Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

وعید…تسلی (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 692 (Talha-us-Saif) - Waeed tasalli

وعید…تسلی

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 692)

قرآن مجید میں دو جگہ ایک جملہ آیاہے:

’’یَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَیْرَکُمْ ‘‘

دونوں جگہ یہ جملہ کچھ لوگوں کے لئے دھمکی اور وعید کا مضمون لئے ہوئے ہے اور کچھ لوگوں کے لئے تسلی اور دلجوئی کا۔

مخاطب دونوں جگہ ایک ہی کام سے جڑے ہوئے لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے والے۔ قرآن مجید میں جہاد کا تقاضا جان سے بھی ہے اور مال سے بھی۔ اور دونوں کے لئے بڑے اونچے فضائل اور بڑی عظیم نعمتوں کا وعدہ ہے۔ فضائل کے اَبواب میں چلے جائیں تو جس قدر اَحادیثِ صحیحہ ان دونوں کاموں کی فضیلت پر وارِد ہیں شاید کسی اور عمل کے باب میں نہ ملیں۔ اللہ تعالیٰ نے جان و مال کی قربانی پیش کرنے والوں کو ہر جگہ محبت سے یاد فرمایا اور تعریف و مدح کے پیرائے میں ان کا ذکر ہوا۔ لیکن ان دو جگہ مضمون کچھ مختلف ہے۔

پہلا مقام ہے سورۃ التوبہ کا اور سورت میں یہاں سے آغاز ہو رہا ہے غزوہ تبوک کے واقعے کا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خطاب فرمایا کہ تمہیں کیا ہو گیا جب تمہیں اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک سفر کا حکم دیا جا رہا ہے تو ایسی کیفیت بعض لوگوں پر طاری ہے گویا ان کے قدم زمین میں گڑے جا رہے ہیں۔ ان لوگوں سے خطاب ہے جو بدر سے حنین تک ایک ایک امتحان سے گذر آئے۔ انہوں نے احد میں شدید پریشانی کا منظر بھی دیکھا اور اَحزاب کے ہولناک خوف اور قحط کو بھی سہا۔ انہوں نے حدیبیہ میں موت پر بیعت کی جانثاری بھی دکھائی اور مکہ کو بھی شرک و کفر سے پاک کیا۔ وہ حنین  کے معرکے سے بھی گذرے اور انہوں نے طائف کی گھاٹیاں بھی عبور کیں لیکن یہ عشق کا سخت ترین امتحان آیا اور جہاد کی جُہد اپنے عروج کو پہنچی۔ طویل اور مشکل سفر، شدید گرمی کا موسم، سخت اور کثیر تعداد دشمن سے مقابلہ، پھلوں کے پکنے کا مہینہ اور مستقبل کے خدشات اور سب سے بڑھ کر نفیر عام کا حکم۔ اتنی مشکلات اس سے پہلے کسی موقع پر جمع نہ ہوئی تھیں۔ اس لئے کچھ رکاوٹ پیش آئی تو اگلی آیات میں کن الفاظ سے خطاب و عتاب آیا۔

’’ اگر تم نہ نکلو گے، اللہ تمہیں دردناک عذاب دے گا اور تمہاری جگہ دوسری قوم کو لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ ( التوبہ ۳۹)

وعید ہے ان لوگوں کے لئے جن پر کبھی اللہ تعالیٰ کا کرم و انعام ہوا ہو، اور اللہ تعالیٰ نے اپنی نظر رحمت سے ان کا انتخاب ان لوگوں میں فرما لیا ہو جن سے وہ جان کا سودا قبول فرماتے ہیں۔ انہیں توفیق بخشی گئی ہو کہ وہ عزم و ایمان کے میدانوں میں نکلیں اور اپنی جانبازی اور جانثاری کے جوہر دِکھا کر مالک و محبوب کو راضی کریں۔ لیکن پھر اس راہ میں کوئی سخت مشکل آ گئی  اور محبت کا کوئی ایسا کٹھن امتحا ن آ گیا کہ وہ قدم آگے نہ بڑھا سکے۔ ان کے قدم زمین نے جکڑ لئے۔ کسی خوف یا لالچ نے ان کی پیش قدمی روک دی اور وہ اُلٹے قدموں پھر گئے۔ ان سے کہہ دیا گیا کہ ان کا یہ فیصلہ بس ان کی اپنی ذات کی محرومی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں دور کر کے ان کی جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے گااور یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مہر کر دئے جائیں گے۔ انہیں اس میدان کی طرف آنے کہ اجازت نہ ملے گی۔ اس لئے ہوشیار رہے اورثابت قدم رہے ہر وہ شخص جسے ایک بار اس راہ میں چن لیا گیا کہ یہاں واپسی کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ ’’سبیل اللہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے ، اس پر چلتے رہنا اور چلتے چلتے دنیا سے چلے جانا ہی اصل منزل ہے اور اصل مراد۔ ہٹنے والا اگرچہ کبھی یہ سوچ کر ہٹے گا کہ وہ عارضی طور پر ہٹ رہا ہے، واپسی کے پختہ ارادے کے ساتھ ہٹ رہا ہے لیکن اس کی واپسی کا دروازہ بند کر دیا جائے گا۔ دیکھئے میزبانِ رسول ﷺ حضرت سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کیا بتا رہے ہیں:

