Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

ملاقات کا وقت (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 667 (Talha-us-Saif) - Mulaqat ka Waqt

ملاقات کا وقت

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 667)

میں پچھلے کئی دنوں سے روزانہ رات کو ایک معصوم اور پیاری سی آواز سنتا ہوں اور پھر گریبان میں منہ ڈال کر خود سے پوچھتا ہوں۔

’’ کیا تم بھی مومن ہو ؟ ‘‘…

آواز میں نہ پریشانی ہے نہ نقاہت، نہ شکوہ نہ شکایت، نہ جدائی کا رونا دھونا اور نہ زندگی کا غم…

’’اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا وقت آ گیا ہے، آرمی پہنچ گئی ہے…

اسے تو یہ غم بھی نہیں تھا کہ مجھے جتنا کام کرنا تھا وہ میں نہیں کر سکا۔ اس نے اپنے آخری پیغام میں کہا:

’’ میں ان سے اپنا حساب پورا کر کے جا رہا ہوں‘‘ …

یہ ایک ۱۸ سالہ نوجوان کی آواز ہے۔ اس وقت وہ زخموں سے چور ہے اور بھیانک دشمن اس کے دروازے پر گھیرا ڈال کر کھڑے ہیں۔ اسے آگے کے حالات کا مکمل اندازہ ہے لیکن اس نے اپنی آواز سے اپنوں کو اندازہ نہیں ہونے دیا اور اپنے عزم و استقامت سے دشمن کو کہ وہ زخمی ہے اور اس کے جسم کا نصف سے زائد خون بہہ چکا ہے۔ اس نے اپنوں کے ساتھ پورے وقار سے بات کی اور ایک ایسے جملے سے بات کا آغاز کیا جو جب تک ہم زندہ ہیں ہمیں ایمان کی حقیقت سمجھاتا رہے گا۔

’’ اچھا امی جان! اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا وقت آ گیا ہے‘‘…

اور پھر وہ اس حالت میں گھنٹوں لڑا۔ حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے اپنا اعلیٰ قسم کا جانباز گھوڑا اپنی شہادت سے پہلے خود قتل کر ڈالا تھا تاکہ دشمن کے ہاتھ لگ کر مسلمانوں کے خلاف استعمال نہ ہو۔ زمانہ کبھی ان مثالوں سے خالی نہیں ہوتا۔ ’’سنائپر‘‘ نے اپنی قیمتی دوربین خود ٹکڑے ٹکڑے کر دی تاکہ ہندوؤں کے سروں میں سوراخ بنانے کا ذریعہ مجاہدین کے خلاف استعمال نہ ہو۔ اس نے اپنی ایم فور گن بھی توڑ ڈالی اور دشمن کے پاس میڈیا کو دِکھانے کے لئے صرف اس کا جلا ہوا بیرل لگا اور پھر وہ ایک اطمینان اور دائمی مسکراہٹ کے ساتھ

’’ ملاقات کو چل دیا ‘‘…

ربا کریم !

شہید کا یقین یقینی فرما دے…

گزشتہ ہفتے کالم لکھا تھا کہ کشمیر میں سنائپر نے طوفان اُٹھایا ہے ، اہل ایمان کے قلوب کو ٹھنڈک بخشی اور دشمنوں کے دِل جلائے۔اس کا ذکر تھا۔ مضمون سے فارغ ہی ہوا تھا کہ فون کی خاص گھنٹی بج اُٹھی۔ لرزتے ہاتھوں فون اٹھایا اور میسج سنا۔ کل اسی نمبر پر ایک میسج کیا تھا۔

’’دل خوش بھی بہت ہے اور ڈر بھی بہت رہا ہے پتا نہیں کیوں؟ دعاء کرنا ‘‘

جواب آیا:

’’اللہ تعالیٰ خیر فرمائیں گے دعائیں کرتے رہیں‘‘

بس جو ڈر تھا اسی کی خبر آ گئی

عثمان رات کو سنائپر کارروائی سے واپس آتے ہوئے ایمبش میں پھنس گیا تھا۔ فائٹ میں اسے دائیں کندھے پر گولی لگ گئی ہے۔ لیکن وہ زخمی حالت میں محاصرہ توڑ کر نکل گیا ہے اور اپنے ٹھکانے پر پہنچ گیا ہے لیکن علاقے میں انڈین آرمی کا گشت اور شدید تلاشی جاری ہے۔ دعاء کریں…

آہ عثمان !

پیارا قاری عثمان…

دعاء شروع کی پھر دل کی تسلی کے لئے قرآن اُٹھایا۔ تلاوت شروع کی تو آیت آ گئی:

’’ الخبیثات للخبیثین والخبیثون للخبیثات، والطیبات للطیبین والطیبون للطیبات‘‘

یہاں پہنچا تو بند ٹوٹ گیا

دنیا خبیث ہے جس میں ہم پھنسے ہوئے ہیں اور ادھر طیبون کے طیبات سے سودے ہو چکے۔

پریشانی میں فون اُٹھا کر پھر میسج کیا تو خبر آئی۔

’’فائٹ شروع ہے‘‘

ہمارا زخمی شیر جس کا صرف بایاں بازو حرکت کر رہا ہے لڑ رہا ہے اور کئی گھنٹے سے مسلسل لڑ رہا ہے۔ ایک کشمیری مجاہد بھی اس کے ساتھ ہے۔ وہ رات بھر زخمی رہا ہے ، خون شدت سے بہہ گیا ہے کہیں بے ہوش نہ ہو جائے۔ کہیں دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ میں فوراً ادھر دوڑا جدھر ایسے ہر موقع پر دوڑنے کی عادت پڑ گئی ہے۔

اماں ! آپ کا عثمان اس حالت میں ہے اس کے لئے دعاء کر دیں۔

انہوں نے خود ہاتھ اُٹھائے۔

’’ربا! میرا پیارا آپ کے عشق میں آپ کا پیار پانے کے لئے گھر سے نکل گیا ہے۔ اسے اپنے دیدار کے ساتھ اپنے پاس بلا لیں۔ میں بہت صبر کروں گی بس میرا بچہ کسی تکلیف میں نہ پھنسے۔ میرے اللہ اسے حسن و حسین سے ملا دے۔ ‘‘

اور پھر عثمان شہید چلا گیا۔ ہمارے بڑے بھائی جان ابراہیم اطہر حفظہ اللہ کا قاری عثمان چلا گیا…

انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ ان للّٰہ ما اعطیٰ ولہ ما اخذ وکل شیء عندہ باجل مسمی

