Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

عاشق کا پیغام (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 684 (Talha-us-Saif) - Ashiq ka Paigham

قیمتی وقت

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 684)

ومن تکن برسول اللّٰہ نصرتہ

ان تلقہ الاسد فی آجامھا تجم

جس کی فتح و ظفر رسول کریم ﷺ کے طفیل سے ہوتی ہے اگر شیر بھی اپنے بَن میں اس کو مل جاتے ہیں تو دَم بخود رہ جاتے ہیں

ولن تری من ولی غیر منتصر

بہ ولا من عدو غیر منقصم

سو تم (رسول اللہ ﷺ)کے کسی ولی یا دوست کو نہیں دیکھو گے کہ وہ حضور ﷺکے طفیل مظفر و منصور نہ ہو اور نہ رسول اللہﷺکے کسی دشمن کو دیکھو گے کہ وہ شکست خوردہ نہ ہو ۔

جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب ترین کام کر رہے ہیں اور اپنا رشتہ بھی درود شریف کے زریعے جوڑے رکھتے ہیں ان کے لئے خوش خبری ہے۔وہ ہرگز نہ گھبرائیں دنیا کے یہ اصلی ونقلی شیر مل کر ان کاکچھ نہیں بگاڑ سکتے۔اس راہ میں زخم تکلیفیں مشکلات پریشانیاں سب آتے ہیں۔ان کی وجہ سے آقا والا راستہ چھوڑ جانے والے محروم جبکہ ان سے جڑے رہنے والے ہر حال میں کامیابی پاتے ہیں۔دیکھ لیجئے اُحد میں زخموں سے چور کھڑے لشکر کو کہا جارہا ہے’’تم ہی کامیاب ہو اگر ایمان پر رہو‘‘…

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سچے عاشق امام بوصیریؒ کا یہ پیغام اللہ کرے ہم سب کے دلوں میں اُترجائے۔

 ومن تکن برسول اللّٰہ نصرتہ

ان تلقہ الاسد فی آجامھا تجم

جس کی فتح و ظفر رسول کریم ﷺکے طفیل سے ہوتی ہے اگر شیر بھی اپنے بَن میں اس کو مل جاتے ہیں تو دَم بخود رہ جاتے ہیں۔

وہ شاعر تھے۔قصیدہ خوانیاں ،وزراء، اُمراء اور بادشاہوں کی جھوٹی سچی تعریف ان کا پیشہ تھا۔غزل گو تھے ۔عرب کے قبائل کے تفاخر بیان کرنا، عرب کے حسن کے تذکروں میں مبالغہ آرائی اور جنگوں کے منظوم قصے کہنا، دن رات کا مشغلہ تھا۔ مجلس آباد رہتی تھی اور لوگ جمع رہتے تھے۔اس لئے اشعار میں درد اور آواز میں سوز تھا، سو خوب سنے جاتے اور خوب سراہے جاتے تھے۔ زندگی اسی عیش مستی میں کٹ رہی تھی کہ ایک امتحان میں مبتلا ہو گئے ۔ امتحان و اِبتلاء کیا؟ اصل میں وہ تو در محبوب سے بلاوا تھا اور مقام حقیقی سے نوازنے کا ایک انداز۔ فالج ہوا اور جسم کا ایک دھڑ بے کار ہو گیا۔زبان نے کام کرنا چھوڑ دیا۔دماغ پر بھی قابو نہ رہا، یوں نہ تو وہ خیالات کی ندرت رہی اور نہ وہ پُر سوز اندازِ بیاں۔ یوں بھیڑ چھٹنے لگی،اپنے پرائے ہو گئے، ہر وقت کے حاضر باش غائب اور واہ واہ کا شور کرنے والے عنقا۔

قصیدہ خوانی سے عاجز آئے تو درباروں کے دروازے بند ہو گئے اور خزانوں کے منہ بھی۔ ایک مفلوج و عاجز انسان اکیلا اور درماندہ پڑا ہوا، اپنے ماضی کو یاد کر کے آنسو بہاتا رہتا۔اچانک ایک دن دماغ میں ایک روشن خیال کوندا۔ دنیا کے بادشاہوں کی تعریف کی، محبوبوں کے گن گائے، آج کوئی بھی میرے ساتھ نہیں، نہ کوئی مشکل میں کام آیا۔ عمر ضائع ہو گئی۔ تعلقات بے فائدہ رہے اور کلام بے سود۔کیوں نہ اُن سے تعلق جوڑا جائے اور رشتہ گانٹھا جائے جو ایک بار جسے اپنے دامن میں لے لیں کبھی فراموش نہیں کرتے۔ بس خیال آنا تھا اور محبت کا جاگنا تھا۔وہی ندرت خیال بھی عود کر آئی اور وہی آتشیں انداز بھی جو محمد بن سعید المعروف شرف الدین البوصیری کا خاصہ اور تعارف تھا۔دل و دماغ سوئے مدینہ ہوئے اور زبان سے نکلا:

امن تذکر جیران بذی سلم

مزجت دمعاجری عن مقلۃ بدم

 کیا کوئی پرانے ہمنشین یاد آئے جن کی یاد نے آنسوؤں کو خون آلود کر دیا

یوں خون بھرے آنسوؤں سے وہ قصیدہ تشکیل پایا جو صدیاں گذر جانے کے باوجود آج بھی زندہ اور ترو تازہ ہے۔ البوصیری نے ان آنسوؤں سے راہِ ہدایت پا لی،فالج سے بھی خلاصی پا لی اورقیامت تک باقی رہنے والا نام بھی۔بعد میں ساری زندگی اپنی زبان کو مدحِ حبیب ﷺکے لئے وقف رکھا،درجنوں قصائد کہے لیکن ’’البردۃ‘‘ لازوال ہو گیا اور آج تک ان کی وجہ شہرت بنا ہوا ہے۔جانے کس سچائی، کس درد اور کس بے کسی میں یہ الفاظ ان کی زبان سے نکلے کہ آج بھی تنہائی میسر آ جائے یا مسجد نبوی شریف کی حاضری،دل کی توجہ سے قصیدہ بوصیریؒ شروع کیا جائے تو آنسو خون آلود ہونے لگتے ہیں اور لگتا ہے کہ دل کا سارا خون آنکھوں کے راستے بہہ جائے گا ۔لوگوں نے بوصیری پر (نعوذباللہ) شرک کے الزام تک لگادئیے تاکہ ان کا قصیدہ مٹایا جا سکے لیکن اس کی مقبولیت ہر زمانے میں بڑھتی چلی گئی۔چند دن قبل ایک عرب عالم کا بیان سن رہا تھا سیرت کے موضوع پر۔ان عالم دین نے قصیدہ بردہ کے خلاف ایک مقالہ لکھا ہے اور اس کا پڑھنا ناجائز بتایا ہے۔وہ بیان کے دوران حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر انبیاء پر فضیلت بیان کرتے ہوئے یہ شعر پڑھ رہے تھے

وکلہم من رسول اللّٰہ ملتمس

غرفا من البحر او رشفا من الدیم

اور یہ شعر بردہ شریف کا ہے۔

ایک مسئلہ معلوم ہو گیا۔عاشق نہیں مرتے، عشق نہیں مرتا اور جب خون ملے آنسو نہیں مرتے تو خود خون کیسے مر سکتا ہے ۔خالص خون بوصیریؒ عاشق تھے وہ بھی زندہ ہیں۔ان کا قصیدہ عشق تھا وہ بھی زندہ ہے۔ان کے آنسو عشق والے تھے وہ بھی آج تک زندہ ہیں، تو اے اہل ایمان! اے اہل عقل! وہ عاشق جو بنامِ حبیبﷺاپنی جانیں وارتے ہیں، صرف آنسونہیں گرم خون پیش کرتے ہیں اور عشق میں جہاد جیسی عظیم مشقت کا بار اُٹھاتے ہیں وہ خود ،ان کا نام اور ان کا کام کس طرح مر سکتے ہیں؟

کوئی ہے جو طاقت کے زعم اللہ تعالیٰ کے جانیں دینے والے اولیاء کو ستانے والوں کو یہ بات سمجھا دے!

قصیدہ بُردہ شریف سارا کا سارا عجیب ہے۔بڑے بڑے اللہ والوں نے اس کی شروح لکھی ہیں اور عجیب و غریب نکات نکالے ہیں۔اس میں نبی کریم ﷺکی مدح کے ہر پہلو پر بوصیری ؒ نے روشنی ڈالی ہے۔آپ ﷺکے کمالات،آپﷺکے معجزات، آپ ﷺکی برکات، آپ ﷺکا مقام عالی شان اور پھر آخر میں عجیب عاشقانہ انداز کی مناجات۔ پورے قصیدے کے بارے میں لکھا جائے تو مضمون کیا کتاب بھی کم پڑتی ہے اور لکھ بھی کون سکتا ہے ؟کوئی بوصیریؒ جیسا ہو تولکھے۔ میں تو آج ان کے صرف دو شعر لکھنے اور پیغام دینے بیٹھا تھامگر بات کھنچتی چلی جا رہی ہے۔

الامام شرف الدین بوصیریؒ نے لکھا ہے:

ومن تکن برسول اللّٰہ نصرتہ

ان تلقہ الاسد فی آجامھا تجم

جس کی فتح و ظفر رسول کریم ﷺکے طفیل سے ہوتی ہے اگر شیر بھی اپنے بَن میں اس کو مل جاتے ہیں تو دَم بخود رہ جاتے ہیں

ولن تری من ولی غیر منتصر

بہ ولا من عدو غیر منقصم

سو تم (رسول اللہ ﷺ) کے کسی ولی یا دوست کو نہیں دیکھو گے کہ وہ حضور ﷺ کے طفیل مظفر و منصور نہ ہو اور نہ رسول اللہ ﷺ کے کسی دشمن کو دیکھو گے کہ وہ شکست خوردہ نہ ہو 

اَشعار ہیں بوصیریؒ کے اور ترجمہ ہے حضرت حماد اللہ ہالیجوی قدس سرہ کا۔

بوصیریؒ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں پر نبی کریم ﷺ کے طفیل اللہ تعالیٰ کی نصرت نازل ہوتی ہے ان کے مقابل شیر بھی آ جائیں تو دُم دَبا کر بھاگنے پر مجبور ہونگے یا اپنی کھچاروں میں دَبک جائیں گے۔وہ لوگ کون ہیں جو نبی کریم ﷺ کے طفیل اللہ کی نصرت پاتے ہیں؟

وہ لوگ جو نبی کریم ﷺ کی صداقت کی جنگ لڑ رہے ہیں ان سے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا:

جہاد، دجال کے قتل تک برابر جاری رہے گا،اسے نہ کسی عادل کا عدل روک سکتا ہے اور نہ کسی ظالم کا ظلم۔

جہاد کا جاری رہنا آقا مدنی ﷺکا فرمان ہے۔دنیا چاہتی ہے اسے روک دے، کیا وہ قادر ہے کہ نبی کریم ﷺکے فرمان عالی شان کو غلط ثابت کر سکے؟ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں

اب جو لوگ اس فرمان مبارک کی سچائی کی علامت ہیں اور اس کی خاطر ہر دکھ، ہر تکلیف، ہر جبر، سہہ رہے ہیں لیکن اپنے آقاﷺکی محبت میں ان کے فرمان کے مطابق ڈٹے ہوئے ہیں ۔ ان کی نصرت میں کیا شک ہو سکتا ہے ۔

ان کی نصرت کل بھی تھی، آج بھی ہے کل بھی دنیا کو ان کے سامنے جھکنا پڑا تھا آج بھی جھکے گی۔

شہادتوں اور جیلوں کو کوئی یہ نہ سمجھے کہ نصرت نہ رہی ۔یہ تو اس راستے کا حصہ ہیں اور عین سعادت اور عین نصرت ہیں۔ایک شہید کا خون کتنوں کے لئے نصرت کا باعث بنتا ہے اور ایک قیدی کی آہیں کتنوں کے لئے آسمان سے نصرت کھینچ لاتی ہیں، اس کا ادراک کسی اور کو ہو نہ ہو مجاہدین کو ضرور ہوتا ہے اور ہونا چاہیے۔ اس لئے وہ ان باتوں سے گھبرائے بغیر اپنے کام میں لگے رہتے ہیں اور آج بھی لگے ہوئے ہیں۔ کوئی میدان چھوڑنے کا ہرگز نہ سوچے۔ الحمد للہ نصرت اُتر رہی ہے اور ہر میدان میں اُتر رہی ہے۔

ہاں!کوئی یہ پیغام بوصیریؒ کے اَلفاظ میں ہرسو پھیلا دے:

کہ آقا مدنی ﷺکے سچے غلاموں کے مقابل شیر بھی آ جائیں تو دُم دَبا کر بھاگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اصلی شیر ہوں یا سیاسی نقلی شیر:

ومن تکن برسول اللّٰہ نصرتہ

ان تلقہ الاسد فی آجامہا تجم

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor