Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

اہل وفاء (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 668 (Talha-us-Saif) - Ahl-e-Wafa

اہل وفاء

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 668)

سلام اے اہل وفا، صد سلام!

بار بار یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے کیونکہ واقعات ہی بار بار پیش آتے رہتے ہیں تو کیا کروں؟

وہ بڑی آسانی سے نکل سکتا تھا۔ اسے کوئی بے وفائی کا طعنہ بھی نہ دیتا کیونکہ اس نے بہت مشکل مرحلے میں وفا نبھائی تھی۔ وہ زخمی حالت میں عثمان کو وہیں چھوڑ کر چلا جاتا تو کوئی شکوہ نہ تھا کیونکہ ایسا کرنا کارروائی کا حصہ ہوتا ہے۔ لیکن وہ نہ نکلا اور اس نے زخمی شیر کو پوری محنت کے ساتھ ٹھکانے پر پہنچایا۔ جہاں جہاں خبر پہنچانی ضروری تھی وہ بھی پہنچائی۔ بے سروسامانی کا عالَم اور ہر طرف پھیلا خوف و ہراس ، قدم قدم پر بو سونگھتے کتوں کی حس والے غدَّار اور مُخبر، میڈیکل سٹوروں اور ڈاکٹروں پر خاص نظر کہ زخمی کو طبی اِمداد کی شدید ضرورت ہے اور اس ضرورت کا سامان خریدنے تو کوئی انہی مقامات پر آئے گا اور اس کے پیچھے پیچھے ہدف تک پہنچا جا سکے گا۔ ایسے میں ایک شدید زخمی کو اس طرح سنبھالنا کہ اسے ضروری طبی اِمداد فراہم کر کے بے ہوش ہونے سے بچایا جا سکے اور ساتھ ہی حفاظت کا بھی پورا بندوبست رکھنا کس قدر مشکل کام ہے یہ تو وہی اونچی شان و شوکت والا شوکت بھائی ہی جانتا ہو گا۔ لیکن اس نے یہ سب کر دکھایا ۔ اس نے زخمی کو طویل سفر طے کرایا ۔ اسے طبی امداد فراہم کی، اس کے ہوش و حواس کو بحال رکھا اور ہر طرح کی راحت رسانی میں خود کو تھکایا۔ اس نے اپنے ہمراہی کو سلایا مگر خود آرام نہیں کیا۔ پھر فیصلہ کن مرحلہ آ گیا۔ آرمی کو کارروائی والی جگہ سے ملنے والے سامان اور نشانات سے معلوم ہو گیا کہ زخمی ہو کر نکل جانے والا شیر کوئی معمولی فرد نہیں بلکہ وہی ہے جو گذشتہ ایک ماہ سے انڈین میڈیا کی سب سے بڑی خبر اور کشمیر میں خوف و دہشت کا سب سے نمایاں نشان بن کر ابھرنے والا’’جیش محمد ﷺ‘‘ کا سنائپر ہے۔ لہذا اردگرد کے سارے کیمپوں سے آرمی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی۔ راستہ بھر بہتے رہنے والے خون نے نشان فراہم کیا اور بالٓاخر دس گھنٹے کی تلاش کے بعد آرمی ان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔ اس دوران اس کے پاس کھلا موقع تھا کہ وہ نکل جاتا۔ کشمیر کے مقامی مجاہدین کہیں بھی اپنی گن محفوظ کر کے خالی ہاتھ ہو جائیں تو انہیں کوئی شناخت نہیں کر سکتا۔ وہ آرام سے تلاشی کی لائن میں لگتے ہیں، تفتیش کے مراحل سے گذرتے ہیں اور بحفاظت و امان خطرے کے علاقے سے نکل جاتے ہیں۔ وہ بھی یہ سب کر سکتا تھا۔ اسے ایسا کرنے کا کہا بھی گیا اور اصرار بھی کیا گیا لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ وہ اپنے خاندان کا پہلا مجاہد نہیں تھا۔ ابھی تو اس کے حقیقی بھائی کی شہادت کو ۶ ماہ کا عرصہ مکمل نہیں ہوا تھا۔ ایسے میں اسے یہ خیال بھی نہیں ستا رہا تھا کہ اتنی کم مدت کے اندر دوسرے بیٹے کی شہادت کی خبر سن کر اس کے ماں باپ اور خاندان پر کیا گذرے گی؟ اس نے ان ساری باتوں کے سامنے ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو یقینی شہادت کے سپرد کر دیا اور وفاء کی ایک روشن مثال قائم کر دی۔

اے اہل کشمیر ! اے اہل وفاء! اے اہل عزیمت!

ہم تمہارے ممنون ہیں، مقروض ہیں…

شوکت جیسے نوجوان ہی قوم کا فخر ہیں اور کشمیری قوم کا اصل چہرہ اصل تعارف ہیں۔

جہاد کی طاقت، جہاد کی قوت اور جہاد کی اثر انگیزی دیکھئے

کشمیر جہاں نہ مدرسہ فعال ہے نہ خانقاہ۔ نہ دین کی بات آزاد ہے نہ بات کرنے والے، جہاں صرف مغربی تعلیم ہے اور ہندو تہذیب۔ جہاں دشمن صرف جان کے نہیں، ایمان کے بھی درپے ہیں اور ہر طرح کے ایمان شکن اَسباب کی فراوانی ہے، آزادی ہے ۔ وہاں اسی تعلیم اور اسی تہذیب کے بیچوں بیچ یہ جو ایمان کی عظیم تر بلندیوں والے جوان جنم لے رہے ہیں اور اپنا آپ دکھا اور منوا رہے ہیں یہ نسل کون تیار کر رہا ہے؟

جی ہاں! جہاد صرف جہاد…

ایک ایسی نسل جن کی ایمانی کیفیات اور اسلام کی خاطر قربانیاں آزاد مسلمان کو شرمندہ کرنے کے لئے کافی ہیں، جہاد اس نسل کی پرورش کر رہا ہے اور یہی وہ مٹھی بھر لوگ ہیں جن کی بدولت پوری قوم سرفراز ہے اور پورے قد کے ساتھ سینہ تان کر دشمن کے سامنے کھڑی ہے۔ یہی وہ عظمت کے مینار ہیں جو منزلوں کے نشان دِکھا رہے ہیں۔ یہی وہ علمبردار ہیں جو کٹ رہے ہیں مگر حریت کا علم نہیں گرنے دے رہے۔ یہی وہ پروانے ہیں جو جل جل کر گر رہے ہیں مگر آزادی کی آنچ دھیمی نہیں پڑنے دے رہے۔ کیا آپ نے اس کشمیری ماں کی آواز نہیں سنی جو ہندو فوجیوں کے سامنے گرج کر کہہ رہی تھی:

’’ میں اپنے بیٹے کو ہرگز تحریک چھوڑ کر گھر واپس آنے کا نہیں کہوں گی بلکہ اگر وہ اپنی مرضی سے لوٹ آیا تو میں اپنے ہاتھوں سے اسے قتل کر دوں گی ‘‘ …

اس بوڑھی ماں کو شہادت کی بلندی اور شہید کا مقام کس نے سمجھایا جو کہہ رہی تھی:

’’ میرا بیٹا لوٹ آیا تو پھر تم اسے قتل نہیں کرو گے۔ ایسے میں وہ شہادت کا اعزاز کیسے پا سکے گا؟ ‘‘…

اس ننھے بچے کو کفر سے اور کافر سے یہ نفرت کس نے پڑھائی جو مسلح خونخوار فوجیوں کے نرغے میں تَن کر کھڑا انہیں نفرت آمیز اشاروں اور گالیوں کا نشانہ بنا رہا تھا اور اس کی آنکھوں میں خوف کا شائبہ بھی نہ تھا…

اس نسل کی پرورش جہادی نعروں ، شہداء کے جنازوں اور جہادی جانبازوں کی گولیوں کی تڑتڑاہٹ میں ہوئی ہے۔ انہوں نے شہداء کے مسکراتے چہروں سے تربیت پائی ہے اور انہوں نے افضل گورو شہید جیسے شعوری مجاہدوں کے افکار سے نظریہ کشید کیا ہے۔یہ نسل باعزیمت ہے، پُر عزم ہے اور وفادار ہے۔ اسے جھکانا اور دبانا ہندوستان تو کیا امریکہ اور نیٹو جیسی طاقتوں کے بس میں بھی نہ ہو گا۔

ہم جب ان شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہیں ہم جانتے ہیں، جن کے ساتھ ہماری خوبصورت یادیں وابستہ ہیں، جن کے ساتھ ہم اپنے زندگی کے حسین ترین لمحات بِتا چکے ہیں، تو ہم ان اہل وفا اہل کشمیر کو کس طرح فراموش کر سکتے ہیں جو ہمارے ان راہ خدا کے مسافروں کی انگلی پکڑ کر انہیں چلاتے ہیں، دشمن تک پہنچاتے ہیں، ٹھکانے فراہم کرتے ہیں ، اپنے گھر اور خاندان داؤ پر لگاتے ہیں۔ ہر خطرے میں اپنے مہمانوں سے پہلے کودتے ہیں اور ہر مشکل میں، خطرے میں وفا کی اعلیٰ مثالیں قائم کرتے ہیں اور ہنستے مسکراتے جام شہادت نوش کر لیتے ہیں۔ وہ نہ اپنی خدمتوں کا اِحسان رکھتے ہیں اور نہ قربانیوں سے گھبراتے ہیں۔ ان اہل وفا کو ان سطور میں بار بار سلام پیش کرنا ہماری مجبوری ہے۔ ہمیں ان سے اللہ کی خاطر محبت ہے اور وہ اس محبت کے بجاطور مستحق ہیں۔ ہمارے لئے تو یہ لوگ ایمان کا علَم ہیں اور اسلام کی عظمت کے نشان ہیں۔

سلام اے اہل وفا سلام

سلام اے اہل کشمیر سلام

آپ نے ہمارے مسافروں کا ساتھ نبھایا ہم بھی زندگی بھر آپ کا ساتھ نبھاتے رہیں گے۔ ان شاء اللہ العزیز

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online