Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

مُہر (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 653 (Talha-us-Saif) - Muhar

مُہر

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 653)

یہ کالم جس وقت آپ تک پہنچے گا الیکشن ہو چکے ہوں گے اور ممکنہ نئی حکومت کے خدوخال بھی کچھ واضح ہو چکے ہوں گے۔ ویسے تو کسی بھی معاملے میں پیشین گوئیاں کرنے کی عادت نہیں بنانی چاہیے، اچھی بات نہیں ہے،کافی نقصادن دِہ عادت ہے لیکن پاکستانی سیاست کے بارے میں تو اس عمل سے بطور خاص پرہیز کرنا چاہیے۔ دجال کی آمد کی حتمی یا قریبی تاریخیں دینے اور پاکستان کی سیاست کے بارے میں کوئی پیشین گوئی کرنے والوں کو عموماً رسوائی کا ہی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ہم میں سے جس شخص کی جتنی بھی عمر ہے، جب سے ہوش سنبھالا ہو گا اور بات سمجھنے کا شعور پیدا ہوا ہو گا یہ چند باتیں ضرور سنی اور پڑھی ہوں گی:

٭ انتخابات آزادانہ نہیں ہوتے…

٭سیاستدان فلاں فلاں کی کٹھ پتلیاں ہیں…

٭حکومت میں وہی آئے گا جسے فلاں فلاں چاہیں گے…

وغیرہ وغیرہ

جب قوم کے ہر فرد کو پتا ہے کہ شروع سے ہی یہی نظام قائم ہے۔ سروے اندازے کچھ ثابت نہیں کرتے۔ جلسوں میں شرکت کا تناسب بھی کسی کے حق میں کوئی فیصلہ کن کردار ادا نہیں کرتا، بلکہ بیلٹ بکس میں موجود پرچیوں کی گنتی بھی فتح و شکست کا حتمی مدار نہیں ہے۔ جیتنے والا ہمیشہ اپنی جیت کو عوامی مقبولیت کے کھاتے میں ڈالتا ہے اور ہارنے والا اپنی شکست کا ذمہ دار صرف اور صرف دھاندلی کو قرار دیتا ہے۔ جو لوگ حکومت بناتے ہیں وہ ہی اس حکومت کو اپوزیشن کے ہاتھوں ناکام کراتے ہیں۔ لوٹے ٹوٹ کر جس پارٹی کو زیادہ جوائن کرنے لگتے ہیںیہ اس کی جیت کاپری پول اعلان ہوتاہے، وغیرہ وغیرہ تو ایسے میں سمجھ نہیں آتا کہ لوگ سیاسی پیشین گوئیوں پر اپنا قیمتی وقت کس طرح صرف کر لیتے ہیں؟

شاید یہ سوچ کر کہ درست نکلی تو اگلے کئی سال حوالہ دینے کے کام آئے گی اور غلط نکل آئی تو دھاندلی کے گلے ڈال کر دل کو اور قارئین و سامعین و لائکین کو مطمئن کر لیں گے۔بہرحال یہ ایک انتہائی فضول کام ہے اللہ تعالیٰ سے توفیق مانگ کر اس سے اجتناب کی کوشش کیا کریں، ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے بھی مفید ثابت ہو گی ان شاء اللہ

