Bismillah

671

۲۸ربیع الاول تا۴ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۷تا۱۳دسمبر۲۰۱۸ء

پیغام رحمت (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 654 (Talha-us-Saif) - Paigham e Rahmat

پیغام رحمت

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 654)

مرحبا!قربانیوں کا موسم آن پہنچا، اﷲکے بندے اﷲکے حکم پر ابوالانبیاء خلیل اﷲابراہیم علیہ السلام کی سنت زندہ کریں گے اور جانوروں کا خون بہا کر رب کو راضی کریں گے۔ انہیں اس جانور کے ایک ایک بال پر نیکی ملے گی۔ اس کے خون کے ہر قطرے پر نیکی ملے گی۔ اگر کچھ دن اسے باندھا ہوگا، خدمت کی ہو گی تو اس پر بھی نیکی ملے گی، اس کے گوشت پر بھی نیکی ملے گی، خود کھالیا تب بھی اور دوسروں کو کھلادیا تب بھی۔ سبحان اﷲ! کیسا موسم بہار آیا چاہتا ہے کہ ہر طرف نیکیوں کے پھول ہی پھول کِھلے ہوں گے۔

اﷲ رب العزت کا اس امت پر احسان دیکھئے کہ اس نے مسلمانوں کو سال میں دودن عید کے عنایت فرمائے ہیں: عید الفطر، عید الضحیٰ

ان لکل قوم عیدا وہذا عیدنا

ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔

لیکن ہماری عیدوں کا ہر قوم کی عید سے بہت فرق ہے، دوسری قوموں نے عیدیں خود بنائی ہیں ہمیں اﷲ رب العزت کی طرف سے انعام کے طور پر مقرر ہوکر ملی ہیں۔

دوسری قوموں کے پاس اپنی عیدیں گزارنے کا کوئی الٰہی طرز عمل اور شرعی نظام نہیں جبکہ ہماری عیدوں کے اَعمال اور عبادات آسمان سے اُترے ہیں۔

دوسری قوموں کی عیدیں اور تہوار صرف اور صرف غفلت، بے راہ روی اور عیاشی کے لئے ہیں جبکہ ہماری عیدیں اﷲتعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لئے دی گئیں، رمضان کے روزے رکھ کر اطاعت گزار ہونے کا ثبوت دیا کہ اﷲکے حکم پر کھانا پینا اور دیگر لذائذ ترک کردیئے، اﷲنے توفیق دی کہ اس کا حکم پورا کیا اب اس توفیق کا شکر ادا کرو اور عبادت کرنے کی خوشی مناؤ لہذا یہ تمہاری عید ہے۔

اﷲکی توفیق سے حج کا فریضہ ادا ہوگیا، سبحان اﷲ! ایسی عاشقانہ عبادت رب کے حکم پر زیب وزینت ترک، اعلیٰ لباس ترک، خوشبوئیں ترک، عمامے ترک، دیوانہ وار گھر کے چکر، شیطان کی رمی، یہ سب کچھ ادا ہوگیا اب خوشی مناؤ یہ تمہاری عید ہے۔

اور سب سے بڑا امتیاز یہ کہ دوسروں کی عیدیں سراسر خود غرضی اور اِسراف پر مبنی ہیں، اپنے لئے اعلیٰ سے اعلیٰ کپڑے بناؤ، زیب وزینت کا مہنگا ترین سامان خریدو، پارٹیوں میں تکلفات پر مال بہاؤ، جوتوں اور خوشبوؤں پر ہزاروں لاکھوں لٹاؤ، جبکہ ہماری دونوں عیدوں کی تو خاص عبادت ہی دوسروں کی مدد کرنا اور محروموں کو خوشیوں میں شریک کرنا ہے۔

پہلی عید آتی ہے حکم ہوتا ہے نماز سے پہلے ہی غریبوں کی عید کا انتظام کردو، انہیں مال دو تاکہ وہ بھی خوشی مناسکیں۔ ان میں صدقہ الفطر کی شکل میں عیدی بانٹو تاکہ وہ بھی مسرتوں میں شریک ہوسکیں، انہیں غنی کردو تاکہ وہ بھی آج اچھا کھا پی سکیں، آقا مدنی صلی اﷲ علیہ وسلم نے خود اس طرح سے عید منا کر دکھا دی، نماز سے واپس تشریف لاتے ہوئے یتیم، لاوارث بچہ ساتھ لے آئے فرمایا آج سے تو حسن حسین (رضی اﷲعنہما) کا بھائی ہے۔ فاطمہ (رضی اﷲعنہا)کا بیٹا ہے۔ سبق تھا امت کے لئے کہ تمہاری عید غفلت میں پڑے رہنے کا نام نہیں، مستی میں گم ہوجانے کا نام نہیں، سیرسپاٹوں کا نام نہیں، لباس کی زینت کا نام نہیں، بلکہ بے سہاروں کا سہارا، بے آسروں کے آسرا بننے کا نام ہے، غریبوں کی مدد کا نام ہے، یتیموں بیواؤں کی خبر گیری کا نام ہے۔

دوسری عید مسلمانوں کو وفا و جانثاری کے ایک عظیم واقعے کی یاد دلاتی ہے۔ جسے سنت ابراہیمی کہاگیا ہے، اہم بات تو یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اس دن ایک نہیں دو قربانیاں لی گئی تھیں، ایک بڑی قربانی تھی کہ اﷲ تعالیٰ کے حکم پر اپنے لخت جگر کی قربانی پیش کرو۔ اکلوتا بیٹا، بلوغ کی عمر کو پہنچا ہی تھا کہ اسے اپنے ہاتھو ں قربان کردینے کا حکم ہوگیا۔ کتنا مشکل کام معلوم ہوتا ہے لیکن اس وقت جب محبت نہ ہو اور یہاں تو محبت آگے بڑھ کر خُلَّت کا مقام پا چکی تھی۔ خلیل کے لیے کہاں مشکل ہے کہ وہ اپنی محبوب چیزیں قربان کردے، اس لیے یہ بھی نہیں سوچا کہ ایک ہی بیٹا ہے، اپنی عمر ڈھل رہی ہے، بڑھاپے کا کوئی اور سہارا نہیں، بس حکم آیا اور بیٹے کو لے کر صحراء کی طرف روانہ ہوگئے۔ اﷲ کے منتخب بندے آج بھی حضرت خلیل اﷲ علیہ السلام کی اس سنت پر عمل پیرا ہیں۔ اﷲکا دین قربانیاں مانگ رہا ہے، میدان سجے ہوئے ہیں شہادتوں کے بازار آباد ہیں۔ ایسے میں وہ اپنے لخت جگر قربان کرانے ان میدانوں کی طرف بھیج دیتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کے گلے پر خود چھری تو نہیں چلا تے کیونکہ یہاں قربانی کا مطالبہ باندازِ دِگر ہے لیکن ان کی گردنوں پر بوسہ دے کر انہیں قربان گاہوں کی طرف بھیج دیتے ہیں۔ انہیں علم ہے کہ اس قربانی کے بغیر دین غالب نہیں ہوسکتا، غلامی کی زنجیریں نہیں ٹوٹ سکتی۔ اسلام کا نظام نافذ نہیں ہوسکتا اور اﷲ کے باغیوں، دشمنوں کی کمر نہیں ٹوٹ سکتی ان کی قوت و شوکت برباد نہیں ہوسکتی۔ زمین فساد سے پاک نہیں ہوسکتی اور مسلمانوں کی جانیں، مال اور عزتیں محفوظ نہیں ہوسکتی۔

انہیں یہ بھی علم ہے کہ یہ قربانی پیش کرکے وہ اپنے رب کے ہاں اونچے مقامات پالیں گے۔ انہیں دنیا میں بھی امتیازی شان مل جائے گی اور آخرت کے بلند درجات بھی حاصل ہوں گے۔ اس لیے وہ بخوشی اپنی قربانیاں رب کے حضور پیش کرکے عاجزی کے ساتھ کہہ دیتے ہیں:

سپردم بتو مایہ خویش را

تو دانی حسابِ کم و بیش را

قربانی کے موسم میں یہ ماں باپ خلیل اﷲ ابراہیم علیہ السلام کے سچے پیروکار ہیں۔

باپ نے بیٹے کو خواب سنایا اور فرمایا بیٹا یہ میرے رب کا حکم ہے۔ بتاؤ تمہاری کیا منشا ہے؟ ابا جان رب کا حکم ہے تو منشا کیسی۔ فوری عمل کرگزرئیے۔ بندے کے لیے اس سے بڑھ کر سعادت کیا ہوگی کہ اس کا مالک اسے خود مانگ کر قبول فرمالے۔ یہ سعادت مند فرزند ذبیح اﷲحضرت اسماعیل علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔ انہوں نے بھی نہیں سوچا کہ نوجوانی کی عمر ہے۔ ابھی جوانی کے مزے لینے باقی ہیں۔ امنگوں کی تکمیل تشنہ ہے ایسے میں خود کو موت کے سپرد کردینے سے تو ان ساری لذتوں سے محرومی ہوجائے گی۔ بلکہ صرف یہ سوچا کہ محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ محبوب بلائے تو سر کے بل جا سکو تو دریغ نہ کرو۔ گھسٹ کر جا سکو تو تاخیر نہ کرو۔ بندگی کا تقاضہ یہ ہے کہ مالک بلائے تو دیر نہ کی جائے اور نہ انجام کو سوچا جائے۔ سو انہوں نے اس حکم کو پورا کردیا۔ رب کے حکم پر اپنی گردن زیر خنجر رکھ دینا اسماعیل علیہ السلام کی سنت ٹھہری۔ اور یہ سنت آج بھی پوری ہو رہی ہے۔ افغانستان، عراق، کشمیر، فلسطین، چیچنیا اور دنیا بھر کے محاذوں پر فرزندانِ اسماعیل خنجر تسلیم کے نیچے سر جھکائے ہوئے ہیں۔ ان پر بم برس رہے ہیں، گولے گر رہے ہیں، تباہ کن ہتھیار استعمال کیے جارہے ہیں، لیکن ان کے عزائم میں فرق نہیں آتا نہ ان کے قدم لڑ کھڑاتے ہیں۔ انہوں نے بھی دنیا کی رنگینیاں چھوڑ کر اپنی جوانی موت کی سنگینیوں کے حوالے کردی ہے کیونکہ انہوں نے اسے عبودیت اور محبت کا حق سمجھا ہے۔ انہو ںنے جان لیا ہے کہ بلندی پانے کے لیے انہیں قربانی دینا ہوگی۔ راحت پانے کے لیے قربانی پیش کرنا ہوگی اور عزت کا حصول بھی قربانی سے ہی ہوگا، انہوں نے اپنے لیے اسماعیل علیہ السلام والا طریقہ اختیار کرلیا۔ قربانیوں کے موسم میں یہ اسماعیل علیہ السلام کے پیروکار ہیں۔

ابراہیم علیہ السلام سے اس دن جو چھوٹی قربانی لی گئی وہ یہ تھی کہ اﷲرب العزت نے ان کے اس پیارے عمل کی یادگار عامۃ المسلمین میں باقی رکھنے کے لیے ایک جانور ان کے ہاتھوں ذبح کرایا اور اس عمل کو ہماری امت میں مخیر اور ذی استطاعت لوگوں پر فرض کردیا۔ اب حکم یہ ہے کہ ہر صاحب نصاب شخص اس دن اﷲ کے نام پر جانور کی قربانی کرے، اس کا گوشت خود کھائے، دوسروں کو بھی کھلاے، فقراء ومساکین میں تقسیم کرے اور رشتہ داروں تک پہنچا کر صلہ رحمی کا حق ادا کرے۔ قربانیوں کے موسم میں ہر سال کروڑوں مسلمان اپنے جد امجد کی اس سنت کو اﷲ کے حکم سے زندہ کرتے ہیں اور اس کی رضا تلاش کرتے ہیں۔

اس دن بھی قربانی کرنے والوں کے کئی رنگ ہیں، کوئی اپنے گھروں میں قربانی کرکے اپنے بچوں کا دل خوش کرتے ہیں اور رشتہ داروں کو خوشی میں شریک کرتے ہیں اور کئی اﷲکے بندے اس دن بھی امت کے لیے قربانی دیتے ہیں۔ وہ یہ سوچتے ہیں کہ امت محمدیہ میں کتنے لوگ دشمنوں کی یلغار کے سبب ان خوشیوں سے محروم ہیں۔ کتنے گھرانے ایسے ہیں جنہوں نے اﷲ کے راستے میں بڑی قربانی دی اس لیے اب ان میں قربانی نہیں ہوتی اور بچوں کے چہرے مسکرا نہیں سکتے۔ کتنے مسلمان ایسے ہیں جو آسمانی آفات کے سبب گھر بار سے محروم ہوگئے ہیں اور ان کے ہاں عید کی خوشیاں نہیں آتی اور ان سب سے بڑھ کر وہ لوگ ہیں جو اس امت کے غموں کا مداوا کرنے اور دُکھوں کا صحیح علاج کرنے کی غرض سے اپنے گھر بار چھوڑ گئے ہیں اور فریضہ جہاد کی ادائیگی میں مشغول ہیں۔ شہروں، آبادیوں سے دور کہساروں، ریگزاروں کو ٹھکانا بنائے ہوئے اسلام کی سربلندی کی محنت میں مصروف ہیں۔ یہ مسلمان سوچتے ہیں کہ جس طرح اپنی واجب قربانی اپنے گھر میں کرکے اہل واولاد کے لئے خوشی کا سامان کیا اسی طرح اپنی نفل قربانی ان لوگوں تک پہنچادیں۔ اﷲ کے راستے کا کوئی غازی محاذ جنگ پر بیٹھا ہوا ان کی قربانی کا گوشت کھالے اور انہیں محاذ سے سینکڑوں، ہزاروں میل دور بیٹھے غازی کو کھلانے کا وہ عظیم ثواب مل جائے جو آقا مدنی صلی ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ اور ہاں! یہ غازی شہید بھی بن سکتا ہے جن کی شفاعت اﷲ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہے ممکن ہے اس غازی کو عید کی خوشی میں شریک کرنا ان کے لیے قیامت کے دن اس کی مقبول شفاعت کا سبب بن جائے۔

یہ مسلمان پسند کرتے ہیں کہ ان کی نفل قربانی کسی شہید، اسیر یا غازی کے گھر میں ہوجائے، اﷲ کے ان منتخب بندوں کے اہل خانہ عید کی خوشی منالیں اور قربانی دینے والے کو مجاہد کے اہل کی خبر گیری اور ن کے ساتھ حسن سلوک کا وہ عظیم ثواب مل جائے جو اس عمل کے علاوہ مل ہی نہیں سکتا۔ جی ہاں!کسی شخص کا عمل مجاہد کے عمل کے برابر نہیں ہوسکتا سوائے اس شخص کے عمل کے جو مجاہد کے گھر کی دیکھ بھال کرے اور اس کے اہل خانہ سے حسن سلوک کرے۔ یہ مسلمان اس بات سے خوش ہوتے ہیں کہ ان کی قربانی کسی شہید کے یتیم بچے کے چہرے پر مسکراہٹیں سجادے اور کسی مجاہد کے بوڑھے ماں باپ کی آنکھوں سے خوشی کے دو آنسو رواں کردے اس سے بڑھ کر ذخیرہ آخرت کیا ہوگا؟

ان مسلمانوں کے لیے باعث تسکین یہ امر ہے کہ ان کی قربانیاں اﷲ کے دین کا علم حاصل کرنے والے طلباء تک پہنچ جائیں وہ انہیں ذبح کرنے کی خوشی بھی منالیں اور ان کا گوشت بھی کھالیں۔

یہ مسلمان سعادت سمجھتے ہیں کہ ان کی نفل قربانی اﷲ کے راستے میں گھر بار چھوڑ کر آنے والے یا نکال دیئے جانے والے مہاجرین تک پہنچ جائیں اور انہیں مہاجر کی نصرت کا وہ عظیم اجر مل جائے جو قرآن و حدیث میں بارہا بیان ہوا اور اس پر ایمان والوں کی تعریف کی گئی۔

اور اﷲکے بندوں میں کچھ عظیم بندے وہ ہیں جو ان دردمند مسلمانوں کی ان حسین آرزوؤں کی تکمیل کا انتظام کرتے ہیں۔ وہ دن رات کا آرام ترک کرکے گلی گلی کوچہ کوچہ جاکر مسلمانون کو ان عظیم لوگوں کا درد سناتے ہیں اور پھر جب وہ اس سعادت کے حصول پر آمادہ ہوجاتے ہیں تو پھر یہ دیوانے دن رات ایک کرکے ان کی یہ امانتیں حقداروں تک پہنچانے کا پورا نظام بناتے ہیں۔ اموال کی فراہمی سے مقررہ وقت کے اندر ہر قربانی ادا کرانے اور دور دراز علاقوں میں برسر پیکار مجاہدین تک، جیلوں میں بند اسیران اسلام تک، ملک بھر اور بیرون ملک میں پھیلے شہداء کے گھرانوں تک، آسمانی آفات کا شکار غریب عوام تک اور دینی مراکز ومدارس تک پہنچانے کی محنت کرتے ہیں۔ وہ اس بات کے امین اور ضامن ہیں کہ قربانی ان کے حوالے کرنے والے ہر مسلمان کا یہ فریضہ بروقت بھی ادا ہو اور جس سعادت کی اس نے خواہش کی ہے اس کی بھی تکمیل ہو۔ آپ انہیں جانتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی عید کی خوشیاں اور مصروفیات آپ کے لیے قربان کرتے ہیں تاکہ آپ کی قربانیاں ان لوگوں تک پہنچائیں جو اﷲ کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں یا دے چکے ہیں۔

الرحمت والے آپ کے مخلص اور درمند بھائی جن کی باگ ڈور جید علماء کرام کے ہاتھوں میں ہے تقویٰ، اخلاص، امانتداری کی بنیاد پر پچھلے کافی عرصہ سے اہل ایمان کی امانتیں اہل ایمان تک پہنچا رہا ہے، شہداء کرام، اسیران اور مجاہدین اسلام کے گھرانوں کی کفالت ان کا طغرائے امتیاز ہے، یہ ان گھرانوں کی مالی کفالت بھی کرتے ہیں اور دیگر ضروریات بھی بوقت ضرورت بہم پہنچاتے ہیں۔ اس ادارے کے تحت شہداء ، اسیران اور مجاہدین کے بچوں کی تعلیم کا بھی مربوط نظام قائم ہے۔ اس کے علاوہ اس عظیم ادارہ کے تحت کئی بڑے مدارس اور مکاتب کام کر رہے ہیں جن میں ہزاروں لوگوں کو دینی تعلیمات سے بلامعاوضہ روشناس کرایا جارہا ہے۔ اسی طرح یہ ادارہ ملک بھر میں مختلف تبلیغی مہمات بھی چلاتا ہے، تعمیر مساجد کا ایک وسیع اور مربوط نظام بھی الرحمت ٹرسٹ کے زیر اہتمام چل رہا ہے۔الرحمت کے جانباز مخلص رضاکاروں کی انتھک محنت اور اخلاص کا ثمر ہے کہ سال بہ سال اہل ایمان کا ان پر اعتماد بڑھتا جارہا ہے۔ عید کے دنوں میں یہ ساتھی اپنی تمام تر توانائیاں اسی محنت پر صرف کرتے ہیں کہ اہل ایمان کو اپنے ان بھائیوں کی طرف متوجہ کیا جائے اور انہیں سعادتوں کے اس عظیم راستے کی جانب لایا جائے اور پھر یہ اپنی پوری محنت صرف کرکے ان امانتوں کو حقداروں تک پہنچانے کی سعی کرتے ہیں۔ ان کی محنت یہیں ختم نہیں ہوجاتی بلکہ اس کے بعد انہیں اپنے مجاہد بھائیوں کی مدد کے لیے کھالیں بھی جمع کرنا ہوتی ہیں۔ حقیقت میں اگر کسی کو قربانی والی عید دیکھنی ہو تو اﷲ کے ان بندوں کی عید دیکھ لے، محنت ہی محنت، قربانی ہی قربانی۔ ہماری دعوت ہے کہ آپ بھی اپنی نفل قربانیاں ان کے حوالے کردیں تاکہ وہ بڑی قربانی والے لوگوں تک پہنچ جائے۔ یقینا یہ عمل آپ کے لیے خیر اور سعادت کے بہت سے دروازے کھول دے گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online