ہیں۔ اب میں نیا پاکستان پارٹی کے ساتھ آیا ہوں اور اس بار پورے یقین کے ساتھ آیا ہوں کہ آپ خدمت کا موقع دیں گے تو یہ پارٹی آپ کو بالکل مایوس نہیں کرے گی…

لیکن جناب آپ تو وہی ہیں ۔ چور، لٹیرے، کرپٹ، خود غرض ، مکاراور جھوٹے۔ پارٹی بدل جانے سے کیا فرق پڑ جائے گا؟…

دیکھئے مشہور مثال ہے کہ اگر ایک کتے کو شیروں کا کمانڈر بنا دیا جائے تو تمام شیر کتے بن جاتے ہیں لیکن اگر ایک لومڑ کو کتوں کا کمانڈر بنا دیا جائے تو تمام کتے لومڑ نہیں بن جائیں گے بلکہ وہ اس لومڑ کو بھگا بھگا کر کتا بننے پر مجبور کر دیں گے…

لیکن یہ مثال کچھ سمجھ نہیں آئی…

اچھی طرح آئے گی بس اس بار ووٹ ہمیں دیجئے…

٭…٭…٭

آپ کے ووٹوں سے قائم ہونے والی پارلیمنٹ میں کسی ایک جماعت کو اکثریت حاصل نہیں ہوئی بلکہ مل کر دو یا تین پارٹیوں کو حکومت بنانا پڑ رہی ہے۔ یہ وہ پارٹیاں ہیں جو الیکشن کمپین کے دوران ایک دوسرے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں اور تمام تر مسائل کی ذمہ داری ایک دوسرے کے کندھوں پر ڈالتی رہی ہیں۔ اب ان کا اتحاد و قومی مفاد کی ضرورت ہے۔ تو نیا بیانیہ کچھ اس طرح مرتب کیا جا سکتا ہے۔

’’عزیز ہم وطنو‘‘

چونکہ کسی پارٹی کو پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکی اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ’’نیا پاکستان پارٹی‘‘ اور ’’ پی پی پی پیارے پی پارٹی‘‘ مل کر حکومت بنا رہے ہیں اور اس میں ہمیں ’’ہمیشہ ساتھ ساتھ‘‘ پارٹی کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ’’سب کچھ کھا پی پارٹی‘‘ کو اقتدار میں آنے سے روکنے کی یہی ایک صورت تھی جو ہم نے قومی مفاد میں اختیار کر لی ہے ورنہ وہ اقتدار میں آ کر باقی سب کچھ بھی کھا پی جاتی۔ امید ہے آپ جمہوریت کی بقاء کے لئے اس فیصلے میں ہمارا ساتھ دیں گے‘‘…

لیکن جناب نیا پاکستان پارٹی تو کہتی تھی کہ پی پی پیارے پارٹی ملک کے مسائل کی اصل ذمہ دار ہے آپ کے اس موقف کا کیا بنے گا؟…

اصل میں ہم نے مکمل تحقیق کی ہے۔ ان مسائل کی ذمہ دار یہ پارٹی نہیں بلکہ ان سے پہلے اقتدار میں رہنے والی پارٹی تھی…

لیکن وہ پارٹی تو آپ کی پارٹی میں ضم ہو چکی ہے؟…

اوہ سوری اِس پارٹی اور اُس پارٹی کے اقتدار کے درمیان جو نگران حکومت قائم ہوئی تھی مسائل کی ذمہ دار وہ ہے۔ نہ اِس کا قصور ہے اور نہ اُس کا۔ اور یہ بات ہم پوری تحقیق کے بعد پوری ذمہ داری سے قوم کو بتا رہے ہیں۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی بھی غلط ہوتی تو ہم ان سے اتحاد کرنے کی بجائے اقتدار کو لات مار دیتے۔ کرپٹ لوگوں کی مدد سے حاصل کئے ہوئے اقتدار پرہم لعنت بھیجتے ہیں…

اور جناب آپ کی پارٹی کا مسلسل یہ کہنا تھا کہ نیا پاکستان پارٹی اقتدار میں آ گئی تو ملک تباہ ہو جائے گا کیونکہ یہ بالکل نا تجربہ کار، نا اہل لوگ ہیں اور ان میں لوٹوں کی اکثریت ہے… آپ کے اس موقف کو کیا ہوا؟…

اصل میں ایسا تو تب ہوتا جب یہ اکیلے اقتدار میں آتے۔ اب ہم ساتھ ہیں تو اس کا کوئی خطرہ نہیں۔ رہی بات لوٹوں کی اکثریت کی تو یہ معزز الیکٹیبلز ہیں، لوٹے نہیں…

جمہوریت پائندہ باد

پاکستان زندہ باد

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online