’’ اللہ تعالیٰ نے جب اسلام کو عزت دے دی اور مسلمانوں کی تعداد بڑھ گئی تو ہم انصار نے باہم مشورہ کیا کہ جب سے نبی کریم ﷺ تشریف لائے ہیں ہم ان کی نصرت کی خاطر مسلسل جہاد کے سفر میں رہتے ہیں۔ اس وجہ سے ایک زمانہ ہو گیا ہم نہ اپنے باغات کی دیکھ بھال کر پائے نہ زمینوں کی۔ اب مسلمانوں کی تعداد کا فی ہو گئی ہے اور ہمارے ہمیشہ نکلنے کی ضرورت نہیں رہی۔ ہم اگر نبی کریم ﷺ سے جا کر  صورتحال عرض کریں اور کچھ عرصہ جہاد سے رخصت لے لیں تو بہتر ہو گا۔ ہم اتفاق کر کے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو ہمارے ارادے پر مطلع فرما دیا، آپ ﷺ نے ہمارے سامنے قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت فرمائی۔

’’ اور اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو‘‘

یعنی ہمارا جہاد سے عارضی رُخصت چاہنا اور کھیتی باڑی میں مشغول ہونا ہی ہمارے لیے ہلاکت تھا ‘‘…

اور اسی مضمون میں اس وعید کے ساتھ تسلی ہے اہل جہاد کے لئے کہ مشکلات، مصائب اور امتحانات کے وقت کسی کے چھوڑ جانے اور راستہ بدل جانے سے پریشان نہ ہوں۔وساوس و اوہام کا شکار نہ ہوں۔ قلت کا خوف دل میں نہ لائیں۔ اللہ تعالیٰ نے خود ذمہ اُٹھایا ہے کہ وہ جانے والوں کی جگہ دوسروں کو لائے گا۔ وہ آ کر عَلَم تھام لیںگے اور صف آراء ہو جائیں گے۔ وعدہ بھی ہے اور مشاہدہ بھی کہ جانے والے کے بعد ہمیشہ اس سے بہتر ہی آتاہے کمتر نہیں ۔

دوسری بار یہ جملہ سورۃ محمد کی آخری آیت میں آیا۔

ترجمہ :خبردار تم وہ لوگ ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو بلائے جاتے ہو تو کوئی تم میں سے وہ ہے جو بخل کرتا ہے اورجو بخل کرتا ہے سو وہ اپنی ہی ذات سے بخل کرتا ہے اور اللہ بے پرواہ ہے اور تم ہی محتاج ہو اور اگر تم نہ مانو گے تو وہ اور قوم سوائے تمہارے بدل دے گا پھر وہ تمہاری طرح نہ ہوں گے ‘‘(سورۃمحمد: 38۔ ترجمۂ حضرت لاہوریؒ )

پوری سورت کا مضمون قتال فی سبیل اللہ ہے۔ اس لئے کا اس کا دوسرا نام ہی سورۃ القتال ہے۔ آخری آیت میں قتال میں مال خرچ کرنے کا حکم اس انداز میں ہے کہ یہ مال خرچ کرنا نہ اللہ تعالیٰ کی ضرورت ہے نہ اس کے دین کی۔ وہ تو غنی ہیں زمین و آسمان کے خزانوں کے مالک۔ بس یہ ان کی طرف سے امتحان اور کامیابی کا نصاب ہے کہ کون ان کی خاطر مال خرچ کر کے ایسی اعلیٰ درجے کی نیکی کو اختیار کرتا ہے جس کا پیمانۂ وزن ہی اللہ تعالیٰ نے دیگر تمام اعمال سے جدا کر کے مقرر فرمایا ہے۔ یہ سب سن کر سمجھ کر بھی جو اس نیکی کو اختیار نہ کرے گا یااختیار کرنے کے بعد کسی خوف، وسوسے اور پراپیگنڈے کی وجہ سے چھوڑ دے گا اسے وعید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر محرومی کی مہر کر کے اس کی جگہ کسی دوسرے فرد اور قوم کو اس کام کی توفیق مرحمت فرما دے گا اور پھر وہ ان جیسے نہ ہوں گے بلکہ اس نیکی کی قیمت اور قدر کو جانیں گے ۔ اس کے بارے میں اللہ اوراُس کے رسولﷺ کے جو وعدے اور بشارتیں ہیں ان پر یقین دِل میں رکھیں گے، اس توفیق پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائیں گے اور خود کو اس عمل کا محتاج سمجھیں گے، نہ کہ اللہ کے دین اور جہاد کو اپنا محتاج باور کریں۔

ان لوگوں کے لئے وعید کے ساتھ ساتھ یہ اہل جہاد کے لئے تسلی بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نصرت کے لئے خود اقوام و افراد کو منتخب فرمائیں گے، فرماتے رہیں گے اور ہر جانے، کٹنے والے کی جگہ نئے اور ان سے بہتر لوگوں کولاتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کی راہ میں نہ کوئی قانون حائل ہوسکتا ہے، اور نہ کوئی قوت۔ نہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر پر کسی کی تدبیر غالب آ سکتی ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو پورا ہونے سے کوئی روک سکتا ہے۔ نہ اللہ تعالیٰ کی توفیق کا دروازہ کوئی بند کر سکتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی ترغیب پر کسی کا کوئی ڈراورخوف اَثر انداز ہو سکتا ہے۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ کون خوف کے ہاتھوں اپنے اوپر خیر کے اس بابِ عظیم کو بند کرتا ہے اور کون ایسے وقت اللہ تعالیٰ کی بات پر یقین کا ثبوت دے کر اپنے لئے خیرِ کثیر کا سامان کرتا ہے۔

یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے

یہ بڑے نصیب کی بات ہے

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor