Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

خراجِ تحسین (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 671 (Talha-us-Saif) - alaikum-Khiraj e Tehseen

خراجِ تحسین

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 671)

وقت بہت تیزی سے گذرتا جا رہا ہے، میں بہت دِنوں سے سوچ رہا ہوں کہ جو کام کرنے کا داعیہ دل میں پیدا ہو چکا ہے، اُسے کر گزروں مگر دیر کرتا جا رہا ہوں۔ اب مجھے خطرہ ہو رہا ہے کہ کہیں موقع ضائع نہ کر بیٹھوں اور پھر یہ کام ہو ہی نہ سکے۔ آج کوشش کرتا ہوں کہ کر ہی لوں۔

ہرگز نہیں… مجھے ڈالر کے ایشو پر اظہار خیال نہیں کرنا کیونکہ مجھے جدید معیشت کے اس گورکھ دھندے سے نہ تو دلچسپی ہے اور نہ کوئی سروکار… ڈالر کیوں اوپر جا رہا ہے اور جاتا ہی چلا جا رہا ہے؟ نیچے کیسے آئے گا؟ آئے گا بھی یا نہیں آئے گا؟… اپنی بلا سے۔ ایسے علم کی طرف جانا ہی بے کار لگتا ہے جسے پڑھا ہوا ایک شخص جس وقت اعداد و شمار کے اَنبار لگا کر ثابت کر رہا ہوتا ہے کہ معیشت زوال پذیر ہے۔ عین اُسی وقت اُسی علم کا ایک دوسرا شخص بیٹھا اُسی اعداد و شمار سے دعویٰ کر رہا ہوتا ہے کہ معیشت ترقی پذیر ہے اور دو دیگر ماہرین معاشیات میں ایک اُس کی بات کو درست کہہ رہا ہوتا ہے اور ایک اِس کی…

جبکہ اَعداد و شمار کے اس کھیل سے نہ تو غریب صارف کے کسی مسئلے کا حل نکل رہا ہوتا ہے اور نہ اس کی مشکلات میں کچھ کمی واقع ہو رہی ہوتی ہے۔ اس لئے اس فضول کی طرف جانا ہی لغو ہے۔

آپ اگر یہ سمجھ رہے ہیں کہ مجھے بھی دیگر پونے چار سو کالم نگاروں کی طرح مرغی، اَنڈے اور کٹے پر کوئی دانشوری جھاڑنی ہے تو بھی آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔ دیسی مرغی اور اس کے انڈے ملکی معیشت پر کچھ اثر انداز ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ ان سے ڈالر کے ریٹ میں کمی اور روپے کی قدر میں کچھ استحکام واقع ہو سکتا ہے یا نہیں؟ مجھے نہیں معلوم ۔ البتہ اتنا ضرور معلوم ہے کہ دیسی مرغی اور اس کے انڈے کھانے سے کھانے والے کی صحت میں اِستحکام آ سکتا ہے۔ سردی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا گراف نیچے جا سکتا ہے اور ان کے اَثر کو زیادہ سنجیدہ لے لینے سے خانگی اَحوال پربھی خوشگوار اَثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ کٹّے کا گوشت گائے کے گوشت کی نسبت صحت کے لئے زیادہ بہتر ہے، اگرچہ دیکھنے میں گائے کا گوشت زیادہ خوش منظر ہوتا ہے۔ مزید معلومات کے لئے مفرداتِ طب کی کسی کتاب کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ یہ معلومات آپ کو زندگی میں بہت سے مواقع پر کام آ سکتی ہیں۔ مجھے بس تجربے کی حد تک اس بابت اتنا علم ضرور ہے کہ جب کسی شخص کو معاشی مسائل کا حل پولٹری فارمنگ میں نظر آنے لگے تو اس کے لئے دُعاء تیز کر دینی چاہیے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے خیر مانگنی چاہیے۔

کرتارپور راہداری کے بارے میں بھی اِظہار خیال کرنے کے لئے بڑا وقت پڑا ہے، لہٰذا یہ جلدی اس سے متعلق بھی نہیں ہے۔ اس راہداری کے فعال ہونے میں ابھی پورا ایک سال پڑا ہے۔ اس دوران :

ہزار راہزن اُمیدوار راہ میں ہے

اور اگر ہندوستان میں اگلے الیکشن کا نتیجہ بی جے پی کے حق میں نکل آیاتو… تبصرے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ فی الحال سکھوں کو چپ کرانا ضروری تھا، تو یہ کڑوا گھونٹ مودی اور راوت نے بھر لیا۔

