Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

دیوانے داعی (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 669 (Talha-us-Saif) - Deewane Dayi

دیوانے داعی

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 669)

چند سال پہلے کی بات ہے، میں دعوتی پروگرام کے سلسلے میں گیا ہوا تھا۔ یہ کوئی عمومی جلسہ نہیں تھا بلکہ صرف جماعت کے دعوتی شعبے سے منسلک اَفراد کے ساتھ تربیتی نشست تھی۔ساتھیوں سے عرض کیا کہ ’’دعوت‘‘ کے سلسلے میں دیوانگی کی شان اپنے اوپر طاری کرنا ہو گی۔ کوئی موقع ہو، کسی بھی قسم کی مجلس ہو، کیسے بھی طبقے کے اَفراد کے ساتھ بیٹھنا ہو، ہم ہر وقت ہر جگہ ’’دعوت‘‘ کا کام کریں۔ جب دعوت کی یہ شان نصیب ہو جائے گی، کام ترقی کرے گا۔ نشست کے بعد ایک ساتھی اِصرار کر کے اپنی دوکان پر لے گئے۔ وہاں بیٹھے تھے کہ ایک بزرگ آئے۔ ان کے ہاتھ میں پلاسٹک کے دو ڈبے تھے جن میں دیسی مٹھائیاں تھیں۔ انہوں نے آ کر اونچی آواز میں سلام کیا اور کہنے لگے یہ مٹھائیاں تو میں بچوں کو بیچتا ہوں۔ یہاں بچہ تو کوئی نظر نہیں آ رہا چلو یہاں کوئی اور بات کر لیتے ہیں سب میرے ساتھ پڑھو ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ ہم سب نے ان کے ساتھ مل کر پڑھا ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ کہا اب تم سب بھی گواہ ہو گئے اور اس دوکان کی ہر چیز گواہ ہو گئی کہ ہم نے کلمہ پڑھا اور میں نے تم سب کو پڑھایا۔ اگلی بات یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے اور آپ کے صحابہ کرام نے اس کلمہ کی خاطر بہت محنت کی۔ بہت تکلیفیں اٹھائیں، بڑی قربانیاں دیں۔ یہ کلمہ زبان پر تو آسانی سے آ جاتا ہے لیکن دل میں بڑی محنت سے اُترتا ہے تو وعدہ کر لو تم سب اس کے لئے محنت بھی کرو گے۔ بس دل میں نیت کر لو زبان سے کہنے کی ضرورت نہیں۔ اچھا میں چلتا ہوں۔

حاجی صاحب نے کہا تھا ہر جگہ کلمے کی بات کر دیا کرو…

انہوں نے کوئی اور بات نہیں کی اور جس طرح تیزی سے آئے تھے، اُسی رفتار سے چلتے بنے۔ سفید کرتے، سفید لنگی اور سفید عمامے والے وہ بزرگ مجھے آج تک بھولے نہیں اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ان جیسی ’’دعوتی ‘‘دیوانگی کا سوال کرتا ہوں۔

جن ’’حاجی صاحب‘‘ کی نصیحت پر وہ بزرگ عمل کر رہے تھے وہ بھی زندگی بھر یہی ایک سبق پوری دیوانگی کے ساتھ سناتے سناتے اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ مغفرت کاملہ نصیب فرمائے، بلند درجات عطاء فرمائے اور اپنی شان کے مطابق اجر عظیم سے نوازے۔ اپنے کام، اپنے مشن اور اپنے مقصد کے ساتھ دیوانگی والا تعلق ان حضرات سے سیکھنے کی چیز ہے۔ انہوں نے اپنے بزرگوں سے ایک سبق لیا اور پھر پوری دنیا اور اس کے تمام تر مشاغل چھوڑ کر اسے اپنا لیا اور زندگی بھر اسی کی تکرار کرتے کرتے چل بسے۔

ما ہرچہ خواندہ ایم فراموش کردہ ایم

الا حدیث یار کہ تکرار می کنم

اور یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ جس کام کو بھی دیوانے داعی مل جائیں وہ ختم نہیں ہوتا اور بڑے اونچے اونچے کام اور نظریات اس وجہ سے اپنا وجود کھو بیٹھتے ہیں کہ ان کی دعوت باقی نہیں۔ ایسے نظریات ، جماعتیں اور گروہ مٹ گئے اور جن نظریات یا جماعتوں کو رضاکار اور دعوت مل گئے وہ نہیں مٹائے جا سکے۔ حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی نور اللہ مرقدہ کی تحریک اس حوالے سے سب سے خوش قسمت اور بانصیب تحریک قرار دی جا سکتی ہے کہ اسے رضاکار بھی خوب ملے اور دعوت بھی۔ اس وجہ سے اس کام کا پھیلاؤ حیران کن رہا۔ اپنی جان، اپنا مال ، اپنا وقت اس کام کو دینے والوں کی بھی کبھی کمی نہیں ہوئی اور دعوت کے حوالے سے بھی اسے دیوانوں کی قلت کا سامنا نہیں ہوا۔ آپ اس زمانے میں ’’جہاد‘‘ کی بقا کا راز بھی اسی میں تلاش کر سکتے ہیں۔

کتنی ہی بڑی بڑی جہادی تحریکیں اپنا وجود اپنے اثرات کھو بیٹھیں کہ ان کی دعوت جاری نہیں رہی حالانکہ وہ بہت مخلص لوگوں پر مشتمل تھیں اور حضرت سید صاحب نور اللہ مرقدہ کی تحریک اگرچہ ظاہری طور پر مکمل ختم ہو گئی لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر زمانے میں اس کی دعوت کو بقاء عطاء فرمایا تو اس کے اثرات کبھی بھی ختم نہ ہوئے اور اس سے کتنی عظیم الشان تحریکوں نے جنم لیا اور آج تک اس کے اثرات پورے عالم میں نظر آ رہے ہیں۔ اس زمانے میں جہاد کی دعوت مشکل بھی ہے اور پابند بھی۔ اس پر سزائیں بھی ہیں اور ملامت بھی۔ باہر سے بھی اس کی شدید مخالفت بلکہ مخاصمت ہے اور اندر بھی اس کے راستے  میں بڑی بڑی رکاوٹیں ہیںلیکن اس کے باوجود اگر وہ باقی ہے تو اپنی دیوانے داعیوں کی وجہ سے جو جیلوں میں ہوں یا مسندوں پر، آزاد ہوں یا پابند ہر حال میں ان کا اوڑھنا بچھونا یہی دعوتِ جہاد ہے۔ ان کی دعوت کے اَثرات فدائی مجاہدین کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیںجنہوں نے کفر کی ساری ٹیکنالوجی اور قوت خاک میں ملا کر رکھ دی ہے۔ گذشتہ دنوں ایسے ایک دیوانے داعی جہاد کا ذکر سنا جس نے اپنی والدہ محترمہ کے جنازے پر بھی دعوت جہاد دی اور خود بیان کر کے لوگوں کے سامنے جہاد کا نظریہ بھی رکھا اور ان سے نصرت بھی وصول کی۔ افغانستان میں امارت اسلامیہ کے سقوط کے بعد جس طرح بہت سے ظاہری دیندار حضرات کی طرف سے یہ بُرا طرز عمل سامنے آیا کہ انہوں نے اس سانحہ کو جہاد کی ناکامی کے طور پر پیش کر کے عام دیندار مسلمانوں کو جہاد سے برگشتہ کرنے کی مذموم مہم بڑی تندہی سے شروع کر دی گویا وہ دین کی کوئی بڑی خدمت بجا لا رہے ہیں۔ اس مہم کو سرکاری سرپرستی اور زور بھی حاصل رہا۔ ایک طرف جہادی طبقے پر سرکاری سختیاں اور دوسری طرف یہ محنت۔ دونوں نے مل کر کافی اثر کیا اور امت کا جو چھوٹا سا طبقہ نظریاتی طور پر جہاد سے وابستہ تھا اور اس سلسلے میں معاونت کرتا تھا وہ خوف ، مایوسی اور شکوک کا شکار ہو کر دور ہونے لگا اور اس سے بڑھ کر خود وہ لوگ جو عملی طور پر جہاد سے وابستہ تھے وہ بھی اس کا شکار ہو کر راستے بدلنے لگے۔ ایسے میں خود کئی نامور جہادی لیڈر اور جماعتیں بھی اپنا راستہ اور اپنی دعوت بدل بیٹھیں اور جہاد سے دور ہو کر دوسرے کاموں میں لگ گئیں لیکن اس پورے عرصے کا ایک ایک دن گواہ ہے کہ جن دیوانوں نے اپنی دعوت جاری رکھی ان کی محنت سے محاذ بھی الحمد للہ پوری قوت کے ساتھ آباد ہوئے، فدائیوں کی بھی قطاریں لگیں، تلبیسات اور شکوک کے بادل بھی چھٹے، راستے بدلنے والے بھی واپس آئے اور اللہ تعالیٰ نے جہاد کو وہ قوت و شوکت عطاء فرمائی کہ دشمن فتح کا اعلان کیا کرتا، شکست کی ذلت چھپانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جہاد کے ان دیوانے داعیوں اور جہادِ حق کے فدائیوں کو اپنی شان کے مطابق اجر عطاء فرمائے جنہوں نے شکست خوردہ امت کو ایک باعزت مقام تک پہنچایا اور آج عالم کفر مجاہدین کے نہ صرف وجود کو تسلیم کر رہا ہے بلکہ ان کی قوت کا بھی برملا اِعتراف کرنے پر مجبور ہے۔

عنقریب وہ لوگ بھی اپنے کئے پر شرمندہ ہوں گے جنہوں نے جہاد کی قوت کو نہیں سمجھا اور اس کے خلاف اپنی دعوت اور اپنی توانائیاں صرف کیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت اور سچی توبہ نصیب فرمائے۔

حضرت حاجی عبد الوہاب صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کی سراپا دعوت زندگی میں ہم سب کے لئے بہت سے اسباق ہیں اگر ہم حاصل کرنا چاہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online