Bismillah

613

۲۲تا۲۸محرم الحرام۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۳تا۱۹اکتوبر۲۰۱۷ء

سچا منشور (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 472 (Talha-us-Saif) - Sacha Manshoor

سچا منشور

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 472)

کشمیر میں الیکشن ڈرامہ عروج پر ہے۔

انتہا پسند اور اکھنڈ بھارت کی علمبردار بی جے پی اس منصوبے کے ساتھ میدان میں اُتری ہے کہ وہ کشمیر کی ریاستی اسمبلی میں اپنی اکثریتی حکومت قائم کرے گی۔بی جے پی کے سرپرست کارپوریٹ سیکٹر نے وسائل کا رخ ریاست کی طرف کر دیا ہے اور تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات بروئے کار آ رہے ہیں۔ایک ایک ووٹ کی قیمت لگا دی گئی ہے،ایک ایک ضمیر کو منہ مانگی قیمت پر خریدا جا رہا ہے،سرنڈر کرنے والے غدارانِ قوم کو وسائل سے مالا مال کر کے میدان میں اتارا گیا ہے تاکہ خدمت کے نام پر لوگوں کو ہندوستان سرکار کی طرف مائل کریں۔قوم کی تمام تر محرومیوں اور علاقائی پساماندگی کا سبب عسکری تحریک کو قرار دے کر لوگوں کو اس سے برگشتہ کرنے کی سر توڑ محنت کی جا رہی ہے۔لمبے چوڑے منصوبوں،بڑے بڑے دعووں اور روشن مستقبل کے جھانسوں میں پھنسا کر نعرہ ٔآزادی سے دستبرداری کی کوشش زوروں پر ہے۔لیکن کیا ایسا ہو جائے گا؟…

ایسی سرزمین پر جہاں ایک لاکھ سے زائد شہدائِ کرام کی قبور جہاد اور حریت کی دعوت دے رہی ہیں ۔ ایسی فضاؤں میں جہاں سید آفاق شہید سے لے کر کتنے گمنام اللہ والوں کے جسموں کے ٹکڑوں کی خوشبو سمائی ہوئی ہے۔

اُس دھرتی پر جس کا ایک ایک ذرہ، ایک ایک پتھرایمان وعزیمت کی انمول داستانوں کا گواہ ہے…

کیا ایسا ہو جائے گا؟…

کیا ایک الیکشن میں ووٹوں کا ٹرن آؤٹ بڑھا ہوا دکھا کر یہ باور کر لیا جائے گا کہ ایمان و جہاد،قربانی و عزیمت کے خمیر میں گندھی کشمیری قوم اپنے حق سے دستبردار ہو رہی ہے اور شہداء کرام کے عظیم مشن سے روگردانی کر رہی ہے؟…

تو جواب یہ ہے کہ ایسا ہرگز نہیں۔مودی کسی دھوکے میں نہ رہے،کشمیری ہندوستان کو اور ہندو کو جس طرح جانتے ہیں ایسا کوئی نہیں جانتا، وہ ان سے کبھی دھوکہ نہیں کھائیں گے۔

یہ وہی بھارت سرکار ہے جس نے ان کا حق خود ارادیت سلب کیا،ان پر فوج کشی کی،ان کا وحشیانہ قتل عام کیا،کیا جموں کے ڈھائی لاکھ سے زائد مسلمانوں کا خون کسی اور قوم نے بہایا تھا؟

یہ وہی ہندوستان ہے جس کی افواج کے ہاتھوں لاکھوں مسلمان قتل ہوئے،ہزاروں جیلوں میں سسک سسک کر جان کی بازی ہار گئے،ہزاروں آج تک لاپتہ ہیں…

یہ وہی ہندو ہے جس نے ان کی عزتوں کو پامال کیا،کشمیر کے طول و عرض میں پھیلا ہر فوجی کیمپ ایسی کتنی ہی المناک داستانوں کا گواہ ہے۔کیا کشمیری قوم اپنی ان بیٹیوں کی بے گوروکفن لاشوں کو بھول جائے گی جو پامال کرکے چشموں میں بہا دی گئیں یا جلا دی گئیں…

یہ وہی ہندوستان ہے جس کے فوجی محض تفریح طبع لینے یا میڈل حاصل کرنے کے لئے کشمیری جوانوں کا خون بہاتے ہیں،مزدروں کو اغوا کر کے قتل کرتے رہتے ہیں اور انہیں اس پر کبھی سزا نہیں ملی…

یہ وہی بھارت ہے جس کے تعلیمی اداروں میں کشمیری طلبہ کے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے جس کے ہر شہر میں ہر ریاست میں کشمیری نفرت کا نشان ہیں اور انہیں نفرت کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے…

اسی بھارت نے اپنے ایک فوجی کے جھوٹ کو چھپانے کے لئے اس غیور قوم کے دو سو سے زائد نہتے بچوں پر سیدھے فائر کر کے انہیں شہید کر دیا اور اب اس کا جھوٹ تسلیم کر لیا۔کیا یہ جھوٹی معذرت ان سینکڑوں معصوم جانوں کا بدل ہو سکتی ہے؟…

کشمیری کیا بی جے پی کے اس مکارانہ بدلے لہجے اور انداز سے یہ باور کر لیں گے کہ ہندوستان بدل رہا ہے ،ہندوبدل رہا ہے؟ ہندو کی نفرت آئینہ سوچ بدل رہی ہے؟

میرا نہیں خیال کہ ایسا ہو سکتا ہے…

اور کیا کشمیریوں کو چند ماہ پہلے آنے والے بدترین سیلاب کے دوران اور بعد ہندوستانی حکومت کا ان کے ساتھ رویہ بھول جائے گا؟…

بی جے پی مال خرچ کر کے ووٹ ڈلوالے،وسائل خرچ کر کے امیدوار خرید لے،بوگس نتائج کے ذریعے ریاستی اسمبلی کی حکمران بن جائے،شہداء کرام کا مقدس خون کہہ رہا ہے کہ کشمیر کی سرزمین اپنے حق سے کبھی دستبردار نہ ہو گی اور نہ ہی تحریک آزادی اور تحریک جہاد تھمے گی۔وقت اس کا بہترین گواہ ہے وہ اپنا فیصلہ جلد ثابت کر دے گا…

بی جے پی سرکار نہ ہی سردار پٹیل سے زیادہ سفاک ہے اور نہ نہرو سے زیادہ چالاک۔وہ دونوں اس حسرت کو دل میں لئے آگ میں جل کر خاک ہوئے اور ہمیشہ کی آگ کا رزق بنے۔ان کی امید بر نہ آئی،مودی بھی کوشش کر کے دیکھ لے،بی جے پی بھی اپنا زور آزمالے…

وہ اپنا منشور کشمیری عوام کے سامنے رکھ کر انہیں پھسلانے کی کوشش کر رہی ہے ہم کشمیری قوم کے سامنے اسی کے قابل فخر سپوت شہید اسلام محمد افضل گورو شہیدؒ کے الفاظ میں وہ منشور رکھتے ہیں جو کشمیری قوم کا مایہ افتخار بھی ہے اور دنیا بھر میں بلکہ رہتی دنیا تک اس کا تعارف بھی…

’’کشمیری نوجوان کے نام:

نوجوانانِ کشمیر! شہداء کی امانت، ان کا مشن آپ کے کندھوں پر ہے اس کو آگے لے جانا آپ پر ایسا ہی فرض بن چکا ہے جیسے نماز اور روزہ… بھارتی فوج کی موجودگی میں ہمارا مال، ہماری جان، سب سے بڑی چیز ایمان اور ہماری بیٹی، ماں، بہن کی عزت نہ صرف غیر محفوظ ہے بلکہ اسکا لٹنا یقینی ہے (اگر ہم کھڑے نہ ہوئے) یہ لڑائی و جنگ اب پہنچتے پہنچتے ہماری ماں بیٹی کی عزت و عصمت بچانے کے مرحلے و مقام تک پہنچ گئی ہے اب حجت قائم ہو چکی ہے۔

نوجوانانِ کشمیر! غازی بابا کے مشن کو لے کر آگے بڑھنا ہو گا ورنہ ہمارا دینی وجود اور تشخص ختم ہو جائیگا۔ یہ جنگ اب ہماری وجودی (Existential) جنگ بن گئی۔ گھر گھر کے باہر،سڑک، میدان، روڈ،جنگل، کھیت، سکول ہر جگہ ظالم و جابر فوج موجود ہے ہماری زندگی کا ہر پہلو اب اس قابض فوج کے رحم و کرم پر ہے، غفلت، بے حسی، جمود ہمارے ملی و دینی وجود کو ختم کر کے رکھ دے گی۔ ہماری آنے والی نسل کی تباہی کے ذمہ دار ہم ہونگے، سکولوں میں ایک ایسا تعلیمی نظام رائج ہے جو ہماری اخلاقی و روحانی اقدار و اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ نسل جب ایسے نظام میں پرورش پائے گی تو ان کی سوچ، فکر، جذبہ، اٹھنا بیٹھنا غرض ہر چیز اخلاقی و روحانی اقدار و اصولوں سے خالی ہوگی۔ آنے والی نسل کو بچانے کے لیے بھی جہاد کو آگے بڑھانا ہوگا۔ زندہ رہنا ضروری نہیں زندگی کا مقصد ضروری ہے۔ مسلمان کی جان خون میں نہیں بلکہ ایمان میں ہوتی ہے۔ جب ایمان و غیرت کا شعلہ بجھ گیا پھر انسان و حیوان میں کوئی فرق نہیںرہتا۔ جب پھول میں خوشبو ہی نہیں تو پھول کا کیا فائدہ؟

شہید آفاق شاہؒ ایک مثال:

نوجوانانِ کشمیر! ہمیں شہید آفاق شاہؒ کا طرز عسکریت اپنانا ہوگا۔ شہید آفاق شاہؒ شہید غازی باباؒ کا مرید او ر شاگرد ایک پراسرار 20سال کا نوجوان شہر سری نگر کا مرد مؤمن غازی باباؒ کی پراسرار و وجدانی نظر اس نوجوان کو سیدھا جنت ’’ملا ء اعلیٰ‘‘ تک لے گئی۔ اس نوجوان نے جہاد کشمیر کی تاریخ میں ایک نئے باب، ایک نئے طریقے، ایک نئی عاشقانہ ادا کو جنم دیا، بھارتی قابض و ظالم فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر بادامی باغ میں 25سے 30بھارتی فوجیوں کے پرخچے اڑا دئیے اور خود سیدھا جنت میں جا پہنچا۔اس پاکیزہ 20 سال کے نوجوان نے کوئی سرحد پار نہیں کی کوئی ٹریننگ نہیں کی تھی۔ اس کے دل میں طلب و تڑپ تھی۔ اس شہر سری نگر کے نو عمر 20 سال کے نوجوان نے شہادت کے ذریعہ زندگی کی سچائیوں کو اپنے وجدانی تجربوں سے ہمیں آگاہ کیا۔

دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو

عجب چیز ہے لذتِ آشنائی

اس نوجوان کو کشمیر میں ظالم فوجی قبضہ پسند نہیں تھا، اس نوجوان سے ملت کا غم، ملت کی توہین دیکھی نہیں جاتی تھی یہ نو جوان پاک نظر اور پاک دل کا مالک تھا۔ مرید کی طلب و تڑپ پیر و مرشد کو کھینچ لائی، یہ ایک وجدانی و روحانی معاملہ ہے۔ بہر حال غازی باباؒنے چند نوجوانوں سے مشورہ کیا ان کے دل کی کیفیت جاننی چاہی یہ معصوم20 سال کا نوجوان، اس ملت کا پھول کھڑا ہو گیا، شہادت کے مشن کے لیے اپنے آپ کو پیش کیا، اس نوجوان نے غازی بابا کو حیرت میں ڈال دیا۔

کیونکہ اس نوجوان کو عرش پر سے ملاء اعلیٰ کی روحانی طاقت و تاثیر چھو چکی تھی۔ یہ 20 سال کا نوجوان اور غازی باباؒ 35سال کا مرشد۔ آفاق شہیدؒبابا کی طرف لپک کر گیا اور آنسو جاری ہو گئے۔ مرید نے مرشد کا دامن اپنے موتیوں جیسے آنسوؤں سے تر کر دیا، مرشد بھی رو پڑا پوری مجلس رو پڑی عرش اعلیٰ پر قبولیت کا سامان پیدا ہوگیا۔ آفاق شاہؒ فرزندانِ ملت کا ایک فرد چھوٹی گاڑی میں سوار ہوا ظالم بھارتی سامراجی فوج کے ہیڈکوارٹر پہنچ گیا۔ ہاتھ بٹن پر زبان پر کلمہ توحید ہونٹوں پر کلمہ توحید… ایک زور دار دھماکہ 25سے 30 فوجیوں کی لاشیں زمین پر… آفاقؒ کی روح عرش اعلیٰ پر… اللہ اکبر!بھارتی خفیہ اداروں کی نیندیں اُڑ گئیں۔ بھارت نواز حکمرانوں کاچین اُڑ گیا۔ ایک نئی ابتدائ، ایک نئی ادا، ایک نیانعرہ…

غلامی سے نفرت:

کشمیر کے سنگ بازو! (stone-pelter) آفاق شاہؒاور اس کے مرشد غازی باباؒکے مقبروں کی زیارت کرو اپنے دل کی گہرائیوں کو جانچ لو، جھنجھوڑ دو، اپنے دل، ضمیر اپنی روح کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔ تمہیں ایک صدا، ایک آواز ، ایک دھڑکن سنائی دے گی کہ انسان آزاد پیدا ہوا اور اس کو آزاد رہنے کا حق اللہ پاک نے دیا ہے، غلامی ذلت اور موت ہے بلکہ موت سے بدتر۔ اہل ایمان غلام نہیں ہو سکتے اور جو غلامی پر مطمئن ہے اس میں ایمان کا آخری درجہ جو ذرہ برابر ہوتا ہے وہ بھی نہیں کیونکہ غلامی اور گناہ و بدی کی نفرت دل میں ہوناایمان کا آخری درجہ ہے۔ جب ایمان ہی نہیں تو پھر زندگی کا کیا مطلب؟ ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے پھول کی حقیقت خوشبو، آگ کی حقیقت گرمی، برف کی حقیقت سردی۔ دین و ایمان کی بھی حقیقت ہے، حیاء اور غیرت ایمان سے ہے، سادگی ایمان سے ہے، راستے سے پتھر یا رکاوٹ ہٹانا ایمان کی آخری حقیقت ہے۔ اگر ہم بھارتی فوج کی موجودگی سے پریشان نہیں، اگرہم ان کے ساتھ دل سے ہنس کر بات کرتے ہیں اگر ہم اپنے ارادہ اور اختیار کے ساتھ ان سے مطمئن ہیں تو ہمارے دل میں ایمان کا آخری درجہ بھی موجود نہیں۔ جنہوں نے ہماری ایک نسل کو ختم کیا ہماری ماؤں، بہنوں کی عزت و عصمت تارتار کی، ہمارے گھروں باغوں ہمارے مال کو تباہ کیا، جو ہماری جان، مال اور عزت کے ساتھ کھیل رہے ہیں، ان ساتھ رہنے میں جو کراہت، بے چینی اور پریشانی محسوس نہیں کر رہا اس میں ایمان کا آخری درجہ بھی موجود نہیں۔ غداروںکے ساتھ زندہ رہنا ہی غداری ہے۔‘‘ (ماخوذ از ’’آئینہ‘‘)

اے اہل کشمیر!

چھوڑیے جھوٹے مودی کے جھوٹے منشور کو۔ تھوک دیجئے اس پر۔اور اس منشور کو اپنائیے جو آپ کے ایک سچے بھائی نے آپ کو دیا ہے اور آپ کو اس کی طرف اس دردمندانہ آواز میں دعوت دے کر اپنی جان اسی پر ثابت قدم رہتے ہوئے رب کی راہ میں وار دی ہے۔آپ کی عزت اسی میں ہے، اسی کی طرف آئیے اور اسی پر ڈٹ جائیے۔ہمیں یقین ہے ان شاء اللہ کہ اس جنگ میں مودی نہیں، افضل گورو اور کشمیر کے لاکھوں شہداء ہی جیتیں گے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online