Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

رہائی مبارک ہو (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 448 (Talha-us-Saif) - rehai mubarak ho

رہائی مبارک ہو

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 448)

امت مسلمہ کے قابل فخر فرزند اور امارت اسلامیہ کے چیف آف آرمی سٹاف ’’ملا محمد فضل اخوند‘‘ اپنے چار ساتھیوں کے ہمراہ گوانتاناموبے کی طویل اور شدید قید سے رہائی پا کر اپنے لوگوں میں پہنچ گئے ہیں۔

اللہ اکبر کبیرا والحمد للہ رب العالمین

یقیناً اللہ تعالیٰ کی طاقت سب سے بڑی ہے…امریکہ نے کتنی بار یہ اعلان کیا اور دنیا بھر کے ممالک کو اس خاموش معاہدے پر مجبور کیا کہ کوئی بھی حکومت ’’مجاہدین‘‘ اور ان کے الفاظ  میں دہشت گردوں کے مطالبات کے سامنے نہیں جھکے گی اور ان کے کسی قسم کے مطالبات تسلیم نہ کئے جائیں گے اگرچہ اس کی کوئی بھی قیمت چکانا پڑے لیکن اللہ تعالیٰ نے خود امریکہ کو مجاہدین کے آگے جھکنے پر مجبور کر دیا اور اپنے ایک سارجنٹ کے بدلے میں اسے بالٓاخر پانچ اہم ترین طالبان رہنماؤں کو قید سے رہا کرنا پڑا۔

یہ قیدی رہا ہو کر قطر میں امارت اسلامیہ کے دفتر پہنچ چکے ہیں اور مجاہدین ان کی آمد کا جشن منار ہے ہیں۔

’’ملا محمد افضل اخوند‘‘ ملت اسلامیہ کا بجا طور پر فخر ہیں۔اللہ تعالیٰ کی راستے کا وہ عظیم مجاہد جس کی پوری زندگی عزیمت اور قربانیوں سے لبریز اور جسم راہ جہاد کے زخموں سے سجا ہوا ہے۔امیرالمؤمنین حضرت ملا محمد عمر حفظہ اللہ نے جب چند طلبہ کو ساتھ لے کر افغانستان میں خلافت اسلامیہ کے قیام کی جدوجہد کا آغاز کیا تو ملا محمد فضل ان کے ابتدائی دستے کے رکن تھے۔تحریک اسلامی طالبان کے پہلے چیف کمانڈر’’ملا محمد مشر‘‘ کے نائب مقرر ہوئے۔۱۹۹۷؁ء میں ہرات کی طرف پیش قدمی کے دوران شدید زخمی ہوئے۔ایک ٹانگ جسم سے جدا ہو گئی اور دوسری کئی جگہ سے ٹوٹ گئی۔علاج کے لئے کراچی منتقل ہوئے۔کٹی ہوئی ٹانگ کی جگہ مصنوعی ٹانگ لگا دی گئی لیکن ان کے عزائم کمزور نہ ہوئے۔صحتیاب ہوتے ہی محاذوں پر سرگرم ہو گئے۔کابل کی فتح میں قائدانہ کردار ادا کیا۔شمالی علاقوں کی مہم کی قیادت کی۔ہمیشہ امیرالمؤمنین کے خاص مقرب اور معتمد رہے۔اطاعت ان کا خاص شعار تھا جس کی وجہ سے ہمیشہ فتنوں سے محفوظ رہے۔شمال کی مہمات میں ایک بار پھر شدید زخمی ہوئے۔کئی گولیاں جسم میں پیوست ہو گئیں۔باقی گولیاں نکال لی گئیں مگر سر میں دماغ کے قریب تک گھس جانے والی گولی اب تک ان کے جسم کا حصہ ہے۔اس شدید صدمے کے بعد بھی ان کے پایۂ استقلال میں کوئی لغزش نہ آئی اور وہ امارت اسلامیہ کے کمانڈر اعلی کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالے رہے۔افغانستان پر امریکی حملے کے بعد بھی تمام محاذوں پر سرگرم رہے۔جنرل دوستم کی بد عہدی اور عہد شکنی کی وجہ سے گرفتار ہوئے۔امریکیوں نے خطرناک ترین قیدی قرار دے کر ’’گوانتاناموبے‘‘ منتقل کیا اور وہاں بھی سخت ترین قید میں رکھے گئے اور بد ترین تشدد کا نشانہ بنائے گئے لیکن جیل سے رہا ہو کر آنے والے تمام مجاہدین ان کے عزم آہن اور استقامت کی گواہی دیتے رہے۔امریکیوں نے گوانتاناموبے سے کئی افغان اور دیگر قومیتوں سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو وقتاً فوقتاً رہا کیا لیکن ملا محمد فضل کو باوجود ان کی شدید علالت کے خطرناک ترین سے کم درجے پر منتقلی کی سہولت فراہم نہ کی۔اللہ کا شیر غیر معمولی قوت برداشت اور استقامت کے بل بوتے پر مظالم سہتا رہا اور بالٓاخر رحمت الہی جوش میں آئی اور ان کا امتحان اختتام کو پہنچا۔آج انہیں جاننے والا ہر شخص اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہے اور اس نعمت عظمی پر شکر گزار ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ خوشی کا موقع عطاء فرمایا۔

ملا خیر اللہ خیر خواہ بھی امارت اسلامیہ کے فعال رکن ہیں۔وزیر داخلہ کے منصب پر فائز رہے۔سخت جنگجو طبیعت کے حامل ہیں۔اتنے اہم منصب پر فائز ہونے کے باوجود محاذوں پر جنگوں کی کمان کیا کرتے تھے۔لوگ افغانستان کے وزیر داخلہ کو عام مجاہدین کے ساتھ محاذوں پر لڑتے،زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے،بغیر بستر گاڑی کی سیٹ پر آرام کرتے دیکھتے تو عجیب تاثرات کا اظہار کرتے اور ان کے ذہنوں میں قرون اولی کی یادیں تازہ ہو جاتیں۔

ملا عبد الحق واثق امارت اسلامیہ کے ذہین انٹیلی جنس چیف تھے۔ایک ایسے پرنور چہرے والے نوجوان جن کی پیشانی پر تقوی اور سادگی کا نور چمکتا تھا۔جو شخص بھی ان سے ملتا ان کے حسن اخلاق اور اعلی صفات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔کابل میں امارت اسلامیہ کا نظام حکومت مستحکم کرنے اور وہاں داخلی شورشیں دبانے میں ان کی مدبرانہ صلاحیتوں کا بہت دخل رہا۔

ان کے علاوہ رہا کئے جانے والے دیگر حضرات ملا نور اللہ نوری اور ملا محمد نبی عمری بھی اہم طالبان رہنما ہیں اور امارت اسلامیہ میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔

اللہ تعالیٰ نے امارت اسلامیہ افغانستان کے مجاہدین کو میدان جنگ میں تو امریکہ پر کھلی فتح عطاء فرمائی ہی ہے ساتھ ساتھ یہ سادہ مزاج، درویش منش، فقیر صفت لوگ میدانِ سیاست میں بھی دنیا بھر پر بازی لے گئے۔مسلمانوں کی اصل سیاست ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کے ساتھ ہی ہے۔اس سیاست سے انہیں عزت ملتی ہے، باوقار مقام ملتا ہے اور ہر بحران میں مکمل فتح،وہ سیاست جو جہادی عنصر سے خالی ہو مسلمانوں کو اورا سلام کو آج تک کیا خیر پہنچا سکی؟ یہ سوال تو اہل سیاست سے پوچھا جانے کا ہے۔طالبان نے البتہ ثابت کر دیا ہے کہ جہاد اور قربانی کی پشت پناہی سے کی جانے والی سیاست ہر حریف کو زیر کرنے کی قوت رکھتی ہے۔مجاہدین نے امارت کا سقوط برداشت کیا،جیلیں برداشت کیں۔پاکستانی حکومت اور اداروں کے شدید مظالم اور توہین آمیز رویہ برداشت کیا،ان کے کئی اہم عہدیدار اور اعلی قیادت پاکستان کی جیلوں میں بند رہی مگر انہوں نے کوئی جذباتی فیصلہ یا انتقامی کارروائی کرنے کی بجائے اپنی توجہ امریکہ کے خلاف جہاد پر مرکوز رکھی،عسکری کارروائیاں تیز کیں،خوفناک فدائی حملے کیے،فوجیوں کو یرغمال بنایا اور تباہ کن عسکریت کے دباؤ سے امریکہ اور اس کی حامی قوتوں کو مذاکرات کی میز پر آنے اور بات چیت کی بھیک مانگنے پر مجبور کیا۔جب مذاکرات شروع ہوئے تو بھی ان کا ایجنڈہ اور دائرہ کار محدود رکھا اور اپنی عسکری کارروائیاں بدستور جاری رکھیں،صرف چند ایشو مختص کر کے ان پر بات چیت کی تاکہ دباؤ میں کمی نہ آئے اور دشمن مذاکرات کے بہانے تازہ دم نہ ہو جائے۔مذاکرات کا کئی بار تسلسل ٹوٹا اور انہوں نے بحالی پر کوئی اصرار کرنے کی بجائے عسکری دباؤ بڑھا دیا۔یوں ہر بار امریکہ کو ہی جھک کر مذاکرات بحال کرنا پڑے۔مذاکرات کے آخری دور میں بھی بات چیت کا محور صرف قیدیوں کی رہائی اور تبادلہ رہا۔جنگ بندی وغیرہ معاملات زیر بحث نہ لانے دئے گئے۔

اور کل جب یہ تبادلہ عمل میں آیا خوست کے ایک مخصوص علاقے میں محض چند گھنٹوں کی جنگ بندی کی گئی تاکہ امریکی فوجی وہاں سے بحفاظت منتقل کیا جا سکے۔

اس طرح مجاہدین نے امریکہ کو ہر طرح سے بے دست و پا کر کے اپنا مقصد بھی حاصل کر لیا۔اپنے اہم اور عظیم رہنما بھی آزاد کر الئے اور اپنی تحریک جہاد کا تسلسل بھی نہ ٹوٹنے دیا۔امریکہ اور دنیا کی مہذب کہلانے والی ان اقوام کے مذاکرات کار ڈپلومیٹس بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے سیاسیات کی اعلی ڈگریوں کے حامل اور مذاکرات کے داؤ پیچ سیکھے ہوئے لوگ ہوتے ہیں لیکن ان کی یہ تمام ڈگریاں ان بوریا نشینوں کی سیاست کے آگے ہیچ رہیں جنہوں نے چٹائیوں پر بیٹھ کر مسجدوں میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے علاوہ اور کچھ نہیں پڑھا۔

آفرین اور سلام ہے امیر المومنین کی مدبرانہ قیادت کو اور صد ہا مبارکباد کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ فتح مبین عطاء فرمائی اور خوشی  کا یہ دن دکھایا۔ان شاء اللہ وہ دن بھی جلد آئے گا جب افغانستان کے صدارتی محل پر پھر امارت اسلامیہ کا کلمہ طیبہ والا پرچم لہرا رہا ہو گا اور ملا محمد فضل جیسے مجاہد پھر افواج اسلامیہ کی قیادت کر رہے ہوں گے۔

قیدیوں کی رہائی اور تبادلے کے ان مناظر میں ان روشن خیال کہلانے والے تاریک دماغوں کے لئے بڑے عبرت ہے جو امریکہ اور مغرب کو انسانی حقوق کا علمبردار اور مجاہدین کو ظالم و غاصب قرار دیتے نہیں تھکتے۔امریکہ کا جو فوجی رہا کیا گیا ہے اس کی صحت اس وقت سے بھی بہت بہتر حالت میں ہے جب اسے پکڑا گیا تھا۔جبکہ طالبان رہنما اس قدر کمزور اور نحیف ہو چکے ہیں کہ جن لوگوں نے انہیں بارہا دیکھا ہے اور ان کے ساتھ طویل وقت گزارے ہیں وہ بھی تصاویر سے انہیں پہچان نہیں پا رہے۔اللہ تعالیٰ کی یہ شیر اپنی عمروں سے بہت زیادہ بوڑھے نظر آ رہے ہیں۔یہ کھلا تضاد مغرب کی انسانیت نوازی اور حقوق کی پاسداری کا پردہ بہت اچھی طرح چاک کر رہا ہے۔ہمیں تو نہ اس بارے میں کوئی اشتباہ ہے اور نہ شکوہ۔کافر مسلمانوں کے کھلے دشمن ہیں اور ان سے یہی توقع رکھی جا سکتی ہے جیسا انہوں نے کیا۔ہاں وہ لوگ جو ان کے ظاہر اور محض اقوال سے متاثر رہتے ہیں وہ ضرور غور کریں تو شاید انہیں فائدہ ہو۔

بہرحال القلم کے تمام قارئین کو اور امت کا درد رکھنے والے تمام مسلمانوں کو مجاہدین کی یہ عظیم فتح اور اللہ کے ان شیروں کی رہائی بہت مبارک ہو۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online