Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

اعلان عدوات (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 662 (Talha-us-Saif) - Ailan e Adawat

اعلان عدوات

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 662)

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے جنرل اسمبلی میں معرکۃ الآراء خطاب کی ہر طرف دھوم مچی ہے۔ ہندوستان کو آڑے ہاتھوں لیا گیا۔ کشمیر اور فلسطین کے معاملے پر اُمت مسلمہ کی اچھی ترجمانی کی گئی۔ نام نہاد جنگ دہشت گردی پر بھی ایک نسبتاً اچھا موقف اپنایا گیا۔ لیکن اس موقع پر بھی قوم کی مظلوم بیٹی’’ڈاکٹر عافیہ ‘‘ حفظہا اللہ تعالیٰ کا ذکر  فراموش کرنے کا ظلم بہرحال ان سے سرزد ہوا۔ اللہ تعالیٰ انہیں توفیق دیںکہ وہ جلد ایسے ہی کسی فورم پر اس کی تلافی کریں۔مجموعی طور پر یہ ایک ایسا بیان تھا جو کم از کم پاکستان کی طرف سے ایسے بڑے فورم پر کافی عرصہ بعد سننے کو ملا۔ اللہ کرے ہمارے حکمران سرنگونی اور جی حضوری کی عرصے سے طاری کیفیت سے مکمل باہر آ جائیں اور اب قومی مفاد کے فیصلے جرأت اور آزادی سے کرنے کی روش اپنا لیں۔

یہ بیان جس سیاق و سباق میں ہوا اس سے ایک بات بہت کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ کفر کی آویزش اور عداوت جس قدر کھل کر سامنے آ رہی ہو مسلمان کا ایمان اسی قدر جوش اور قوت کے ساتھ اُبھرتا ہے۔ اصل حکم تو یہ ہے کہ مسلمان خود ’’اشداء علی الکفار ‘‘ ہوں۔ اسی میں ان کے لئے دنیوی اُخروی کامیابی بھی ہے اور بلندی بھی۔ اس لئے اس صفت کو حضرات صحابہ کرام کی بالاترین صفت کے طور پر ذکر فرمایا گیا۔ سورۃ الممتحنۃ کا سارا مضمون اسی پر مشتمل ہے کہ سنت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام میں ایک مؤمن کے لئے اُسوہ حسنہ اوربہترین نمونہ ہے کہ کفارہ کے روبرو یہ نعرہ بلند کرے۔

’’ بے شک تمہارے لئے ابراہیم ( علیہ السلام) میں اور ان لوگوں میں جو ان کے ہمراہ تھے اچھا نمونہ ہے۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا :

بے شک ہم تم سے بیزار ہیں اور ان سے جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو۔ ہم نے تمہارا انکار کیا اور ہمارے تمہارے درمیان دشمنی اور بیر ہمیشہ کے لئے ظاہر ہو گیا‘‘ ( الممتحنہ ۴ترجمہ حضرت لاہوریؒ )

کفر و اسلام کی دشمنی تو ایک ازلی حقیقت ہے اور خاص طور پر مشرک کی اسلام دشمنی اور یہود کی اسلام دشمنی کے دوام کا گواہ تو خود اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔

’’ تو سب لوگوں سے زیادہ مسلمانوں کا دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائے گا۔‘‘ ( المائدہ ۸۲ترجمہ لاہوری)

اور یہ ان کی دشمنی اس حال میں بھی قائم رہتی ہے جب مسلمان ان سے دوستی کا دَم بھر رہے ہوں اور ان کی طرف محبت کی پینگیں بڑھا رہے ہوں۔

’’ سن لو تم ان کے دوست ہو اور وہ تمہارے دوست نہیں‘‘ ( آل عمران ۱۱۹)

ایسے میں اگر مسلمان ان کی طرف سے کسی دھوکے میں مبتلا نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کے اَحکام اور پسند کو پیش نظر رکھتے ہوئے خود ان سے دشمنی کا اِعلان کرے اور دوستی سے براء ت کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ مومن اور اس کی منتخب جماعت کا فرد بن جاتا ہے۔

سرور جو حق و باطل کے کارزار میں ہے

تو حرب و ضرب سے بیگانہ ہو تو کیا کہیے

لیکن یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ مسلمان اگر اس حکم ربی کو پورا نہیں کرتے اور کفار کی دوستی کی طرف مائل ہوتے ہیں تب بھی کفار کا رویہ ان کے حق میں تبدیل نہیں ہوتا اور وہ اس (حرام) دوستی کا جواب کبھی دوستی سے نہیں دیتے بلکہ تحقیر و تذلیل سے پیش آتے ہیں اور متکبرانہ انداز اختیار کرتے ہیں۔ چونکہ بحکم قرآنی وہ کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے اس لئے دشمنی کے اظہار سے بھی باز نہیں  آتے۔

’’ تحقیق دشمنی ان کی زبانوں سے ظاہر ہو چکی اور جو ان کے دلوں نے چھپا رکھا ہے وہ اس سے بڑھ کر ہے ۔ ( آل عمران ۱۱۸)

لہٰذا ان کا یہ معاندانہ انداز مسلمان کو مسلمان بنا دیتا ہے اور اعلان عداوت پر مجبور کرتا ہے۔ لیکن مسلمان کو سوچنا چاہیے کہ وہ یہ عمل اگر ردعمل کے طور پر نہیں اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے از خود کر لیتا اور اس اعلان و اظہار میں کفار پر سبقت لے لیتا تو اس کے حق میں کتنا قیمتی ہوتا۔