بس اس سلسلے میں ایک بات یاد دِلانا ضروری سمجھتا ہوں کہ وزیر اعظم صاحب کو یاد رہنا چاہیے کہ

٭ماضی کی زنجیروں سے آزاد قومیں کبھی آگے کا سفر نہیں کرتیں، ہمیشہ تنزلی کا شکار ہوتی ہے۔

٭سکھ تاریخی اعتبار سے ہمارے بھائی نہیں، ہمیشہ بدترین دشمن اور دشمنوں کے آلہ کار رہے ہیں۔ پڑھنے کی عادت کا اندازہ تو حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کئے گئے اِظہار خیال سے ہو گیا ہے لیکن ہو سکتا ہے گھر میں کوئی ایسا فرد فارغ ہوتا ہو جو پڑھ کر بتا سکتا ہو تو سکھوں کی پنجاب پر قبضے کے ہنگام اور تقسیمِ برصغیر کے وقت ’’برادرانہ‘‘ حسن سلوک کی کچھ داستانیں پڑھوا کر ذہن نشین کر لیں۔

ویسے کرتارپور راہداری کے افتتاح کے وقت جو تقریر وزیر اعظم صاحب نے کی اس میں یہ ثابت کرنے کے لئے پورا زور لگاتے نظر آئے کہ وہ صرف نوجوت سنگھ سدھو سے بڑے کھلاڑی ہی نہیں بڑے سردار بھی ہیں۔ بونگیاں مارنے کا اتنا اعلیٰ سطحی مقابلہ آئندہ شاید اسی وقت منعقد ہو سکے جب ٹرمپ اور وزیراعظم صاحب ایک سٹیج پر جمع ہوں۔ بہرحال مجھے اس بارے میں بھی مزید کچھ کہنے کی جلدی نہیں ہے…

پھر آخر میں کون سا کام ہے جو جلدی کرنا چاہتا ہوں؟…

ہمارے وزیراعظم صاحب نے فرمایا ہے کہ ’’یوٹرن‘‘ عظیم لیڈرز کی نشانی ہے۔ تاریخ میں جن لیڈروں نے یوٹرن نہ لینے پر اِصرار کیا ان کا انجام اچھا نہیں ہوا۔ ( نقل چوَل چوَل نہ باشد)

میں چاہتا ہوں کہ اپنی قوم میں پیدا ہونے والے پہلے عظیم لیڈر کو جلدی سے خراج ِتحسین پیش کر لوں۔ قبل ازاں کہ وہ اس بات سے بھی یوٹرن لے کر عظیم ترین لیڈروں کی صف میں اپنا نام درج کروالیں اور میں ہاتھ ملتا رہ جاؤں۔

کتنی ناقدر شناش ہے یہ قوم جس نے اپنے لیڈر کا ہر یوٹرن پر مذاق اڑایا، یہ نہ سوچا کہ وہ اپنا نام خاک میں ملانے والی یہ ایکسرسائز فضول میں نہیں کر رہے بلکہ یہ عظیم لیڈروں میں شامل ہونے کی مشق کی جا رہی ہے۔ ۲۲ سالہ سیاسی کیرئر میں ابتدائی چند سال انہوں نے محض ایک عام لیڈر بننے کی تگ و دو کی۔ پھر انہیں خیال آیا کہ اس قوم کے گھمبیر مسائل کا حل کوئی عام نہیں بڑا لیڈر کر سکتا ہے تو انہوں نے یوٹرن لینے شروع کئے لیکن ایک لرنر ڈرائیور کی طرح آہستہ آہستہ اور چھوٹے چھوٹے۔ دو تین سال جب انہیں احساس ہوا کہ اس رفتار سے منزل مقصود تک پہنچنا مشکل ہو گا، تو انہوں نے ہفتہ وار ، سہ روزہ پھر یومیہ اور آخر میں تو گھنٹوں کے حساب سے یہ کام شروع کر دیا اور بالآخر دیکھئے وہ اب ایسے عظیم لیڈر کے طور پر قوم کے سامنے ہیں جس کی اب ہر تقریر ایک شاہکار ہے، ہر جملہ ایک مقولہ ہے اور ہر نظریہ ایک پورا تھیسس ہے۔ کیا آپ کو ان سے پہلے کسی ایک عظیم لیڈر کے زمانے میں سانس لینا نصیب ہوا ہے جس نے بولنے سے پہلے کبھی بھی سوچا نہ ہو اور نہ ہی بولنے کے بعد؟…

