Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

تیراکی (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 651 (Talha-us-Saif) - Tairaaki

تیراکی

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 651)

مثل مشہور ہے۔ ایک نحوی اور ایک منطقی عالم کشتی میں سفر کر رہے تھے۔سفر کی بوریت دور کرنے کے لیے انہوں نے سوچا ملّاح سے گپ شپ ہی لگا لی جائے…

نحوی عالم نے ملّاح سے کہا:

ھذہ باخرتُک…ونحن فی باخرتِک

پہلے جملے میں باخرۃ کی تاء پر پیش ہے اور دوسرے جملے میں زیر…ایسا کیوں ہے؟

ملّاح نے کہا مجھے علم نہیں…

انہوں نے پوچھا کیا تم نے علم نحو نہیں پڑھا؟

ملاح کا جواب تھا ’’ نہیں‘‘

تو پھر تم نے اپنی آدھی زندگی ضائع کر دی…

پھر منطقی علامہ اُس سے مخاطب ہوئے…

میاں ملّاح یہ بتائیے!

ہم کشتی میں سوار ہیں۔ یہ تصدیق ہے۔ تصور کیا ہے؟

جناب نہیں معلوم… لازمی بات ہے ملّاح کا یہی جواب تھا…

یعنی تم نے منطق بھی نہیں پڑھی؟… اس کا مطلب ہے تم نے اپنی آدھی زندگی ضائع کر دی…

تھوڑی دیر بعد دریا میں طوفان آ گیا اور کشتی ڈولنے لگی…

ملّاح نے نحوی صاحب سے کہا:

حضرت ! فی الحال تو کشی ہمارے نیچے ہے لیکن یہ تھوڑی دیر میں ہمارے اوپر آ جائے گی۔

اور منطقی صاحب سے مخاطب ہو کر کہا:

حضرت تصدیق تو یہ ہے کہ ہم کشتی پر سوار ہیں لیکن تصور یہ ہے کہ تھوڑی دیر میں یہ ہم پر سوار ہو جانے والی ہے…

تو پھر کیا کریں؟…

پانی میں کودیں اور تیر کر کنارے تک جانے کی کوشش کریں…

مگر تیراکی تو ہمیں آتی نہیں۔ ہم نے سیکھی ہی نہیں…

افسوس!

پھر تو آپ نے پوری زندگی ضائع کر دی…

علم حاصل کیجئے، اس کے بغیر زندگی کا سنوارنا بلکہ انسان کا انسان بننا بھی مشکل سے بڑھ کر تقریباً ناممکن ہے اور جن ذات گرامی نے ہمیں یہ حقیقت سمجھائی ہے، اُنہی کا ارشاد گرامی ہے ’’ تیراکی سیکھو، سکھاؤ‘‘

ویسے بھی ڈوب جانا اگر کمال ہے تو صرف ایک موقع اور مقام پر ہے:

عبث ہے جستجو بحر محبت کے کنارے کی

کہ اس میں ڈوب جانا ہی ہے اے دل پار ہو جانا

باقی کوئی بھی موقع ہو پار پہنچنا ہی کمال ہے اور یہ کمال بنا تیراکی سیکھے حاصل نہیں ہو سکتا۔

آقاﷺ نے ہمیں چار طرح سے اس عمل کی ترغیب ارشاد فرمائی ہے:

(۱) بحری جہاد کے عظیم الشان فضائل بیان فرما کر۔

ایسے اونچے فضائل ہیں جنہیں پڑھ کر کوئی مومن بھی ایسا نہیں ہو سکتا جسے سمندر کے جہاد اور شہادت کا شوق بے تاب نہ کر دے اور سمندر کے جہاد کے لئے تیراکی اس طرح لازم ہے جس طرح خشکی کے جہاد کے لیے نشانہ بازی کی مہارت…

(۲) تیراکی کے عمل کا حکم دے کر۔

اَحادیث مبارکہ آپ اس شمارے کے رنگ و نور میں ملاحظہ کر لیں گے۔ آخر صحابہ کرام کو یہ عمل حضور ﷺ سے اتنی تاکید کے ساتھ ملا تھا تو انہوں نے اسلامی ریاست میں ایک قانون کی طرح نافذ فرمایا اور اس کے لئے باقاعدہ حکمنامے جاری فرمائے۔

(۳) جہاد کی تیاری کا تاکیدی حکمِ قرآن سنا کر۔

قرآن مجید میں جہاد کی ہر نوع کی تیاری کو مستقل واجب کے طور پر ذکر کیا گیا…

’’اور ان سے لڑنے کے لئے جو کچھ( سپاہیانہ) قوت سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے جمع کر سکو سو تیار رکھو‘‘ ( الانفال 60 ترجمہ حضرت لاہوریؒ)

اور سپاہیانہ قوت میں تیراکی کو کیا مقام حاصل ہے، کسی سے مخفی نہیں ۔تیراکی صرف سمندری جہاد کی ہی نہیں بری جہاد کی بھی اہم ترین تربیت اور ضرورت ہے جہاں قدم قدم پر دریاؤں اور ندی نالوں سے عساکرِ اسلام کا واسطہ پڑتا رہا ہے اور رہے گا۔ ایسے میں پیش قدمی اُسی کی جاری رہ سکے گی جسے نہ دریاؤں کی گہرائی روک سکے اور نہ ندی نالوں کا تیز بہاؤ خوف زَدہ کر سکے۔ جو پانی کے ساتھ نبرد آزمائی سے ناواقف ہوا ،یہ رکاوٹ اس کے قدم روک دے گی۔ آج بھی عسکری ماحول میں تیراکی کو ایک اہم تربیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور جب تک ایک فوجی اس میں ضروری مہارت حاصل نہ کر لے اسے کامل درجے کا عسکری نہیں سمجھا جاتا۔ پھر مجاہدین کے لئے اس کے ضروری ہونے میں کیا شک اور کلام باقی رہ جاتا ہے۔ اور جہاد کی ضروری تیاری کا حکم تو صرف مجاہدین کو نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کو ہے۔ یہی وہ عمل ہے جس کی بناء پر منافقین کی قسموں کو جھٹلایا گیا اور اسی کو ایک مومن کے لئے جہاد کی نیت کی سچائی کی علامت کے طور پر مقرر کر دیا گیا۔

’’اگر وہ چاہتے نکلنا تو ضرور تیار رکھتے کچھ سامان ‘‘ ( التوبہ 46)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

’’ جس نے نہ جہاد کیا اور نہ اس کی نیت کی وہ جب مرا نفاق کے ایک شعبے پر مرے گا‘‘

گویا جہاد کی کم از کم سچی نیت نفاق سے براء ت کے لئے ضروری ہے اور سچی نیت کی علامت کے طور پر جہاد کی تیاری کو مقرر کر دیا گیا۔ ایک مسلمان اگر سچے جذبے سے جہاد کی تیاری کرے اور دل سے جہاد کی نیت رکھے تو اس کے لئے نفاق سے براء ت ہے۔ جہاد کی تیاری سے متعلق کئی امور ایسے ہیں جنہیں آج کے زمانے میں قانونی مجبوریوں کے سبب مکمل اختیار نہیں کیا جا سکتا ایسے میں تیراکی جیسے جہادی کاموں میں اس نیت سے مہارت حاصل کرنا ہمارے لئے کتنا قیمتی عمل بن سکتا ہے اس کا اندازہ لگا لیجئے۔ میسر بھی ہے آسان بھی ہے اور اس پر کوئی قدغن بھی نہیں…

(۴) قوی مومن کی ضعیف مومن پر فضیلت بیان فرما کر…

حضور ﷺ نے فرمایا:

’’طاقتور مومن اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ بہتر اور محبوب ہے بہ نسبت ضعیف مومن کے…‘‘

اور تیراکی انسانی جسم کو کیسی مضبوطی ، صلابت اور قوت مہیا کرتی ہے اس کا اندازہ آپ کو تیراکی کرنے سے بخوبی ہو جائے گا۔ جدید میڈیکل سائنس تو انسانی جسم کی صحت اور اس کے قویٰ کی مضبوطی کے لیے تیراکی کو سب سے بہتر ورزش قرار دے رہی ہے۔ تو ایسے میں ایک مومن اسے سیکھ اور اَپنا کر اپنے لیے عند اللہ بہتری اور محبوبیت والا مقام حاصل کر سکتا ہے۔

اب ان تمام باتوں کو مدنظر رکھ کر سوچئے کہ جس عمل کی دعوت چلائی جا رہی ہے اور مسلمانوں کو اس کی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے، یہ محض ایک کھیل نہیں ہے، ایک تفریح نہیں ہے، محض دل لگی کا سامان نہیں ہے بلکہ ایک ایمانی عمل ہے اور ایک دینی ضرورت ہے۔ اس لئے کمر ہمت کس لینی چاہیے اور جس قدر جلد ممکن ہو سکے اس نعمت کو حاصل کر لینا چاہیے۔ اور اگر اس پر کچھ خرچ کرنا پڑے تو سورت انفال کی آیت ۶۰ (ساٹھ) کی تفسیر ’’فتح الجواد‘‘ سے پڑھ لیجئے۔ جہاد کی تیاری پر مومن کا جو مال خرچ ہوتا ہے وہ جہاد میں خرچ ہونے والے مال کی طرح ہے۔ اس پر انفاق فی سبیل اللہ کے وہ تمام فضائل اور ساری برکات حاصل ہوتی ہیں جن کا وعدہ قرآن و حدیث میں جہاد میں مال خرچ کرنے پر کیا گیا ہے۔ لیجئے! بخل کی بھی جڑ کٹ گئی، یہ مال کم از کم سات سو گنا بڑھا دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہیں گے اس سے بھی زیادہ بڑھا دیں گے اور اس زیادتی کی کوئی حد نہیں ہے۔

بس ایک خیال کیجئے گا…

تیراکی سیکھنے کی نیت سے لاہور والی نہر میں نہ کود جائیے گا۔ پانی بھی گندہ ہے اور بے پردگی، بے حیائی بھی بہت ہوتی ہے…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online