Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مؤقر شہادت۔۱ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 432 - Muaqar Shahadat-1

مؤقر شہادت (۱)

السلام علیکم..طلحہ السیف (کشمیر 432)

غدار ملت پرویز مشرف کا منحوس دور،ہمارے ملک و قوم کے لئے بڑی بڑی تبدیلیاں لے کر آیا تھا۔
کئی ایسے معاملات جو ہمارے ہاں حساس شمار ہوتے تھے اور قومی غیرت کا مسئلہ سمجھے جاتے تھے ان پر قومی پالیسی ہی یکسر تبدیل ہونے لگی اور قوم اپنے پرانے موقف سے یوٹرن لیتی نظر آئی۔ان معاملات میں سر فہرست ’’کشمیر‘‘ کا معاملہ ہے۔کشمیر میں جاری تحریک آزادی اور جہاد ہمارے ہاں غیر متنازعہ ترین مسائل میں سے تھے۔تقریباً ایک موقف کے ساتھ پوری قوم اس حوالے سے یکسو تھی۔لوگوں کے اذہان میں کسی قسم کا کوئی اشتباہ نہیں تھا،کسی سطح پر اس بارے میں کوئی بڑا اختلاف نہیں تھا۔اس تحریک کو ایک مقدس جہاد مانا جاتا تھا۔اس میں حصہ لینے والے لوگوں کو معاشرے میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا،ان تنظیموں کے بارے میں تقریباً ہر شخص نیک خیالات رکھتا تھا جو جہاد کشمیر میں  عملی طور پر برسرپیکار تھیں۔سرکاری سطح پر بھی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہمیشہ سخت موقف کا اظہار کیا جاتا تھا۔فوج میں بھی اس حوالے سے کوئی دو رائے نہیں تھیں۔صحافت بھی اس موقف کے ساتھ متفق تھی اور اہل علم کا موقف بھی اس باب میں یہی تھا۔


لیکن پرویز مشرف نے جونہی ایک سوچی سمجھی پالیسی کے تحت ہندوستان کے ساتھ’’غلامانہ‘‘ روابط کا سلسلہ شروع کیا ہر طرف بدلاؤ نظر آنے لگا۔سب سے پہلا وار ان تنظیموں کو ’’کالعدم‘‘ اور ’’دہشت گرد‘‘ قرار دے کر کیا گیا جو جہاد کشمیر میں سرگرم تھیں۔ ان پر پابندی لگائی گئی،گرفتاریاں کی گئیں، کارکنوں کو ڈرایا دھمکایا گیا۔ان جماعتوں کی دعوتی سرگرمیوں پر قدغن لگا دی گئی۔اس کے بعد میڈیا کو استعمال کر کے ان لوگوں کی کردار کشی ایک منظم مہم کی صورت میں کئی گئی جو اس حوالے سے قوم کو ایک موقف پر جوڑے ہوئے تھے۔اگلا وار یہ کیا گیا کہ سرکاری سرپرستی میں’’جہاد‘‘ کے معنی اور مفہوم کو بدلنے کی مہم چلائی گئی،برساتی مینڈکوں کی طرح ایسے دانشور ہر کونے کھدرے سے نکل آئے جنہوں نے کورس میں یہ راگ الاپنا شروع کر دیا کہ ’’جہاد‘‘ کا معنی لڑائی نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ۔انہیں ٹی وی چینل مہیا کیے گئے، سرکاری فنڈ دیے گئے اور ہر طرح سے اپنا نظریہ پھیلانے کا کھلا موقع فراہم کیا گیا۔خود پرویز مشرف اپنی تقریروں میں یہی بات کہتا تھا اور پھر دن رات اس کے چھوڑے ہوئے اسکالر اسی بات کو دہرا دہرا کر عوام کے ذہنوں میں بٹھاتے رہتے۔ساتھ ساتھ اس بات کا مکمل التزام کیا جاتا رہا کہ ’’کتے آزاد رہیں اور پتھر پابند‘‘ ایسی کوئی زبان یا قلم آزاد نہ ہو جو اس باطل مہم کو توڑ کر سکے اور حقیقی اسلامی موقف سے لوگوں کو آگاہ کر سکے۔اس کے علاوہ اس نے ہندوستان کو لائن آف کنٹرول پر غیر قانونی باڑ لگانے کی نہ صرف کھلی چھوٹ دے دی بلکہ اس باڑ کو ہر طرح کا تحفظ فراہم کرنے کی بھی ذمہ داری اٹھالی۔مجاہدین کے لئے سخت انتظامات کئے گئے کہ باڑ کے قریب بھی پھٹکنے نہ پائیں۔اسی طرح کشمیر میں موجود مجاہدین کی سپلائی لائن مکمل طور پر کاٹ دی گئی اور انہیں ہر طرح سے بے دست و پا کر کے بھارتی افواج کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔یوں اس نے اندر اس تحریک کی جڑ کاٹ دی جس نے ایک طویل عرصے سے ہمارے بدترین دشمن کو الجھا کر ہمیں اس کے برے عزائم سے محفوظ رکھا تھا۔پھر بھارت سے دوستی،اچھے تعلقات ،دائمی جنگ بندی جیسے فارمولے متعارف کرائے اور ان کے حوالے سے قوم کو سبز باغ دکھا کر پرانی پالیسی اور سوچ سے انحراف کی راہ پر لگایا۔لوگ ہر اس شخص کو دشمن اور نقصان دہ گرادننے لگے جو ہندوستان کی اصلیت آشکار کرتا اور اس پالیسی کا غلط ہونا بتاتا۔اور ایک غلیظ وار اس نے یہ کیا کہ کشمیر کے وہ لیڈر جو ’’جہاد‘‘ مخالف تھے ان کو بار بار پاکستان بلوایا،سرکاری خرچ پر سیمینار کرنے کا موقع دیا اور میڈیا تک کھلی رسائی دی۔
انہوں نے اس بات کا خوب پرچار کیا کہ جہادی سوچ اور فکر نے تحریک آزادی کشمیر کو نقصان پہنچایا ہے۔کشمیر کے عوام جہادی سوچ کے حامل نہیں نہ وہ ہندوستان سے لڑائی کے قائل ہیں۔جہادی نظریہ کشمیر میں باہر سے امپورٹ کیا گیا ہے۔کشمیری عوام مجاہدین کے ساتھ نہیں۔مسئلہ کشمیر ایک دینی نہیں محض سیاسی مسئلہ ہے اور سیاسی طریقے سے حل ہو گا وغیرہ۔پرویز مشرف کے دور حکومت میں ان لیڈروں نے پاکستان کے جتنے چکر لگائے اس سے پہلے ہندوستان نے انہیں اتنی آزادی کے ساتھ آنے جانے کی اجازت کبھی نہیں دی تھی اور نہ ہی اس کا دور گذر جانے کے بعد وہ اتنی کثرت سے آئے گئے۔یہاں تک ہوا کہ5  فروری کا دن جو 1990سے مسلسل یوم یکجہتی کشمیر کے نام سے سرکاری طور پر منایا جاتا ہے۔پرویز مشرف نے ہندوستان کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے 2004میں اس کی تمام تقریبات معطل کر دیں اور یہ دن نہ منایا گیا۔
یہ وہ تمام اقدامات تھے جن کے ذریعے پرویز مشرف نے قوم کو اس متفقہ پالیسی سے گریز و انحراف کی راہ پر لگا دیا۔وہ خود تو آج اقتدار میں نہیں لیکن اس نے جو بری سوچ متعارف کرائی اور قوم کو اس کی طرف بلایا اس کے برے اثرات آج بھی ہر طرف پھیلے ہوئے نظر آتے ہیں۔آنے والی حکومتیں مسلسل اسی راہ پر گامزن ہیں اور اسی سوچ کو پروان چڑھا رہی ہیں۔کشمیر اور کشمیری عوام کو اسی طرح تنہا چھوڑا ہوا ہے۔جہاد کشمیر بلکہ مطلقاً جہاد کے بارے میں وہی نظریہ اور فکر پھیلائی جا رہی ہے، سرکاری پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں۔فوج اسی ڈگر پر چل رہی ہے جس پر پرویز مشرف نے اسے ڈالا۔باڑ کے بعد دیوار بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں،پانی کے حوالے سے ہندوستان کے غاصبانہ قبضے پر مجرمانہ خاموشی جاری و ساری ہے اور عوام کو کشمیر کے حوالے سے پرویز مشرف والا سبق ہی پڑھایا جا رہا ہے۔
کیا کشمیری اپنے دیرینہ مسئلہ کا حل سیاسی طور پر حاصل کرنے کے حامی ہیں؟
کیا کشمیری لوگ ’’جہاد‘‘ نہیں کر نا چاہتے، یہ سوچ ان پر زبردستی مسلط کی  گئی ہے؟
کیا کشمیری لوگ ’’جہاد‘‘ سے تھک چکے ہیں اور وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہتے ہیں؟
ان سوالات کے جوابات ہم سے زیادہ بہتر انداز میں کشمیری قوم کے نمائندے ہی دے سکتے ہیں اور انہوں نے دے دیا ہے۔ ہمیں پہلے ان سوالات کا سامنا نہیں تھا مگر پرویز مشرف کی محنت کی نحوست سے اب ہر سطح پر پوچھے جاتے ہیں۔گذشتہ سال دورہ تفسیر آیات جہاد کے دوران ایک عالم دین نے یہ اعتراض اٹھایا کہ ہماری معلومات کے مطابق کشمیر کے لوگ مجاہدین سے شدید متنفر ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ مجاہدین یہاں آ کر لڑیں نہ وہ خود لڑنا چاہتے ہیں تو جو قوم آپ مدد کی خواہاں نہیں آپ اس کی نصرت کے نام پر جہاد کو کس طرح ضروری قرار دے سکتے ہیں۔اور اس اعتراض کی دلیل کے طور پر ان کے پاس انہی کشمیریوں لیڈرز کے بیانات تھے جن کا ذکر میں نے اوپر کی سطور میں کیا۔اس وقت تو ان عالم دین کو جواب عرض کر دیا وہ مطمئن بھی ہوئے اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اب لوگوں کی اکثریت کا خیال یہی ہے جس کا اظہار میں نے ابھی کیا ہے۔
ہم ان باتوں کا جواب دیں تو لوگ خوامخواہ کی وکالت قرار دے کر رد بھی کر دیتے ہیں الحمد للہ اب اس کا شافی جواب کشمیریوں کی زبان و قلم سے ہی آپ کو مل جائے گا۔کشمیری قوم کے ایک مایہ ناز فرزند شہید ملت بھائی محمد افضل گورو شہیدؒ نے اپنی کتاب ’’آئینہ‘‘ میں جا بجا اس بات پر بڑے فاضلانہ انداز میں روشنی ڈالی ہے کہ مسئلہ کشمیر کی اساس سیاسی نہیں مذہبی ہے اس لئے یہ مسئلہ سیاسی انداز میں حل ہونا ممکن نہیں۔پھر ہندو کا چانکیائی سیاسی انداز ہرگز اس سوچ کے لئے کوئی گنجائش کوئی بنیاد اور کوئی دلیل باقی نہیں رکھتا۔
انہوں نے ’’جہاد‘‘ کے حوالے سے کشمیری عوام کی سوچ کو بھی بہت اچھے انداز میں واضح کیا ہے اور کردار کو بھی۔کشمیری لوگ مجاہدین سے کیسی والہانہ محبت رکھتے ہیں۔کیسی قلبی عقیدت و ارادت رکھتے ہیں اور کیسی وابستگی،اس کی جھلک آپ کو اس کتاب میں مل جائے گی۔افضل گورو شہیدؒ ایک اعلی عصری تعلیم یافتہ نوجوان تھے،وہ سیاسی تحریک سے بھی وابستہ رہے۔تقریباً ہر گھاٹ کا پانی پیا اور پھر خوب غور وفکر اور جانچ پرکھ کے بعد  اس نتیجے پر پہنچے کہ ’’جہاد‘‘ اور صرف ’’جہاد‘‘ ہی اس مسئلے کا حل ہو سکتا ہے اور کوئی نہیں۔اس لئے وہ اپنی قوم سے مخاطب ہو کر انہیں پرزور انداز اور الفاظ میں یہ حقیقت سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔انہی کے الفاظ میں ملاحظہ کریں:
’’وادیٔ کشمیر میں عسکری تحریک مزاحمت کو جاری رکھنا اب ناگزیر بن چکا ہے، عسکری تحریک کے ختم ہونے کا مطلب ہمارا وجود بحیثیت اہل ایمان کا خاتمہ۔ کیونکہ ہماری دینی زندگی اور ایمان کا تحفظ عسکریت کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا، وادیٔ کشمیر میں سرکاری دہشت گردی اب ہر شعبے، محکمے، ادارے اور ہر میدان میں داخل ہو چکی ہے، عسکری مزاحمت کے لئے کوئی اٹھے یا نہ اٹھے قانون الٰہی اور قانون فطرت کا تقاضا ہے کہ یہ باطل کو زیادہ دیر برداشت نہیں کرتا۔ اگر قانون الٰہی کے مطابق باطل کا سر نہ کچلا جائے تو پھر عبادت گاہیں تک محفوظ نہیں رہ سکتیں۔ اس وقت ہمار ی جان، ہمارا ایمان، ہماری عزت و عصمت، ہمارا مال و جائیداد، ہر ایک چیز بھارتی فوجیوں کے رحم و کرم پر ہے ہمیں جہاد کو اپنی ہر صلاحیت، اپنا مال، اپنی جان اور اپنا سب کچھ دینا ہوگا۔ ہمیں جہاد کو عزت دینی ہوگی پھر جہاد ہمیں وہ کچھ دے گا جس سے ہماری جان، ایمان، مال اور عزت محفوظ ہوگی‘‘ ( آئینہ 171)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
’’نوجوانانِ کشمیر! شہداء کی امانت، ان کا مشن آپ کے کندھوں پر ہے اس کو آگے لے جانا آپ پر ایسا ہی فرض بن چکا ہے جیسے نماز اور روزہ۔ بھارتی فوج کی موجودگی میں ہمارا مال، ہماری جان، سب سے بڑی چیز ایمان اور ہماری بیٹی، ماں، بہن کی عزت نہ صرف غیر محفوظ ہے بلکہ اسکا لٹنا یقینی ہے (اگر ہم کھڑے نہ ہوئے) یہ لڑائی و جنگ اب پہنچتے پہنچتے ہماری ماں بیٹی کی عزت و عصمت بچانے کے مرحلے و مقام تک پہنچ گئی ہے اب حجت قائم ہو چکی ہے۔
نوجوانانِ کشمیر! غازی بابا کے مشن کو لے کر آگے بڑھنا ہو گا ورنہ ہمارا دینی وجود اور تشخص ختم ہو جائیگا۔ یہ جنگ اب ہماری وجودی (Existential) جنگ بن گئی۔ گھر گھر کے باہر،سڑک، میدان، روڈ،جنگل، کھیت، سکول ہر جگہ ظالم و جابر فوج موجود ہے ہماری زندگی کا ہر پہلو اب اس قابض فوج کے رحم و کرم پر ہے، غفلت، بے حسی، جمود ہمارے ملی و دینی وجود کو ختم کر کے رکھ دے گی۔ ہماری آنے والی نسل کی تباہی کے ذمہ دار ہم ہونگے، سکولوں میں ایک ایسا تعلیمی نظام رائج ہے جو ہماری اخلاقی و روحانی اقدار و اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ نسل جب ایسے نظام میں پرورش پائے گی تو ان کی سوچ، فکر، جذبہ، اٹھنا بیٹھنا غرض ہر چیز اخلاقی و روحانی اقدار و اصولوں سے خالی ہوگی۔ آنے والی نسل کو بچانے کے لیے بھی جہاد کو آگے بڑھانا ہوگا۔ زندہ رہنا ضروری نہیں زندگی کا مقصد ضروری ہے۔ مسلمان کی جان خون میں نہیں بلکہ ایمان میں ہوتی ہے۔ جب ایمان و غیرت کا شعلہ بجھ گیا پھر انسان و حیوان میں کوئی فرق نہیںرہتا۔ جب پھول میں خوشبو ہی نہیں تو پھول کا کیا فائدہ؟‘‘ ( آئینہ 83)
اور ان لوگوں کے جواب میں یہ خوبصورت اور مدلل تحریر ملاحظہ فرمائیں جو ’’عدم تشدد‘‘ کے ہندوانہ فلسفے پر عمل پیرا ہو کر اس مسئلے کے حل کے لئے کوشاں ہیں:
’’شہید مقبول بٹ کے فلسفہ مزاحمت کو گاندھی واد میں تبدیل کرنے والے ناکام ہو چکے ہیں، کشمیری نوجوان نسل نے اس فلسفے کو بہت پہلے رد کیا۔ چاہے اس فلسفے کو کتنا بھی مصنوعی رنگ دیا جائے، وہ نام نہاد مذہبی لوگ جو اس گاندھی واد کے فلسفے کو جواز اور طاقت فراہم کر رہے ہیں وہ ایک جہادی خطے میں ننگے ہو چکے ہیں اور ان شاء اللہ سر زمین چنار میں جس نے ایک لاکھ سے زیادہ شہداء کا لہو جذب کیا ہے اب اس مقدس لہو کے ساتھ بے وفائی نہیں ہو سکتی، خراسان سے مہک و خوشبو اور ربانی و روحانی ہو اکے جھونکوں سے جو شہداء کی روحوں سے اٹھ رہے ہیں وہ اس زمین کے چاروں اطراف کو معطر کر رہی ہے، باطل اگر کعبہ کا غلاف بھی اوڑھ لے حق اس کو وہاں سے بھی نکال لے گا، مذہب کے نام پر جہاد و دین کی توہین و تذلیل کرنے والے خود رسوا اور ذلیل ہونگے، باطل اور نفاق آخر اپنی ہی موت مر جاتا ہے، شہداء کے لہو کے ساتھ بے وفائی و غداری زیادہ دیر برداشت نہیں کی جا سکتی، غداروں کا وقت قریب آ رہا ہے، قوم و ملت کے حالات دنوں میں نہیں بلکہ سالوں کے حساب سے بدلتے ہیں، پچھلے 20سالوں میں وادی کشمیر کے اندر ایک ایسی نسل تیار ہو چکی ہے جن کے اندر سے دشمن کا خوف نکل چکا ہے، وہ بھارتی سامراجیت کے خلاف ایک ایسی تحریک کی شکل میں کھڑی ہوگی جہاں بھارت نواز حکمرانوں اور شہداء کے لہو سے بے وفائی، غداری اور سودا بازی کرنے والوں کانام و نشان باقی نہیں رہے گا۔‘‘(آئینہ 93)
’’آئینہ‘‘ واقعی اسم بامسمی ہے۔کیا کیا خوبیاں بیان کروں، جا بجا بکھرے موتی، سوالات کے مدلل جوابات اور سب سے بڑھ کر انداز تحریر کی پختگی اور شیرینی۔میں نے اوپر عرض کیا کہ افضل گورو شہید عصری اعتبار سے اعلی تعلیم یافتہ تھے۔ایم بی بی ایس کیا تھا،شعر و ادب کا پختہ ذوق رکھتے تھے،فلسفہ بھی خوب پڑھ رکھا تھا اور ان سب پر فائق پختہ دینی رنگ کے حامل تھے۔تو ان کی تحریر میں یہ سب چیزیں خوبصورتی کے ساتھ آ گئی ہیں۔فلسفیانہ موشگافیاں بھی ہیں،اشعار کی گلکاری بھی، برجستہ انگریزی جملے بھی اور دینی تصلب کا اظہار بھی۔بہرحال اس وقت میرا موضوع کتاب کی فنی خوبیاں اور بیانی امتیازات نہیں یہ ہے کہ ’’جہاد کشمیر‘‘ کے حوالے سے کشمیری قوم کیا سوچتی ہے اور کیا نظریہ رکھتی ہے اس پر ’’شہادت‘‘ اور گواہی قائم کی ہے افضل گورو شہیدؒ کی کتاب اور کردار نے۔امید ہے یہ ان لوگوں کے لئے کافی وشافی جواب ہونگے جنہیں اس حوالے سے کچھ شبہات ہیں۔
چند سوالات اور بھی ہیں اور چند موقر گواہیاں بھی مزید ہمارے پاس ہیں جو ان شاء اللہ اگلے حصے میں پیش کی جائیں گی۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor