Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سُلگتے سوالات (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 685 (Talha-us-Saif) - Sulagte sawalat

سُلگتے سوالات

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 685)

بھائی مدثر کشمیری نے ترال میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔

اللہ تعالیٰ ان کی شہادت قبول فرمائے اور انہیں بہت عالی مقام عطاء فرمائے۔ کافی عرصے سے رزم گاہِ کشمیر کی رونق تھے اور بڑی شان والے مجاہد تھے۔ ہندوستان کہہ رہا ہے کہ پلوامہ حملے کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ وہ یہ اِعزاز پانے والے پہلے مجاہد نہیں، ان سے پہلے دو کشمیری مجاہد یہ بتا کر شہید کئے جا چکے ہیں اور پلوامہ حملے نے ہندوستان کو جس پاگل پن میں مبتلا کر دیا ہے اس کے پیش نظر نہ جانے مزید اور کتنے مجاہدوں کے کندھوں پر ’’ماسٹر مائنڈ‘‘ کا میڈل سجے گا۔ کشمیریوں کا جوش، جذبہ اور جنون تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس وقت کا ہر کشمیری نوجوان جس نے عادل احمد اور مدثر کی طرح مسلح جہاد کا راستہ چن رکھا ہے وہ پلوامہ جیسے حملوں کا ماسٹر مائند ہے، کیونکہ ان میں سے ہر ایک یہی چاہتا ہے کہ وہ ہندوستان کو پلوامہ جیسے زخم لگائے اور اپنی قوم کے دِلوں کو ٹھنڈک پہنچا کر ان کے زخموں کا مداوا کرے۔ ہندوستان نے آج اپنے خلاف سوچنے اور کرنے والے ایک ’’ماسٹر مائنڈ ‘‘ کو شہید کر لیا۔ وہ خوش ہے لیکن اسے بھی علم ہے کہ یہ خوشی بہت عارضی ہے۔ ایک دن نہیں گذرے گا کہ انہی جیسا تعلیم یافتہ اچھے گھرانے کاکوئی نوجوان ایک ہاتھ میں گن اور دوسرے میں پسٹل تھامے ہندوستان کو چیلنج کر کے عسکری تحریک کا حصہ بنتے نظر آ رہا ہو گا اور ہندوستان میں صف ماتم بچھے گی کہ ایک اور ’’ماسٹر مائند‘‘ ظاہر ہو گیا۔ قتل و قتال کا مائنڈ تو فطری طور پر ہر انسان ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔اپنے حقوق لینے کے لئے تو ایک معصوم اور کم عمر بچہ بھی بلا کسی تربیت اور ترغیب کے لڑائی کرتا ہے اور اپنے اس مائنڈ کا اظہار کرتا ہے۔ پھر وہ جوں جوں قوت پاتا جاتا ہے اس کا یہ مائنڈ بھی طاقتور اور فعال ہوتا چلا جاتا ہے لیکن فرق یہ ہوتا ہے کہ اَمن میں پیدا ہونے والے کو ماسٹر مائنڈ بننے کے لئے بہت ساری تربیت کی ضرورت پڑتی ہے، جنگ اور جدوجہد کے ماحول میں جوان ہونے والے بنے بنائے ماسٹر مائنڈ ہوتے ہیں۔ کشمیر کی موجودہ نوجوان نسل پیدا ہی عسکریت کے سائے میں ہوئی۔ ان کی اکثریت کو شاید اذان کی آواز بعد میں کان پڑی ہو اور اس نے گولی کی آواز پہلے سن لی ہو گی۔ انہوں نے بچپن کی عمر سے ہی شہداء کے جنازے دیکھے اور ان میں جذبات کے اُبلتے سمندروں کا مشاہدہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی زبانوں سے جو سب سے پہلے الفاظ اَداء کئے وہ تکبیر اور آزادی کے نعرے ہیں۔ یہ نسل نقلی ہیروز کے ناول سن اور پڑھ کر نہیں، سجاد افغانی ، غازی بابا سے لے کر برہان وانی تک اصلی ہیروز کے سائے میں پَل کر باشعور ہوئی ہے۔ ان کے نظریاتی گرو مقبول بٹ شہید سے لے کر اَفضل گورو شہید تک وہ سچے مفکرین ہیں جنہوں نے اپنے نظریات کے اَٹل ہونے پر اپنے لہو کی مہر ثَبت کی ہے۔ اس نسل کو اب کشمیر کے باہر سے نہ کسی ماسٹر مائنڈ کی احتیاج ہے اور نہ معاون اِدارے کی۔ ہندوستان کے لیے اب یہ مشکل کافی گہری ہوچکی ہے اور گھمبیر بھی۔ وہ زمانہ لَد گیا جب سوچا جا سکتا تھا کہ کشمیر کی تحریک کی جڑ یں چونکہ کشمیر کے اندر نہیں، باہر ہیں۔ اس لئے باہر سے اگر اس کا رشتہ کاٹ دیا جائے تو یہ تحریک اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پائے گی۔ شاید یہ بات کچھ عرصہ پہلے تک حقیقت ہو مگر اب نہیں ہے۔ اب کشمیر کے ہر گاؤں میں مدثر احمد شہید جیسے ماسٹر مائنڈ اور عادل احمد شہید جیسے ہیرو موجود ہیں۔ اس لئے ہندوستان کو اب ہر مجاہد کو ماسٹر مائنڈقراردینا پڑ رہا ہے۔

