Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

بارہ مہینے (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 658 (Talha-us-Saif) - bara mahine

بارہ مہینے

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 658)

اسلامی سالِ نو ۱۴۴۰؁ھ کی آمد مبارک ہو…

غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی

گردوں نے گھڑی عمر کی اِک اور گھٹا دی

اللہ تعالیٰ ہماری عمر اور اَوقات میں برکت پیدا فرما دے اور ہمیں وقت کی قدر اور اِحساس نصیب فرما دے۔زندگی لمحہ بہ لمحہ کم ہوتی جا رہی ہے لیکن دِل اِس اِحساس سے عاری ہو چکے ہیں کہ کتنی قیمتی متاع ہے جو ہم ضائع کرتے چلے جا رہے ہیں۔

سال میں ۱۲ مہینے ہیں اور یہ نظام اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کے وَقت مقرر فرما دیا تھا۔

’’بے شک اللہ تعالیٰ کے ہاں مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں، اللہ کی کتاب جس دن سے اللہ تعالیٰ زمین و آسمان پیدا کئے۔ ان میں سے چار عزت والے ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے، سو ان میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو ، اور تم سب مشرکین سے لڑو جیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں اور جان لو اللہ تعالیٰ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے ‘‘ ( التوبۃ ۳۶ ترجمہ حضرت لاہوری ؒ )

یعنی ماہ و سال کا یہ نظام اللہ تعالیٰ کی پرانی تخلیق ہے۔ یقیناً اس تقرر میں مخلوقات کے لئے نفع ہے اور اس سے دین کے اَحکام جڑے ہوئے ہیں، اس لئے بارہ مہینوں کی اس گنتی اور اس میں چار مہینوں کی خصوصی مقام کے ساتھ تعیین کو ’’الدین القیم ‘‘ فرمایا گیا ہے…

اور چونکہ ان مہینوں کے بارے میں یہ بھی فرمایا گیا کہ یہ کتاب اللہ میںدرج ہیں تو یقیناً ان سے مراد اس نظام کے تابع مہینے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کا مقرر فرمودہ ہے یعنی قمری نظام نہ کہ کسی انسانی اختراعی نظام سے منسلک مہینے…

مگر مسلمانوں کی حالت پر افسوس ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وہ حسین اور مفید نظام جس کے ساتھ حج ، روزہ، مخصوص فضائل والے ایام جیسے دینی اُمور جڑے ہوئے ہیں اس سے کس قدر غفلت ہمارے ہاں عام ہے کہ سال کے اکثر اوقات میں مسلمانوں کو یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے مہینوں میں سے کون سا مہینہ چل رہا ہے؟…اس مہینے کی اہمیت و وُقعت کیا ہے؟ اس کے ساتھ کچھ مخصوص احکام و فضائل تو وابستہ نہیں جن سے غفلت دین میں نقصان کا باعث بن جائے؟…

دوسری بات جو اس آیت مبارکہ میں ارشاد فرمائی گئی وہ یہ ہے کہ ان بارہ میں سے چار مہینے خصوصی عزت و حرمت والے ہیں، اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا خاص مقام ہے۔

یہ چار مہینے کون سے ہیں؟

مسلمانوں کی اکثریت اس بارے میں بے خبر ہے۔ بندہ نے ایک بار کراچی میں کافی دیندار ساتھیوں کی مجلس میں یہ سوال کیا تو اکثریت نے جواب سے لا علمی کا اظہار کیا، ایک صاحب نے کہا کہ انہیں معلوم ہیں، استفسار پر انہوں نے گنتی ہی رمضان المبارک سے شروع کی۔

حالانکہ رمضان المبارک اپنے بے شمار فضائل و مناقب کے باوجود ان چار مہینوں میں شامل نہیں ہے۔ جب ان مہینوں کی تعیین کے بارے میں ہی غفلت کا یہ عالم ہے تو سوچئے اس خاص حکم کے علم کا کیا حال ہو گا جو ان مہینوں کی نسبت سے ارشاد فرمایا گیا ہے؟…

’’بس ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو ‘‘

محققین کے مطابق اس سے مراد ان مہینوں میں گناہوں سے بطور خاص بچنا اور ترک معاصی کا اہتمام کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کے مالک ہیں اور اوقات و ایام بھی ان کی ملکیت ہیں۔ انہوں نے جس طرح بعض ایام کو یہ خاصیت بخشی ہے کہ ان میں نیکی کا اجر و ثواب بڑھا دیا جاتا ہے جیسے عشرہ ذی الحجہ، رمضان المبارک ، یوم عاشور وغیرہ اسی طرح ان کا فیصلہ ہے کہ بعض ایام میں گناہوں کے وبال اور شناعت کو بڑھا دیا ہے۔ اب جس طرح بندے فضیلت والے ایام میں نیکیوں پر کمر بستہ ہوتے ہیں اور خوب محنت، رغبت اور تندہی کے ساتھ انہیں کمانے کی فکر کرتے ہیں اسی طرح انہیں تاکید کی گئی ہے کہ یہ چار مہینے ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں خاص عزت و حرمت والے ہیں ان میں اگر کوئی گناہ کیا جائے تو وہ سال کے دیگر ایام کی نسبت اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ بُراشمار کیا جاتا ہے اور اس پر زیادہ ناراضگی کا خطرہ ہے لہٰذا ان میں خاص محنت کے ساتھ گناہوں سے بچا جائے۔

لیکن جب پہلے عرض کیا کہ اس خاص حکم پر عمل موقوف ہے اس بات پر کہ ان مہینوں کا علم تو ہو۔ علامہ قرطبی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مایہ ناز تفسیر ’’الجامع لاحکام القرآن‘‘ میں اس بات کو وضاحت اور مثال کے ساتھ تحریر فرمایا ہے:

’’تم ان مہینوں میں گناہوں کا ارتکاب کرکے اپنے آپ پر ظلم نہ کرو کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جب ایک جہت سے کسی شے کو عظیم بنا دیتا ہے تو اس کے لیے ایک حرمت ہوجاتی ہے اور جب وہ اسے دو جہتوں سے یا کئی جہتوں سے عظیم بنا دے تو پھر اس کی حرمت بھی متعدد ہوتی ہے پس اس میں بُرے عمل کے سبب سزا دوگنا کردی جاتی ہے اور اسی طرح عمل صالح کے سبب ثواب بھی دوگنا کردیا جاتا ہے کیونکہ جس نے حرمت والے مہینے میں بلد حرام میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی تو اس کا ثواب اس آدمی کے ثواب کی مثل نہیں ہوگا جس نے حلال مہینے میں بلد حرام میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ اور جس نے حلال مہینے میں شہر حرام میں اس کی اطاعت کی اس کا ثواب اس کے ثواب کی مثل نہیں ہوگا جس نے حلال مہینے میں بلد حلال میں اس کی اطاعت کی‘‘( القرطبی)

ایک مختصر سا نصاب اس مسئلے سے متعلق ہم سب ذہن نشین کر لیں:

٭ مہینے بارہ اور قمری نظام سے منسلک ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم اور دین محمدی ملت ابراہیمی کا حصہ ہے۔

٭ان میں چار مہینے خاص عزت و حرمت والے ہیں۔ محرم ، رجب ، ذو القعدہ، ذوالحجہ

٭ان چار مہینوں کا خاص عمل ان میں گناہوں سے بچنا ہے۔

٭ابتدائے اسلام میں ان مہینوں میں قتال ممنوع تھا بعد میں یہ حرمت اٹھا لی گئی۔ حضور ﷺ نے خود ان مہینوں میں جہاد و قتال کے اَسفار فرمائے۔ یہ مسئلہ اجماعی ہے۔

حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی قدس سرہ نے اپنی مقبول درسی تفسیر ’’معالم العرفان ‘‘ میں اسلامی نظام ماہ و سال کا جامع خلاصہ تحریر فرمایا ہے۔ افادۂ قارئین کے لئے پیش خدمت ہے:

اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْہَآ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ  ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ  فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْہِنَّ اَنْفُسَکُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ کَآفَّۃً  وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ (۳۶)

ترجمہ : از تفسیر معالم العرفان 

بیشک گنتی مہینوں کی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہے اللہ کی کتاب میں جس دن سے کہ پیدا کیا ہے اس نے آسمانوں اور زمین کو ، اور ان (مہینوں) میں سے چار (مہینے) حرمت والے ہیں یہ دین ہے مضبوط ، پس نہ ظلم کرو ان (مہینوں) میں اپنی جانوں پر اور لڑو شرک کرنے والوں سے پورے کے پورے جیسا کہ وہ تمہارے ساتھ لڑتے ہیں پورے کے پورے۔ اور جان لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ متقیوں کے ساتھ ہے

ربط آیات :

