Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

اَسباق (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 663 (Talha-us-Saif) - Asbaaq

اَسباق

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 663)

٭ہندوستان میں ایک ڈرائیور کو معطل کر دیا گیا ہے۔ جرم یہ بتایا گیا ہے کہ اس نے اپنی بس کا سٹیئرنگ ایک بندر بلکہ باقاعدہ لنگور کے ہاتھ میں پکڑا رکھا تھا۔ وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لنگور بڑے ماہرانہ اَنداز میں گاڑی کا سٹیئرنگ گھما رہا ہے اور بڑی تندہی اور دلچسپی سے ڈرائیونگ کرتا دِکھائی دے رہا ہے۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد بس کمپنی نے اس ڈرائیور کو فوری طور پر نوکری سے ہٹا دیا ہے کیونکہ اس نے اپنے اس حرکت سے تمام مسافروں کی جانوں کو خطرے سے دوچار کیا۔

دنیا میں کہیں اور یہ واقعہ ہوا ہوتا تو سزا سمجھ میں آتی لیکن ہندوستان میں ایسا کرنے پر سزا دیا جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ انڈین قوم نے سرکار کا سٹیئرنگ ایک ایسی شخصیت کو پکڑا رکھا ہے جو عقل و فہم میں اس لنگور سے کم تر اور چھچورے پن اور بے وقوفی میں اس سے فزوں تر ہے۔ قوم نہ اسے ڈرائیونگ سونپنے والوں کو کوئی سزا دے رہی ہے اور نہ اُسے ڈرائیونگ سیٹ سے اُتار رہی ہے۔ اس نے اپنے جنگی جنون ، متعصبانہ نظرئیے، اِسلام دشمنی اور ہندو بالادستی کے خمار میں پوری قوم اور ملک کو خطرات سے دو چار کر رکھا ہے۔ وہ ہندوستان کو ایسی سمت لے جا رہا ہے، جدھر سوائے بربادی اور تباہی کے کچھ نہیں لیکن اس پر قوم سو رہی ہے اور چند مسافروں کی بات آئی تو بے چارے ڈرائیور کو سزا سنا دی۔

ویڈیو میں ایک اشارہ اور بھی ہے۔

ڈرائیور خاکی وَردی میں ہے جو کہ آر ایس ایس کا نشان ہے اور لنگور متحرک ہے جو کہ مودی جی کی پہچان ہے۔ ڈرائیور گیئر بھی بدل رہا ہے اور اس نے ہینڈل پر بھی ہاتھ جما رکھا ہے جسے وہ گھما رہا ہے لیکن بندر کو اس طرح بٹھایا ہے کہ گویا گاڑی وہ ڈرائیو کر رہا ہے۔ انڈیا اس وقت آر ایس ایس کے ہاتھوں میں ہے۔ نظام کا پہیہ وہ گھما رہی ہے۔ پالیسیاں اسی کے نظرئیے کے تحت بن رہی ہیں۔ وزارتیں ، پارٹی عہدے، پولیس ، بیوروکریسی اور فوج و انٹیلی جنس میں اعلیٰ عہدوں پر تعیناتیاں سب آر ایس ایس سے وَفاداری اور اس کے نظرئیے سے اِتفاق پر ہی ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں پر خصوصاً اور دیگر اقلیتوں پر عموماً شکنجہ بھی اسی دہشت گرد جماعت کے ایجنڈے کے مطابق کسا جا رہا ہے لیکن بظاہر حکومت کی باگ دوڑ ایک ’’مودی‘‘ کے ہاتھ میں دے کر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ انڈیا سیکولر ملک ہے اور وہاں جمہوری نظرئیے کے مطابق برابری کا نظام رائج ہے۔ وہاں ووٹ کے ذریعے برسراقتدار آنے والی پارٹی رول کر رہی ہے اور ملک کا نظام سیکولر جمہوری آئین کے مطابق چلایا جا رہا ہے۔ یہ سب سوچنے والے اور اس پر یقین رکھنے والے صرف بندر کے ہاتھ اور اس کی پھرتیوں کو دیکھ رہے ہیں، ڈرائیور کے کردار کو فراموش کر رہے ہیں۔

تیسرا اہم نکتہ اس ویڈیو میں یہ ہے کہ ہمارے ہاں حکومتوں کا نظریہ اکثر و بیشتر اسی بنیاد پر چل رہا ہے عوام اپنے ووٹ سے ڈرائیور منتخب کرتی ہے، اسے ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھاتی ہے تاکہ وہ گاڑی کو بہتر اور محفوظ انداز میں چلا کر انہیں منزل تک پہنچائے لیکن وہ سیٹ پر بیٹھ کر سٹیرنگ بندروں کے ہاتھ پکڑا دیتا ہے۔ نا اہل وزیر، کرپٹ بیوروکریسی، خوشامدی مشیر، اپنی اپنی ترجیحات اور اَہداف رکھنے والے اِدارے، دین دشمنی سے بھری ہوئی اِنتظامیہ اور مال حرام کے عادی ملازمین، حکمرانوں کے یہی بندر ہیں جنہیں وہ اپنے آرام یا تفریح کی غرض سے گاڑی کا انتظام تھما کر خود سیٹ سے ٹیک لگا کر بیٹھ جاتے ہیں، ان کا اپنا ہدف محض یہ ہوتا ہے کہ وہ جس طرح بھی ممکن ہو اپنے پانچ سال پورے کریں، ان کی سیٹ کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو اور کوئی دوسرا ان کی جگہ لینے نہ آئے بس۔ اس دوران یہ مخلوق گاڑی کس طرح چلاتی ہے کن کن گڑھوں میں گراتی ہے، کہاں کہاں غلط راستہ اختیار کرتی ہے، کیسے کیسے خطرات سے ملک و قوم کو دوچار کرتی ہے، اصل ڈرائیور کو اس کی پرواہ کم ہی ہوتی ہے، اسے بس یہ رپورٹ ملتی رہنی چاہیے کہ سب ٹھیک چل رہا ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے قومی مفاد میں ہو رہا ہے۔ ملک و قوم کی بقاء اسی میں ہے اور ترقی کا راز انہی اقدامات میںپنہاں ہے۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور انہیں توفیق عطاء فرمائے کہ بندروں پر اِنحصار کی بجائے اپنا کام خود کریں اور اچھے طریقے سے کریں

٭…٭…٭

پھوک ( ہوا) نکلا ہوا فرعون دیکھا مزا آ گیا…

ایک فرعون جو خود کو ’’خادم ‘‘ کہلاتا تھا۔ گردن میں سریا، آنکھوں میں ظلم اور باتوں میں ظلمت، مجاہدین سے بغض اور علماء سے عداوت، مدارس سے وحشت اور دینی شعائر سے نفرت، کرپشن سے محبت اور پولیس گردی سے اُلفت، سنا ہے پسِ دیوار بیٹھ کر چیخیں سننے کا بہت شوق تھا اور بے گناہ لاشوں کی گنتی سے خصوصی رغبت، فورتھ شیڈول کے شکنجے میں جکڑنا اور طرح طرح کی ذلت آمیز سختیاں مسلط کرنا، جھوٹی ایف آئی آروں میں پھنسانا اور ان کی کثرت سے حظ اُٹھانا جسے خاص لذت فراہم کرتا تھا۔پنجاب پولیس اور سی ٹی ڈی کو گسٹاپو ٹائپ اِدارے بنانا جس کا ذاتی ایجنڈا تھا ، جس کی ہر بات سے تکبر ٹپکتا تھا اور ہر انداز سے فرعونیت، نیب کی عدالت میں دَس منٹ بیٹھا ہوا دیکھا، رعمیس سے لے کر اس تک ہر فرعون کا انجام اس کی وحشت ناک آنکھوں سے ٹپکتا نظر آ گیا۔ دل کو ٹھنڈک ملی اور سرور آیا۔ عبرت ہوئی اور اطمینان نصیب ہوا۔ صرف اس کی آنکھوں کو ایک لمحے دیکھنا اور چہرے پر نظر کرنا ایک پوری کتاب جیسے اَسباق دے گیا۔ ضروری نہیں کہ اسے طویل سزا بھی ہو گی۔ عین ممکن بلکہ متوقع ہے کہ وہ چند دن بعد رہا ہو کر باہر آ جائے اور فی الحال سزا سے بچ جائے۔ لیکن یہ دس منٹ کا دورانیہ ایسے فرعونوں کے لئے موت کی سزا سے کم نہیں۔ گنہگاروں کے اعضاء ، قیامت کے دن ان کے خلاف گواہی دیں گے، انہیں یہ سزا یہیں سے شروع ہو گئی۔ جن بیوروکریٹس کو اپنی حرام کاریوں کی حفاظت کے لئے کروڑوں میں پالا وہ وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں۔ جن دانتوں کو خون کا عادی بنایا وہ ان کی اپنی سیاسی لاش پر نکوس رہے ہیں۔ جس ادارے کو ذاتی انتقام کے لئے بنایا اور پالا وہی اپنا پنجرہ بن گیا۔ جس پریشانی کے عالم میں لوگوں کو دیکھ کر حظ اٹھایا کرتے تھے وہ پریشانی خود پر آن پڑی۔ کاش کوئی چیخیں سننے کا شوقین با اختیار ہو جو نہتے کی دیوار کے پیچھے بیٹھ کر سننے کی خواہش کا اظہار کر کے انہی کے پالے ہوئے ہاتھوں کو ان پر ٹوٹ پڑنے کا حکم دے دے۔

کاش کہ ان کے احکام پر اہل ایمان پر عرصہ حیات تنگ کرنے والے ملازم ان کے انجام سے عبرت حاصل کر لیں اور باز آ جائیں۔ یہ خود تو تباہ ہوئے ہیں اور دنیا و آخرت کی ذلتیں کما رہے ہیں انہیں بھی بربادی کے گڑھے میں ڈال رہے ہیں۔ ایک ایک گالی، ایک ایک تھپڑ ، ہر جھوٹا مقدمہ اور ہر توہین آمیز سلوک نامہ اعمال میں درج ہو رہا ہے۔ فرعونیت کے دن ایک مقررہ وقت پر ختم ہو جائیں گے اور اس کے بعد دنیا اور آخرت کے عذابوں اور رسوائیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

ان کی آنکھوں میں جھلکتی وحشت سے عبرت حاصل کر لیں اور ان کے اندھے احکامات پر عمل کرنے پر اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کو ترجیح دیں۔ پھوک نکلے ہوئے فرعونوں میں بڑا سبق ہے اگر کوئی سمجھے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online