Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اصل چہرہ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 688 (Talha-us-Saif) - Asal Chehra

اصل چہرہ

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 688)

ٹرمپ اور مودی جیسے حکمران اپنے ایجنڈے پر کھلم کھلا اور تیز رفتاری سے گامزن ہیں اور کفریہ معاشروں کے چہروں پر پڑے نقاب اُتر رہے ہیں۔

ہندوستان میں کچھ دِنوں پہلے امیر المجاہدین حفظہ اللہ تعالیٰ کو مسعود ازہر ’’جی‘‘ کہہ دینے پر میڈیا نے طوفان اُٹھا دیا۔ایسے لگا کہ حب الوطنی کا واحد معیار ’’ جی‘‘ کہنے والے کو کوسنا اور طعنے دینا رہ گیا ہے۔ خدا خدا کر کے یہ طوفان تھما اور ہندوستانی میڈیا کو اپنے وحشیانہ جنون اور پاگل پن کے اِظہار کے لئے کوئی اور موضوع ملا لیکن آج پھر وہی گونج۔ ایک صاحب نے ’’جی‘‘ سے آگے بڑھ کر ’’صاحب‘‘ کہہ دیا اور پاگل پن کے گٹر پھر اُبل پڑے۔ میڈیا قوم کی آواز اور قوم کے مزاج کا آئینہ دار ہوا کرتا ہے۔ جہاں لوگ فلمی ہیں، وہاں میڈیا بھی فلمی ہے۔ جہاں لوگ احمق ہیں، وہاں کا میڈیا اُن سے بڑھ کر احمق ہے اور ایک ریاست میں لوگ ذہن اور حافظے کے کچے اور تماش بین ہیں اس لیے وہاں کا میڈیا سب سے بڑا تماشا باز ہے۔ اس ریاست کا نام میں نہیں لیتا اس سے میری حب الوطنی پر حرف آنے کا اندیشہ ہے۔ ہندوستان کا میڈیا اس وقت ’’ہندوتوا ‘‘ اور ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کے فلسفے کی عملی تصویر بن چکا ہے اور اسی ایجنڈے کی ترویج میں ہمہ تن مشغول ہے، اس لئے ہر ایسا موضوع جس سے اس نظریئے کو مہمیز ملتی ہو وہ فوراً اس میڈیا کے لئے ہاٹ کیک بن جاتا ہے۔ آج ہندوستان کا ایک مِگْ طیارہ چائے کے ٹوٹے ہوئے مَگْ کی طرح بکھرا پڑا تھا لیکن اس کے میڈیا پر خبر یہ چھائی ہوئی تھی کہ پاکستان کے چار ایف سولہ طیاروں نے انڈین سرحد کے قریب آنے کی کوشش کی، جسے ہندوستان کی بہادر سینا نے ناکام بنا دیا اور وہ طیارے واپس بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ پاکستان دشمنی اس میڈیا کا کھلا موضوع ہے جبکہ اسلام دشمنی چھپا ہوا۔ پاکستان اور آتنک واد کی دشمنی کی آڑ میں اسلام کے بارے میں اور مسلمانوں کے بارے میں زہر اگلنے کا کوئی موقع یہ میڈیا ہاتھ سے نہیں جانے دیتا اور اب تو صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں پر تشدد، مار پیٹ اور جلاؤ گھیراؤ کے جو واقعات روز مرہ کا معمول ہیں وہ اس میڈیا پر کوئی اہم خبر ہی نہیں بن پاتے اور اگر ان کا تذکرہ ہوتا بھی ہے تو اس پیرائے میں کہ مسلمانوں پر ہی کسی کے جذبات مجروح کرنے کا اِلزام دھر کر ، جوابی کارروائی کا رنگ دے دیا جاتا ہے۔گذشتہ دنوں میرٹھ کے ایک گاؤں میں بدمعاش ہندوگروہوں نے مسلمانوں کے دو سو سے زائد مکانات جلا کر راکھ کر دئیے۔ متاثرین کے جو بیانات بی بی سی اور دیگر عالمی میڈیائی اداروں نے نشر کئے ان کے مطابق ہندو شدت پسندوں نے اس بستی پر منظم انداز میں حملہ کیا اور مسلمانوں کو سامان نکالنے کا بھی موقع دئیے بغیر پوری بستی جلا کر خاکستر کر دی۔ لیکن ہندوستانی میڈیا پر یہ خبر نہ صرف یہ کہ بہت معمولی بنا کر نشر کی گئی بلکہ واقعہ کا رُخ بھی یوں کر دیا گیا کہ بستی کے کسی گھر میں ہونے والی آتشزدگی کے سبب یہ مکانات جل گئے۔ اسی طرح ہولی کے دن میرٹھ کے ہی ایک نواحی علاقے میں آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم کے غنڈوں نے ایک مسلمان گھرانے کے ساتھ جس طرح بد سلوکی کا مظاہرہ کیا اس کی ویڈیو سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں وائرل ہوئی۔ اس ویڈیو میں ان غنڈوں کی باتیں سنی جا سکتی ہیں کہ وہ کس طرح اسلام اور مسلمانوں کو گالم گلوچ کر رہے تھے اور متاثرین کو زد وکوب کرنے کے ساتھ انہیں پاکستان چلے جانے کا کہہ رہے تھے لیکن مین سٹریم ہندوستانی میڈیا نے اس خبر کو محض ایک کرکٹ میچ پر ہونے والی دو خاندانوں کی تکرار اور جھگڑے کے طور پر نشر کیا اور اس میں سے آر ایس ایس فیکٹر بالکل خارج کر دیا۔ میڈیا کا یہ رویہ اس بظاہر سیکولر کہلانے والے ملک اور وہاں کی اکثریت کے مزاج کا آئینہ دار ہے۔

یہ تو ہوا میڈیا کا مزاج۔ اب سنئے ریاست کے اس سے بھی اہم ستون ’’عدلیہ ‘‘ کی۔ ہندوستان کی عدلیہ کی آزادی ، اِنصاف پسندی اور سیکولر چھاپ کا پوری دنیا میں شہرہ ہے لیکن گزشتہ پانچ سال مودی سرکار کے دوران اس کا یہ حال رہا ہے کہ یہ پورا عرصہ اس عدلیہ میں پاکستانی قیدیوں کی سماعت نہیں ہوئی۔ حتی کہ ان قیدیوں کی اپیلوں کو بھی سماعت کے لئے منظور نہیں کیا گیا جن کی رہائی کے آرڈر اسی عدلیہ نے کئی سالوں پہلے جاری کر د یئے تھے لیکن حکومت نے ان آرڈرز پر عمل نہیں کیا اور وہ قیدی رہا نہیں کئے گئے۔ان پانچ سالوں میں ان قیدیوں نے کئی بار عدلیہ کے دروازے پر دستک دی کہ عدلیہ نہ صرف یہ کہ انہیں انصاف فراہم کرے بلکہ اپنے سپر میسی کے بھرم کا بھی کچھ پاس کرے لیکن ان کی شنوائی نہ ہو سکی۔ اس قدر خوف ، دہشت اور اِسلام دشمنی کی فضا قائم کر دی گئی کہ وکلا ایسے قیدیوں کے کیس لینے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ راقم کا چونکہ خود ایسے شعبے سے عملی تعلق ہے جو ہندوستان میں قید پاکستانیوں کی رہائی کے لئے عملی اِقدامات کرتا ہے لہٰذا یہ تجزیہ صرف سنی سنائی پر مبنی نہیں ہے بلکہ پورے پانچ سال سے ہمیں اس عملی تجربے سے گذرنا پڑا ہے۔ ہمارے قیدیوں کے کیس لڑنے والے وکلا پینل کے سربراہ ایک ہندو وکیل ہیں جو عملی سیاست سے بھی وابستہ ہیں اور کئی بار وہاں پارلیمنٹ کے ممبر بھی رہ چکے ہیں پچھلے تقریباً چار سال سے فون پر بات کرنے سے گریزاں رہتے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ہندوستان میں اس وقت یہ ماحول ہے کہ جو وکیل بھی آپ کے قیدیوں کا مقدمہ لے کر عدالت میں پیش ہو جائے شام کو اس کے چیمبر پر حملہ ہو جاتا ہے، اس کے گھر والوں کو ہراساں کیا جائے گا اور کئی وکلا بری طرح تشدد کا نشانہ بنائے گئے۔ اسی طرح جن ججز نے ایسے قیدیوں کے حق میں کوئی فیصلہ سنایا یا انہیںکسی طرح کا ریلیف فراہم کیا ان سے بھی مار پیٹ کی گئی اور انہیں ہراساں کیا گیا اس لئے اب عدلیہ میں ایسے کسی معاملے کو شنوائی کے لئے ہی قبول نہیں کیا جاتا۔ عدلیہ پر ان حالات کے اثرات کا اندازہ آپ بابری مسجد والے کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے سے بخوبی لگا سکتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب پوری ہندوستانی قوم کی نگاہیں سپریم کورٹ پر مرکوز تھیں اس نے ایک ایسا فیصلہ دیا جسے فیصلہ کہنا بھی اس لفظ کی توہین ہے۔ تاریخی اور حاضر شواہد کی بنیاد پر چونکہ سپریم کورٹ کے لیئے مسلمانوں کے خلاف فیصلہ صادر کرنا ممکن نہیں تھا اور منصفانہ مبنی برحق کے نتائج سہنے کا تحمل بھی عدلیہ میں نہیں تھا تو اس نے یہ مضحکہ خیز فیصلہ صادر کر دیا کہ ایک مصالحتی کمیٹی سال کے اندر اندر اس مسئلے کو فریقین کی رضامندی سے حل کرے۔ فریقین میں سے ایک اس وقت مکمل طاقت کے ساتھ اِقتدار میں ہے اور ملک پر اس کا سکہ چل رہا ہے جبکہ دوسرا اس وقت اپنی کمزوری کی بدترین سطح پر ہے۔ ایسے میں مصالحت کیا ہوگی؟ پھر کمیٹی میں ایک ایسے متنازعہ اور جانبدار شخص کا تقرر جو پہلے ہی ظالم فریق کے حق میں فیصلہ سنا کر مظلوم کو حق سے دستبردار ہونے کا مشورہ دے چکا ہو کورٹ کی نیت کو مکمل طور پر واضح کر رہا ہے۔ گویا سپریم کورٹ جو فیصلہ اپنے عدل کا بھرم رکھنے کے لئے کھلے اَلفاظ میں نہیں سنا سکی وہ اس اَنداز میں صادر کر دیا۔ یہ حالت ہے ہندو بھارت کی عدلیہ کی۔ اس دورِ حکومت میں جیلوں میں تشدد سے جاں بحق ہونے والے مسلمان قیدیوں کی تعداد کسی بھی حکومت سے زیادہ رہی۔ پولیس اور انتظامیہ پورے ملک میں بلوائیوں کا پہلے بھی ساتھ دینے میں مشہور تھی اب تو یہ مثل بن چکی ہے کہ ہندوستان کی پولیس اور سی آر پی ایف آر ایس ایس کی ذیلی تنظیموں اور شاخوں کے سوا کچھ نہیں۔ جو کام آر ایس ایس کے غنڈے اپنی خاکی وردی میں کرتے ہیں وہی کام سکیورٹی ادارے اپنی خاکی وردی میں سر اَنجام دے رہے ہیں۔ اور ہاں عدلیہ کے کردار کے سلسلے میں ہندوستان کی طرف سے پاکستانی حکومت کے خیر سگالی اِقدامات ، قیدیوں کی غیر مشروط رہائی، مودی کے ایک پیغام پر غیر معمولی اُچھل کود اور کپڑوں سے باہر نکل کر پذیرائی کے جواب میں سمجھوتہ ایکسپریس والے فیصلے کی صورت رسید کیا جانے والا تھپڑ کس طرح فراموش کیا جا سکتا ہے۔ جس وقت ہمارے حکمران مودی کے ایک منافقانہ پیغام پر ناچ ناچ کر بے حال ہو رہے تھے اور اس کی خوشنودی کے لئے مزید اِقدامات سوچ رہے تھے اُس وقت ہندوستان کی ہندوتوا زدہ عدلیہ اڑتالیس بے گناہ پاکستانی مسافروں کے سفاک قاتلوں کو بریت اور بے گناہی کے پروانے تھما رہی تھی۔ یہ قاتل صرف ملزم نہیں، اِعترافی مجرم تھے، ان پر ان کے ملک میں آزاد ٹرائل کے ذریعے جرم ثابت ہوا تھا اور انہیں سزا سنائی گئی تھی۔ لیکن آگے کی کہانی بی بی سی یہ بیان کر رہی ہے کہ اس دورِ حکومت میں وہ گواہ غائب ہو گئے یا منحرف ہو گئے۔ پاکستانی مسافروں میں جو گواہ تھے ان کی عدلیہ تک رسائی روکنے کے لئے ان کے لئے ویزوں پر بندش عائد کر دی گئی اور بالآخر ٹیکنیکل فالٹ کی بنیاد پر یہ فیصلہ صادر کر دیا گیا۔ اس سے پہلے گودھرا سانحہ کے کیس میں بالکل یہی واردات کی جا چکی ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ اس سب کے باوجود نہ تو ہمارے حکمرانوں کی ہندوستان کے بارے میں غلط فہمی دور ہوتی ہے نہ ہندوستانی مسلمانوں کا انڈیا کے نام نہاد سیکولر ازم اور آئین پر ایمان متزلزل ہوتا ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ اسی آئین، اسی عدلیہ اور اسی سیکولر ازم کی موجودگی میں صرف بی جے پی کے نہیں ہر دور حکومت میں سینکڑوں ایسے چشم کشا واقعات پیش آچکے ہیں۔ بدترین قتل عام ، جلاؤ گھیراؤ ، معاشی نا انصافی، سماجی عدم مساوات اور ہر معاملے میں تیسرے درجے کے شہری کا سلوک لیکن وہ پھر بھی اسی پر مصر ہیں کہ یہ نظام انہیں جان مال عزت کا تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ ہندوستان کے مسلمان عام حالات میں تو ہندوؤں والی دیش بھکتی کا شکار ہو کر پاکستان اور مجاہدین کے بارے میں وہی زبان بولنے لگتے ہیں جو ہندو بولتے ہیں لیکن تاریخ شاہد ہے کہ جب ہندوؤں کے ہاتھوں ستائے جاتے ہیں تو خفیہ خطوط بھیج کر انہی مجاہدین سے اِمداد کے طالب ہوتے ہیں۔ گجرات اور مظفر نگر کے قتل عام کے وقت یہ منظر ہم نے بہت دیکھا۔ آر ایس ایس اپنی سیاسی قوت بی جے پی کو اقتدار میں لا کر ہندوستانی معاشرے کو اس سطح پر لے آئی ہے کہ اگلے کچھ عرصے میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ سٹیج پر کھڑے ہو کر ہندوؤں کی زبان میں مجاہدین کو گالیاں دینے اور اسلام کی تشریحات کو بدلنے والے مسلم ہندی لیڈروں کو شاید مجاہدین کو خطوط بھیجنے پڑیں اور اپنے ان الفاظ پر رسوائی اُٹھانا پڑے۔ ہندو ازم نے اپنے چہرے پر کسا ہوا سیکولر ازم اور اَہنسا کا نقاب نوچ پھینکا ہے۔ اس کا اصل چہرہ مودی، یوگی ، میڈیا ، عدلیہ ،گاؤ رکھشا اور ایسے دیگر ناموں سے گلی گلی نکلے بدمعاش جتھوں کی صورت میں سامنے آ گیا ہے۔ اس طوفان کو اگر کوئی چیز روک سکتی ہے تو وہ صرف اور صرف اسلام کا حقیقی چہرہ ہے۔ بدر والا، احد و احزاب والا، شاملی والا چہرہ نہ کہ بتکلف بنایا جانے والا مزاحمت سے عاری چہرہ۔ یاد رکھئے! آپ اسلام کے اصل چہرے کو مسکراہٹوں ، دانتوں کی نمائش ، بین المذاہب مکالموں اور سیکولرازم کے فریب اور ترکِ مزاحمت کے بناوٹی نقاب تلے کتنا بھی چھپا لیجئے آپ کا دشمن اسلام کے حقیقی چہرے کو خوب اچھی طرح پہنچاتا ہے اس لئے آپ کے یہ خود ساختہ نقاب آپ کو نہیں بچا سکیں گے۔ آپ کے ساتھ ان کا سلوک وہی ہو گا جو وہ حقیقی مسلمانوں کے ساتھ روا رکھنے کا خواب دیکھتے ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor