Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

قَنَّاصِ کشمیر (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 666 (Talha-us-Saif) - Qannas e Kashmir

قَنَّاصِ کشمیر

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 666)

شہداء ِکلگام کے قاتلوں نے کیا یہ سمجھ لیا تھا کہ انتقام نہیں لیا جائے گا؟…

کتنا غلط ہے جو انہوں نے سوچا…

اب نظر نہ آنے والی موت کے مہیب سائے ان کے تعاقب میں ہیں اور جنرل بپن راوت سے لے کر ننگ ملت،ننگ دین، ننگ وطن اپنی قوم کے قاتل منیر خان جیسے بھیڑیے تک سب کے چہروں پر مُردنی چھائی ہوئی ہے۔

قنّاص کشمیر!

اللہ تعالیٰ میری عمر تمہیں لگا دے، تم سے اپنی رضا کے مطابق کام لے، تمہارے نشانے تاک تاک کر لگیں اور دشمنوں کے دِلوں پر تمہارا رُعب اَضعافاً مُضاعفۃً بڑھے۔ اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت فرمائے اور تمہیں اپنے غیب کے پردوں میں یوں چھپائے رکھے کہ تم تک کسی دُشمن کی نظر پہنچے، نہ ہاتھ۔ یونہی ان کے حواس پر چھائے رہو اور رزمِ حق و باطل کو گرمائے رہو۔ آمین

قناص( سنائیپر) یعنی موت کا نظر نہ آنے والا پیامبر… جانے کب وار کر دے اور کہاں سے وار کر دے۔ اس کا نقصان نہ تو بارودی دھماکے کی طرح ڈھیروں میں ہوتا ہے اور نہ ہی یہ کارروائی شور شرابے والی ہوتی ہے لیکن اس کا خوف ایسا ہوتا ہے جو لمحہ بھر جان نہیں چھوڑنا اور سینکڑوں میل کے دائرے تک پھیلا ہوا ہوتا ہے۔ اس خوف سے نہ سڑک پر چلتا جوان محفوظ رہتا ہے نہ بکتر بند گاڑی میں بیٹھا سنتری، نہ کیمپ کے اندر کا مکین اس کی زد سے بچ پاتا ہے اور نہ مضبوط مورچوں میں کھڑا پہریدار۔ یہ خوف کیسا ہوتا ہے؟ اس کا کچھ اندازہ لگانا ہو تو انڈین آرمی چیف جنرل بپن راوت کی اتوار کے دن دہلی میں کی جانے والی پریس کانفرنس دیکھ لیجئے۔ سمجھ آ جائے گا کہ سنائیپر کی رینج کتنی زیادہ ہے۔

مجاہدین کے سنائپر کچھ عرصہ قبل میڈیا پر چھا گئے تھے جب انہوں نے بغداد کے بازاروں اور گلیوں کوچوں کو اپنی رزمگاہ بنا لیا تھا۔ وہ ایک ایسا افسانوں سا خوف بن گئے تھے جن پر امریکہ میں باقاعدہ کتابیں لکھی گئی، ڈاکیومینٹریز نشر ہوئیں اور ہالی ووڈ میں فلمیں بنائی گئیں۔ کہا جاتا ہے کہ عراق کی جنگ کے فاتح دراصل یہی قناص (سنائپر) تھے جنہوں نے امریکی فوج کو شدید نفسیاتی دباؤ میں لے کر جنگ کا پلڑا مجاہدین کے حق میں جھکا دیا۔

القلم کے پرانے قارئین کو یاد ہو گا کہ انہی صفحات پر اس زمانے ’’قنَّاصِ بغداد‘‘ کے نام سے ایک رپورٹ با تصویر شائع کی گئی تھی ۔ ان تصاویر میں امریکی محکمہ دفاع کا جاری کردہ وہ چارٹ بھی تھا جس میں قناص کے ہاتھوں پہنچنے والے نقصانات اعداد و شمار مہینہ وار درج تھے۔ یہ اعداد و شمار اگرچہ فدائی حملوں اور خوفناک آئی ای ڈیز دھماکوں سے بہت کم تھے مگر خود محکمہ دفاع کا کہنا تھا کہ عراق میں امریکی فوج جس سب سے بڑی مشکل اور مصیبت سے دوچار ہے اس کا نام سنائپر ہے۔