اچھے حکمران کا وجود ایک اچھے معاشرے کے قیام لئے ضروری ہے۔ اس لئے نبی کریم ﷺ کی امت کو تعلیم فرمودہ دعاؤں میں بھی اس کی دعاء شامل ہے۔ فاسق حکمران کی وجہ سے معاشرے میں فسق و فجور کا چلن ہوتا ہے اور کرپٹ حکمران کا وجود پورے معاشرے کو بددیانت بنا دیتا ہے۔ شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی شہرہ آفاق اصلاحی کتاب ’’گلستان‘‘ میں لکھا ہے کہ بادشاہ اگر ناحق انڈا کھانا حلال سمجھے گا تو قوم مرغی کو بھی نہیں چھوڑے گی، ہڑپ کر جائے گی۔ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا ناسور یہی بد دیانتی کا ہے۔خصوصاً گذشتہ تین دہائیوں میں ہمارے ملک پر جو لوگ کسی بھی شکل میں مسلط رہے ہیں ان کا تعارف اور وجہ شہرت ہی بددیانتی کی نت نئی قسموں کی ایجاد اور اس میدان میں عالمی سطح کے ریکارڈ بنانا ہے۔ ہر حکمران پارٹی کے ارکان کی مالی بدعنوانیوں کی وہ ہوشرباداستانیں ہیں کہ سن کر ہول آ جاتے ہیں کہ کس طرح ملکی اموال کو شیرمادر کی طرح ہڑپ کرتے ہیں۔ اسی کا اثر ہے کہ عوامی سطح پر نوکر شاہی اور کلرکی کو تو چھوڑئیے معلمی اور مدرسی جیسے مقدس پیشوں میں بھی اب پیشہ ورانہ دیانت داری کے حامل لوگ ڈھونڈھے نہیں ملتے۔ نظام حکومت میں خرابیاں تو ہمارے ہاں روز اول سے ہی بے شمار ہیں لیکن جب تک حکمران طبقہ اس قدر بددیانت نہیں تھا عوام میں بھی اس خرابی کے اس درجہ مظاہر نہیں تھے۔

ایسے میں ہر دردمند دل پاکستانی شہری پر بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عدل و انصاف والی حکومت کے قیام کی کوشش بھی کرے اور اس کے لئے نبی کریمﷺ کی مبارک دعاؤں سے بھی مدد لے۔

اَللّٰھُمَّ وَلِّ عَلَیْنَا خِیَارَنَا وَ لَا تُوَلِّ عَلَیْنَا شِرَارَنَا

اَللّٰھُمَّ لَا تُسَلِّطْ عَلَیْنَا مَن لَّا یَخَافُکَ وَ لَا یَرْحَمُنَا

الیکشن کے اس شور شرابے میں جو بات سب سے زیادہ سننے پڑھنے کو مل رہی ہے وہ بھی یہی بددیانتی اور کرپشن کی داستانیں ہیں۔ ہر پارٹی اپنے مدمقابل پارٹی کو اور ہر امیدوار اپنے مخالف امیدوار کو بددیانت ثابت کرنے میں مصروف ہے۔ صحافت کا زیادہ زور بھی اسی کام میں صرف ہو رہا ہے اور سوشل میڈیا پر سرگرم پارٹیوں کے ترجمان اور کارکن بھی اسی راگ کو شدت سے الاپ رہے ہیں، فیصلہ کرنا تقریبا ناممکن کر دیا گیا ہے کہ کس جانب جھکا جائے۔ ایسے میں بس دعاء ہی وہ ذریعہ رہ جاتا ہے جس سے رہنمائی حاصل کی جا سکے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے اس بار قوم کو درست فیصلے کی توفیق ملے اور ملک کو ایسے حکمران نصیب ہوں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اور قوم کے مفادات کا تحفظ کرنے والے ہوں۔ ووٹ کی مہر کے ساتھ اگر ہم اس بات کا بھی صدقِ دل سے اہتمام کر لیں کہ اپنے ان گناہوں پر توبہ اور ترک کی پکی مہر لگا دیں جن کا وبال ہم پر بُرے حکمرانوں اور بددیانت انتظامیہ کی شکل میں مسلط کر دیا جاتا ہے۔ ہم ظلم کی ہر نوع سے توبہ کر لیں ، ہم جھوٹ ، غیبت اور بہتان طرازی سے توبہ کر لیں،ہم فحاشی بدکاری کے پھیلاؤ میں حصہ دار بننے سے توبہ کر لیں، ہم سود سے توبہ کر لیں اور سب سے بڑھ کر ہر فرد ذاتی طور پر بددیانتی کی ہر چھوٹی بڑی نوع سے تائب ہو جائے، تو ان شاء اللہ انتخابات کے اس دن ممکن ہے قوم کی تقدیر بدل جائے اور اگر ہم اس دن صرف ایک پرچی پر مہر لگا آئے اور دل میں کچھ نہ بدلا تو

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online