Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

حقانی بندہ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 660 (Talha-us-Saif) - Haqqani Banda

حقانی بندہ

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 660)

میں اگر اپنی زندگی کے اُن پانچ محبوب ترین لوگوں کی فہرست بناؤں جن سے محبت دین اور جہاد کی وجہ سے ہے تو اس میں ان کا نام ضرور آئے گا۔ وہ دنیا سے جا چکے ہیں یہ ایک حقیقت ہے اور اس حقیقت سے کسی کو مفر نہیں لیکن وہ میرے لئے کبھی نہیں جا سکتے، اس لئے میں دو ہفتے ان کے بارے میں کوئی تعزیتی مضمون یا تاثرات نہیں لکھ سکا۔ وہ میرے لئے ایک مثال کی طرح ہیں۔ ایک ستارے کی طرح ہیں اور ایک انسپائریشن ہیں۔ کیا یہ چیزیں بھی کبھی جدا ہوا کرتی ہیں؟…

مولانا جلال الدین حقانی…

جیسا یاد پڑتا ہے ہم نے جہاد کا نام اور ان کا نام ایک ساتھ سنا۔ ہمیں جہاد کا تعارف ان کے تعارف کے ساتھ ملا، یوں لاشعوری کی عمر سے ہی یہ دونوں نام ایک ساتھ ذہن میں بیٹھ گئے کہ شاید لازم و ملزوم ہیں۔ اور پھر جیسے جیسے جہاد سمجھ میں آتا گیا یہ بات بھی اسی قدر واضح ہوتی چلی گئی کہ واقعی یہ دو نام لازم و ملزوم ہیں۔ ایک کو سمجھنے کے لئے دوسرے کو سمجھنا ہو گا۔

زمانہ بُرا ہے، زمانہ خراب ہے، ہر شخص کے زبان پر یہ کلمہ یوں جاری ہے کہ سن سن کر محاورتاً نہیں حقیقتاً کان پک چکے ہیں۔ حدیث مبارک کی رو سے بھی یہ اچھا جملہ نہیں ہے اس لئے اسے ترک کرنا چاہیے۔ لیکن مجھے ایک اور وجہ سے بھی یہ جملہ کبھی اچھا نہیں لگتا۔ ’’فتح الجواد فی معارف آیات الجہاد‘‘ کی جلد اول کی تقریبِ تشکر کا اجتماع تھا۔ بندہ کے لئے بڑے سٹیج پر حاضری کا پہلا موقع تھا۔ اس سے پہلے کبھی بڑے جلسے میں تقریر نہیں کی تھی۔ وہاں بات کرنے کا حکم ملا تو کانپتی ٹانگوں اور لڑکھڑاتی زبان کے ساتھ جو چند منٹ گفتگو کی وہ اسی موضوع پر ہو گئی کہ ہمیں تو الحمد للہ بہت اچھا زمانہ ملا ہے صرف مسئلہ یہ ہے کہ ہم اسے دیکھ منفی رُخ سے رہے ہیں۔ یہ تاثر محض ایک وقتی تقریر یا تقریب کے طور پر نہیں تھا۔ الحمد للہ اپنے زمانے کے بارے میں یہ تاثر قلبی یقین کے ساتھ ہے کہ ہمیں اپنے ماضی قریب کی نسبت بہت اچھا زمانہ ملا ہے۔اور یہ تاثر جن دلائل کی بنیاد پر قائم ہوا ان میں سے ایک بڑی دلیل مولانا جلال الدین حقانی کا وجود بھی ہے۔ ایک ایسا زمانہ جس میں نہ جہاد تھا اور نہ دعوت جہاد۔ نہ جلال الدین حقانی نہ ملا عمر۔ نہ فتح الجواد نہ آئینہ۔ نہ غازی بابا اور نہ افضل گورو۔ نہ شامل نہ خطاب، نہ عبد اللہ عزام اور نہ مولانا محمد مسعود ازہر۔نہ شیخ احمد یاسین اور نہ ابو مصعب زرقاوی، نہ اسامہ بن لادن اور نہ مولانا یونس خالص۔ وہ زمانہ اس زمانے سے اچھا کیونکر تھا؟ فدائی جانبازوں اور ان کی عدیم المثال ماؤں کا یہ زمانہ جس میں ہمیں ہر روز صبح شام قرون اولیٰ کے وہ مناظر دیکھنے کو اور وہ مقالات سننے کو ملتے ہیں جو عرصہ دراز سے صرف کتابوں کے سینے میں مدفون تھے، وہ زمانہ جس میں صحابہ کرام کے احوال صرف نقل پر اعتماد کے طریقے سے نہیں، چلتی پھرتی مثالوں کو دیکھ کر سمجھے جا سکتے ہیں، اس سے پچھلا زمانہ جو ان مثالوں سے یکسر خالی تھا اس سے بہتر کیسے ہو سکتا ہے؟ اور چلیں اس سے موازنہ نہ کیجئے صرف یہ احسان کیجئے کہ اس زمانے کو بُرا کہنے کی کیا معقول وجہ ہوسکتی ہے؟…

