Bismillah

648

۳۰رمضان المبارک تا۶شوال ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۵تا۲۱ جون۲۰۱۸ء

مؤفَّق بندہ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 453 (Talha-us-Saif) - Muwaffaq Banda

مؤفَّق بندہ

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 453)

ہم کراچی میں پڑھتے تھے۔حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی قدس سرہ کے پاس ان کے ایک مرید کبھی کبھار آیا کرتے تھے۔چھوٹا قد،نحیف سا جسم،سادہ سی صورت ولباس مگر بلا کی پھرتی۔ادھیڑ عمر تھے مگر چھوٹے بچوں کی طرح بھاگتے دوڑتے آتے اور اسی طرح چلے جاتے،آہستہ چلنا انہیں آتا ہی نہیں تھا شاید۔حضرت کی طرف سے انہیں ایک خطاب ملا۔’’مؤفق‘‘ یعنی توفیق یافتہ بندہ۔

پھر ان سے شناسائی ہوئی،دوستی ہوئی اور تعلق محبت تک جا پہنچا۔وہ واقعی مؤفق تھے اور حقیقت میں بہت تیز۔

آہ! ابھی ایک گھنٹہ پہلے وہ موفق بندہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے نیکیوں کے خزانے تیزی سے سمیٹتا سمیٹتا دنیا سے رخصت ہوا

انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

ان للّٰہ ما اعطی ولہ ما اخذ وکل شیء عندہ باجل مسمی

’’بھائی حبیب‘‘ رخصت ہوئے۔’’جہاد‘‘ کا ایک باب بند ہوا اور عشق ومحبت و قربانی کی ایک عجیب داستان ختم ہوئی۔اگر کچھ ختم نہیں ہوا تو ان شاء اللہ وہ بھائی حبیب کے وہ صدقات جاریہ ہیں جو انہوں نے اپنی مختصر سی زندگی میں دنیا میں چھوڑے اور ان گنت چھوڑے اور بھائی حبیب کی یادیں ہیں جو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی۔

بھائی حبیب جماعت کے سلسلہ خیر کے تب سے رفیق تھے جب جماعت بنی بھی نہ تھی۔امیر المجاہدین حضرت مولنا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ تعالیٰ ہندوستان کی جیل میں تھے،رابطے کے تمام ذرائع مسدود تھے،محدود سی خط و کتابت تھی اس کے علاوہ کچھ نہ تھا۔تب اللہ تعالیٰ کے یہ مؤفق بندے میدان میں کودے۔اللہ تعالیٰ نے مال کی نعمت سے نوازہ تھا اور سخاوت کی صفت سے بھی۔ان کا ہاتھ کھلا اور دل کشادہ تھا۔وہ مال کمانا بھی خوب جانتے تھے اور اس مال سے ’’کمانا‘‘ بھی۔ایسا اللہ تعالیٰ کی توفیق سے بہت سے مالدار لوگ کرتے ہیں لیکن بھائی حبیب کے پاس ایک صفت اور بھی تھی جو اس طبقے میں ان کی امتیازی شان کہی جا سکتی ہے۔مالدار لوگ مال خرچ کرتے ہیں اور دین کے کاموں میں حصہ دار بنتے ہیں مگر ’’رسک‘‘ اور خطرہ مول لینے سے بہت پرہیز کرتے ہیں،دامن بچا کر رکھتے ہیں اور تحفظ کی گارنٹی حاصل کر کے ’’جہاد‘‘ میں شرکت کرتے ہیں۔بھائی حبیب خطرات میںکود پڑتے تھے اور دیوانہ وار کودتے تھے،وہ جب کسی کام کی ٹھان لیتے تو تحفظ اور سیکیورٹی کے ضابطوں سے ماورا ہو کر اسے کرتے تھے۔وہ تیشہ فرہاد لے کر اس وقت میدان میںکودے اور انہوں نے اپنے مال،اپنی لگن اور اپنی قربانی کے ذریعے پاکستان اور تہاڑ جیل کے درمیانی فاصلے کھود کر جوڑ دیے۔رابطے کا ایسا نظام کہ جیل میں لکھا جانے والا ہر لفظ چند منٹ میں پاکستان اور پاکستان سے لکھا جانے والا جواب چند لمحوں میں جیل کی دیواروں میں۔کتابیں آنے لگیں،سامان جانے لگا،مشاورتیں ہونے لگیں اور پلان بننے لگے اور یہ سب کرنے والے حبیب بھائی مزے سے اپنی مقدر شدہ دنیا بھی کماتے رہے،۔دنیا میں گھومتے پھرتے بھی رہے اور مزے بھی کرتے رہے۔ہندوستان کی جیلوں میں قید اسیروں تک کو خیر جب تک پہنچتی رہے گی بھائی حبیب کا نامہ اعمال ان شاء اللہ بھاری ہوتا رہے گا۔پھر جماعت بنی تو وہ سب سے پہلے شامل ہونے والوں میں سے ایک تھے۔وہ پوری صداقت اور جذبے کے ساتھ جماعت میں آئے اور پھر زندگی بھر ہر قیمت پر اپنے اس قیمتی تعلق کو نبھاتے رہے۔ان کی اسی امتیازی شان کے پیش نظر ان کا پہلا جہادی نام’’بھائی فرقان‘‘ مشہور ہوا۔وہ اپنے طبقے میں واقعی ’’فرقان ‘‘تھے۔

وہ مال کے باب میں کیسے مؤفق تھے؟ جماعت سے اللہ تعالیٰ نے خیر کے جتنے بھی کام کرائے ان کا ان تمام کاموں میں ابتدائی حصہ ہوتا،کوئی مہم کوئی بڑی کارروائی اور خدمت کا کوئی کام ایسا نہ ہوگا جس میں ان کا حصہ بالکل ابتداء میں ہی نہ ہو۔ساتھ ساتھ ان بڑے بڑے کاموں میں ان کا بھر پور ’’عملی‘‘ اور ’’جانی‘‘ حصہ بھی رہا جن کی تفاصیل اللہ تعالیٰ کے ہاں درج ہیں۔نہ ان کا پرچار ہو سکتا ہے اور نہ ان پر کہیں سے شاباش مل سکتی ہے۔انہوں نے اپنی اس دیوانگی اور قربانی کی عادت کے سبب تکالیف بھی بہت اٹھائیں ،ستائے گئے،ڈرائے دھمکائے گئے،اور قید کیے گئے۔لیکن ان کے پائے استقلال میںلرزش نہ آئی نہ ہی انہوں نے اپنی روش بدلی۔

وہ مشکلات کی ’’چابی‘‘ تھے۔جہاں سب کی تدبیر دم توڑ جاتی اور وسائل ختم ہو جاتے آگے کا کام اللہ تعالیٰ کی توفیق سے وہ کر دیا کرتے تھے۔اسی وجہ سے ایک بار انہیں  محبت سے کسی نے ’’دادا‘‘ کہہ دیا اور پھر ان کا یہ لقب ان کے نام سے زیادہ مشہور ہو گیا۔وہ جماعت میں اسی تعارف سے جانے اور پہچانے جاتے۔

’’دادا‘‘ جہاد کے شیدائی تھے۔مجاہدین کے محب صادق تھے۔وہ مجاہدین میں رہنا پسند کرتے۔بار بار مرکز آتے،بالا کوٹ جاتے اور اپنی سادہ مزاجی اور خوش طبعی کے ذریعے ساتھیوں میں گھل مل جاتے۔بہت جلد بے تکلف تعلقات بنا لیتے اور حلقہ جما لیتے۔حضرت امیر صاحب حفظہ اللہ کے عاشق زار تھے۔دونوں کے درمیان کیسا قلبی ربط اور تعلق تھا اس کی داستان تو حضرت امیر محترم ہی تحریر فرما سکتے ہیں۔مفتی عبد الرؤف اصغر صاحب کے ساتھ بے تکلفی کا قابل دید تعلق تھا۔اور کئی مجاہدین کے ساتھ دوستانہ اور محبانہ تعلقات رکھتے تھے۔آج جس جس نے بھی ان کے اچانک ارتحال کی خبر سنی ہے سکتے میں ہے اور ایصال ثواب میں مشغول ہے۔

’’دادا‘‘ حرمین شریفین کے عاشق تھے،بار بار حاضری کی توفیق ملتی تھی،خوب جاتے تھے اور وہاں خوب کماتے تھے،حرمین میں روزے کے ساتھ رہنا،کثرت سے طواف کرنا،روزانہ قرآن پاک کا ختم کرنا اور وہاں مساکین کی خدمت کرنا ان کا دائمی معمول تھا اور پھر حرمین سے ان کا یہ عشق ان کی ذات تک ہی محدود نہ تھا وہ اپنے متعلقین کو اپنے خرچ پر ساتھ لے جاتے،نہ جانے کتنے لوگ ہوں گے جن کے لئے انہوں نے یہ انتظام کیا،ان کا تو علاج کے لئے کسی طبیب سے بھی تعلق قائم ہو جاتا تو اسے بھی عمرہ کرا دیا کرتے تھے۔

’’دادا‘‘ جماعت کے دیوانے تھے۔جماعت کے ساتھ تعلق کی خاطر انہوں نے اپنے بہت پرانے اور پختہ تعلقات تک قربان کر ڈالے مگر ہر طرح کے حالات میں جماعت کے ساٹھ ڈٹ کر کھڑے رہے اور قربانیاں پیش کرتے رہے۔اس حوالے سے انہیں ایسے حالات سے گذرنا پڑا جو اچھوں اچھوں کا پتہ پانی کر دیں لیکن یہ حالات بھائی حبیب کے جماعت کے ساتھ والہانہ،محباہ اور ایک حد تک سرپرستانہ تعلق میں معمولی سے دراڑ بھی نہ ڈال سکے اور وہ تادم آخر جماعت کے سلسلہ خیر سے جڑے رہے۔جہاد کا اجر کماتے رہے اور مجاہدین کے زمرے میں رہے۔ذلک فضل اللّٰہ یوتیہ من یشائ۔

’’دادا‘‘ انفاق فی سبیل اللہ کے میدان میں تو ’’سباق‘‘ تھے۔جہادی کارروائیوں میں حصہ شامل کرنا،اپنے مال سے جہادی کتب ہزاروں کی تعداد میں تقسیم کرانا ان کا دائمی معمول تھا۔ان کے علاوہ جماعت میں جس  کام کی بھی آواز لگتی وہ سب سے پہلے اس پر لبیک کہا کرتے تھے اور بھر پور حصہ شامل کرتے۔یوں وہ ہر کام میں سبقت کا اجر پاتے۔

جماعتی امور سے ہٹ کر وہ خیر کے کن کن کاموں میں شامل ہوتے اس کا حال اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔انہیں ہمیشہ ’’الید العلیا‘‘ کی حالت میں ہی دیکھا۔وہ دیتے رہے اور اللہ تعالیٰ سے لیتے رہے۔ انہوں نے اپنی جان کو ہر خطرے میں ڈالا لیکن اتنی زندگی جی کر گئے جتنی ان کے لئے لکھ دی گئی تھی۔ہندوستان کے دشمنوں کی صف اول میں نام کے باوجود ان کی زندگی کا ایک سانس بھی کم نہ ہوا اور نہ  ہی ان کے دشمن ان کا بال بیکا کر سکے۔

انہوں نے اپنے مال سے ہر نیکی کی ،خوب خوب مال خرچ کیا مگر اس سے ان کی دولت کم نہ ہوئی۔وہ مالدار رہے اور مال ان کے پیچھے دوڑ دوڑ کر آتا رہا۔وہ اپنے طبقے کے لوگوں کے لئے ایک روشن مثال ہیں اگر کوئی روشنی حاصل کرے۔

’’دادا‘‘ جیسے خادم جہاد کا یوں اچانک اٹھ جانا سب کے لئے عظیم صدمہ ہے۔سب مغموم ہیں اور دل گرفتہ ہیں مگر یہ اللہ تعالیٰ کی قضاء ہے۔مالک کا فیصلہ ہے اس لئے سوائے یہ کہنے کے اور کوئی چارہ نہیں: انا للہ وانا الیہ راجعون

اللہ تعالیٰ اپنے مؤفق بندے کی کامل مغفرت فرمائے۔ان کے صدقات جاریہ کو تا قیامت جاری رکھے اور ان کے تمام پسماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online