Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

تبدیلی کی ضرورت (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 661 (Talha-us-Saif) - Tabdeeli ki Zaroorat

تبدیلی کی ضرورت

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 661)

آپ جانتے ہیں کہ شہباز شریف اور پرویز مشرف کی مشترکہ کوششوں سے پاکستان میں ایک عرصے سے دہشت گرد کی سب سے بڑی علامت کیا بن گئی ہے؟

جی ہاں بالکل! داڑھی

اور اس کی دلیل بالکل واضح ہے۔

کہ آج تک جتنے لوگوں نے بھی دہشت گردی کہلائی جانے والی کارروائیاں کی ہیں، ان کے دوران قتل ہوئے یا پکڑے گئے ہیں سب کی داڑھی نہیں تھی۔

اب آپ کہیں گے کہ یہ کیا دلیل ہے؟ جب ان کی داڑھیاں نہیں تھیں تو پھر داڑھی علامت کیسے بن گئی، تو جناب!

اَنیائے پور یا بے انصافی آباد میں دلائل اسی طرح کے ہوا کرتے ہیں۔

آپ تجربہ کر کے دیکھ لیں۔ شہر میں کوئی واردات ہوئی ہو اور خوش قسمتی سے آپ باریش ہوں تو موٹر سائیکل یا گاڑی پر شہر کی سڑکوں پر نکل جائیں۔ جا بجا لگے ناکوں پر متعین جوان جونہی دور سے آپ کو دیکھیں گے ان کی آنکھوں میں چمک آ جائے گی۔ وہ جتھے بنا کر آپ کی طرف بڑھیں گے، زور سے ہاتھ ہلا ہلا کر آپ کو روکیں گے۔ زبردست طریقے سے تلاشی لیں گے، تمام کارڈز چیک کریں گے، اُلٹے سیدھے سوالات کریں گے، اور پھر مایوس ہو کر اگلے ناکے والوں کے لئے چھوڑدیں گے، یوں آپ ہر ناکے پر ناک کٹوا کر واپس گھر آ گھسیں گے اور خود کو اس وقت باہر نکلنے پر کوسنے دیں گے۔ یہی سلوک آپ کے ساتھ اس وقت بھی روا رکھا جاتا ہے جب آپ ملکی یا غیرملکی سفر کی آمدورفت کے دوران کسی ائیر پورٹ پر ان  "فرض شناس"اہلکاروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ ایسے مواقع پر جب آپ کے کاغذات مکمل، پاسپورٹ بالکل اصلی اور سامان قانون کے مطابق نکل آئے تو آپ کبھی بھی غور سے دیکھئے گا ان اہلکاروں کے چہروں پر ایک عجیب سی مایوسی چھا جاتی ہے اور وہ آپ کو باعزت رخصت کرتے ہوئے اپنی اس کیفیت کو چھپا نہیں پا رہے ہوتے۔ اب آپ ہی بتائیے کہ پاسپورٹ کو الٹا الٹا کر آٹھ دس بار دیکھنے کی بھی کوئی معقول وجہ ہوسکتی ہے سوائے آپ کی داڑھی کے؟؟؟ 

کافی عرصہ پہلے کی بات ہے ہم اپنے ہندوستان سے رہا ہو کر آنے والے ساتھیوں کے اِستقبال کے لئے لاہور میں تھے، سارا دن واہگہ بارڈر پر گزر گیا، شام کو جب شہر میں داخل ہوئے تو ہر جگہ یہی سلوک ہوا اور اگلے دن صبح بھی، اور دوپہر2 بجے لاہور کو الوداع کہنے تک ہم ہر جگہ اسی حُسنِ سلوک سے نوازے جاتے رہے۔ وجہ یہ تھی کہ گاڑی میں سوار ہم دونوں بھائی نہ صرف الحمد للہ دہشت گردوں کی اس علامت سے مزین تھے جس کا ذکر گزرا بلکہ ایک ایک اضافی علامت بھی بونس میں اُٹھائے پھر رہے تھے، عزیزم مولانا عمار صاحب کے سر پر جیش کا علامتی رومال سوار تھا جب کہ میرے بال اس زمانے کندھوں کو چھو تے تھے۔ یوں پورا دن ہم ہر جگہ روکے جاتے رہے اور ایک ہی مرحلے سے گزرتے رہے۔ شہر سے نکلنے کی کوشش میں آخری بار جہاں روکے گئے وہاں خوب تلاشی ہوئی اور بیگ بھی چیک کئے گئے۔ بندہ اس زمانے محترم قاری نوید ہاشمی صاحب کی مہربانی سے ایک عدد صحافتی کارڈ بھی رکھتا تھا۔ اپنا وہ کارڈ آخری حربے کے طور پر پیش کیا تو صاحب مسکرا کر بولے:

