Bismillah

613

۲۲تا۲۸محرم الحرام۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۳تا۱۹اکتوبر۲۰۱۷ء

اصل بات (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 463 (Talha-us-Saif) - asal baat

اصل بات

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 463)

میں آپ کو صرف 10منٹ کا الٹی میٹم دے رہا ہوں…

آپ اگر یہ کالم پڑھ رہے ہیں تو نہ پڑھیں،آدھا پڑھ چکے ہیں تو پورا نہ کریں اور پورا کر چکے ہیں تو اُگل دیں…

اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو 10 منٹ بعد

میں اگلے دس منٹ کا ٹائم دے دوں گا…

اور اس طرح میں پورا سال آپ کو ٹائم دیتا رہوں گا۔اس لئے آپ بے فکر رہیں اور میری کسی بات کو سنجیدہ نہ لیں…

امید ہے گزشتہ ایک ماہ سے اخبارات میں یہ کارروائی پڑھ پڑھ کر آپ ’’بھر‘‘ چکے ہو نگے…

لوگ کہتے ہیں ’’ڈیڈ لائن‘‘ عزت کا مسئلہ ہوتی ہے، اس لئے تبدیل نہیں کرنی چاہیے اور جو ڈیڈ لائن دینی چاہیے اس پر کچھ نہ کچھ ضرور کرنا چاہیے۔’’جناب‘‘ ایسا نہیں کرتے اس لئے ان پر تنقید کی جاتی ہے…

تو صاحبانِ ذی وقار!

جھنگ میں جو انگریزی اردو ڈکشنری قصبہ روڈو سلطان کے بک سٹالز پر بکتی تھی اور بڑی مستند تھی،سب سے بڑی دلیل اس کے مستند ہونے کی یہ ہے کہ اس کا دیباچہ جناب کے والد گرامی جناب ڈاکٹر…صاحب نے لکھا۔انہوں نے اور بھی کئی کتابیں لکھیں جن میں بیس سے زائد شعری دیوان تھے۔پانچ بھوری بھینس نے کھا لیے تھے،4پر کلینک میں علاج کے لئے جانے والے ایک بدتمیز کتے نے ایک ناقابل اشاعت حرکت کر کے انہیںقابل اِشاعت نہ چھوڑا۔بقیہ دوا وین کا مسودہ جس گدھے پر لاد کر پریس لے جایا جا رہا تھا وہ گدھا نہر میں اُتر گیا۔پہلے اس نے الٹی میٹم دیا کہ دس منٹ کے اندر اندر اس پر سے یہ ’’فضول بوجھ‘‘ اتارا جائے ورنہ…

اور پھر اس ’’گدھے‘‘ نے اپنے ہی الٹی میٹم پر عمل کر ڈالا کیونکہ اس نے وہ ڈکشنری نہیں پڑھی تھی جس کا ذکر ابھی معلّق ہے اور بات ’’صاحبِ دیوان شاعر‘‘ جناب کمپاؤنڈر…صاحب کی طرف چلی گئی ہے۔بہرحال بھینس،کتے،اور گدھے کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں وہ بیس دیوان بہہ گئے اور خلق خدا ان سے فیضیاب نہ ہو سکی۔یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ وہ بیس دیوان باری باری کیوں نہ چھپوا لیے گئے اکھٹے چھپوانے کے لئے کیوں رکھے گئے؟

ممکن ہے گنیز بک میں نام لکھوانا مطلوب ہو…

بہرحال آتے ہیں ڈکشنری کی طرف۔اس مستند لغت میں ’’ڈیڈ لائن‘‘ کا مطلب لکھا ہوا تھا ’’ مردہ لکیر‘‘

اب آپ خود سوچیے!

یہاں کسی کو زندوں کی فکر اور پرواہ نہیں اور لوگ ہیں کہ اس بات کو محل تنقید بنا رکھا ہے کہ ’’جناب‘‘ ایک مردار کی پرواہ نہیں کرتے۔یہ ناقدین بھی بس…

دوسری بات کہ ’’مردار لکیر‘‘عزت کا مسئلہ ہوتی ہے۔قانون کی اس شق کا موصوف پر اطلاق ہی نہیں ہوتا۔کیوں؟؟…آپ اس سطر کو دو تین بار پڑھیں وجہ خود سمجھ آ جائے گی۔

اور رہی تیسری بات کہ ڈیڈ لائن پر کچھ کرنا چاہیے تو سب سے بہتر کام جو اس موقع پر ہو سکتا ہے وہ اگلی ڈیڈ لائن دینا ہی ہے

بے کارِ معاش کچھ تو کیا کر

بخیے اُدھیڑ کر ، سیا کر

’’بخیے‘‘ لگانا، پھر اُدھیڑنا اور پھر لگانا انگریزی میں اس سے ڈیڈ لائن پر ڈیڈ لائن دینا ہی مراد ہوتا ہے…

اب آپ یہ نہ سوچیں کہ شیخل صاحب اپنی کسی بھی ڈیڈ لائن پر عمل نہیں کرتے۔آج رات واپسی کی ڈیڈ لائن دی جانے والی ہے امید ہے اس پر عمل وقت آنے سے پہلے ہی ہو جائے گا۔

آج کل مخالف ذہن رکھنے والے اخبارات و جرائد میں ان لوگوں پر بہت تنقید کی جا رہی ہے جنہوں نے ’’جناب‘‘ کے پسینہ آلود ٹشو پیپر حاصل کئے اور اس پر بڑے فخر کا اظہار بھی کیا۔تو صاحبو! فقہ کی کتب میں لکھا ہے کہ’’ ان‘‘ کا پسینہ پاک البتہ جھوٹا پانی ’’مشکوک فیہ‘‘ ہے۔اس لئے جن لوگوں نے پاک چیز لی ہے انہیں برا بھلا مت کہو۔انہیں اس کام کے پیسے ملتے ہیں اور آپ لوگ غریبوں کی روزی پر لات کیوں مارنا چاہتے ہیں۔

٭…٭…٭

پنجاب سے سیلاب گزر گیا۔

اور پنجاب کے حکمرانوں نے اس بار بھی لانگ بوٹوں کی نمائش بہت اچھے طریقے سے کی،اب وہ بوٹ سنبھال کر رکھ لئے گئے ہیں آئندہ سال کام آئیں گے۔

سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچاؤ کے لئے حکومت پنجاب نے ہنگامی طور پر ان اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

(۱) وزیر اعظم کی لئے بھی اسی رنگ اور قسم کے لانگ بوٹ سلائے جا رہے ہیں جو وزیر اعلی پہنتے ہیں۔آئندہ سال ان کا بھی ’’شوٹنگ‘‘ میں حصہ لینے کا ارادہ ہے،اس سے ریٹنگ اچھی آتی ہے۔

(۲) اس بار تقریباً ایک درجن مقامات پر ’’امدادی کیمپ‘‘ جعلی ثابت ہو گئے اور میڈیا پر بہت شور ہوا۔آئندہ سال کے لئے پٹواریوں اور تحصیل داروں کو اس مسئلے سے نمٹنے کی خصوصی ٹریننگ ابھی سے دی جائے گی کہ کیمپ کا جعلی ہونا ثابت نہ ہو سکے۔

(۳) پنجاب میں پلوں اور میٹرو کی ہر شہر میں تعمیر کو جلد یقینی بنایا جائے۔حالیہ سیلاب میں لاہور میں تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ جو لوگ بارشوں اور سیلاب کے وقت میٹرو پر سوار تھے یا کسی پل پر تھے ان کا بالکل نقصان نہیں ہوا۔پلوں کے اردگرد کی بستیوں کا جو خصوصی کباڑا ہوا اس پر غور کے لئے کمیٹی بنا دی گئی ہے جو 2019؁ء میں رپورٹ پیش کرے گی۔

(۴) سلمان و مشہود کو پولٹری کی پیداوار بڑھانے کا خصوصی آرڈر جاری کر دیا گیا ہے کیونکہ وزیر اعلی کے حکمنامے کے مطابق چکن کڑاہی کو سیلاب زدگان کے کھانے کا مستقل حصہ بنا دیا گیا ہے۔اس سلسلے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔حکومت پنجاب اس کے لئے پولٹری صنعت کے لئے ’’خصوصی ‘‘فنڈز اور مراعات جاری کر رہی ہے۔مٹن کڑاہی کی شمولیت کا بھی اعلان کیا گیا تھا لیکن فی الحال اس کا نام خارج کر دیا گیا ہے کیونکہ ’’گوٹ فارمنگ‘‘ کی صنعت فی الحال خاندان سے باہر ہے۔ ’’حمزہ‘‘ اس کے امکانات کاجائزہ لے کر رپورٹ پیش کریں گے اور کام ’’جم‘‘ جانے کے بعد آئندہ کسی سیلاب پر اسے بھی مینیو کا حصہ بنا لیا جائے گا۔

(۵) سیلاب زدگان سے خطاب کے دوران مخالفانہ نعرے بازی اور ’’گو گو‘‘ کے نعروں کے واقعات تسلسل سے پیش آنے کے بعد آئندہ اس امر کو یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے کہ آئندہ کوئی بھی حقیقی سیلاب زدہ ایسی تقریبات میں نہ آنے پائیں۔

(۶) سیلاب سے زمینوں کے نشانات اور حدود مٹ جانے سے پٹواریوں کے لئے ’’کام ‘‘ کافی نکل آتا ہے۔اس سلسلے میں انہیں خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں اور ان پر ان علاقوں میں عمل درآمد بھی شروع ہو چکا ہے۔پنجاب حکومت کو اس سے کافی آمدنی متوقع ہے جو سیلاب زدگان کے لئے برائلر خریدنے پر خرچ کی جائے گی۔

وفاقی حکومت نے بھی سیلاب کو کافی سنجیدگی سے لیا ہے۔وزیر اعظم نے سیلاب پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا ہے کہ اتنی شدت کے باوجود وہ دھرنے ختم کروانے میں ناکام رہا اور ان کے استعفیٰ کا معاملہ تاحال جوں کا توں ہے۔اسی طرح انہوں نے سیلاب زدگان کی امداد میں ہونے والی بے قاعدگیوں خصوصاً حکومت مخالف نعرے بازی کا شدید نوٹس لیا ہے اور آئندہ اس کی روک تھام کے لئے سخت آرڈر جاری کئے ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے بلا اطلاع پانی چھوڑنے پر ہندوستان سے بھی شدید احتجاج کیا ہے ۔ہندوستان کی اس حرکت کی وجہ سے ان کی حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔وہ ہمیشہ پلا ننگ کے ساتھ اپنے علاقے بچانے اور غریبوں کو ڈبونے کی تیاری نہیں کر سکی اور اس بار گندم کے ساتھ گھن بھی پس گیا۔انہوں نے مودی سے کہا ہے کہ وہ آئندہ جب ہندوستان آئے، پیدل ’’لکشمی متل‘‘ کے گھر جا کر اس کی شکایت لگائیں گے۔سنا ہے مودی اس دھمکی پر تھر تھر کانپ اُٹھا ہے اور اس نے ڈیموں کے منہ فوراً بند کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

٭…٭…٭

نواز حکومت قائم ہوئے چند ہی ماہ گذرے تھے کہ پاکستان کے سب سے محترم’’ کارٹون‘‘ نے لکھا کہ میاں صاحب ہنسنے مسکرانے والے بندے تھے اور ان کی مسکراہٹ کالم نویس کے دل کو شاد کرتی تھی۔عوامی مسائل کے بوجھ اور ملکی حالات کی تلخیوں نے اس روئے زیبا سے وہ مسکراہٹ چھین کر سنجیدگی طاری کر دی ہے۔اس امر پر بہت افسوس کا اظہار کیا گیا۔ میں صاحب نے اس درخواست پر توجہ کی اور سنجیدگی کا ڈرامہ ختم کرکے ہنسنے مسکرانے لگے۔ انڈیاکی طرف سے غیرمتوقع دعوت،وہاں کا دورہ،دورے میں ملنے والا پروٹوکول،کاروبای طبقے سے خفیہ ملاقاتیں،اوبامہ سے شرف ملاقات،چین کا دورہ اور وہاں کاروباری معاملات میں حیران کن ترقی ان عوامل نے بھی طبیعت پر اچھا اثراڈالا اور طبیعت کچھ بحال ہوتی نظر آئی لیکن اچانک…

دھرنے سے سب دھڑن تختہ کر دیا۔وہ تو خیر ہو زرداری صاحب کی کہ بتیسی کی نمائش کرتے ہوئے آئے اور میاں صاحب کو کچھ تسلی دے گئے،ان کی پارٹی بھی ساتھ آن کھڑی ہوئی۔ورنہ ان کے آنے سے پہلے تو ایسا لگتا تھا کہ میاں صاحب یوم پیدائش سے آج تک کبھی نہیں مسکرائے۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ختم ہو گیا ہے اور دھرنے ختم نہیں ہوئے۔اب پھر میاں کی حالت پھر پہلے والی ہوتی جا رہی ہے اور مجھے پھر اسی طرح کے کسی کالم کا انتظار ہے۔

کیا وہ محترم کالم نگار اور ان کے جیسے دیگر حضرات جو بادشاہ سلامت کو مسکراہٹ بھرے چہرے سے دیکھنے کے آرزو مند ہیں بتا سکتے ہیں کہ کشمیری ماؤں کے جوان لخت جگر شہداء کرام کے خون کا سودا کرنے اور ایک سال میں اپنے ملک کے پسے ہوئے غربت کے مارے عوام کے لئے بجلی کے بل دوگنے کر کے دن رات بددعائیں سمیٹنے والے چہرے پر مسکراہٹ سجی رہ سکتی ہے؟ کیا قدرت کے انتقام اور پکڑ سے لوگ اس قدر غافل ہو چکے ہیں؟

پرویز مشرف نے مسلمان اہل ایمان بچیوں پر ظلم کیا پھر نہ مسکرا سکا۔

وزیرستان کی وہ لاکھوں مائیں،بہنیں،بیٹیاں جن کے ننگے سر سورج نے بھی کبھی نہ دیکھے ہوں گے انہیں رمضان المبارک کے مہینے میں روزے کی حالت میں سخت گرمی میں بلکتے بچوں کے ساتھ سڑکوں پر لا بٹھانے والا نواز شریف مسکرا سکتا ہے تو مسکرا کر دکھائے…

’’کیا لوگ اللہ تعالیٰ کی تدبیر اور پکڑ سے غافل ہو گئے؟

اللہ کی تدبیر سے تو صرف خسارے میں پڑنے والے ہی غافل ہوتے ہیں‘‘ (الاعراف)

عمران خان کچھ نہیں اور نہ ہی اس کا ڈانسر طبقہ۔کسی کو تو مکافات عمل کی تصویر بننا ہی تھا تو یہ سہی…

عفت مآب اہل ایمان عورتیں جھولی پھیلا دیں تو یہی ہوا کرتا ہے لیکن اصل بات سوچتا کون ہے؟…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online