Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

الحج (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 656 (Talha-us-Saif) - Al-Hajj

الحج

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 656)

’’حج کے چند مہینے معلوم ہیں۔ سو جو کوئی ان میں حج کا قصد کرے تو مباشرت جائز نہیں اور نہ گناہ کرنا اور نہ حج میں لڑائی جھگڑا کرنا۔ اور جو تم نیکی کرتے ہو اللہ اس کو جانتا ہے ( البقرۃ ۱۹۷۔ ترجمہ حضرت لاہوریؒ )

حج اللہ رب العزت کی عاشقانہ والہانہ عبادت ہے جس کا ایک ایک اَنداز محبت ہے، عشق ہے ، وارفتگی ہے اور سوز ہے۔

محبت کے دو بہت اعلیٰ مقامات ہیں (۱) خود فراموشی (۲) خود فروشی

حج خود فراموشی کا شعار ہے اور جہاد خود فروشی کا…

حج نہ ہوتا تو محبت کا یہ رنگ کیسے نظر آتا؟

محبوب کی خاطر دُنیا کس طرح چھوڑی جاتی ہے…

اپنی ذات کیسے بھلائی جاتی ہے…

اپنی عقل کو کس طرح پسِ پشت کیا جاتا ہے…

بے ساختگی اور والہانہ پن طاری کیسے ہوتا ہے…

تَرکِ زینت، ترکِ لباس، ترکِ تعطر، ترکِ مسکن، محبوب کی خاطر سب کچھ کس طرح آسان ہو جاتا ہے…

اور ہاں! سب سے بڑا سبق یہ کہ ہمارا محبوب پراگندہ حالوں کو زیادہ قُرب سے نوازتا ہے۔ اس کی خاطر میلے کچیلے ہونے والے تیزی سے اس کی طرف سفر طے کر جاتے ہیں۔ اُسے خراب حالوں سے خصوصی رغبت ہے بشرطیکہ اُس کی خاطر ہوئے ہوں۔ یہاں نازک اندام، جسم و لباس کی فکر میں غرق، مسکن وطعام کے اچھے اچھے پیکجوں کے شوقین پیچھے رہ جاتے ہیں…

’’خیر الحاجّ ‘‘ کون ہے؟

فرمایا !

الشَّعِثْ ۔ التَّفِلْ

پراگندہ بال، خراب حال ، پسینہ آلود، گرد میں اَٹا حاجی بہترین حاجی ہے…

’’خَیْرُ الْحَجّ ‘‘ کون سا ہے؟

’’اَلْعَجُّ وَالثَّجُّ ‘‘

خوب شور شرابے والا جس میں تلبیہ کے بلند آہنگ زمزمے ہوں اور قربانی کا خون بہایا جائے…

آواز وہی بلند کرتا ہے جو خود کو بھول چکا اور گردوپیش کو بھی…

کوئی دیکھ رہا ہے تو کیا غرض اور نہیں دیکھ رہا تو کیا مطلب…

دیوانے کو حکم ہے کہ وہ آواز بلند کرے سو کر رہا ہے…

میلا کچیلا ہو گیا، گرد میں اَٹ گیا۔ جہاں جگہ ملی بیٹھ گیا اور جو ملا کھا لیا پی لیا…

کیا یہ ممکن ہے اُس کے لئے جسے اپنی ذات یاد ہو؟ ہرگز نہیں ۔ یہ کام تو اُسی سے ہو سکے گا جو خود کو بھول چکا…

اور ہاں حج کی قربانی مال بھی مانگتی ہے اور مشقت بھی… وہی تحمل کرتا ہے جو

اپنی ضروریات اور اپنی راحت کو بھلا دیتا ہے…

یوں محبت کا پہلا مقام طے ہو جاتا ہے…

یہ عاشق رب کی خاطر خود فراموش بن گیا…

اور پتا ہے جو ان کی خاطر خود کو بھول جاتا ہے اُسے کیا ملتا ہے؟…

اُسے یاد کیا جاتا ہے… اُس کا ذکر فرمایا جاتا ہے اور ایسی مجلس میں جو بہترین ہے ہر اعتبار سے اعلیٰ ہے… سبحان اللّٰہ وبحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم

بہترین حاجی وہی ہے جو مکمل خود فراموش ہے…

بہترین حج وہی ہے جو پورا خود فراموشی کی کیفیت سے اَدا ہو…

یہ نصیب ہو جائے تو اگلا مرحلہ آسان ہو جاتا ہے اور محبت کی مشکل ترین منزل کی طرف قدم بڑھانا سہل ہو جاتا ہے۔وہ ہے خود ’’فروشی‘‘ یعنی محبوب کی خاطر اپنے آپ کو بیچ دینا…

’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی جان و مال کو جنت کے بدلے خرید لیا ہے‘‘ ( التوبہ)

یہ سودا کس میدان میں ہوتا ہے؟…

’’ وہ قتال کرتے ہیں اللہ کی راہ میں، قتل کرتے ہیں اور قتل ہوتے ہیں ( التوبہ)

’’ اور بندوں میں سے کئی ایسے ہیں جو اپنی جان بیچ دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں۔ اللہ تعالیٰ ایسے بندوں پر بہت مہربان ہے‘‘ ( البقرۃ )

بیچنے والے کم ہیں کیونکہ خود کو بھلانے والے ہی کم تر ہیں۔ رب کی خاطر چند دن تکلیف اُٹھانے والے، رفث، فسوق اور لڑائی جھگڑے سے بچنے والے کتنے ہیں؟…

وہاں بھی نفس و شیطان گناہ کرا رہے ہیں، منکرات میں مبتلا کیے ہوئے ہیں، موبائل کی لعنت میں جکڑ کر برباد کئے ہوئے ہیں اور لڑائی جھگڑے کا تو پوچھنا ہی کیا ہے…

کھانے پر جھگڑے، خیمے اور بستر پر جھگڑے، ہوٹل اورمکتب پر جھگڑے ، سامان پر جھگڑے ، حتیٰ کہ حجر اَسود اور ملتزم پر جھگڑے۔ چند دن کا اِمتحان ہے اور کثرت ناکام نظر آتی ہے واللّٰہ المستعان…

محبت والے ’’ بیت‘‘ کی طرف لپکتے ہیں تاکہ ’’رب البیت‘‘ کے لئے خود فراموشی کا سبق سیکھیں اور آگے کی منزل کی طرف ترقی کریں…

سمجھے بغیر جانے والے اس مقام پر بھی پاؤں نہیں رکھتے تو آگے کیا بڑھیں گے…

اور کچھ وہ بھی ہیں خاص الخاص بندے، سب سے منتخب بندے، سب سے پیارے بندے، یُحِبُّھُمْ وَ یُحِبُّوْنَہُ  والے بندے جو سیدھے ہی اگلی منزل پر جا پہنچتے ہیں، سب سے اونچا ’’وسیلہ‘‘ پا لیتے ہیں۔

اے ایمان والو! ڈرتے رہو اللہ سے اور ڈھونڈو اس تک وسیلہ اور لڑائی کرو اس کی راہ میں شاید تمہارا بھلا ہو (المائدہ ۳۵، ترجمہ شاہ عبد القادر ؒ )

یہی تو سب سے اَقرب وسیلہ اور سب سے مختصر راستہ ہے کہ لڑائی کرو اس کی راہ میں۔

یہ وسیلہ پکڑنے والے تو درمیان کی کسی منزل پر رُکے ہی نہیں سیدھے اعلیٰ مقام پر پہنچے۔

اگرچہ وہ اپنے ظاہری حال سے پچھڑے ہوئے نظر آتے ہیں، بے سروسامان دِکھائی دیتے ہیں، اگرچہ وہ ظاہری عزت و منصب سے خالی ہیں۔ اگرچہ انہیں دنیا میں معزز نہ جانا جاتا ہو لیکن وہ کاملین ہیںاور سابقین ہیں…

حج اور جہاد نہ ہوتے تو زمین پر محبت کے یہ دو مناظرو مقامات نظروں سے اوجھل رہ جاتے۔

اللہ کریم !

اپنے دَر پر حاضر ہونے والے ہر بندے کو خود فراموشی والی، محبت والی حاضری نصیب فرمااور کسی کو بھی محروم نہ لوٹااور جو چاہے اُسے خود فروشی کا مقام بھی نصیب فرما۔آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online