جناب! آپ اپنا حلیہ دیکھ کر خود بتائیں کہ کہاں سے صحافی لگتے ہیں؟

معروف معنوں میں صحافت تو نہ اس وقت کی تھی اور نہ آج تک ہوسکی لیکن ان کی بات سے یہ ضرور سوچنے پر مجبور ہوا کہ اللہ جانے وہ کیا علامات ہوتی ہیں جو صحافت کی وجہ سے چہرے پر آ جاتی ہیں اور مجھ میں نہیں آسکیں ؟؟ اللہ تعالیٰ آگے بھی حفاظت فرمائیں۔ اتنے میں ایک اور گاڑی آئی جس میں چند غیر دہشت گرد یعنی بے ریش نوجوان سوار تھے، افسر نے گاڑی کو رُکنے کا اشارہ کیا، جونہی گاڑی رُکی قبل اس کے کہ فرض شناس جوان آگے بڑھتا  مولانا عمار صاحب خاموش نہ رہ سکے اور جوان کو زور سے آواز لگائی۔

جانے دو بھائی انکی داڑھیاں نہیں ہیں۔

اَفسر صاحب اس بات پر کھسیانی سی ہنسی ہنسے، علماء کرام کی قدرومنزلت پر مختصر الفاظ میں روشنی ڈالی، ہمیں روکنے کی وجہ شک نہیں محبت بتائی اور چائے پانی کی دعوت دی اور ہمارے انکار پر ہمیں جانے کی اجازت مرحمت فرما دی۔ یہ ایک واقعہ نمونے کے طور پر عرض کردیا ورنہ یہ واقعات تو عرصہ ہوا باریش اَفراد کیلئے روزمرہ کا معمول ہیں۔

پولیس اور حُکَّامِ بالا کو اس بات کا قطعی اِدراک نہیں ہو سکا یا وہ جان بوجھ کر صَرفِ نظر کرتے رہے کہ ان کے اس طرز عمل نے ایسی کارروائیوں کو مشکل بنانے کی بجائے آسان کر دیا۔ کوئی بھی شخص شیو کرا کے پینٹ پہن لے اور گاڑی میں ایٹم بم لے کر کسی شہر میں بھی جائے تو باآسانی اپنے ہدف تک پہنچ سکتا ہے جبکہ باریش آدمی کے لئے پھلوں کی پیٹی گاڑی میں رکھ کر گھر پہنچنا عذاب بنا دیا گیا ہے۔ اللہ پاک رحم فرمائیں۔

اسی زمانے حکومتِ پاکستان نے ٹی وی پرعوام کی رہنمائی کے لئے ایک کلپ بہت چلایا اور اَخبارات میں بھی شائع ہوا۔

 اس میں لوگوں کو بتایا گیا کہ خود کش حملہ آور کی شکل کیسی ہو گی۔کس طرح چل رہا ہو گا۔ دھماکہ کرنے سے پہلے اس کے ہونٹ آہستہ سے ہل رہے ہوں گے اور آنکھوں میں خمار سا ہو گا۔ وغیرہ وغیرہ۔ انہی دنوں ایک باریش دوست کے ساتھ اِسلام آباد جانا ہوا، خلاف توقع اور خلاف معمول ہمیں کسی ناکے پر روکا نہیں گیا اور ہم بغیر تعطل کے اپنی منزل تک جا پہنچے۔ ہم نے اس امر پر ان کے سامنے حیرانی کا اظہار کیا تو ان پر ہنسی کا دورہ پڑ گیا۔ جب کچھ اِفاقہ ہوا تو انہوں نے بتایاکہ ان کے ہاتھ تلاشی سے بچنے کا گر آ گیا ہے۔ ہم نے حیران ہو کر پوچھا جناب وہ کیا؟

تو بولے کہ ناکے کے قریب پہنچ کر درود شریف پڑھنا یا تلاوت کرنا شروع کر دیتا ہوں، پولیس کے جوان ہونٹ ہلتے دیکھتے ہیں تو انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ میں خود کش حملہ آور ہوں۔ اپنی جان بچانے کے لئے وہ مجھے نہیں روکتے اور منزل تک پہنچنے کی دُعا دے کر آگے سے ہٹ جاتے ہیں، آپ بھی کبھی تجربہ کر کے دیکھ لیں۔

قارئین کرام میں سے اگر کسی کا گاڑی پر اسلام آباد آنا جانا ہوتا ہو تو تجربہ کر کے دیکھ لیں ممکن ہے فائدہ ہو۔ لیکن اگر نقصان ہوا تو ہماری ذمہ داری نہیں ، کالم نگار کا اس تجربے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ معلوم نہیں ان کا یہ حقیقی تجربہ تھا یا انہوں نے مزاحاً کہا۔

اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ باریش حضرات کو اس مشکل سے چھٹکارا کیسے ملے؟

اس کے دو طریقے ہیں:

(۱) دُعا کی جائے کہ اللہ تعالیٰ نیک و ایماندار اور اگر ہمارے اعمال اس قابل نہیں تو محض عقل مند حکمران ہمیں عطاء فرما دیں،جنہیں اتنی سمجھ ضرور ہو کہ بدامنی کے اَسباب جان سکیں اور ان کا اِزالہ کر سکیں۔

(۲) خوب محنت کی جائے کہ داڑھی عام ہو جائے، ہر مسلمان کی شکل و صورت اس حسین سنت کے رنگ میں رنگ جائے اور پورا معاشرہ داڑھی سے منور ہو جائے، ایسے میں پولیس والے عاجز آ کر تھک کر باریش حضرات کو روکنا چھوڑ دیں گے اور اقلیت یعنی بے ریش لوگوں کو روکا کریں گے۔ تب ہم اور آپ ان شاء اللہ آزادی سے گھوم پھر سکیں گے۔ اور جب تک یہ منزل نہیں آتی اس وقت تک صبر کریں، استقامت اختیار کریں اور دعا کو اپنا معمول بنائیں، اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔

اصل میں تو یہ معاملہ پاکستان میں تبدیلی کے نعرے کے ساتھ وجود میں آنے والی اس نئی حکومت کے نوٹس لینے کا ہے۔ پولیس اور دیگر اداروں کے اس رویے میں تبدیلی کی اَشدّ ضرورت ہے خصوصاً پنجاب میں جسے سابقہ مغل پلس عرب بادشاہوں نے اپنی بدمعاشی اور دِلی بے دینی کی تسکین کیلئے پولیس سٹیٹ بنانے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اپنے ان مقاصد کے حصول کیلئے یہاں کی پولیس کو اس قدر بَد اَخلاق اور دین دشمن بنا دیا ہے کہ الامان الحفیظ۔ کسی بھی دیندار شخص کا یہاں پولیس سے واسطہ پڑجانا زندگی کی سب سے بڑی اَذیت ثابت ہوتا ہے۔اگر کوئی ایسا کمیشن بنے جو دیندار طبقے کے ساتھ پولیس کے اس رویے کی مکمل تحقیقات کرے خصوصا فورتھ شیڈول کے نام پر جو کچھ ہورہا ہے اس کی مکمل تفصیلات لے اور اس سلسلے میں ضروری اِصلاحات نافذکرے تو یہ حقیقتاً ایک ایسی مثبت تبدیلی ہوگی جو اس حکومت کے لئے ناصرف نیک نامی کا باعث بنے گی بلکہ صالحین کی دُعائیں ملنے سے دنیا آخرت کی خیروں کے حصول کا ذریعہ بھی بنے گی۔ نئی حکومت کے آتے ہی عیدالاضحیٰ پر پنجاب میں پولیس نے قربانی کی کھالیں جمع کرنے پر پابندی اور این او سی کے حصول کے نام پر اہل مدارس اور دیگر دینی اداروں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا وہ انتہائی حد تک شرمناک اور اذیت ناک تھا۔ کھالیں وصول کرنے پر دہشت گردی کے پرچے، گھروں پر چھاپے مار کر گرفتاریاں اور پھر عدالتوں سے سخت سزائیں۔ ہوسکتا ہے یہ نئی حکومت کو بدنام کرنے اور اس کے اور دیندار طبقے کے درمیان لکیر کھینچنے کی ایک سازش ہو۔ یہ حکومت اگر واقعی  اپنے تبدیلی ، انصاف اور پولیس اِصلاحات  کے نعروں میں سچی اور مخلص ہے تو وہ پھر فوری طور پر اس سمت عملی قدم اٹھائے۔ اللہ کرے یہ تبدیلی جلد آجائے اور اہل ایمان کو اس اذیت سے نجات حاصل ہو۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online