موجودہ حکومت کا ہندوستان کے خلاف اعلانِ حق خوش آئند ہے۔ کشمیر پر ان کا موقف قومی سوچ کا آئینہ دار ہے لیکن یہ بات ماننا ہو گی کہ یہ عمل نہیں رد عمل ہے۔ ورنہ یہ بھی حکومت میں آتے ہی ہندوستان کی خوشنودی کے درپے ہوئے تھے اور ایک قدم کا جواب دو قدموں سے دینے کا اعلان کیا تھا۔ حالانکہ ہندوستان کی پاکستان کے ساتھ تعلقات کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ اس نے حقیقی مسائل کے حل کی طرف کبھی ایک قدم اٹھانا تو درکنار اس کی خواہش کا اظہار اور عندیہ بھی نہیں دیا۔ اس کی دوستی کے اقدام زیادہ سے زیادہ کرکٹ سیریز اور فلمی سرگرمیوں میں پاکستانیوں کو حصہ دینے تک ہی محدود رہے ہیں۔ کیا ایسے اقدامات سے متنازعہ مسائل حل ہوا کرتے ہیں یا دشمنی دوستی میںبدل جایا کرتی ہے؟ …

لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں یہ سوچ ہمیشہ برسر اقتدار رہی ہے کہ ہندوستان کے ہر ایسے قدم پر اپنی اور اس کی مکمل تاریخ فراموش کر کے شادیانے بجانے شروع کر دئیے جاتے ہیں اور دل و جان سے اس پر فدا کاری شروع ہو جاتی ہے۔ موجودہ حکومت بھی اپنے بیانات اور اقدامات سے مکمل اسی طریقے پر گامزن نظر آ رہی تھی لیکن بقول علامہ اقبال مرحوم :

مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے

ہندوستان کے ردعمل نے انہیں مسلمان کر دیا۔ ان کے ہر مثبت پیغام کا اس قدر منفی جواب دیا گیا کہ یہ اس ردعمل پر مجبور ہوئے۔ دوستی کے سندیسوں کا پُر تحقیر جواب آیا، عاجزی کا جواب تکبر سے دیا گیا اور ایک محبت بھرے قدم کی بجائے دشمنی کے اظہار کی طرف دو قدم بڑھائے گئے تب یہ صورتحال پیش آئی جس کا اقوام متحدہ میں اظہار ہوا۔ بہرحال ہم گذشتہ پانچ سال جن حکمرانوں کے زیر سایہ رہے ہیں انہوں نے اپنے کاروباری مفادات اور جراثیمی اِلحاق کی وجہ سے انڈیا کے مفادات کے تحفظ کی جو روش قومی پالیسی بنا دی تھی اس کے بعد ایسی صورتحال کا پیش آنا بھی ہمارے لئے ایک غنیمت اور ہندوستان کے لئے اور پاکستان میں سرگرم اس کی لابیوں کے لئے ایک منہ توڑ نقمت ہے۔

ریاستی سطح پر دو ملکوں کے اچھے تعلقات، باہمی تجارت، امن و امان کا کون مخالف ہے؟

مدعا یہ ہے کہ ہندوستان کے ساتھ یہ سب کچھ کرنا ہے تو ضرور کریں لیکن عزت کے ساتھ، غیرت کے ساتھ اور ان مسائل کے حل کے بعد جو تنازعات کی اصل بنیاد اور دشمنی کی جڑ ہیں۔ ان مسائل سے صرف نظر کر کے یا ان کے تئیں قدیم قومی پالیسی سے انحراف کر کے ہندوستان کی طرف دوستی کے قدم بڑھانے سے بہرحال رُکنا ہو گا۔ کشمیر کا مسئلہ ان معاملات میں سرفہرست ہے۔ کشمیر کی سرزمین اور وہاں کے مظلوم عوام سے ہمارا سیاسی نہیں ایمانی اور قومی تعلق ہے ۔ جب تک اس خطہ زمین کا فیصلہ ان اہل ایمان کی مرضی کے مطابق نہیں ہو جاتا اور ان پر ہونے والے مظالم کا سلسلہ بند کر کے اس کی تلافی نہیں کر دی جاتی یہ دوستی خارج از امکان رہنی چاہیے۔

پانی کا مسئلہ ہماری قومی موت و حیات کا معاملہ ہے۔ جب تک ہندوستان اس معاملے پر اپنے منافقانہ اور معاندانہ کردار کو ترک نہیں کر دیتا دوستی کا باب بند ہی رکھنا چاہیے۔

پاکستان میں جاری لسانی ، علاقائی اور دیگر ہر طرح کی دہشت گردی میں ہندوستان کی کھلی مداخلت ہماری بقاء کا مسئلہ ہے۔ جب تک ہندوستان یہ ترک نہیں کر دیتا ہمیں دوستی کا نہ  ایک قدم بڑھانا چاہیے نہ دو۔

بہرحال عرصہ دراز کے بعد ہمارے نمائندوں کی طرف سے قومی جذبات کی ایسی ترجمانی سننے کو ملی ہے جس سے دلوں میں خوشی اور سرور کے جذبات آئے ہیں اللہ کرے یہ  نوزائیدہ حکومت دیگر اہم معاملات پر امریکہ اور یورپ کے سامنے بھی اسی جرأ ت مندانہ روش کو مستقل اپنائے اور غلامی اور بدامنی کے جو داغ اس قوم کے سینے پر ایک بدبخت بھگوڑا جرنیل نقش کر گیا انہیں مٹانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online