Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

پاگل کتا (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 664 (Talha-us-Saif) - Pagal Kutta

پاگل کتا

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 664)

تیز اور قابو نہ آنے والے شکار کو پکڑنے کے لئے کتوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کتے دوڑنے میں طاق اور شکار پکڑنے میں ماہر ہوتے ہیں۔ انہیں طرح طرح کی تربیتوں سے گزارا جاتا ہے اور مختلف قسم کی سخت ریاضتوں کے بعد شکار کے میدان میں اُتارا جاتا ہے جبکہ بعض شکاری کتوں کو قصداً پاگل کر دیا جاتا ہے اور جو شکار ’’سمجھ دار کتوں‘‘ کے قابو نہ آ سکے اس کے لئے انہیں چھوڑا جاتا ہے۔ یہ کتے خاص مواقع کے لئے بند رکھے جاتے ہیں اور ان کی خصوصی حفاظت کی جاتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شکار ’’پاگل کتوں‘‘ کے ذریعے بھی قابو نہ آ سکے تو کیا کیا جاتا ہے؟؟…

ارے صاحب! اس سے مذاکرات کئے جاتے ہیں…

یادش بخیر

کچھ عرصہ پہلے کا ذکر ہے امریکہ پر ایک نیم پاگل شخص حکمران ہوا۔اس نے ’’پد‘‘ سنبھالتے ہی اعلان کیا تھا کہ پچھلی حکومتیں اپنی نرم پالیسیوں اور بزدلانہ روش کی وجہ سے افغانستان میں امریکی اَہداف کے حصول میں ناکام رہی ہیں وہ سخت اور ’’جرأت مندانہ ‘‘ فیصلے لے کر اس مہم کو اپنے منطقی انجام تک پہنچائے گا اور ظاہر ہے ان کے خیال میں اس مہم کا منطقی انجام امریکہ کی فتح میں ہے اور کچھ نہیں۔ اور پھر اس نے اسی شکاری اصول کے مطابق ’’پاگل کتے‘‘ کو میدان میں اُتارا۔ یہ صرف تمثیل نہیں ہے بلکہ حقیقت میں جس شخص کے ہاتھ قیادت کا عَلم تھمایا گیا اس کا لقب  ہی ’’میڈ ڈوگ‘‘ ہے۔ اور یہ شخص عراق کی جنگ میں اپنی انہی پاگل کتوں والی حرکتوں کے سبب ہی دنیا میں مشہور ہوا۔بالآخر یوں ہوا کہ پاگل کتا دوڑ دوڑ کر تھک گیا، ہانپ گیا اور اپنے سارے حربے آزما کر بے حال ہو گیا، ’’بموں کی ماں‘‘ بھی چلا دی اور بھی جو کچھ کر سکتا تھا، کر گزرا اور بالآخر دُم زمین کے ساتھ لگا کر شکست خوردگی کا اعتراف کر لیا۔ اب کیا خبریں چل رہی ہیں؟…

تندہی کے ساتھ طالبان کو مذاکرات کے لیے ڈھونڈا جا رہا ہے۔ تمام اتحادی اور سارے غلام بھی اسی مشن پر ہیں کہ مذاکرات کی میز سجائی جائے اور بات چیت کا آغاز کیا جائے۔ شکار جیسے اُس میدان میں قابو نہیں آیا تھا یہاں بھی پکڑائی نہیں دے رہا۔ ہو سکتا ہے اس بار بھی کسی نسوار فروش کی قسمت جاگی ہو اور وہ امریکہ بہادر کو چونا لگا کر کروڑ پتی ہونے والا ہو۔ اگر ایک بار پھر ایسا ہونے والا ہے تو ہماری اُسے تاکید ہے کہ اس مال میں سے طالبان کو حصہ ضرور دے تاکہ وہ امریکہ کے پاگل کتوں کے دانت کھٹے کرنے میں استعمال ہو سکے۔

ٹرمپ جی! منطقی انجام تو یہی ہوتا ہے اور یہی ہوتا آیا ہے لیکن کیا کریں… تمہیں اگر عبرت حاصل کرنے کی عادت ہوتی تو تاریخ اتنی عبرتوں سے پُر نہ ہوتی…

٭…٭…٭

آج ایک ’’معروف کالم نگارانہ ‘‘ حرکت کرنے کا دل کر رہا ہے…

ہمارے ہاں کئی ’’معروف کالم نگار‘‘ حضرات کی ’’معروف‘‘ عادت ہے کہ کوئی بھی حکومت آتے ہی چند ایک کالم مستقبل کی پیشین گوئیوں پر مشتمل لکھ دیتے ہیں۔ مثلاً اس حکومت میں بھی

٭ بجلی مہنگی ہوگی…

٭گیس کے نرخ چڑھیں گے…

٭اقتصادی دباؤ میں اضافہ ہو گا… میگا سکینڈلز سامنے آتے رہیں گے…

٭ڈالر کا ریٹ بڑھے گا اور روپیہ بے قدر ہو گا…

٭خارجہ پالیسی کمزور رہے گی اور عالمی سطح پر تنہائی میں اضافہ ہو گا…

٭بد امنی کا گراف بلند ہو گا…

٭غریب کی حالت مزید ابتر ہو گی اور سرمایہ دار طبقہ مزید گھی میں ڈوبے گا…

٭مشرقی سرحد پر تناؤ بڑھے گا اور مغرب کی طرف سے بھی صرصر چلتی رہے گی…

٭امریکہ ’’ڈومور ‘‘ اور چین ’’دواور‘‘ کہتا رہے گا اور ہم ان دونوں کے درمیان شٹل کاک بنے رہیں گے…

٭ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ زیادہ دیر ایک پیج پر نہیں رہ سکیں گے۔ دونوں میں کوئی ضرور بور ہو کر صفحہ پلٹنے کی ضد کرے گا اور پھر اِٹ کھڑکا شروع ہو جائے گا…وغیرہ وغیرہ

حالانکہ پچھلے تقریباً ۲۰ سال کے حالات کے پیش نظر ان تجزیات کے لئے نہ کالم نگار ہونا ضروری ہے اور نہ ہی معروف ہونا۔ یہ تو اب پاکستان کا ہر چھابڑی فروش اور پاپڑ ساز بھی جانتا ہے۔

بہرحال ایسے پانچ دس کالم لکھ کر یہ حضرات اگلے پانچ سال انہی کالموں کے حوالے نقل کرنے میں گزار دیتے ہیں ۔

’’ ہم نے فلاں فلاں تاریخ کو لکھا تھا کہ … آگے انورٹڈ کاماز میں ایک اقتباس اور آخر میں فخریہ اعلان کہ دیکھئے ! بالکل وہی ہو رہا ہے…

ایک کالم نگار کے بارے میں تو مشہور ہے کہ انہوں نے پنتالیس سالہ کیرئر میں پندرہ سال تجزیات کرنے اور اگلے تیس سال ان تجزیات کے حوالے دینے میں گزارے ہیں۔ بہرحال اچھی حرکت ہے یا بُری میرا آج یہ حرکت کرنے کا شدید دل کر رہا ہے اور دل میں اتنی شدت سے آنے والی بات رد نہیں کرنی چاہیے لہذا آپ برداشت کیجئے اور پڑھیے!…

القلم کے پورے ایک سو پانچ شمارے قبل ٹرمپ کی دھمکیوں اور جنرل پاگلے کتے کو کمان حوالے کرنے کی بات پر اپنے کالم بعنوان ’’تم مغلوب ہو گے‘‘ کے آخری پیرا گراف میں راقم الحروف نے لکھا تھا :

’’ ایک اور بات یاد رکھنے کی ہے۔

دھمکی دینے والوں نے مغلوب بھی ہونا ہے اور جہنم رسید بھی لیکن اس کا کوئی وقت، دورانیہ اور ڈیڈ لائن نہ پہلے دی گئی تھی نہ اب دی جا سکتی ہے۔ بس جو دھمکی آمیز لہجہ سنے، فرعون کے انداز میں بات کرتا دیکھے ، طاغوت کو اپنی طاقت کے نشے میں مٹا دوں گا کی صدائیں لگاتا پائے، اس پر لازم ہے کہ قرآن کی زبان میں جواب دے دے۔ پھر اللہ تعالیٰ کا کام ہے کہ یہ مرحلہ کب مکمل ہو۔ بدر والوں میں سے کئی یہ جواب دینے سے پہلے دنیا سے چلے گئے تھے۔ جواب دینے والے کئی یہ مرحلہ آنے سے پہلے قربان ہو گئے اور اپنی آنکھوں سے وہ وقت نہ دیکھ سکے مگر یہ سب کامیاب رہے۔ اعلیٰ درجے کے کامیاب۔ بس مسلمان کا کام ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر فوری عمل کرے۔ یقین کے ساتھ عمل کرے اور پھر نتیجے کے دن نہ گنے۔ پے درپے شکستوں سے چور کافر پھر دھکمیوں پر اُتر آئے ہیں انہیں اسی لہجے میں جواب دے دیا جائے۔ جو شک کرے اسے بدر  یاد دِلا دیا جائے اور پھر نتیجہ رَبُّ الاسباب کے علم اور مصلحت پر چھوڑ دیا جائے۔ بس

ٹرمپ اپنی دھمکیوںں کے ساتھ ایک عدد پاگل کتے کو میدان میں لایا اور اس نے فخریہ لہجے میں اعلان کیا ہے کہ وہ اس جنگ کی کمان جنرل جیمس میٹ عرف میڈ ڈوگ کے حوالے کر رہا ہے۔ عقلمند کتے فیل ہو گئے۔ اسلام کے دیوانوں کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ اب اس کام کے لئے ایک پاگل کتا میدان میں اُتارا گیا ہے۔ ٹرمپ کو خبر ہو کہ ایسے کئی پاگل کتے جہاد کو مٹانے نکلے تھے، تاریخ میں صرف ان کے نام اور ٹوٹے ہوئے دانت محفوظ رہ گئے ہیں۔ یہ کتا تو ویسے ہی عراق اور افغانستان میں اچھی طرح آزمایا ہوا ہے۔ نہ ٹھیک سے کاٹ سکتا ہے اور نہ اچھا بھونک سکتا ہے۔ بہتر ہو گا اس کے لئے دودھ پلانے والے فیڈر کا ابھی سے انتظام کر لیا جائے۔ جب بیچارے کے دانت نہ رہیں گے، اس وقت کام آئے گا۔

اسلام اور جہاد کو آنے والی ہر دھمکی کا قرآنی جواب سن لیا جائے، اچھی طرح ذہن نشین کر لیا جائے۔ آج یہ جواب دینے والے نہ بھی رہے تب بھی ہونا یہی ہے۔

تم مغلوب ہو گے

تم جہنم رسید کئے جاو گے‘‘( آل عمران 12)‘‘

آج کے روزنامہ ایکسپریس کے بین الاقوامی خبروںوالے صفحے پر ٹرمپ کا بیان دیکھ کر یہ سب یاد آگیا۔

’’ہوسکتا ہے جنرل جیمز میٹس اپنے عہدے سے ہٹنے والے ہوں‘‘…

پاگل کتے کی شکست مبارک ہو…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online