پہلی آیات میں اہل کتاب کے ساتھ جہاد کا ذکر تھا۔ اللہ نے کافروں اور مشرکوں کے ساتھ جہاد کرنے کے بعد اہل کتاب کے ساتھ جہاد کا حکم دیا۔ نیز فرمایا کہ اگر وہ مغلوب ہو کر جزیہ دینا قبول کرلیں تو ان کو امن حاصل ہوگا۔ اللہ نے ان کے عقائد فاسدہ کا ذکر بھی کیا کہ یہودی عزیر (علیہ السلام)کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں جب کہ نصاریٰ عیسیٰ (علیہ السلام)کو ابن اللہ کہتے ہیں پھر اللہ نے فرمایا کہ کسی چیز کو حلال یا حرام ٹھہرانا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے مگر اہل کتاب کی بدنصیبی کہ انہوں نے یہ صفت اپنے عالموں اور درویشوں کے لیے ثابت کی۔ اہل کتاب کی ایک خرابی یہ بھی بیان فرمائی کہ وہ دین حق کو مٹانے کے یے مختلف قسم کے حیلے کرتے ہیں ، گویا اس چراغ کو پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہے کہ اس دین کو مکمل کرے چاہے کافر لوگ اسے کتنا ہی ناپسند کیوں نہ کریں۔ اس کے بعد اللہ نے دین اسلام کے غلبے کا ذکر کیا کہ اس نے اپنے آخر ی نبی کو اس مقصد کے لیے مبعوث فرمایا تاکہ دین حق کو تمام اَدیان پر غالب بنا دے۔ یہ غلبہ دلیل اور برہان کے لحاظ سے بھی ہے اور سیاسی قوت کے لحاظ سے بھی اس کے بعد اہل کتاب کے علماء اور درویشوں کے متعلق فرمایا کہ وہ لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں اکثر لوگ مال جمع کرتے ہیں مگر اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قیامت کو ان کا جمع شدہ سونا چاندی دوزخ کی آگ میں تپایا جائیگا۔ اور اس سے ان کی پیشانیوں ، کروٹوں اور پشتوں کو داغا جائیگا اور کہا جائے گا کہ یہ ہے تمہارا خزانہ جسے تم نے دنیا میں جمع کیا اور اس کے حقوق ادانہ کیے۔ دوسری آیت میں بخل کرنے والوں کے متعلق فرمایا کہ ان کے مال گنجے سانپ کی شکل میں متشکل کر کے ان کے گلے میں ڈال دیے جائیں گے اور وہ پکار پکار کرکہیں گے کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں جسے جمع کرتا تھا مگر اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا تھا۔

آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے چار حرمت والے مہینوں کا ذکر کیا ہے اور مشرکین کی اس قبیح حرکت کا ذکر کیا ہے جس کے زریعے وہ حرمت والے مہینوں کو دوسرے مہینوں سے از خود تبدیل کرلیتے ہیں۔ جیسا کہ کذشتہ درس میں گزر چکا ہے۔ اہل کتاب مختلف اشیاء کی حلت و حرمت میں دخل اندازی کرتے تھے جب کہ مشرکین اللہ کے مقرر کردہ حرمت والے مہینوں میں ادلا بدلی کرلیتے تھے۔ حدیث شریف میں آتا ہے الحلال ما احل اللہ حلال وہ ہے جو اللہ نے حلال قرار دیا ہے ۔ الحرام ما حرم اللہ  اور حرام وہ ہے جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ کوئی انسان از خود کسی چیز پر حلت و حرمت کا حکم لگانے یا اسے تبدیل کرنے کا مجاز نہیں۔ حضرت نعمان بن نوفلؓ کی روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت اقدس میں عرض کیا ، حضور !اگر میں توحید و رسالت پر ایمان رکھتا ہوں اور اللہ کی حلال کردہ اشیاء کو حلال اور حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھتا ہوں تو کیا مجھے نجات مل جائے گی۔ آپ (علیہ السلام)نے فرمایا ہاں ، تو نجات کا حقدار ہوجائیگا ، مقصد یہ کہ حلت و حرمت کا مکمل اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ، جو کوئی یہ صفت غیر اللہ کو دے گا وہ مشرک ہوگا اور مجرم بنے گا۔

یہاں پر مختلف مہینوں کی حلت و حرمت کے متعلق ارشاد ہوتا ہے (آیت) ان عدۃ الشھورعند اللّٰہ اثنا عشر شھرا فی کتٰب اللّٰہ  بیشک اللہ کے ہاں اور اس کے حکم کے مطابق مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہے اور یہ کوئی نیا حکم نہیں بلکہ اس دن سے یہی کیلنڈر مقرر ہے (آیت)  یوم خلق السموت والارض  جس دن سے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے نظام شمسی قائم کیا ہے۔ سال بھر کے مہینوں کی تعداد بارہ مقرر کی ہے۔ اور پھر ان بارہ مہینوں میں (آیت)  منھا اربعۃ حرم چار مہینے حرمت والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان چاروں مہینوں کو ادب والے مہینے قرار دے کر ان کے دوران جنگ وجدال کو منع فرمایا ہے۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام)کے دور سے لے کر انکی ملت کا یہ اہم اصول رہا ہے کہ ان حرمت والے مہینوں میں ہر ایک کو امن وامان حاصل ہوگا۔ اور کوئی ایک دوسرے کے خلاف تعرض نہیں کریگا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام)کے بعد حضرت اسماعیل (علیہ السلام)کی اولاد میں یہ اصول ڈیڑھ ہزار سال تک قائم رہا۔ ان مہینوں کی حرمت کو برقرار رکھا جاتا رہا مگر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی بعثت سے چار یا ساڑھے چار سو سال پہلے ان مہینوں کی حرمت میں گڑ بڑ واقع ہونی شروع ہوگئی اور لوگ ان میں تغیر وتبدل کرنے لگے۔

تمام اقوام اور اہل مذاہب سال بھر کے بارہ مہینے تسلیم کرتے ہیں اور نظام اس وقت سے قائم ہے جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کر کے نظام شمسی قائم کیا ہے۔ کیلنڈروں دنوں ، ہفتوں ، مہینوں ، اور پھر سالوں کی ذریعہ بنتا ہے۔ البتہ یہ حساب دو طریقے سے دنیا پر رائج ہے ایک تقویم شمسی حساب کے ساتھ ہے جب کہ دوسری قمری حساب ہے ان دونوں میں سے کون سا حساب آسان ہے ؟ آپ دیکھتے ہیں کہ کہ قمری تقویم فطری ہے۔ کوئی حامل آدمی اگر کسی جنگل یا سمندر کی سطح پر بھی ہے جہاں اس کے پاس مہینہ کی تکمیل معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تو وہ ہر نئے چاند کے طلوع پر معلوم کرلے گا کہ پچھلا مہینہ ختم ہو کر نیا مہینہ شروع ہوگیا ہے برخلاف اس کے محض سورج کو دیکھ کر کوئی شخص از خود اندازہ نہیں لگا سکتا کہ مہینہ کب شروع ہوا اور کب ختم ہوا ، تاوقتیکہ مہینے کی ابتدا اور اختتام کا کوئی ذریعہ اس کے پاس نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ قمری تقویم زیادہ آسان اور فطرت کے مطابق ہے۔

حرمت والے مہینیے :

فرمایا اللہ کے نزدیک سال بھر میں مہینوں کی تعداد بارہ ہے ۔ ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں کہ ان کا ادب واحترام کیا جاتا ہے۔ اور ان میں لڑائی جھگڑا نہیں کیا جاتا ہے ان چار مہینوں کے نام قرآن پاک میں تو نہیں ہیں البتہ ان کی تشریح حدیث شریف میں موجود ہے۔ ان چار میں سے تین مہینے تو اکٹھے آتے ہیں۔ یعنی ذی قعدہ ، ذی الحجہ اور محرم اور چوتھا مہینہ رجب ہے جو جمادی الآخر اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔ ان چار مٰں سے حج کا موسم بھی اول الذکر تین مہینوں میں پڑتا ہے ، چونکہ زمانہ جاہلیت میں بھی یہ مہینے محترم سمجھے جاتے تھے اس لیے اس دوران لوگوں کی آمدورفت عام ہوتی تھی۔ کوئی مسافر خطرہ محسوس نہیں کرتا تھا۔ تجارتی اور عام قافلے بلا خوف وخطر سفر کرتے تھے اور اس طرح حج کا سفر بھی بخیرو خوبی انجام پاتا تھا۔ فرمایا (آیت)  ذلک الدین القیم  یہی مضبوط دین ہے۔ ملت ابراہیمی کا یہ اٹل اصول ہے کہ حرمت والے مہینوں میں کسی سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی۔ فرمایا (آیت)  فلا تظلموا فیھن انفسکم  پس ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔ جان پر ظلم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کر کے ، اس کے حکم کو توڑ کر گناہ میں ملوث نہ ہو جائو۔ دراصل معصیت میں گرفتار ہو کر عذاب کا مستحق بننا خود اپنے آپ پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔ اور اگر کوئی شخص کسی دوسرے کی جان پر ظلم کرتا ہے ، اس کو جسمانی ، ذہنی یا مالی نقصان پہنچاتا ہے تو وہ بھی دراصل اس کی اپنی جان پر ظلم ہوتا ہے کیونکہ اسے بالآخر اس ظلم کا بدلہ چکانا ہوگا۔

تخصیص کی وجہ :

مفسرین کرام نے یہاں پر یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ ظلم تو مطلقا حرام ہے۔ پھر یہاں پر ان چار مہنیوں کی تخصیص کی کیا وجہ ہے کہ ان مہینوں میں ظلم نہ کیا جائے۔ فرماتے ہیں کہ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے گناہ کرنا کسی وقت اور کسی مقام پر بھی حرام ہے مگر حرم شریف میں اس کا ارتکاب زیادہ سنگین اور ڈبل سزا کا موجب ہے۔ اسی طرح عام گلی ، بازار میں گناہ کرنے سے مسجد میں گناہ کرنا زیادہ سنگین جرم ہے۔ اس کی ایک مثال سورۃ بقرہ میں یوں آتی ہے (آیت)  الحج اشھر معلومٰت  حج کے مہینے معلوم ہیں (آیت)  فمن فرض فیھن الحج فلا رفث ولا فسوق ولا جدال فی الحج  پس جو کوئی ان مہینوں میں حج کا احرام باندھ لے پھر وہ نہ کوئی شہوانی بات کرے ، نہ گناہ کا ارتکاب کرے اور نہ جھگڑا فساد کرے۔ یہاں بھی یہی بات ہے کہ جھگڑا فساد اور معصیت تو ہر وقت حرام ہے ، پھر احرام کی حالت میں اسی کی تخصیص اس لیے کہ گئی ہے کہ ان ایام میں گناہ کی سنگینی بڑھ جاتی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺسے دریافت کیا ، حضور !بڑا گناہ کونسا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا : بڑا گناہ یہ ہے کہ تم اللہ کے ساتھ شریک بنائو۔ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ عرض کیا اس کے بعد بڑا گناہ کونسا ہے۔ آپ نے فرمایا ان تزنی حلیلۃ جارک کہ تو اپنے پڑوسی کے گھر پر ڈاکہ ڈالا جائے تو اس کی سنگینی میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے کیونکہ پڑوسی کا ایک دوسرے پر بڑا حق ہوتا ہے اگر ایک پڑوسی دوسرے کی غیر حاضری سے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کی عزت کی حفاظت کی بجائے اسے برباد کرتا ہے تو عام حالات کی نسبت اس کے جرم کو نوعت بڑھ جاتی ہے بہرحال اللہ نے فرمایا کہ حرمت والے مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔

قمری تقویم کی تقدیم :

امام رازی ؒ فرماتے ہیں : چونکہ حرمت والے مہینوں کا تعلق قمری تقویم سے ہے اس لیے یہاں سے یہ بات اخذ کی جاسکتی ہے کہ حساب کتاب میں قمری تقویم کو اولیت دینی چاہیے۔ اگر شمسی حساب سے بھی کیلنڈر بنانا ضروری ہو تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں تاہم اولیت قمری کیلنڈر کو ہی حاصل ہونی چاہییے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کے تمام احکام شرعیہ کا مدار قمری مہینوں پر ہے۔ مثلا زکوٰۃ روزے حج اور عدت وغیرہ قمری مہینوں کے حساب سے ہی پورے کیے جاتے ہیں لہٰذا قمری تقویم کو بالکل ترک کرکے شمسی تقویم پر انحصار کرنا مکروہ تحریمی میں داخل ہے۔ ایسا کرنے والے مسلمان گنہگار ہوں گے۔ انگریزی کیلنڈر کے علاوہ ہندوئوں کا بکرمی سنہ ، پارسیوں کا فصلی سنہ اور رومیوں کا اپنا کیلنڈر بھی چلتا ہے۔ تا ہم اولیت قمری تقویم کو حاصل ہے اور یہی فطری تقویم ہے۔‘‘(معالم العرفان)

٭……٭……٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online