ہمارا عثمان اُن دنوں پیدا ہوا جن دنوں انڈیا کا طیارہ اغوا ہو چکا تھا اور بدلے میں امیر المجاہدین حفظہ اللہ کی رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ ہائی جیکنگ کا تیسرا یا چوتھا دن تھا کہ عثمان دنیا میں آیا۔ ایک ایسے وقت جب گھر میں جہاد کا شور تھا، غلغلہ تھا۔ فتح کی امید کے ساتھ دل جڑے ہوئے تھے اور خوف کی بھی بوچھاڑ تھی۔ اس ہنگامے میں دنیا میں آنے والا بچہ اپنے ابتدائی دنوں میں ہی کیا سنتا رہا ہو گا اس سے اس کی اُٹھان کا اندازہ لگا لیں۔ وہ اسی ماحول میں پلا بڑھا کہ اس نے اپنے اردگرد صرف جہاد کو دیکھا، جہاد کی بات سنی اور مجاہدین کی گودوں میں کھیلا۔ اللہ اکبر کیسے کیسے غازی … شہدائِ لکھنؤ، شہدائِ ایودھیا، افضل گورو شہید کے رُفقاء کا دستہ اور کون کون سے نام یاد آ رہے ہیں جن کے بیچ اس کا بچپن گذرا، پھر وہ لڑکپن میں داخل ہوا تو اس نے اپنے بڑے بھائی عمر ابراہیم کو مستِ جہاد دیکھا۔ لمبی لمبی زلفوں والا وہ شیر جس کی زندگی محاذ جنگ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے( اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے) عثمان اس کے زیر سایہ بڑا ہوا اور ان کے والد کیسے مجاہد ہیں، ہم آپ کیا ساری دنیا جانتی ہے۔ انہی صحبتوں کے زیر اثر اس کا بچپن سے ہی یہ عزم بن گیا کہ بس زندگی صرف جہاد میں ہی گذارنی ہے۔ اس نے جہاد کے قابل ہونے کی عمر تک پہنچنے سے پہلے حفظ کر لیا۔ اب آگے کا وقت کس طرح گذارا جائے؟ درس نظامی وہ شروع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ تو فیصلہ ہوا کہ قراء تِ عشرہ کا کورس کر لے۔ سو اس نے بڑی محنت سے یہ سعادت حاصل کر لی اور اس وقت تک وہ سن بلوغ کو بھی پہنچ گیا۔ اب اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی، تو وہ میدانوں کی طرف نکل گیا۔ تربیت کی، پھر افغانستان کے محاذ پر چلا گیا۔ دونوں بھائی وہاں دادِ شجاعت دیتے رہے اور وہیں اس نے سنائپر کی اعلیٰ تربیت بھی حاصل کر لی۔ طلحہ کی شہادت کے بعد اس نے کشمیر جانے کا عزم کر لیا اور آناً فاناً اس عزم کی تکمیل بھی کر ڈالی۔ کشمیر میں اندر کی فیلڈ اس کی سیمابی طبیعت کو راس آئی اور اس نے جس علاقے کو مسکن بنایا چند ہی دنوں میں اسے کشمیر میں سب سے گرم محاذ بنا دیا۔ اس دوران اس کو کئی بار موت کا سامنا ہوا لیکن وہ اس سے کھیل کر نکل گیا۔ پھر اس نے کشمیر میں بھی سنائپر اُٹھا لیا، تو آپ نے دیکھا کہ پچھلے دنوں انڈیا کے میڈیا پر سب سے گرم موضوع سنائپر بن گیا۔ ہم سب خوش تھے لیکن دل میں خدشہ بھی اُبھرتا تھا کہ اب انڈیا کی ساری ایجنسیاں اور سیکیورٹی ادارے اپنے مخبروں کا جال اسی علاقے میں بچھا کر ہمارے لخت جگر کو نشانہ بنانا اپنا اولین ہدف بنا لیں گے۔ وہ کتنی دیر مقابلہ کر پائے گا؟ ادھر وہ اپنی کارروائیوں میں کمی کرنے پر بالکل آمادہ نہیں تھا کہ اسے فارغ بیٹھنا گوارہ نہیں تھا۔ اس کی دلیل مضبوط تھی کہ کشمیر میں کسی محاصرے میں آ کر شہید ہونے کی بجائے کارروائی کر کے شہید ہونے کو ترجیح دوں گا اور وہ اپنی اس بات میں کامیاب رہا۔

کل جب وہ شدید زخمی حالت میں زندگی موت کے درمیان معلق تھا اور اس شدید تکلیف کے عالَم میں سفر کر رہا تھا۔ دو گولیاں اس کے جسم میں آرپار ہو چکی تھیں اور کندھے کی ہڈی چکنا چور تھی۔ اس نے اپنی والدہ محترمہ کو آخری میسج کیا۔ اس میسج میں اس کی آواز سے کہیں اندازہ نہیں ہو سکتا کہ وہ اس قدر شدید زخمی ہے۔ تھکن سے چور ہے، خون بہہ جانے کی وجہ سے بے ہوشی کے خطرے سے دوچار ہے اور دشمن کے گھیرے میں ہے۔ انتہائی باوَقار انداز میں اس نے اپنی والدہ محترمہ سے جو کچھ کہا وہ آپ بھی پڑھ لیجئے۔

’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کیا حال ہے امی جان ۔ صحت ٹھیک ہے آپ کی۔

’’اچھا امی ! اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاقات کا وقت قریب آ گیا ہے۔ دعاء کریں میرے لئے۔ کوئی غلطی کوتاہی ہوئی ہو تو دل سے معاف کر دیں۔میرے سب بہن بھائیوں کو کہہ دیں کہ اللہ کی رضا کے لئے مجھے معاف کر دیں۔رشتے داروں اور باقی سب کو بھی کہہ دیں۔سب کو دعاؤں اور سلام کا کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اخلاص اور اپنی رضا والی مقبول شہادت نصیب فرمائے۔باقی جو میرے بھائی ہیں سب کو اللہ کے راستے میں ضرور بھیجیں۔اللہ کے راستے میں قربان کرنے کے لئے۔ ٹینشن نہ لیں بالکل بھی، بس دعا کریں۔اس نمبر پر واپسی جواب نہ دیں۔ آرمی پہنچ چکی ہے۔ بس دعاء، دعاء ، دعاء۔ ابو کے ساتھ جب رابطہ ہو تو انہیں بھی سلام ، دعاء اور غلطی کوتاہی ہوئی ہو تو ان سے معافی کی درخواست۔اللہ کے حوالے سارے۔ ‘‘

عثمان جس وقت کشمیر میں جانے لگا تھا وہ اپنی دادی اماں کے قدموں سے رخصت ہوا۔ اماں اسے اپنے ہاتھ سے انگور کھلا رہی تھیں اور باتیں بھی کر رہی تھیں۔انہوں نے عثمان سے کہا:

بیٹا! کیا ہم لوگ آپ کو اچھے نہیں لگتے کہ ہمیں چھوڑ جانے کی اتنی جلدی ہے؟

عثمان نے ایک عجیب انداز سے اپنی دونوں شہادت کی انگلیاں آسمان کی طرف بلند کیںاور بولا!

اماں آپ لوگ کتنے اچھے لگتے ہیں یہ بتانا بھی ممکن نہیں لیکن جانے کی جلدی اس لئے ہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے یہ اللہ کا حکم ہے…

اللہ کے حکم کا پابند وہ معصوم سا شرمیلا بچہ جسے مرکز میں اکثر لوگوں نے بغیر رومال میں منہ چھپائے کم ہی دیکھا ہو گا۔ اللہ کے حکم پر قربان ہو گیا۔ اپنے بلند عزائم کے ساتھ ، بلند ہمتی کے ساتھ اور باوقار انداز میں اس نے موت کو گلے لگایا، وہ زخمی حالت میں گھنٹوں لڑا اور اس نے دشمن کو خود تک پہنچنے نہیں دیا۔  پورے ہوش و حواس میں گھر والوں کو نصیحت و وصیت کی اور ہنستا مسکراتا اپنے رب کی ملاقات کو چل دیا۔

ربا کریم !

ہمارا پیارا بچہ ہمارا قاری ہمارا شرمیلا آپ کی دربار میں حاضر ہے اس کے ساتھ اپنے محبوب شہداء والا معاملہ فرمائیں ۔آمین

وہ جب دنیا میں آیا تھا اس کے عظیم والد اس وقت بھی ایسی جگہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایسی جگہ کھڑے تھے جہاں ان تک لخت جگر کی آمد کی خبر بھی ہفتہ بھر بعد پہنچ سکی۔ آج پھر وہی منظر ہے ان کا لخت جگر دنیا سے رخصت ہوا ہے لیکن ان کو کئی دن بعد خبر مل سکی۔

جی ہاں!

ایسے مجاہد ایسے ہی ماحول میں جنم لیا کرتے ہیں اور تربیت پاتے ہیں۔

ربا کریم … اس کے ماں باپ ، بہن بھائیوں اور اہل محبت کی طرف سے یہ پیاری سی قربانی قبول فرما اور اسے وہ ساری طیبات عطاء فرما جن کی طلب میں اس نے اپنی عفیف جوانی تیری راہ میں وار دی…آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online