رہے کشمیر کے عوام تو انہوں نے پچھلے چار سال ہر جنازے پر کھلا واضح اور دوٹوک اِعلان کیا ہے کہ وہ ان ماسٹر مائنڈز کے ساتھ ہیں۔

مضمون میں آپ کو ایک تصویر بھی نظر آ رہی ہو گی۔

یہ کسی فوٹو شاپڈ ملین مارچ یا دھرنے کی تصویر نہیں۔ مدثر شہید کے کل ہونے والے جنازے کی اَصل تصویر ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں اس شخص کے جنازے پر جمع ہونے والا جم غفیر جو ریاست کے بقول اس پر ہونے والے تیس سال کے سب سے بھیانک اور خطرناک حملے کا اصل ذمہ دار تھا۔ ریاست کی عملداری اس علاقے میں اس حد تک ہے کہ ہر دس لوگوں پر ایک سیکورٹی فورس کا اہلکار مسلط ہے۔ جنازہ جس شخص کا ہے وہ اس ریاست کا کھلم کھلا باغی اور دشمن تھا۔پھر یہ سب لوگ اس جنازے میں بے خوف کیا بتانے چلے آئے؟ یہی ناکہ وہ ریاست کے نہیں، اس باغی کے ساتھ ہیں۔

اس جنازے کی ایک ویڈیو بھی میرے پاس ہے،یہ حاضرین بڑے جوش اور جذبے کے ساتھ ایک نعرہ بھی مسلسل لگا رہے ہیں:

پاکستان سے رشتہ کیا

لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہ

یہ پاکستان سے اپنا رشتہ بتا رہے ہیں اور آج سے نہیں گذشتہ ستَّر سال سے بتا رہے ہیں اور اس بتانے کی پاداش میں دُنیا کا بدترین ظلم وجبر بھی سہہ رہے ہیں۔ وہی پاکستان جہاں آج کل ان مظلوم کشمیریوں سے اپنا رِشتہ نبھانے والے اَہلِ وفاء پھر جیلوں، پابندیوں اور نظر بندیوں کی زَد میں ہیںاور انہیں بے دست و پا کیا جا رہا ہے تاکہ وہ ان مظلوموں کی اُمنگوں کو سہارا نہ دے سکیں۔ اور یہ کام کرنے والے اسے اپنا قومی مفاد بتا رہے۔ کشمیری یہاں جیش کے نعرے بھی لگا رہے ہیںاور کہہ رہے ہیں:

جیش والو قدم بڑھاؤ

ہم تمہارے ساتھ ہیں

اور ان کی اُمیدوں کے محور پاکستان میں جیش والوں کے قدم روکنے کے لئے سیکورٹی اِدارے دیواریں پھلانگ پھلانگ کر گھروں میں گھس کر حرمتیں پامال کر رہے ہیں کہ ایسا کرنا ’’قومی مفاد‘‘ ہے۔ ایک عفت مآب بہن انہیں بتا رہی تھی کہ وہ جس مرد کی تلاش میں آئے ہیں وہ گھر پر نہیں ہے اور اگر یقین نہیں ہے تو خواتین اہلکاروں کو گھر میں بھیج کر تلاشی کروالیں لیکن ’’قومی مفاد‘‘ کے پاس اتنا وقت کہاں ہوتا ہے کہ وہ کسی کے پردے کا خیال کرے۔ اس کا تقاضہ یہی ہے کہ مرد اہلکار ہی دروازے کو دھکا مار کر اندر گھسیں اور توڑ پھوڑ کر کے چلے جائیں۔

ہماری حکومت پاکستان کی خاطر پون صدی سے قربانیاں دیتے ان کشمیری اہل وفاء کی اُمنگوں کے برعکس، ان کے دوستوں کے خلاف جس طرح کا آپریشن خالص اپنا قومی مفاد قرار دے کر سر انجام دے رہی ہے کیا وہ ان جنازوں اور نعروں سے اُٹھتے کچھ سوالات پر غور کرنے کی زحمت کر لے گی؟ …