قناص کا یہ خوف بالآخر امریکی افواج کو کیمپوں تک محدود کرنے میں کامیاب ہوا اور عراق کے گلی کوچوں نے سُکھ کا سانس لیا۔

 آج کل اسی قناص ( سنائپر) کا خوف ہندوستان پر حکومت کر رہا ہے۔ گذشتہ دو دنوں سے ہندوستانی میڈیا پر سب سے گرم موضوع کشمیر میں سنائپر کی گونج کا ہے۔ رواں ہفتے کے پہلے دو دنوں میں تین انڈین فوجی اس کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ان فوجیوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹس سے معلوم ہوا کہ انہیں قریب سے نہیں بلکہ بہت دور سے حملہ کر کے نشانہ بنایا گیا ہے اور وہ بھی رات کے وقت۔ بس یہ رپورٹ منظر عام پر آنے کی دیر تھی کہ شامِ غریباں برپا ہوئی اور ماتم سرائی کا منظر ہو گیا۔ پہلے کشمیری غدار آفیسر اور سیاستدان چِلَّائے کہ ہماری سیکیورٹی کمپرومائز ہو گئی۔ اب ہم اپنے آپ کو کسی حال میں بھی محفوظ نہیں سمجھ سکتے۔ اس کے بعد منیر خان روتا ہوا نظر آیا۔

آپ منیر خان کو جانتے ہں؟…

جموں کشمیر کا آئی جی پولیس منیر خان جس نے کشمیر میں اپنے سیاہ کارناموں اور اپنی قوم کے خلاف سَفَّاکانہ اِقدامات کے باعث اپنا نام میر جعفر جیسے غداروں کی صف میں لکھوایا ہے۔ یہی وہ شخص ہے جس کی کمان میں آنے کے بعد جموں کشمیر پولیس مجاہدین کے خلاف بہت زیادہ متحرک ہوئی اور پہلی بار مجاہدین نے اسے انڈیا کے دوسری سیکورٹی اداروں کے ہم پَلَّہ دشمن کے روپ میں دیکھا۔ اسی کے دور میں مظاہرین پر پولیس کی طرف سے سیدھے فائر کی رِیت پڑی اور اسی نے کشمیری مظاہرین کے لہو سے وادی کی سڑکوں کو رنگین کر دیا۔ اس شخص کا دعوی ہے کہ وہ جموں کشمیر کی پولیس کو ہی مجاہدین اور تحریک آزادی کے خلاف اس قدر فعال اور موثر فورس بنا دے گا کہ دیگر عسکری اِداروں کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ یہ خونخوار بھیڑیا قَنَّاص کی دوسری کارروائی کے موقع پر جب مارے جانے والے سپاہی وویندر سنگھ کی آخری رسومات کے موقع پر میڈیا کے سامنے آیا تو اپنے خوف پر قابو نہ پا سکا اور رو پڑا۔

اللہ اکبر، اللہ اکبر! آپ کو ایک اور بات بتاؤں۔ منیر خان کی یہ روتی ہوئی تصویر ۱۸ صفر المظفر کے دِن سامنے آئی۔ آپ کو یاد ہے یہ کون سا دن ہے؟

یہ وہ دن ہے جب ہمارے پیارے مولانا محمد طلحہ رشید نے جام شہادت نوش کیا تھا اور یہی منیر خان ان کی ایم فور گن فخریہ انداز میں میڈیا کو دِکھا رہا تھا اور اس کی مسکراہٹ ختم نہیں ہو رہی تھی۔ صرف ایک سال ہی تو گذرا۔ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو دنیا کے سامنے روتا ہوا دِکھا دیا۔

منیر خان کے بعد باری آئی کارٹوں اعظم جنرل بپن راوت کی۔ لیکن اس پریس کانفرنس میں وہ اپنے مخصوص بے وقوفانہ انداز میں بار بار مسکرا نہیں رہا تھا بلکہ اسے اپنے چہرے پر چھائے خوف کے گہرے تاثرات چھپانے میں مکمل ناکامی ہو رہی تھی۔ قناص کشمیر مکمل طور پر ان کے حواس پر چھایا ہوا ہے اور ان سب سے بڑھ کر ہمیشہ کی طرح قابل صد تحسین کردار مجاہدین کا پرانا خادم، معاون اور گویا کہ بے دام غلام اور ملازم انڈین میڈیا ادا کر رہا ہے۔ وہ جس احسن اور جذباتی انداز میں قناص کا رُعب اور خوف پھیلا رہا ہے امید ہے کہ انڈین سپاہی اب تک اپنے بستر میں مُوتنا شروع کر چکے ہوں گے، حالانکہ انڈیا کی انٹیلی جنس ایجنسیز کے مطابق کشمیر میں موجود سنائپرزکی زیادہ سے زیادہ تعداد چار ہے اور اب تک سامنے آنے والی کارروائیاں صرف تین رپورٹ ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود غوغا کا جو عالم  ہے وہ ظاہر ہے۔ اب تک صرف جیش کا نام سامنے آیا ہے۔ اللہ کرے کہ کشمیر میں برسرپیکار تمام تنظیمیں اس فارمولے کو اپنا لیں اور موت کا یہ پیغام عام ہو جائے تاکہ ظالم نشانِ عبرت بنیں۔

’’قناص بغداد‘‘ کو اپنی کارروائیوں کی انجام دہی کے لئے زمین اور ماحول سازگار میسر تھا۔ وہ اپنے زیر تسلط علاقوں کی اونچی بلڈنگوں سے امریکی فوج کو نشانہ بناتے تھے، ان کے لئے کارروائی کے بعد چھپنا آسان تھا۔ ان کے لئے ماحول مکمل اپنا تھا، اس لئے نقل وحمل میں کوئی مشکلات نہ تھیں۔ کشمیر میں یہ کام کس قدر دشوار ہے اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ یہاں گنجان آبادیاں نہیں ہیں۔ اونچے رہائشی پلازے اور فلیٹس نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ماحول میں مخبری کے جال بچھے ہیں۔ زمین محدود ہے اور اس میں پھر رہے درندے بہت زیادہ۔ ایک فائر کر کے چھپنے کے لئے گھنٹوں کی مسافت طے کرنی پڑتی ہے۔ ایسے میں سنائپر کا کردار انتہائی محدود ہو کر رہ جاتا ہے یا اس کے امکانات ہی پیدا نہیں ہو سکتے لیکن سلام ہے اُمت کے ان جری شیروں کو جنہوں نے ایسے ماحول میں بھی اپنے لئے امکانات نہ صرف پیدا کئے ہیں بلکہ انہیں بروئے کار لا کر دشمن کے دانت بھی کھٹے کر دیئے ہیں۔

’’قناص کشمیر !

اللہ تعالیٰ میری عمر تمہیں لگا دے، تم سے اپنی رضا کے مطابق کام لے، تمہارے نشانے تاک تاک کر لگیں اور دُشمنوں کے دلوں پر تمہارا رُعب اَضعافاً مُضاعفۃً بڑھے۔ اللہ تعالیٰ تہاری حفاظت فرمائے اور تمہیں اپنے غیب کے پردوں میں یوں چھپائے رکھے کہ تم تک کسی دشمن کی نظر پہنچے، نہ ہاتھ۔ یونہی ان کے حواس پر چھائے رہو اور رزمِ حق و باطل کو گرمائے رہو۔‘‘ آمین!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online