Bismillah

613

۲۲تا۲۸محرم الحرام۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۳تا۱۹اکتوبر۲۰۱۷ء

بل احیاء (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 470 (Talha-us-Saif) - Bal Ahiya

بل احیاء

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 470)

کتنے عجیب لوگ ہیں ٗ جیتے ہیں تو بڑی شان سے ٗ عزت و عظمت والے میدانوں میں ٗ سربلندی والے راستے پر ٗ سرفروشی کے طریقے پر ٗ دشمن کی آنکھ میں کانٹا بن کر ٗ اسلام کی عظمت کا نشان بن کر مشکلات پر ہنستے ہیں اور مصائب پر مسکراتے ہیں ٗ دیوانوں کی طرح دربدر ٗ مقصد کے حصول کی سعی میں سربسر۔ اور مرتے ہیں تو اپنی مرضی کی موت منتخب کرکے ٗ کوئی اکیلا سینکڑوں ٗ ہزاروں دشمنوں کے بیچ گھس جاتا ہے اور جب تک توفیق ملے خوب دل بھر کے شکار کرکے جان جان آفرین کے سپرد کردیتا ہے اور کوئی خود اپنے جسم سے بم باندھ کر بٹن دبانے کی آخری رسم بھی خود ادا کرکے اس کے دربار تک رسائی حاصل کرتا ہے جس نے اس کی میزبانی کیلئے   مالاعین رأت والی جنت سجا رکھی ہے ٗ اور آج کل تو جدید دور  ہے ٗ فیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے ان میں سے کئی ایک تو اب اپنی شادی کی بارات سجی سجائی گاڑیوں اور جہازوں میں بھی لے کر جاتے ہیں۔ بہرحال مرضی کے مالک ہیں خالق کائنات کے دست قدرت کے آلہ کار ہیں ٗ اس لئے جو طریقہ چاہے منتخب کریں ۔اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جدا تو ہو جاتے ہیں لیکن پابندی لگوا جاتے ہیں کہ مردہ مت کہو اور صرف کہنا ہی کیا سوچنے پر بھی پابندی ہے ۔ اللہ اکبر  بل احیاء  بلکہ وہ زندہ ہیں کا اعزاز انہی کو تو ملا اور کس کی پرواز اس مقام پر جاسکی؟

مخبر صادق ٗ محسن اعظم ا نے خبردی ہے کہ جب اللہ کے دربار میں ان کی حاضری ہوئی حوروں کے حسن و جمال کے نظارے بھی دیکھ چکے ٗ ان کے قرب ووصل کی لذت سے لطف اندوز بھی ہوچکے ٗ جنت کے باغات اور نہریں بھی دیکھ آئے ٗ خوبصورت ٗ عالیشان بلند و بالا محلات کی سیر بھی کر آئے ٗ اور سب سے بڑھ کر محبوب حقیقی جس کی راہ میں اپنی متاع عزیز لٹا آئے کی زیارت سے بھی مشرف ہوچکے ٗ اب پوچھا جاتا ہے کہ عزیز بندو! یہ سب کچھ پالینے کے بعد بھی تمہارے دل میں کوئی تمنا باقی ہے تو بتائو تاکہ کریم میزبان اس کا بندوبست کرے۔ عرض کرتے ہیں ٗ مولیٰ کریم! آپ کی بے پایاں رحمتیں اور بے حساب نعمتیں مل گئیں بس خواہش جو دل میں اب بھی مچلتی ہے وہ یہ ہے کہ دنیا میں لوٹا دیئے جائیں تاکہ آپ کی خاطر جان دیتے وقت جو لذت میسر ہوئی تھی باردگر اس سے لطف اندوز ہوسکیں اور اپنے بھائیوں کو بھی اس لذت اور جنت کی نعمتوں کی خبر پہنچا سکیں تاکہ وہ بھی ان کے حصول کی کوشش میں اور اضافہ کریں اور اس راہ سے کبھی نہ ہٹیں جو ان سعادتوں اور فضیلتوں تک پہنچانے والی ہے۔

 اللہ رب العزت نے فرمایا میرے اکرام والے بندو! یہ فیصلہ تو روزازل سے ہوچکا کہ دنیا سے کوچ کر آنے کے بعد کوئی اس میں واپس نہ جاسکے گا لیکن تمہارے اعزاز و اکرام کی خاطر میں تمہاری خواہش اس طرح پوری کردیتا ہوں کہ تمہاری جانب سے خود ترجمان بن کر تمہارا پیغام پچھلوں تک پہنچا دیتا ہوں۔ سورۃ بقرہ اور آل عمران میں شہداء کا یہ تفصیلی پیغام اللہ رب العزت نے قیامت تک کیلئے محفوظ کردیا اور صبح قیامت تک یہ سارے لوگوں تک پہنچتا رہے گا ٗ  بل احیاء  وہ زندہ ہیں کا مطلب صرف یہ نہیں کہ وہ اللہ رب العزت کی مہمانی میں زندہ ہیں اور اس کی میزبانی سے لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ اس دنیا میں بھی وہ اپنے پیغام کی صورت میں زندہ ہیں جو قیامت تک ان کے جانشینوں کو میدان میں لاتا رہے گا ٗ انہیں قتال ٗ شہادت ٗ جنت اور رضائے الٰہی کی ترغیب و تحریض دے کر ان میدانوں کو آباد رکھے گا جہاں  ان لوگوں نے اپنی جانیں لٹائیں۔ ایک شہید دنیا سے جائے گا اس کے بدلے میں کئی آجائیں گے جو اس کا علم تھام لیں گے۔

کیا عجب کے جب ان لاڈلے بندوں نے یہ فرمائش کی ہو اس وقت یہ فیصلہ کرلیا گیا ہو کہ دنیا میں ایسے حالات اور ایسے لوگ پیدا کئے جاتے رہیں گے جو ان کا پیغام ان کے ترجمان بن کر اپنوں تک پہنچاتے رہیں گے اور ان عاشقوں کی تعداد بڑھاتے رہیں گے۔

بدر اور احد کے شہداء کا پیغام آل عمران اور بقرہ کے ذریعے اللہ نے خود بندوں تک پہنچایا ٗ اللہ کے نبی ا نے سینکڑوں ٗ ہزاروں احادیث ارشاد فرمائیں جن میں ان کے پیغام کی ترجمانی ہے ٗ اور پھر ہر دور میں اللہ نے ایسے بندے پیدا فرمائے جنہوں نے اپنے عمل ٗ اپنی زبان اور اپنے قلم کے ذریعے ان شہداء کے مبارک و مقدس پیغام کو زندہ رکھا ٗ یہ شہداء کی حیات ہے ٗ دیکھئے ٗ بل احیاء وہ زندہ ہیں قرآن کریم کی آیتوں میں ٗ بل احیاء وہ زندہ ہیں بخاری ٗ مسلم ٗ ترمذی ٗ نسائی اور دیگر کتب حدیث کے کتاب الجہاد اور فضائل الشہداء کے انگنت ابواب اور احادیث میں ٗ بل احیاء وہ زندہ ہیں عبداللہ بن مبارک کی دعوت جہاد کی شکل میں ٗ بل احیاء وہ زندہ ہیں ابو قدامہ اور ابن النحاس کے خطبوں میں، وہ زندہ ہیں  عبداللہ عزام اور مجدد جہاد مولانا محمد مسعود ازہر کے پراثر خطبات اور دلگداز تحریروں کی شکل میں ٗ ان کا مشن زندہ ہے وہ زندہ ہیں ٗ ان کے میدان آباد ہیں وہ زندہ ہیں ٗ قافلے نکل رہے ہیں وہ زندہ ہیں۔ کشمیر ٗ عراق ٗ فلسطین ٗ چیچنیا ٗ افغانستان اور جہاد کے ہر میدان و معرکے میں شہید ہونے والوں کے حالات دیکھئے ٗ سنیئے اور پڑھئے آپ خود کہیں گے کہ بدر و احد کے شہداء ابھی زندہ ہیں ٗ بل احیاء وہ زندہ ہیں ٗ بل احیاء وہ زندہ ہیں ٗ بل احیاء وہ زندہ ہیں۔

شہید ِاسلام بھائی افضل گورو شہیدؒ نے اپنی مایہ ناز کتاب ’’آئینہ‘‘ میں بڑی خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے کہ شہداء کی زندگی کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ ان کے چلے جانے کے بعد ان کا کام جاری رہتا ہے بلکہ تیزی پکڑتا ہے اور یہ اَلفاظ لکھنے کے بعد وہ خود اس کی عملی مثال بن گئے۔

ان شہدائِ کرام، حقیقی زندہ لوگوں کے تذکرے میں یہ خاصیت ہے کہ اس سے دل زندہ ہوتے ہیں،عزائم اُبھرتے ہیں،جذبات کو جِلا ملتی ہے،دلوں میں شوق شہادت کے ولوے پیدا ہوتے ہیں اور ایمان و عزیمت کی شمعیں روشن ہوتی ہیں۔’’القلم‘‘ کے صفحات پر پہلے یہ سلسلہ ’’تذکرہ شہدائ‘‘ کے نام سے عرصہ دراز تک جاری رہا۔اب ایک بار پھر نئے عنوان’’ بل احیائ‘‘ کے ساتھ اس کا اِحیاء کیا جا رہا ہے۔ان شاء اللہ شہدائِ کرام کے حالات مستقل شائع ہوا کریں گے۔آپ بھی اس حسین سلسلے اور عظیم دعوت کا حصہ بنیں۔اپنے گھر یا گردوپیش کے جس شہید کے ساتھ آپ کا وقت گزرا ہو اس کے حالات لکھ بھیجیں۔کوشش کریں کہ وہ واقعات تحریر کریں کہ جو سبق آموز ہوں اور جذبہ جہاد اُبھارنے کا ذریعہ بنیں۔یہ شہدائِ کرام کے ساتھ آپ کی محبت کا عملی اِظہار ہو گا اور یاد رکھیے! یہ محبت بہت کام آنے والی ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online