Bismillah

671

۲۸ربیع الاول تا۴ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۷تا۱۳دسمبر۲۰۱۸ء

اصل چہرہ… (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 659 (Talha-us-Saif) - Asal Chehra

اصل چہرہ…

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 659)

ملعون گیرٹ وائلڈر کا کہنا ہے کہ اس نے اسلام کا اصلی چہرہ دنیا کے سامنے آشکار کردیا ہے۔ قتل کی دھمکیاں، فتوے، سروں کی قیمتیں اور پرتشدد احتجاج۔

مسٹر گیرٹ افسوس ہم تمہیں اسلام کا حقیقی چہرہ نہیں دکھا سکے، جتنا تم نے دیکھا وہ نیم حقیقی تھا تم جیسوں کیلئے اسلام کا جو حقیقی چہرہ ہے اس کا گواہ اللہ کا عزت والا گھر ہے۔وہ دن آیا ہی چاہتا ہے ان شاء اللہ جب تم وہ بھی دیکھ لو گے۔ابھی تو نیم حقیقی کا ہی اللہ نے وہ رعب تمہارے دل پر ڈال دیا کہ تم پسپا ہوگئے۔

 اچھا ہوا کہ گیرٹ نے نیم  اصل چہرہ دیکھ تو لیا ورنہ یہاں تو اسلام کے اصل چہرے کو چھپانے کیلئے باقاعدہ ادارے بن چکے ہیں، تھنک ٹینک وجود میں آچکے ہیں، اسلام کے اصل چہرے پر میک اپ کی کتنی تہیں چڑھادی گئی ہیں تاکہ اصل نظر نہ آئے، کچھ (بظاہر)علماء بیچارے انتھک محنت کررہے ہیں کہ اپنے چہروں پر کچھ ایسا مل کر دنیا کے  سامنے آئیں کہ ان کے چہرے کو ہی اسلام کا اصل چہرہ سمجھ لیا جائے۔دودن قبل ایک دوست نے دو مولوی صاحبان کی تصویر بھیجی، ایک بڑے دینی ادارے کے اساتذہ ہیں، ادارے کی اسی چہرہ بدلنے والی پالیسی کے زیر اثر پینٹ شرٹ زیب تن کیے ہوئے کیمرے کے سامنے یوں شرما رہے تھے جیسے برہنہ تصویر کشی پر مجبور کیے گئے ہوں۔ لیکن اس ذلت کی محنت جاری رہے گی تاکہ یہ چہروں پر ہویدا ہورہی شرم بھی کافور ہوجائے اور وہ اسلام کے اس نئے چہرے کے ساتھ دنیا کے سامنے آسکیں اور باور کراسکیں یہ یہی اصلی چہرہ ہے۔سٹیج سجتے ہیں جہاں مغربی مساوات مردوزن کو اسلامی ثابت کیا جاتا ہے اور یہ مساوات اسلام کے ماتھے پر تھوپی جاتی ہے۔مغربی جمہوریت کی اسلامیت کی جاتی ہے۔جہاد کو اسلام سے خارج ثابت کیا جاتا ہے اور چند روپوں، ویزوں،میڈیا کوریج اور کیمرہ فلیشوں کے عوض اسلام کا اصل چہرہ چھپا لیا جاتا ہے۔لیکن سلام ہو اسلام کے ان محافظوں کو جنہوں نے زمانے کی روش کے برخلاف گیرٹ اور اس جیسے ملعونوں کو اسلام کا اصل چہرہ دکھایا۔

کافر اگر میدان حرب میں ہے تو اس کے لئے اسلام کا اصل چہرہ کیا ہے؟این جی اوز زدہ میڈیائی ترجمانوں کی بجائے ہم قرآن سے کیوں نہ پوچھیں؟

"سو اگر کبھی تو انہیں لڑائی میں پائے تو انہیں ایسی سزا دے کہ ان کے پچھلے دیکھ کر بھاگ جائیں تاکہ انہیں عبرت ہو"(الانفال 57)

"پس جب تم ان کے مقابل ہو جو کافر ہیں تو ان کی گردنیں مارو یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب مغلوب کرلو تو ان کی مشکیں کس لو پھر یا تو اس کے بعد احسان کرو یا تاوان لے لو یہاں تک کہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے یہی (حکم) ہے"(محمد4 )

"قتل کرو مشرکین کو جہاں انہیں پائو اور انہیں پکڑ لو گھیر لو اور ہر مورچے میں انکے لئے بیٹھ رہو (التوبہ 5 )

یہی حربی کافر جب مسلمان ہوجائیں تو انکے لئے اسلام کا حقیقی چہرہ یہ ہے کہ یہ اب "اخوانکم فی الدین" ہیں۔ماضی میں کیسے ہی اسلام دشمن کیوں نہ رہے ہوں،کتنا ہی نقصان پہنچایا ہو، کیسے ہی شنیع جرائم کا ارتکاب کیا ہو لیکن اب بھائی ہیں۔ماضی کے ان جرائم کی سزا تو کجا طعنہ دینا بھی اب روا نہیں۔اسلام میں اسکی اتنی مثالیں ہیں گنتی میں نہیں آسکتیں۔

کافر اگر مسلمان تو نہیں ہوتا لیکن ذمی یا معاہد بن کر اسلام کی امان میں آجاتا ہے تو اسلام اسکے لئے کیا حقوق رکھتا ہے؟۔

"جس نے کسی ذمی کو قتل کیا جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھ سکے گا حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے سونگھی جاسکتی ہے"(بخاری)

"جس نے کسی معاہد کو ستایا اس نے گویا مجھے ستایا اور میں قیامت کے دن اسکے خلاف ہونگا" (ابودائود)

کافر اگر مکالمہ کرنا چاہتا ہو تو اسکے لئے اسلام کا حقیقی چہرہ کیا ہے؟

"اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دو یہاں تک کہ اللہ کا کلام سنے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دو یہ اس لیے ہے کہ وہ لوگ بیسمجھ ہیں"(التوبہ6)

اسے امان دی جائے،اکرام کے ساتھ رکھا جائے،سمجھایا جائے،اللہ تعالی کا پیغام مکمل پہنچایا جائے اور پھر اکرام کے ساتھ رخصت کرکے بحفاظت وطن تک پہنچانے کا انتظام کیا جائے۔

لیکن گیرٹ جیسے ملعون گستاخوں کے بارے میں حقیقی چہرہ کونسا ہے؟۔

 بیت اللہ کے  عزت والے پردے اسلام کے اس حقیقی چہرے کے قیامت تک گواہ ہیں۔

"عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم دَخَلَ مَکَّۃَ عَامَ الْفَتْحِ , وَعَلَی رَأْسِہِ الْمِغْفَرُ ، فَلَمَّا نَزَعَہُ جَاء َہُ رَجُلٌ فَقَالَ:ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْکَعْبَۃِ ، فَقَالَ : اُقْتُلُوہُ"

قرآن ان کے بارے کیا کہتا ہے:

’’لعنت کیے گئے ہیں جہاں کہیں پائیں جائیں گے پکڑے جائیں گے اور قتل کیے جائیں گے یہی اللہ کا قانون ہے ان لوگوں میں جو اس سے پہلے ہو گزر چکے ہیں اور آپ اللہ کے قانون میں کوئی تبدیلی ہرگز نہ پائیں گے‘‘(الاحزاب 61۔62)

ملعونوں گستاخوں کیلئے اسلام کا حقیقی چہرہ یہی ہے جو اسلام کے ان سچے خدام نے دکھایا۔ دھمکیاں دیں،قتل کے فتوے دئیے،انعامات کا اعلان کیا،ملعون کے ملک کی افواج کو نشانہ بنانے کے آرڈر جاری کئے، ان کے ممالک کے اندر گھس کر حملے کرنے کا عزم ظاہر کیا اور مسلمانوں کو اس پر ابھارا۔ گیرٹ نے تو ابھی پورا چہرہ نہیں دیکھا اصل حکم اسلام کا تو اس کے بارے میں تب پورا ہوتا جب یہ کسی مسجد کے دروازے سے لپٹا ہوا اپنی جان کی بھیک مانگ رہا ہوتا اور اسلام کا کوئی خادم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی سپاہی اس کا سر اپنی تلوار سے اڑا دیتا۔لیکن کوئی بات نہیں وہ وقت بھی ان شاء اللہ ضرور آئے گا۔فی الحال تو آدھا حقیقی چہرہ دیکھ کر ہی ظالم پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے۔اسلام کے ہر اس خادم کو محبت بھرا عقیدت سے لبریز سلام جس نے اس میں حصہ لیا۔

دوسری بات پاکستان سے متعلق ہے کہ عرصے سے یہ بات سرکاری وغیرسرکاری سطح پر باربار دہرائی جارہی ہے کہ حکومت پاکستان کو ایک لبرل ملک بنانا چاہتی ہے اور وہ پوری کوشش کر کے جلد از جلد منزل کو پانے کی کوشش کرے گی۔

اس بیان کو ابتداء میں ہمیشہ مذاق سمجھ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے لیکن چند ہی دن میں سامنے آنے والے اقدامات نے اس بات پر مہر تصدیق ثبت کردیتے ہیں کہ جس لبرل بیانیے کا شور ہے وہ محض ایک تجویز نہیں حقیقت بن کر سامنے آ رہا ہے اور اس کی طرف عملی قدم اٹھایا جا چکا ہے۔خصوصاً ناموس رسالت اور امتناع قادیانیت جیسے مسائل کے حوالے قوم کی حساسیت کو بار بار تھرمامیٹر لگا کر چیک کیا جاتا ہے تاکہ یہاں کچھ ٹھنڈ اور غفلت پاکر مزید ایجنڈہ آگے بڑھایا جائے۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ قوم میں اس حوالے سے بیداری ہے اور ہر بار ایک متفقہ موقف کے ذریعے اس نے ان دشمنان اساس ملت کے عزائم کو پست کیا ہے۔

یہ بیانیہ کن لوگوں کا مرتب کردہ ہے؟

یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان کو دل سے تسلیم ہی نہیں کرتے

جن کے خیال میں پاکستان کی نہ اساس درست ہے اور نہ اس کا نام

انہیں اس کے اسلامی جمہوریہ کہلانے پر تحفظات ہیں اور یہ نام کا اسلام بھی انہیں گوارہ نہیں

ان کے انڈیا سے رشتے ہیں، اسرائیل سے یارانے ہیں اور امریکہ و یورپ کے تو یہ زَرخرید غلام ہیں، ذہنی طور پر بھی اور جسمانی طور پر بھی۔

انہیں پاکستان کے آئین میں شامل چند اسلامی شقوں پر شدید تکلیف ہے۔

یہ پاکستان کے باغیوں اور غداروں کے بہی خواہ ہیں۔

یہ وہ چوہے ہیں جو اس ملک کی بنیادیں کھود کر اسے منہدم کر دینا چاہتے ہیں۔

یہ ملک میں آگ لگاتے ہیں، کبھی نقلی ویڈیوز بنا کر اور کبھی جعلی تصاویر نشر کر کے۔

ان کے زبان و قلم اس ملک کے خلاف لکھنے کے لئے وقف ہیں۔

یہ غیر ملکی مال پر ان کی پالیسیاں یہاں لاتے ہیں اور پھیلاتے ہیں۔

انہیں ہر اس چیز کو یہاں سے مٹانے کا ہدف ملا ہے جس کا تعلق اسلام سے ہو۔

یہ اسلام کا نام و نشان یہاں سے کھرچ دینا چاہتے ہیں۔

کلمہ لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر پاکستان بنانے کی دعویدار جماعت ان کے اس بیانئے پر بگٹٹ دوڑی اور برے انجام سے دوچار ہوئی موجودہ حکمران بھی عبرت حاصل کریں

آپ ان لبرل شیطانوں کی پاکستان کے ساتھ وابستگی دیکھنا چاہتے ہیں تو آج سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ان کے ایک سرغنہ کی پاکستان کے جھنڈے مجمع عام میں جلانے اور قدموں تلے روندنے کی تصاویر دیکھ لیجئے۔ اب ہمیں اور ہماری آئندہ نسلوں کو وہ پاکستان دینے کی تیاری ہو رہی ہے جس کا نقشہ ان جھنڈنے جلانے والوں نے مرتب کیا ہے اور لاکھوں مسلمانوں کے خون سے کھینچا گیا نقشہ اب لبرل ازم کے پردے سے ڈھانک کر چھپایا جا رہا ہے۔

پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے۔ اس کی بقاء اپنی بنیاد پر قائم رہنے میں ہے۔ جو اسے بنیاد سے ہٹانا چاہتے ہیں وہ اسے منہدم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سب ناکام ہونگے اور اس ملک کو چھوڑ کر اپنے انڈین اور یورپی ٹھکانوں پر جا مریں گے۔ پاکستان مسلمانوں کا ہے، مسلمانوں کا رہے گا۔ حکمران نہ بھولیں کہ اوپر ایک رب بھی ہے اور ان سب حکمرانوں پر اس کی مرضی حاکم ہے۔ وقت بدلنے میں دیر نہیں لگتی اور تاریخ بھی زیادہ پرانی نہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online