Bismillah

660

۱۰تا۱۶محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۲۱تا۲۷ستمبر۲۰۱۸ء

جہاد میں شرکت (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 452 (Talha-us-Saif) - Jihad mein shirkat

جہاد میں شرکت

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 452)

ہم سب ’’رحمت‘‘ کے محتاج ہیں۔بہت زیادہ محتاج ہیں…

ہم سب مغفرت کے محتاج ہیں اور بہت زیادہ محتاج ہیں…

ہم سب کو حاجت ہے کہ ہمیں ایمان کامل و صادق نصیب ہو جائے۔یقیناً بہت زیادہ ہے…

تو آئیے کیوں نہ ایسا عمل کریں جو ان تینوں کے حصول کا یقینی ذریعہ ہے…

ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے اور اللہ کے لئے وطن چھوڑ گئے اور (کفار سے) جنگ کرتے رہے وہی اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ اوراللہ بخشنے والا (اور) رحمت کرنے والا ہے۔(سورۃ البقرۃ آیت ۲۱۸)

لیجیے! ’’رحمت‘‘ کا وعدہ آ گیا۔جو ’’جہاد‘‘ کا عمل کر لے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امیدوار ہو جائے۔

اور جسے ’’وہ‘‘ خود امید دلا رہے ہیں بھلا اسے نا امید کر سکتے ہیں؟…

ترجمہ:اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور اللہ کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی۔ یہی لوگ سچے مسلمان ہیں۔ ان کے لیے (اللہ کے ہاں) بخشش اور عزت کی روزی ہے ۔( سورۃ انفال آیت ۷۴)

لیجیے! ایمان کامل کی سند بھی،ایمان صادق کا وثیقہ بھی اور مغفرت بھی اور ساتھ ساتھ ’’رزق کریم‘‘ عزت والی روزی کا بونس بھی۔ اور کیا چاہیے؟…

ترجمہ: مومنو! میں تم کو ایسی تجارت بتاؤں جو تمہیں عذاب الیم سے نجات دے ،(وہ یہ کہ)اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لاؤ اوراللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو۔ اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے ،وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو باغہائے جنت میں جن میں نہریں بہہ رہی ہیں اور پاکیزہ مکانات میں جو بہشت ہائے جاودانی میں (تیار) ہیں داخل کرے گا۔ یہ بڑی کامیابی ہے ،(سورۃ الصف ۱۰۔۱۱۔۱۲۔۱۳)

لیجیے!’’عذاب الیم‘‘ سے نجات،گناہوں کی بخشش، جنت کا ٹکٹ،ہمیشہ کی سکونت کا پرمٹ۔ اور دنیا میں فتوحات کی بارش۔اب کیا باقی رہ گیا جسے پانے کی طلب ہو؟…

ایک عمل اور اتنے انعامات۔وہ بھی یقینی…

اب شیطان اور نفس سمجھا رہے ہوں گے کہ تم یہ عمل نہیں کر سکتے۔یہ تو مشکل عمل ہے اس لئے شرکت کا خیال چھوڑو جان چھڑانے کا بہانہ سوچو…

کیا خدانخواستہ ایسا خیال آ رہا ہے؟…

تو جناب کس نے کہہ دیا کہ شرکت مشکل ہے؟…

بہت آسان ہے صاحب! بہت آسان…

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:

’’جس نے کسی مجاہد کو سامان جہاد فراہم کیا اس نے بھی جہاد کیا‘‘…

محاذ گرم ہیں،مجاہد برسرپیکار ہیں،سامان آپ کو پتا ہی ہے…

بس فراہم کرنے کی ترتیب بنائیے اور جہاد میں شامل ہو جائیے…

کوئی ہینگ یا پھٹکڑی لگی؟…

مگر رنگ کتنا آیا؟…

ارے صاحب! سب سے جدا رنگ سب سے الگ شان…

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:

’’جس نے کسی مجاہد کے گھر والوں کی بھلائی کے ساتھ دیکھ بھال کی اس نے بھی جہاد کیا‘‘

آپ کو علم ہے کہ ’’الرحمت‘‘ والے آج کل آپ کے پاس آ رہے ہوں گے یہ شہداء کرام ،اسیران اسلام اور غازیان دین کے ہزاروں گھروں کی کفالت کر رہے ہیں۔ابھی ایک مہینہ ہی گزرا ہے،انہوں نے کروڑوں روپے کی گندم اور عشر کی رقم ان گھرانوں تک پہنچائی ہے۔اب رمضان اور عید کا خصوصی تعاون جا رہا ہے اور پھر پورا سال ماہانہ وظائف۔اس کے علاوہ ان اونچے گھرانوں میں علاج معالجہ اور دیگر ایمرجنسی حالات میں ہر طرح کا تعاون!یہ سلسلہ سالہا سال سے جاری ہے اور روز افزوں ہے۔

آپ اس کا حصہ بن جائیے تو آپ کی ’’جہاد‘‘ میں شرکت ہو گئی اور یہ وعدہ ہے نبی کریمﷺ کا۔

تو اب خود بتائیے! شرکت آسان ہوئی یا مشکل؟…

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ(راہ جہاد کے) ایک تیر کے بدلے میں تین لوگوں کو جنت میں داخل کریں گے:

(۱) تیر چلانے والا مجاہد (۲) جہاد کی نیت سے تیر بنانے والا (۳) مجاہد کو تیر پکڑانے والا۔‘‘

تو سوچیے! جو تیر خرید کر دے گا اسے کیا مقام ملے گا؟…

گولی تیر کا مقام رکھتی ہے اور گولی خرید کر دینا کونسا مشکل کام ہے؟…

اب بھی شرکت میں تأمل ہے؟…

اور ہاں! ایک بات اور ذہن نشین کر لیں:

’’جہاد‘‘ میں مال سے شرکت کرنا ایسا عظیم عمل ہے کہ اس کے اجر و ثواب کا پیمانہ ہی الگ مقرر کر دیا گیا ہے۔بنی آدم کی ہر نیکی کم از کم دس گنا بڑھائی جاتی ہے اور زیادہ کی حد نہیں۔مگر ’’جہاد‘‘ میں مال خرچ کرنے کی نیکی کم از کم سات سو گنا بڑھائی جاتی ہے اور زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں…

ترجمہ: جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں اگیں اور ہر ایک بالی میں سو سو دانے ہوں اوراللہ جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے۔ وہ بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے ۔(سورۃ البقرۃ آیت ۲۶۱)

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:

’’جس شخص نے جہاد میں مال خرچ کیا مگر خود گھر پر رہا اسے ہر درہم کے بدلے سات سو درہم کا ثواب ملے اور جو خود جنگ کے لئے نکلا اور اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے  مال خرچ کیا اسے ہر درہم کے بدلے سات لاکھ درہم کا ثواب ملے گا اور اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہتے ہیں اس کا ثواب بڑھا دیتے ہیں۔‘‘(ابن ماجہ)

صاحب روح المعانی علامہ آلوسیؒ فرماتے ہیں:

’’اجر کا اس قدر بڑھنا جہاد کے ساتھ خاص ہے یعنی جہاد میں خرچ کرنے پر اللہ تعالیٰ اس قدر اجر بڑھا دیتے ہیں جب کہ جہاد کے علاوہ دیگر کسی بھی راستے پر خرچ کرنے سے اجر اس قدر نہیں بڑھتا بلکہ ہر نیکی کا اجر دس گنا دیا جاتا ہے۔‘‘…

اب کیا خیال ہے؟…

آئیے! رمضان المبارک میں اس عظیم عمل میں شرکت کیجیے تاکہ اجر اور بھی بڑھ جائے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online