اگر یہ نہ ہوتے تو آپ کو کبھی یہ علم ہو پاتا کہ دھرنا اگر اقتدار کے لئے ہو تو قومی ضرورت ہوتا ہے اور ناموسِ رسالت کے لئے ہو تو بغاوت؟

بہرحال ضروری تھا کہ اس پُر مسرت موقع پر خراج تحسین کو سنبھال کر رکھنے کی بجائے اسے پیش کر دیا جائے۔ اب اگر وہ اس بات سے بھی یوٹرن لے گئے تو ہم بھی عظیم کالم نگار ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہوئے خراج تحسین سے یوٹرن لے لیں گے۔ اور دیکھئے انہوں نے جیسے ہی یوٹرن کو عظیم لیڈرز کی نشانی قرار دیا کن دو دیگر عظیم لیڈروں نے فوراً ان کی تصدیق کی اور اپنے آپ کو مثال کے طور پر پیش کیا۔ ایک جناب صدر ذی وقار ڈاکٹر عارف علوی صاحب اور دوسرے گورنر فنکار جناب عمران اسماعیل صاحب۔ اب اس بات کے…’’صحیح‘‘ ہونے میں شک ہی کیا رہ گیا…

ہمارے وزیراعظم صاحب ایک عظیم لیڈر ہیںاس کی دلیل صرف یوٹرن ہی نہیں بلکہ اس سے بہت اعلیٰ اور پختہ دلیل ان کے عظیم لیڈر ہونے کی ایک اور بھی ہے جس کا اظہار اگرچہ انہوں نے بزبانِ خود کیا ہے لیکن انہیں اس بات کا اِدراک نہیں ہوسکا کہ یہ بھی ان کی عظمت کی دلیل ہے ورنہ قوم کو بتا بھی دیتے۔ آپ نے بھی وہ سنی ضرور ہو گی مگر اس نکتے تک شاید آپ کا ذہن بھی نہ پہنچا ہو، اس لئے اب میری ذمہ داری ہے کہ میں آپ کو آگاہ کر دوں ۔

وزیراعظم نے پہلے سو دن کی تمام تر کارکردگی کا مکمل کریڈٹ خاتونِ اول کو دے دیا ہے۔

پہلے سو دن میں ہوا کیا ہے؟

٭گیس ، بجلی ، پٹرول اور دیگر اَشیائِ ضرورت کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

٭ ڈالر کی اب تک کی سب سے تاریخی اُڑان

٭کابینہ اور بیوروکریسی کے درمیان کم ترین وقت کا بدترین تصادم اور تبادلے

٭ہزاروں مکانات اور دوکانوں کا تجاوزات کے نام پر ظالمانہ اِنہدام جس کا تمام تر اثر غریب طبقے پر پڑا ہے۔ ( وزیر اعظم صاحب اور جتنی بھی غلطیاں کر لیتے، اپنے لئے غریبوں کی بددُعاؤں اور اورآہوں کا اتنی جلدی اِنتظام نہ کرتے تو اچھا تھا )

اور وزیراعظم صاحب نے اس تمام کارکردگی کا مکمل ’’اِلزام ‘‘ اپنی زوجہ محترمہ کے سر دھر دیا۔

کوئی بھی عام تو کجا اچھا خاصا خاص آدمی بیوی کی کردہ غلطیوں کا اِظہار بھی یوں سرعام اس دھڑلے سے نہیں کر سکتا چہ جائیکہ اپنی کردہ خطاؤں کا ذمہ دار اسے ٹھہرائے۔ یہ کام صرف ایک عظیم لیڈر ہی کر سکتا ہے اور وزیراعظم صاحب نے وہ کر دِکھایا۔سوچئے جو شخص بیوی سے نہیں ڈرتا، وہ کس قدر نڈر ہوگا۔ کیا اب بھی خراج تحسین نہیں بنتا؟…

یقیناً ہم پر بنتا تھا اور ہم نے اپنا یہ فرض بخوبی نبھانے کی ایک حقیر سی کوشش کر ڈالی ہے اس پر کوئی لفافہ ہونے کا الزام لگائے یا بکاؤ ہونے کا ہمیں قبول ہے۔

ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے

محسوس کیا جو وہ رقم کرتے رہیں گے

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online