اور ابھی چنددن پہلے کا کالم تو آپ کو یاد ہی ہو گا۔ اصلی مجاہد اور ’’پرانے ‘‘ مجاہد کا فرق پر بات ہو رہی تھی تو اصلی مجاہد کی مثال میں کن کا نام پیش ہوا؟ حقانی بندے کے سوا کس کا ہو سکتا تھا۔مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ اکیلے اصلی مجاہد ہیں بلکہ یہ تھا کہ اصلی جہاد کا معیار اور کسوٹی اب وہی بن چکے ہیں۔ اصلی ہونے کے لئے ان جیسا ہونا پڑے گا۔ رحمہ اللّٰہ تعالیٰ رحمۃ ًواسعۃً

مولانا جلال الدین حقانی اس زمانے کے ان مجاہدین میں سے ایک بلکہ ان مجاہدین کے سرخیل تھے جو جہاد کی سب سے مشکل شرط اور سب سے کڑے مرحلے پر پورا اُترے۔ یعنی انہوں نے اِستقامت کے ساتھ جہاد کیا اور پھر اس جہاد کو نہ کسی ایک زمانے کا پابند بنایا اور نہ کسی ایک دور کے ساتھ مشروط رکھا بلکہ انہوں نے جہاد کو اپنی زندگی بنا لیا۔ وہ کبھی پرانے نہیں ہوئے بلکہ تادمِ آخر تازہ دَم مجاہد رہے۔ انہوں نے سنتِ ابو ایوب انصاریؓ و مقدادؓ کو زندہ کیا۔ جہاد میں لمبی عمر پائی اور اِسلامی لشکر کے ساتھ قائدانہ چلتے چلتے اس دنیا کو الوداع کیا۔ داڑھی سفید ہو گئی، کمر جھک گئی، چلنے پھرنے سے معذوری نے گھیر لیا۔ لیکن کوئی دِن ایسا نہیں گذرا کہ دشمن کو اطمینان نصیب ہوا ہو کہ اللہ کا شیر دِل مجاہد گھوڑے کی پشت سے اُتر گیا ہے۔ ایک ملا عمر تھے، دنیا سے گزر گئے ان کا نام دو سال تک غیروں اور اپنوں کے دِلوں پر حکومت کرتا رہا اور لشکروں کی قیادت سنبھالے رکھی، ایک اللہ کے شیر حقانی تھے، نہ جانے کب سے حرکت تک نہیں کر سکتے تھے مگر امریکہ اور یورپ کے ایوانون میں دہشت کی سب سے بڑی نشانی بن کر ان کا نام جہاد کرتا رہا۔ سبحان اللہ۔ یہ ہے اللہ کے لشکروں کی شان اور اُس کے شیروں کی آن بان…

وہ زندگی بھر دشمنوں کو خاک چٹاتے ہیں اور پھر دنیا سے اس حال میں چلے جاتے ہیں کہ دشمن خوشی بھی محسوس نہیں کر سکتا۔ ہر حال میں فاتح ہر حال میں غالب… وانتم الاعلون ان کنتم مومنین

افغان جہاد میں حقانی اس وقت توڑے دار بندوقوں اور پرانے ریوالوروں کے ساتھ اُترے جب افغان جہاد کے بعد میں مشہور ہونے والے کئی بڑے بڑے نام ابھی کالجوں میں پڑھتے اور جہاد کے لئے بیرونی سہارے ڈھونڈنے میں مصروف تھے، وہ بدری شان کے ساتھ میدان میں اُترے تھے۔ اندازہ لگانے والے خود لگا لیں کہ روس جیسی مکمل عسکری سپر پاور جس کی ساری طاقت تھی ہی عسکری اس کے مقابل جہاد کا آغاز کرنے والے ان فاقہ مست درویشوں کے پاس جو سازوسامان تھا اس کی نسبت کیا بنتی ہے۔ الفاظ اگر سخت لگیں تو معذرت لیکن خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں مجھے وہ لوگ جنگلی گدھوں سے زیادہ کم عقل اور بے وقوف لگتے ہیں خواہ ان کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو جو افغان جہاد کو امریکہ کی جنگ کہتے ہیں۔ افغان جہاد کب شروع ہوا؟ کن حالات میں شروع ہوا؟ کون کون اس میں کب کب داخل ہوا؟ ان سب حقائق سے ناآشنا فیسبکی دانشور اور جدید فضلاء آج بڑی آسانی سے اس بات کو زبان پر لے آتے ہیں۔ افغان جہاد حقانی صاحب جیسے بدریوں کا جہاد تھا۔ ایک بڑی طاقت سے لڑائی تھی اور یہاں نسبت ابابیلوں اور ہاتھیوں والی بھی نہیں تھی۔ لیکن جہاد جاری رہا اور نتائج سے بے پرواہ جاری رہا۔ پھر ہر طرف سے اپنے اپنے مفاد کی خاطر معاونین آ گئے۔ بدریوں نے مسببِ حقیقی پر نظر رکھی اور اسباب لے لئے۔ جہاد کامیابی سے ہمکنار ہوا تو وقت نے خود ہی امریکیوں اور حقانیوں میں امتیاز کر دیا۔ اقتدار کی جنگ آئی تو حقانی نے سعد بن ابی وقاصؓ کی سنت اپنا لی اور لکڑی کی تلوار بنا کر اس سے یکسو ہو کر بیٹھ گئے۔ جن کی ایجنٹی کے طعنے آج تک افغان مجاہدین کو دئیے جاتے ہیں وہ تو چاہتے تھے کہ حقانی بھی اس جنگ میں کودیں اور ان کے مفادات کی بھٹی کا ایندھن بنیں لیکن وہ بیٹھے رہے اور زمین کا جو ٹکڑا اللہ تعالیٰ نے انہیں دیا تھا اس کے عادل حکمران بن کر عوام کے لئے رحمت خداوندی کا سایہ بن گئے۔ پورا ملک جل رہا تھا لیکن اس حقانی بادل کے سائے میں امن تھا اور ایمان کی روشنی تھی۔ پھر امارت اسلامیہ کا حق والا لشکر نکلا تو حقانی نے ایک بار پھر اپنے سے بہت چھوٹے اور کم تجربہ کار قائد کی قیادت میں اپنی وہی کاٹ دار تلوار لے کر میدان میں آ گئے۔ آخر وہ امارت اسلامیہ کے لشکر کا حصہ بن کراس افغان قیادت کے خلاف میدان میں کیوں اتر آئے جن کے خلاف انہوں نے اقتدار کی جنگ میں لڑنے سے انکار کر دیا تھا؟ کیونکہ وہ ’’حقانی‘‘ تھے۔ انہوں نے جہاں حق کو دیکھا اسی طرف جا کھڑے ہوئے اور یوں حق کا شعار بن گئے۔ یہی تو ’’شان فرقان‘‘ ہے جس کا سورت الانفال میں ’’ حقانی‘‘ مجاہدین کے لئے وعدہ کیا گیا ہے۔

پھر جہاد افغانستان کا سب سے بڑا امتحان آیا۔ امریکہ اور اس کے وہ اتحادی جو ماضی میں روس کے خلاف مجاہدین کی مدد کرتے رہے افغانستان میں حملہ آور ہوئے۔ انہوں نے سابقہ دور کی معاونت کا صلہ مانگا کہ جو امداد لیتے رہے مقابلے میں نہ آئیں۔ تاریخ نے لکھ لیا کہ کون کون کہاں کہاں جا کھڑا ہوا۔ ایسے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف منظم جہاد کا سب سے پہلا آغاز جس شخص نے کیا اور جس نے اس جہاد میں سب سے زیادہ جانی مالی قربانی پیش کی وہ اللہ کا یہی ’’حقانی‘‘ شیر تھا۔ نصف سے زائد اولاد کی قربانی، اپنی سیادت اور ریاست کی قربانی ، اپنے وسیع مال اثاثہ جات کی قربانی اور بڑھاپے کی عمر اور بیماری میں اپنے آرام و راحت کی قربانی دے کر اللہ کا حقانی بندہ سرخرو اللہ کے حضور پیش ہو گیا اس حال میں کہ زمانے کا اس پر کوئی قرض نہیں رہا، زمانہ اس کا مقروض ہے، ممنون ہے۔

کاش کوئی حقانی سے جہاد سیکھے ۔ کہاں لڑنا ہے، کہاں نہیں لڑنا۔ کس سے جڑنا ہے، کس سے کٹنا ہے۔ عزیمت کہاں ہے اور رخصت سے فائدہ کہاں اٹھانا ہے؟ کوئی حقانی سے سیکھ لے۔ آج مجاہدین پر زبانیں دراز ہیں اور ان کی کسی کے بارے میں صرف خاموشی کو بھی ایجنٹی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ان پر طعنہ زنی اور انگشت نمائی کو غیرت کا اعلیٰ مقام سمجھا جاتا ہے۔ کاش یہ لا یعقل جانور حقانی اور ملا عمر سے سیکھتے اور سمجھتے کہ کن ہاتھوں کو کاٹنے کے لئے وقتی طور پر کن ہاتھوں کو ہاتھ میں لیا جاتا ہے۔ ایک طرف اس بارے میں اِفراط ہے اور ایک طرف تفریط۔ درمیان میں ایک حقانی ستارہ ہے جو ان حالات سے نبرد آزما ہونا سکھاتا ہے اور ملامتوں کے طوفان کے بیچ اپنا کام کئے جا نے کا ہنر عطاء کرتا ہے۔آج تو وہ لوگ بھی انہیں اپنا آئیڈیل رہنما قرار دے رہے ہوں گے جن کا سارا جہاد جذباتی فیصلوں اور پھر ان فیصلوں کے نتائج سے بچنے کے لئے کئے جانے والے ’’باوقار‘‘ معاہدے پر مشتمل ہے اور وہ بھی جن کا کام صرف مجاہدین پر طعنہ زنی کرنا اور الزامات کے نشر چلانا رہا ہے۔ لیکن حقانی کی زندگی اور رخصتی دونوں بتاتے ہیں کہ وہ صرف ان کے آئیڈیل ہیں جن سے میدان کسی حال میں نہیں چھوٹتا خواہ انہیں میدان میں رہنے کے لئے اپنی جان سے پہلے اپنے نام کی قربانی دینا پڑے۔

جلال الدین حقانی سرخرو دنیا سے چلے گئے، ساری ملامتوں اور طعنوں کا جواب اپنے عمل سے دے گئے۔ لیکن ہمارے لئے وہ کبھی نہیں جا سکتے۔

جہاد جس جہد مسلسل اور جس سعی پیہم کا نام ہے اس کی عملی تفسیر ہم جس شخص سے سیکھتے رہیں گے وہ ہمارے لئے کبھی نہیں مر سکتا، کبھی ہم سے جدا نہیں ہو سکتا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online