Bismillah

613

۲۲تا۲۸محرم الحرام۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۳تا۱۹اکتوبر۲۰۱۷ء

انقلاب کی واپسی (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 467 (Talha-us-Saif) - Inqelab ki wapisi

انقلاب کی واپسی

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 467)

’’اِنقلاب‘‘ رخصت ہو گیا اور ’’جناب انقلاب‘‘ بھی یہ مضمون شائع ہونے تک بیرون ملک پدھار چکے ہوں گے۔دو ماہ ڈیڑھ ہفتے تک انقلاب کے انتظار میں سڑکوں پر گند مچانے والا جلوس ایک دو درجن کے قریب طلاقیں،تین چار درجن نئے رشتے اور کئی ناقابل بیان شرمناک داستانیں لے کر اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ایک جھوٹے، بے کردار، بے ایمان انسان کے پیچھے چل پڑنے والوں کو اس سے بہتر انجام کی توقع بھی نہیں رکھنی چاہیے تھی۔

لوگ اب سوال اٹھا رہے ہیں۔کوئی پوچھ رہا ہے کہ کیا مِلا؟

کسی کے لب پر ہے انقلاب کہاں ہے؟

وہ قسمیں ،عہد اور دعوے کیا ہوئے؟

’’کیا مِلا‘‘ کا جواب تو دو لوگ ہی دے سکتے ہیں۔

ایک وہ جسے ’’مِلا‘‘ ہے اور دوسرا وہ جس نے ’’دیا‘‘ ہے۔

قرائن اور رپورٹیں بتا رہی ہیں کہ بہت کچھ ملا ہے۔

طاہر القادری کے تمتماتے اور شہباز شریف کے تلملاتے چہرے کو دیکھ کر بھی یہی لگتا ہے۔

اوپر سے یہاں بڑے صاحب نے آرڈر جاری کر دیا ہے کہ لوگوں کو بتایا بھی نہیں جا سکتا۔بس جو ملا اور دیا ہے جانبین اس کے تذکرے سے گریز کریں۔

حکومت کے حصے میں بہت سا گند آیا جسے اُٹھانے میں کئی ماہ لگیں گے اور کافی بڑا جرمانہ آیا جو اَدا کر دیا گیا۔

جناب کے حصے میں بہت سا مال آیااور کافی بڑی مقدار میں پھٹکار۔مال ساتھ لے کر وہ کینیڈا فرار ہو رہا ہے اور پھٹکار اسی صندوق میں ڈال کر دفن کر دی ہے جس میں بچپن سے اب تک یہی خزانہ جمع ہوتا رہا ہے۔جھنگ میں جھوٹے خوابوں پر پڑنے والی پھٹکار، اتفاق فاؤنڈری مسجد میں بے ایمانی اور بے وفائی پر پڑنے والی پھٹکار،کینیڈا میں قیام کے دوران گستاخیٔ رسول(ﷺ) بل کے بارے میں دو رخی اختیار کرنے پر ملنے والی پھٹکار،جعلی قاتلانہ حملے اور عدالتی فیصلے میں استعمال کئے جانے والے الفاظ کی پھٹکار اور اب دھرنے میں جھوٹے دعوؤں ،عوامی ہمدردی کے جعلی ڈراموں اور انقلاب کے بغیر نہ اُٹھنے کے عزم توڑ کر بھاگ جانے پر اگلے کافی عرصے تک پڑنے والی پھٹکار۔ صندوق میں ان کے والد کے بیس شعری دیوان اور درجنوں صوفیانہ کتابیں بھی دفن ہیں۔اب اس صندوق کو بند کر کے اب اس پر یہ مصرعہ کندہ کرادیا ہے:

ایم ہم اندر شاطری بالائے گندھائے دگر

اور جو لوگ اتنے دن انقلاب کے انتظار میں سڑک پر بیٹھے رہے، ان کے حصے میں کیا آیا؟یہ ان میں سے کوئی ملے تو اسی سے پوچھ لیجئے گا،مجھے ان لوگوں پر بہت ترس آتا ہے، بے چارے بہت بڑے آفت اور مصیبت میں مبتلا ہیں، اس لئے میں خود ان پر تبصرہ کرنے سے گریز کررہا ہوں،ایسے شخص کے اتباع اور اسے اپنا قائدورہنما کہنے سے بڑی مصیبت اوربلامیرے خیال میں اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔ یہ لوگ سیلاب زدگان سے زیادہ ہمدردی اور دعاء کے مستحق ہیں ۔اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت اور سچی توبہ نصیب فرمائے۔

دوسرا سوال کہ انقلاب کہاں ہے؟

تو جناب یہ انقلاب نہیں کہ کل جہاں دھرنا تھا اب وہاں کچھ بھی نہیں ہے۔

کل جہاں ورزش ہوتی تھی اب وہاں صفائی ہو رہی ہے۔

کل تک جہاں روزانہ تقریر ہوتی تھی اب وہاں خاموشی ہے۔

کل جہاں ’’رادھائے انقلاب‘‘ عمر ریاض عباسی بیلے ڈانس کرتا تھا اب وہاں صرف کیلے کے چھلکے پڑے ہیں۔

انقلاب لانے والا شخص طاہر القادری ہو گا تو انقلاب ایسا ہی آئے گا۔ویسے طاہر القادری خود سراپا انقلاب ہے۔اس شخص کے تو خون میں ہی انقلاب شامل ہے۔ایک بار اس کے جسم سے خون نکل کر سڑک پر ٹپکا۔لوگوں نے نعرے لگائے:

قائد تیرے خون سے…انقلاب آئے گا

خون سے تو انقلاب نہ آیا البتہ خون میں انقلاب آ گیا۔لیبارٹری ٹیسٹ میں پتا چلا کہ یہ خون آدھا بکرے کا ہے اورآدھا مرغے کا۔طبیعت بھی ان کی بالکل ایسی ہی ہے،خواتین میں ہوں تو مرغے اور مردوں میں ہوں تو بکرے بن جاتے ہیں۔تفصیل واقفانِ حال جانتے ہیں، لکھی نہیں جا سکتی۔ایک اور کردار جو اس پورے ڈرامے میں انتہائی مشکوک انداز میں سامنے آیا ہے وہ ہے گورنر پنجاب کا۔موصوف کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انقلاب ڈرامے کے ماسٹر مائند ہونے کا اعزاز انہی کے چٹیل سر کو حاصل ہے۔طاہر القادری کے پرانے دوست ہیں اور ہر جگہ پر اپنا یہی کردار نبھاتے ہی نظر آتے ہیں۔

آخری سوال کہ وہ قسمیں،عہد،معاہدے اور انقلاب تک نا اُٹھنے کی بیعت کیا ہوئے؟

تو اس کا جواب ہے

ہا ہا ہا ہا ہا ہا…

جن لوگوں کو طاہر القادری کے بارے میں خیال گزرا تھا کہ اس کی قسم، عہد،بیعت اور معاہدے کا کوئی اعتبار ہو سکتا ہے اوران کی کوئی حیثیت ہے ان کے لئے ایک بار پھر

ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا…

خصوصاً حسن نثار کے لئے۔اپنے آپ کو کالم نگاری کا جینئس،سیاسی تجزیہ نگاری کا امام،زمانے کا فرعون اور مردم شناسی کا سکندر اعظم سمجھنے والے حسن نثار اور اس کے چوراہے کے لئے ایک بار پھر زور سے

ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا… ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا

اُسے طاہر القادری کے اندر ایک ایسا لیڈر نہ جانے کب سے نظر آ رہا تھا جو عوام کی امنگوں پر پورا اتر کر حکمرانوں کے محلات میں شگاف ڈال سکتا ہے۔ ہا ہا ہا ہا ہا…

ایک بات کی وضاحت کر دوں۔مجھے اتنی بے انتہا خوشی طاہر القادری کے رسوا ہونے اور حسن نثار کے خوار ہونے کی ہو رہی ہے ،ناکہ نواز شریف کے بچ جانے کی۔نواز شریف اور یہ فرعونی حکومت اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو قدرت کی پکڑ سے بچ نہیں سکیں گے اور انہیں انجام تک پہنچانے کے لئے کوئی سچا لیڈر سامنے آ جائے گا۔یہ کام اگر طاہر القادری کے ہاتھوں ہو جاتا تو یہ بذات خود ایک بہت بڑا المیہ ہوتا، اس لئے دعاء تھی کہ اس کا دھرنا اسی انقلاب سے دورچار ہو جس سے ہوا ہے۔الحمد للہ قوم ایک المیے سے بچ گئی ہے، دوسرے المیے سے نجات کے لئے کوئی اور امر پردۂ غیب سے اپنے وقت پر ظاہر ہو جائے گا۔ایک صاحب نواز شریف کی حکومت بچ جانے کی دو وجوہات بیان کر رہے تھے۔

(۱) حج جمعہ کے دن ہوا ہے۔

(۲) حکومت نے اس سال حجاج کی خدمت اور راحت آسانی کے تاریخی انتظامات کئے ہیں اور پہلی بار ایسا ہوا کہ سرکاری کوٹے پر جانے والے حجاج پرائیویٹ حاجیوں سے زیادہ راحت میں ہیں اور حکومت کو دعائیں دیتے رہے ۔

پہلی وجہ تو خود انہیں بھی صحیح طرح سمجھ نہیں آئی تھی۔دوسری کے بارے میں عرض کیا کہ مشرکین مکہ بھی حجاج کی خدمت کیا کرتے تھے اور اسے ایسی نیکی سمجھتے تھے جو ان کے تمام جرائم اور کفریات کے بدلے میں ان کے لئے کافی ہو جائے گی مگر وہ ان کے کام نہ آئی۔ویسے بھی ان حجاج کرام کو پاکستان واپس آنے دیں بجلی کا پہلا بل آتے ہی سب دعائیں بھول کر بدعاؤں میں مشغول ہو جائیں گے ۔

اس لئے حکومت ان اصل چیزوں کی طرف توجہ دے جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق ایذاء میں ہے اور حکمرانوںکو کوس رہی ہے۔طاہر القادری کا چلے جانا ان کے لئے باعث اطمینان نہ ہو، وہ جو جرائم کرتے چلے جا رہے ہیں ان کی سزا کسی بھی شکل میں نمودار ہو سکتی ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online