Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

اصل طاقت (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 655 (Talha-us-Saif) - Asal Taqat

اصل طاقت

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 655)

سمندری جہاد کی تیاری کی ترغیب پر مضمون آیا، تیراکی کے فضائل آئے اور تیراکی سیکھنے کی طرف اُمت کو متوجہ کیا گیا اور پھر یوں ہوا کہ صفِ دشمناں میں ماتم برپا ہو گیا۔ گذشتہ ماہ تین ہفتے ’’رنگ و نور‘‘مسلسل تیراکی کے موضوع پر آئے اور ہندوستان کے ڈرامہ باز فلمی میڈیانے اس پر گھنٹوں رپورٹس چلا دیں۔

رنگ و نور کی آڈیو بار بار سنائی گئی۔ اچھا ہوا، ہندوستان کے مسلمانوں تک آقا ﷺ کی سمندری جہاد والی روایات کا ترجمہ اور تشریح پہنچی۔ ورنہ مظلوم ہندوستان میں تو اب یہ حال ہے کہ وہ علماء بھی لفظ جہاد کا درست ترجمہ نہیں لکھتے جو باقی ساری دنیا کو غیرت سکھاتے ہیں اور عزیمت کا سبق پڑھا پڑھا کر شرمندہ کرتے رہتے ہیں۔ ایسے میں وہاں کا میڈیا ہی ہے جو اس کمی کی بھر پور تلافی کرتا ہے ۔سمندری جہاد چونکہ عام جہاد سے بہت افضل جہاد ہے لہٰذا اس کی دعوت بھی ہندوستان میں شایان شان طریقے سے گونجی اور پرائم ٹائم میں گھنٹوں کے حساب سے اسے وقت دیا گیا۔

جیش والے سمندری جہاد کی تربیت کر رہے ہیں۔ ان کے فدائی دستے انڈر واٹر ڈائیونگ سیکھ رہے ہیں تاکہ ہندوستان کے ساحلوں کو نشانہ بنا سکیں ۔ وغیرہ وغیرہ

سبحان اللہ وبحمدہ

اللہ تعالیٰ کی شان ہے اور اس کی قدرت کاملہ کا مظہر کامل۔ جو لوگ یہاں ہر طرح کے میڈیا سے دور رہتے ہیں اور تصویر و تشہیر سے گریزاں ہیں، نہ سیاست میں آتے ہیں اور نہ پریس کلبوں کے باہر نظر آتے ہیں۔ نہ پینا فلیکسوں میں دِکھائی دیتے ہیں اور نہ اخبارات کے پینل انٹرویوز میں۔ انہیں دشمن، ازلی دشمن کا میڈیا گھنٹوں کوریج دیتا ہے اور ان کا پیغام نشر کرتا ہے۔

ارے مودی جی ابھی تو اللہ والوں نے صرف نیت ہی کی تھی اور آوازہی لگائی تھی کہ پوری منی سپرپاور کی دھوتی گیلی ہو گئی اور سمندری جہاد کا ڈنکہ پورے عالم میں بج اُٹھا۔ نکل پڑے ہوتے تو کیا حال ہو گیا ہوتا۔ اب خبر ہے کہ اپنی ہی نشر کردہ ان فلمی رپورٹوں کو لے کر ہندوستان اَقوام متحدہ میں اپنا کیس فائل کرنے جا رہا ہے کہ جیش والے سمندروں کے راستے ہماری ’’عزت‘‘ لوٹنے آ رہے ہیں انہیں روکا جائے اور ان پر مزید قدغنیں لگائی جائیں۔

سلام ہو ان مجاہدوں کو جن کی بے لوث قربانیوں کا ثمر ہے کہ الحمد للہ ان کی جماعت کا نام کفار کے حواس پر بری طرح چھا چکا ہے اور اسے کسی لمحہ آرام نہیں لینے دے رہا۔ یقیناً یہ ان مبارک شہداء کے معطر خون کی برکت و قوت ہے کہ دشمن ان کی دعوت کو عام کرنے پر مجبور ہے اور نا چاہتے ہوئے بھی ان کے مشن کی تکمیل کر رہا ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی قوت پر نظر رکھتے ہوئے میدان کی رکاوٹوں کو روندا اور انہیں پامال کرتے ہوئے اپنی منزلوں کو پہنچے، اللہ تعالیٰ نے ان کی اس عزیمت کا انعام یہ دیا کہ دعوت کے راستے میں حائل رکاوٹیں انہی کفار و دشمنان اسلام کے ہاتھوں دور کرا دیں اور ان کی دعوت ہندوستان کے ہر کچے پکے مکان تک پہنچی۔ ہمارے پیارے طلحہ رشید شہید کی زندگی کی ایک بڑی خواہش یہ تھی کہ انہیں ہندوستان کی سرزمین پر دعوت جہاد کا موقع ملے ، انہیں تو اس کا وقت نہ مل سکا اور وہ جام شہادت نوش کر کے اپنی سب سے بڑی خواہش کو پا گئے۔ لیکن ان کی یہ تمنا بھی تشنہ تکمیل نہ رہی۔ اللہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہیں۔انہوں نے اسباب مسخر فرمائے اور طلحہ شہید کا نام ہندوستان کے میڈیا پر اتنا گونجا کہ ہندوستان کے ایک ایک گھر تک وہاں بولی جانے والی ہر زبان میں ان کا نام پہنچا۔ ان کی شہادت کی خبر پہنچی اور اس کے ذیل میں ان کا پیغام بھی پہنچا۔ کشمیر سے تو ان کے معطر خون کی خوشبو نے غازی اٹھائے ہی تھے الحمد للہ ہندوستان کے کونے کونے سے ان کی دعوت پر نوجوان جہاد کی طرف متوجہ ہوئے ہیں اور عزیمت کے راستے کی طرف نکل رہے ہیں۔

ہم تو ہمیشہ کہتے ہیں اور پورے یقین و ایمان کے ساتھ کہتے ہیں کہ فی زمانہ اگر دنیا میں حقیقی معنوں میں اگر کوئی طاقت ہے تو وہ جہاد اور مجاہدین ہیں۔ باقی جتنے لوگ بھی طاقت کہلاتے ہیں یہ سب جہاد اور مجاہدین کے آگے بے بس ہیں۔

دنیا میں اگر کوئی اتحاد بنتا ہے تو اس کے پیچھے بھی جہاد کی طاقت کار فرما ہوتی ہے اور اگر کہیں کوئی اتحاد ٹوٹتا ہے تو بھی جہاد کی وجہ سے۔ میل ملاپ ہوتے ہیں تو اسی کی وجہ سے اور اگر کہیں شدید اختلافات رونما ہوتے ہیں تو بھی اسی کے سبب۔ جہاد جب چاہتا ہے انہیں مذاکرات کی میز پر لا بٹھاتا ہے اور جب اس کی مرضی ہوتی ہے باہم دست و گریباں کر دیتا ہے۔ یہی چاہتا ہے تو امن کے شادیانے بجنے لگتے ہیں اور اسی کی انگڑائی جنگیں برپا کرتی ہے۔ اقتصادیات و معاشیات کے میزانیے بھی اسی کے سبب اوپر نیچے ہوتے ہیں اورباہمی تعلقات کا ٹمپریچر بھی اس کی گرمی سردی کے تابع ہے۔ کوئی نہیں مانتا تو وہ سورج اور چاند سے بھی واضح ایک حقیقت کا انکار کرتا ہے اور اگر کسی کو یہ حقیقت کھلی آنکھوں سے نظر نہیں آتی تو اس کا اپنا ضعفِ بصر ہے، نشانیاں تو ہر طرف یہی سمجھا رہی ہیں۔ دنیا کی تمام تر پالیسیوں کا دائرہ جس قطب کے گرد گھوم رہا ہے وہ جہاد ہے۔ مجاہدین اگرچہ کم ہیں، کمزور ہیں، بے سروسامان ہیں لیکن ان کا جہاد اپنی طاقت کے بام عروج پر ہے اور بظاہر کچھ نہ لگنے والے یہ فقیر منش مجاہدین ہی ہیں جن کے دم سے ساری تگ وتاز قائم ہے

ید بیضاء لئے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں

کچھ لوگوں کی جانیں ، کچھ لوگوں کے اموال ، کچھ لوگوں کی عزیمت، کچھ لوگوں کی بصیرت اور ان سب کے مجموعے سے مرتب تحریکاتِ جہاد کی طاقت اور انہی کے اصل طاقت ہونے کا اندازہ صرف اسی بات سے لگا لیجئے کہ ان کی دعوت کی دنیا میں پھیلاؤ کے اسباب میں اگر خود ان کا اپنا حصہ ہے تو صرف دس سے بیس فی صد۔ باقی یہ سارا کام وہی لوگ کرتے ہیں جن کا اصل مقصد ہی اس دعوت کو مٹاناہے اور اس کا راستہ روکنا ہے لیکن طاقت انہیں مجبور کرتی ہے کہ وہ یہ کام کریں اور وہ اپنے مقاصد کے علیٰ الرغم اسے کرنے پر مکمل مجبور ہیں۔

اور ہاں طاقت اگر حواس پر چھا جانے والی چیز کو کہا جاتا ہے تو دنیا کے تمام تر حواس پر چھائی ہوئی چیز تلاش کیجئے کہ دنیا کے اکثر کام اسی کے زیر اثر انجام پا رہے ہوں تو آپ یہ کہنے پر خود کو مجبور پائیں گے کہ ’’جہاد ہی اصل طاقت ہے ، مجاہدین ہی اصل قوت ہیں‘‘… ان کا تو ایک چھوٹا سا سوئمنگ پول ہی کسی سپرپاور کو پاگل بنا دینے کے لئے کافی ہو جاتا ہے…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online