(۱) کشمیر میں پاکستان سے اِلحاق کی تحریک چل رہی ہے جبکہ پاکستان میں کوئی ایسی تحریک نہیں جو ہندوستان سے اِلحاق چاہتی ہو۔ اس کے باوجود ہندوستان پاکستان میں اُٹھنے والی ہر ریاست مخالف تحریک کو مکمل سپورٹ کرتا آیا ہے اور آج تک کر رہا ہے ، بنگلہ دیش میں اس نے ایسی تحریک کی مدد کے لئے باقاعدہ فوج کشی بھی کی۔ کیا پاکستان نے کبھی اس پر ہندوستان سے اس لہجے میں بات کی ہے جس لہجے میں ایک عالمی قوانین کے مطابق بالکل جائز تحریک کی معمولی سی مدد کرنے پر ہندوستان پاکستان سے بات کرتا ہے؟ کیا طاقت صرف اپنوں کے خلاف ظاہر کرنے کے لئے حاصل کی جاتی ہے ؟ …

(۲) کیا پاکستان میں کشمیری مجاہدین کی مدد کرنے والی تنظیموں کے خلاف کاروائی اور ہندوستان کو مطلوب شخصیات کو پابند کر دینے کے بعد ہندوستان کی وہ اِلزام تراشی بند ہو جائے گی جس سے بچنے کے لئے یہ سب کچھ ایک بدترین حد تک گر کر کیا جا رہا ہے؟ فرض کیجئے اگر کشمیر کے اندر کوئی مجاہد پھر پلوامہ جیسا حملہ کر دے تو بھارت پھر اپنی یہی زبان بولے گا یا آپ کے اِقدامات کی قدر کرتے ہوئے آپ پر پھر انگلی نہیں اٹھائے گا؟ …

(۳) انڈیا نے پلوامہ حملے کے بعد اِلزام لگایا کہ اس حملے کی پلاننگ پاکستان میں ہوئی اور بارود بھی پاکستان سے گیا۔ کوئی معمولی سی عقل رکھنے والا شخص بھی سوال کر سکتا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کا بارڈر جس قدر سیل ہے اور کشمیر کے اندر اور راستوں پر جس قدر سیکورٹی فورسز تعینات ہیں ان کے پیش نظر ایسا ہونا ممکن ہی نہیں یا پھر انڈیا تسلیم کرے کہ اس کے حفاظتی اِنتظامات انتہائی ناقص اور فورسز بالکل نکمے گدھوں پر مشتمل ہیں۔ لیکن یہاں ایسا ہوا کہ سوال کرنے کی بجائے یہ کہہ کر آپریشن کا آغاز کر دیا گیا کہ ہم ایسا انڈیا کے اِلزامات یا دباؤ کی وجہ سے نہیں، اپنے مفاد میں کر رہے ہیں۔ کیا یہ ساری دُنیا کے سامنے انڈیا کے اِلزام کو تسلیم کرنا نہیں ہے؟

اس سے آپ کی فیس سیونگ ہوئی یا دنیا کے سامنے منہ کالا ہوا ؟ …

(۴) پاکستان میں کشمیریوں کی حامی اور مددگار جماعتوں کے خلاف آپریشن کا آغاز ہوتے ہی انڈیا نے کشمیر کے اندر مجاہدین کے خلاف کارروائی تیز کر دی تاکہ عسکری تحریک کو ختم کر دے۔ اس صورتحال میں پاکستان کا یہ اِقدام کشمیری مسلمانوں کے دِلوں پر کتنے منفی اَثرات مرتب کر رہا ہو گا اور ان کی پاکستان سے وابستہ اُمنگوں کو کیسی ٹھیس پہنچی ہو گی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ کشمیر کے عوام ہندوستان کے جبر کے سامنے جن ناموں کا بے خوف پرچار کرتے ہیں اور کھلم کھلا جن ناموں کے نعرے بلند کرتے ہیں اور اس کی پاداش میں گولیاں کھاتے ہیں ان کے ساتھ، ان کی امیدوں کے محور پاکستان میں یہ سلوک ہو رہا ہے۔ یہ اِحساس کشمیری عوام کو کس طرح گھائل کر رہا ہو گا کاش یہ سوچ بھی قومی مفاد میں کوئی جگہ پا سکتی۔

مجاہدین اور ان کے خُدام پریشان ضرور ہیں لیکن مایوس الحمد للہ بالکل نہیں۔ مدثر شہید کا جنازہ ، اس کی قوم کا جذبہ و جنوں اور کشمیری نوجوان کا یہ نیا اَنداز واضح اَلفاظ میں ہندوستان اور پاکستان دونوں کو پیغام دے رہا ہے کہ جہادِ کشمیر اب مدثر اور عادل جیسے ہاتھوں میں ہے، جن پر نہ ہندوستان کی دھمکیاں اَثر انداز ہو سکتی ہیں اور نہ قومی مفادات والے آپریشن۔ بس تاریخ میں لکھا جا رہا ہے کہ کون اس میدان میں سرخرو رہا اور کس نے اپنے منہ پر کالک ملی۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor