Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مؤقر شہادت۔۲ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 433 (Talha-us-Saif) - Muaqar Shahadat-2

مؤقر شہادت (۲)

السلام علیکم..طلحہ السیف (کشمیر 433)

محمد افضل گورو شہیدؒ ہمیں اپنی کتاب ’’آئینہ‘‘ میں جگہ جگہ واضح انداز میں دکھاتے اور سمجھاتے ہیں کہ:

’’تحریک آزادی کشمیر‘‘ محض ایک سیاسی تحریک نہیں’’شرعی جہاد‘‘ ہے،اس تحریک کی بنیاد بھی سیاسی نہیں دینی ہے اور اس کا انداز بھی جہادی ہے سیاسی نہیں۔کشمیر کے لوگ ہندوستان سے کیوں بیزار ہیں؟وہ اس سے نجات کیوں چاہتے ہیں؟محمد افضل گورو ہمیں بتاتے ہیں کہ ہندوستان کا رویہ کشمیریوں کے ساتھ حاکمانہ ہے۔وہ کشمیری قوم کو برابری کی سطح پر اپنے ساتھ تو نہیں رکھنا چاہتا اور نہ ہی جمہوری انداز میں۔بلکہ وہ اس قوم کو غلام بنا کر اپنے تسلط میں رکھنا چاہتا ہے۔ اور غلامی سے نفرت ایک ایمانی جذبہ ہے۔اس ایمانی جذبے کے تحت اہل کشمیر نے ہمیشہ غلامی کو مسترد کیا۔وہ گلاب سنگھ کی غلامی ہو، ہری سنگھ کی یا پنڈت نہرو کی۔اس لیئے جس نے بھی اور جس انداز میں بھی غلام بنائے رکھنے کی کوشش کی کشمیری عوام اس کے خلاف نکلے ہیں اور مزاحمت کی ہے۔مومن کبھی انسانوں کی غلامی پر راضی نہیں ہو سکتا چہ جائے کہ کفر کی غلامی قبول کرے۔جو دل غلامی پر رضامند ہو اس میں ایمان کی کمی ہے۔شہید افضل گورو بھی اپنی قوم کو یہی ایمانی تقاضا یاد دلاتے ہیں اور غلامی سے نفرت ان کے دل میں جگانے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

’’ انسان آزاد پیدا ہوا اور اسکو آزاد رہنے کا حق اللہ پاک نے دیا ہے، غلامی ذلت اور موت ہے بلکہ موت سے بدتر۔ اہل ایمان غلام نہیں ہو سکتے اور جو غلامی پر مطمئن ہے اس میں ایمان کا آخری درجہ جو ذرہ برابر ہوتا ہے وہ بھی نہیں کیونکہ غلامی اور گناہ و بدی کی نفرت دل میں ہوناایمان کا آخری درجہ ہے۔ جب ایمان ہی نہیں تو پھر زندگی کا کیا مطلب؟ ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے پھول کی حقیقت خوشبو، آگ کی حقیقت گرمی، برف کی حقیقت سردی۔ دین و ایمان کی بھی حقیقت ہے، حیاء اور غیرت ایمان سے ہے، سادگی ایمان سے ہے، راستے سے پتھر یا رکاوٹ ہٹانا ایمان کی آخری حقیقت ہے۔ اگر ہم بھارتی فوج کی موجودگی سے پریشان نہیں، اگرہم ان کے ساتھ دل سے ہنس کر بات کرتے ہیں اگر ہم اپنے ارادہ اور اختیار کے ساتھ ان سے مطمئن ہیں تو ہمارے دل میں ایمان کا آخری درجہ بھی موجود نہیں۔ جنہوں نے ہماری ایک نسل کو ختم کیا ہماری ماؤں، بہنوں کی عزت و عصمت تارتار کی، ہمارے گھروں باغوں ہمارے مال کو تباہ کیا، جو ہماری جان، مال اور عزت کے ساتھ کھیل رہے ہیں، ان ساتھ رہنے میں جو کراہت، بے چینی اور پریشانی محسوس نہیں کر رہا اس میں ایمان کا آخری درجہ بھی موجود نہیں۔ غداروںکے ساتھ زندہ رہنا ہی غداری ہے۔‘‘ (آئینہ ۸۶)

اس غلامی سے نجات کا راستہ کیا ہو گا؟

وہ اپنی قوم کو اخلاص کا درس دیتے ہیں،جذبہ جہاد ان کے دل میں بیدار کرتے ہیں،انہیں شہداء کرام کے مثالی کردار کی طرف متوجہ کرتے ہیں،وہ انہیں جہاد کی پوری ترتیب سمجھاتے ہیں اور یہ یقین ان کے دلوں میں بٹھاتے ہیں کہ جہاد،جہاد اور صرف جہاد ہی اس منزل کے حصول کا راستہ ہے جس کے سفر میں لاکھوں اہل ایمان اپنی جانیں وار چکے ہیں۔

ہم افضل گورو شہید سے جہاد کشمیر کا مکمل لائحہ عمل لیتے ہیں۔

سب سے پہلا قدم ہوا غلامی سے نفرت و بیزاری۔ اس کے بارے میں آپ نے ان کی دردمندانہ دعوت پڑھ لی۔اس کے بعد اس بات کا یقین کہ غلامی کی یہ زنجیر صرف اور جہاد سے ہی ٹوٹ سکتی ہے۔

 ’’جہاد کشمیر اب ناگزیر (Indespensable) بن چکا ہے۔ پچھلے بیس20 سالوں کے دوران بھارت کی سامراجی مکاری، چانکیا کی سیاسی پالیسی، برہمنیت و فرقہ پرستی پر مبنی بیوروکریسی، فوج، خفیہ ادارے وغیرہ ان کے پروگرام و پالیسیاں ISI، پاک فوج اور پاکستانی حکمرانوں کا منافقانہ، بزدلانہ رویہ، مسئلہ کشمیر کے متعلق ٹھوس و یقینی پالیسی کا فقدان، نام نہاد کشمیری علیحدگی پسندوں کا جہاد اور شہداء کے مقدس لہو کی توہین و تذلیل کرنا، جہاد کو گاندھی و کرزئی واد، مسخرہ پن، غنڈہ گردی کی طرف دھکیل دینا… وغیرہ وغیرہ۔

یہ سب عوامل اور حقائق سامنے آتے رہے۔ ان تمام عوامل (Factors) اور وجوہات (Reasons) اور حقائق(Facts) کا تقاضا ہے کہ اب عسکری تحریک مزاحمت (جہاد کشمیر) کو ٹھہر کر ایک نیا رخ، ایک نئی پالیسی، ایک نیا پروگرام مرتب کر کے، قابل فہم، قابل یقین، قابل عمل اور قابل حصول روڈ میپ اور خاکہ تیار کر کے، مقاصد اور اہداف کو ترتیب دے کر عملی میدان میں آنا ہوگا…

سانحہ شوپیاں، امر ناتھ زمینی معاملہ، پرامن عوامی جلسوں پر گولیاں برسانا، چھوٹے چھوٹے بچوں کو گولیوں کا نشانہ بنانا، بچوں کو P.S.A جیسے قانون کے تحت بند کرنا، پانی، جنگل وغیرہ وسائل پر فوجی غاصبانہ قبضہ وغیرہ ان سب کا اصولی، اخلاقی اور شرعی تقاضا اور مطالبہ ہے…’’جہاد‘‘…عسکری مزاحمت…مکمل مزاحمت…  جب تک سامراجی، بھارتی قابض و ظالم فوج کشمیر سے نکل نہ جائے…

اس وقت کشمیر کے چپے چپے، گلی گلی، پہاڑوں و میدانوں میں بھارتی فوج نہ صرف زمین اور زمینی وسائل بلکہ ہمارے مال، جائیداد، ہمارے گھروں اور اہل خانہ پر قبضہ کیے ہوئے ہے… یہ لڑائی اب پہنچتے پہنچتے ہماری بیٹی، ماں اور بہن کی عزت وعصمت بچانے کی لڑائی بن چکی ہے، ایمان غیرت سے ہے اگر غیرت نہیں تو ایمان نہیں۔ مسلمان کی جان ایمان میں ہوتی ہے نہ کہ خون میں۔ ایک ہی راستہ عسکری مزاحمت یعنی جہاد، جہاد کی مدد کرنا، جہاد کی حوصلہ افزائی کرنا، جہاد کے لیے تیاری، جہاد کا مکمل ارادہ، جہاد کے شعبے و مرتبے کی واقفیت۔ جہاں مسلمانوں کی جان، عزت، مال وغیرہ غیر محفوظ اور خطرے و خدشات میں گھرے ہوئے ہوں وہاں دو ہی (Option) ہیں، ہجرت یا مزاحمت (جہاد)  ہجرت کے لیے مدینہ نہ مدینہ والے۔ لہٰذا جہاد واحد راستہ ہے۔ جہاد کا ارادہ جہاد ہے۔ جہاد کی تیاری جہاد ہے۔ جہاد کے لیے بچوں اورجوانوں کا حوصلہ بڑھانا جہاد ہے۔ مجاہدین،شہداء اور قیدیوں کے اہل خانہ کی مدد کرنا جہادہے۔ جہاد کے لیے مال دینا جہاد ہے۔ جہاد کو جہاد سمجھنا جہاد ہے۔ مجاہدین کے لیے دعا کرنا جہاد ہے۔ ظالموں اور جابروں سے نفرت کرنا جہاد ہے… جہاد کے درجے، جہاد کے مرتبے، جہاد کے راستے، جہاد کے طریقے، جہاد کے میدان مختلف ہیں، وہ دن گئے جب جہاد کا اعلان ہوتا تھا جہاد کے لیے مجاہد کسی مقام پر جمع ہوتے تھے، جہاد کے لیے قافلے تیار ہوتے تھے۔ اب تو اہل ایمان کے لیے ہر جگہ میدان کربلا ہے، اور ہر دن عاشورہ ہے، ہر شام شامِ غریباں،حسینیؓ ادا چاہیے، حسینیؓ دل چاہیے، عشق رسول ﷺ شوق شہادت چاہیے…

قتل حسینؓ اصل میں مرگِ یزید ہے

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

اس وقت کشمیری لوگوں سے ان کا دین و ایمان مطالبہ اور تقاضا کر رہا ہے کہ وہ اپنی صلاحیت، طاقت، مال و جائیداد کو جہاد کے لیے وقف کریں، اپنے آپ کو فکری، روحانی اور جسمانی طور پر جہاد میں شامل کریں۔ مسلمان کی جان خون میں نہیں ایمان میں ہے۔ جنت کا مختصر، صاف ستھرا، یقینی اور سیدھا راستہ جہاد ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا:’’ایک تیر سے تین آدمی جنت میں جائیں گے بنانے والا،دینے والا، اور چلانے والا۔‘‘ مجاہد کے گھوڑے کی لید کا وزن بھی مجاہد کے حق میں ثواب و جزا کا باعث ہوگا… جہاد عظیم عبادت ہے یہ مؤمن و ملت کو عظمت بخشتا ہے…‘‘ (آئینہ ۱۴۰)

پھر وہ جذبہ جہاد سے سرشار ہو جانے والے نوجوان کو شہداء کرام کے مقدس خون اور ان کے پاکیزہ کردار کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔تاکہ وہ ان کا کردار بھی اپنائے اور ان کے خون کی امانت کا بھی پاس رکھے۔اس کے لئے وہ ایک کشمیری نوجوان سید آفاق شاہ شہیدؒ کو معیار اور مشعل راہ بناتے ہیں اور کشمیری نوجوان کو اس کے راستے کی طرف بلاتے ہیں۔شہید آفاق شاہؒ نے جہاد کشمیر کو ایک نئی جہت اور تحریک کشمیر میں سب سے پہلا فدائی حملہ کیا تھا۔

’’ نوجوانانِ کشمیر! ہمیں شہید آفاق شاہ کا طرز عسکریت اپنانا ہوگا۔ شہید آفاق شاہ شہید غازی بابا کا مرید او ر شاگرد ایک پراسرار 20 سال کا نوجوان شہر سری نگر کا مرد مؤمن غازی باباؒ کی پراسرار و وجدانی نظر اس نوجوان کو سیدھا جنت ’’ملا ء اعلیٰ‘‘ تک لے گئی۔ اس نوجوان نے جہاد کشمیر کی تاریخ میں ایک نئے باب، ایک نئے طریقے، ایک نئی عاشقانہ ادا کو جنم دیا، بھارتی قابض و ظالم فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر بادامی باغ میں 25سے 30بھارتی فوجیوں کے پرخچے اڑا دئیے اور خود سیدھا جنت میں جا پہنچا۔اس پاکیزہ 20 سال کے نوجوان نے کوئی سرحد پار نہیں کی کوئی ٹریننگ نہیں کی تھی۔ اس کے دل میں طلب و تڑپ تھی۔ اس شہر سری نگر کے نو عمر 20 سال کے نوجوان نے شہادت کے ذریعہ زندگی کی سچائیوں کو اپنے وجدانی تجربوں سے ہمیں آگاہ کیا۔

دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو

عجب چیز ہے لذتِ آشنائی

اس نوجوان کو کشمیر میں ظالم فوجی قبضہ پسند نہیں تھا، اس نوجوان سے ملت کا غم، ملت کی توہین دیکھی نہیں جاتی تھی یہ نو جوان پاک نظر اور پاک دل کا مالک تھا۔ مرید کی طلب و تڑپ پیر و مرشد کو کھینچ لائی، یہ ایک وجدانی و روحانی معاملہ ہے۔ بہر حال غازی بابا پنے چند نوجوانوں سے مشورہ کیا ان کے دل کی کیفیت جاننی چاہی یہ معصوم20 سال کا نوجوان، اس ملت کا پھول کھڑا ہو گیا، شہادت کے مشن کے لیے اپنے آپ کو پیش کیا، اس نوجوان نے غازی بابا کو حیرت میں ڈال دیا۔

کیونکہ اس نوجوان کو عرش پر سے ملاء اعلیٰ کی روحانی طاقت و تاثیر چھو چکی تھی۔ یہ 20 سال کا نوجوان غازی بابا 35سال کا مرشد۔ آفاق شہید بابا کی طرف لپک کر گیااور آنسو جاری ہو گئے۔ مرید نے مرشد کا دامن اپنے موتیوں جیسے آنسوؤں سے تر کر دیا، مرشد بھی رو پڑا پوری مجلس رو پڑی عرش اعلیٰ پر قبولیت کا سامان پیدا ہوگیا۔ آفاق شاہ فرزندانِ ملت کا ایک فرد چھوٹی گاڑی میں سوار ہوا ظالم بھارتی سامراجی فوج کے ہیڈکوارٹر پہنچ گیا۔ ہاتھ بٹن پر زبان پر کلمہ توحید ہونٹوں پر کلمہ توحید… ایک زور دار دھماکہ 25سے 30 فوجیوں کی لاشیں زمین پر… آفاق شاہ کی روح عرش اعلیٰ پر… اللہ اکبر!بھارتی خفیہ اداروں کی نیندیں اڑ گئیں۔ بھارت نواز حکمرانوں کاچین اڑ گیا۔ ایک نئی ابتداء، ایک نئی ادا، ایک نیانعرہ…

کشمیر کے سنگ بازو! (stone-pelterr) آفاق شاہ اور اس کے مرشد غازی بابا کے مقبروں کی زیارت کرو اپنے دل کی گہرائیوں کو جانچ لو، جھنجھوڑ دو، اپنے دل، ضمیر اپنی روح کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔‘‘(آئینہ ۸۴)

’’شہداء کی زندگی، ان کا کردار، ایثار، جذبہ قربانی جذبہ شہادت ایک ایسی زندہ عملی مثال ہے جس سے اہل ایمان کو سبق حاصل کرنا چاہیے۔ انسان کے پاس سب سے قیمتی اور پسندیدہ شے انسان کی اپنی جان ہوتی ہے جب ایک مؤمن اسی جان کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اس سے بڑا ایمان کی حقیقت جاننے کا کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔ ’’اللہ پاک نے اہل ایمان کی جانوں اور مالوں کو جنت کے بدلے خریدا ہے‘‘ جب تک انسان اپنی جان اور اپنے مال کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے تیار نہیں ہو تا اس کے دل میں دین کا صحیح مفہوم اور معرفت حاصل نہیں ہو سکتی۔ اعتماد و اعتبار والے آدمی کے حوالے ہی قیمتی شے رکھی جاتی ہے، معرفت الہٰی اور دین کی حقیت اپنا گھر ان ہی دلوں کو بناتی ہے جن میں صرف اللہ کا خوف اور محبت موجود ہو… جذبہ جہاد و شہادت کے بغیر انسان کا دل نفاق سے پاک نہیں ہو سکتا۔‘‘ (آئینہ ۱۰۹)

وہ خود اس راستے پر شہداء کرام کے کردار سے ہی متاثر ہو کے آئے اور پھر لگے رہے تاوقتیکہ انہی کے قافلے میں شامل ہو گئے۔وہ اپنے دل میں جذبہ جہاد اور شوق شہادت کی شمع کا راز سی کو بناتے ہیں۔

’’ شہید شارق بخشی، شہید غازی بابا، شہید راشد بھائی، شہید شبیر احمد ڈار، شہید آفاق شاہ، شہید ارسلان (محمد) وغیرہم کے کردار، ایثار، قربانی، جذبہ جہاد اور شوق شہادت سے میرے دل میں رعنائی پیدا ہوئی… اخلاص سے بھرپور، شباب و کردار بے داغ…

وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا

شباب جس کا ہو بے داغ ضرب ہو کاری

شہداء کے کردار کو بیان کرنا مشکل ہے ان کے کردار، ان کے جذبات واحساسات، ان کی طبیعت و رجحانات میں روحانی و وجدانی تاثیر ہوتی ہے اس تاثیر (Rffect)کو صرف محسوس کیا جا سکتا ہے، اس تاثیرکی چاشنی (Sweetness) کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے ، بقول ہلین کلر:

"The most beautiful things of  life  can not be seen or even touched they must be felt by heart"

اللہ پاک اس دنیا میں ہی شہداء کے دلوں کو ایمان اور یقین کی روشنی سے منور و معطر کر دیتا ہے۔ ان کی حق پر استقامت، عدل وانصاف سے محبت اور ظلم و جبر سے نفرت ان کے ایمان کی زندہ نشانی ہوتی ہے۔ ان کے دلوں میں باطل کا ڈر و خوف نہیں ہوتا کیونکہ ان کے دلوں میں صرف ایک اللہ کا خوف ہوتا ہے۔ وہ اللہ کی محبت سے سر شار ہوتے ہیں۔ ان کو اللہ کے وعدوں کا مکمل یقین ہوتا ہے وہ اس دنیا کی چیزوں کے ساتھ دل لگانا حقیر سمجھتے ہیں۔ وہ صرف اللہ کے احکام و قوانین کی پیروی کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ اپنے حقوق سے دستبردار ہو کر صرف اللہ کے بندوں کے حقوق پورے کرنے میں اپنی طاقت و صلاحیت کو صرف کرتے ہیں… میں نے یہ کردار شہداء میں دیکھا… شہداء کا اخلاص ایسی سطح و مقام تک پہنچ چکا ہوتا ہے جہاں وہ کسی بھی نظر سے اوجھل نہیں ہو سکتا، شہادت کی تمنا سے فرد و قوم کو زندگی ملتی ہے۔‘‘(آئینہ ۱۲۴)

اس ساری دردمندانہ دعوت کا خلاصہ انہوں نے انتہائی جامع الفاظ میں اپنی قوم کے سامنے رکھ دیا ہے کہ اب وہ اس کی روشنی میں اپنے لئے راستے کا انتخاب کرے۔

’’ہمارے پاس پچھلے ۲۰ سالوں سے الحاق اور خود مختار کشمیر بذریعہ اقوام متحدہ کی قرارداد کا نعرہ سامنے رہا جو کہ نہ صرف غیر حقیقی اور غیر عملی ہیں بلکہ گمراہ کن بھی ہے پاکستان نے آج تک اپنے قبضے والے کشمیر کو اس حق کا 5%بھی نہیں دیا جس حق کے لئے وہ ہماری بات کرتا ہے لہٰذا جس طرح بھارت قابض ہے اسی طرح وہ بھی اصولی، اخلاقی اور عملی طرح قابض ہے، اب رہی ہماری تحریک کی مدد… اس کا محرک اور اصلی سبب دینی اور جذباتی و روحانی ہے جو ایک مسلم مؤمن کو دوسرے مؤمن بھائی کے لئے ہوتا ہے پاکستان کے ۱۱ ہزار سے زیادہ شہداء کی قربانی کا محرک جذبۂ دینی تھا اور دینی ہے، یہ جذبہ اور یہ وابستگی اور یہ تعلق ازلی و روحانی ہے اس میں سیاسی و جغرافیائی عناصر کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ جہاں تک خود مختار کشمیر کا جھنڈا تھامنے والوں کا معاملہ ہے ان کو امریکہ و یورپ اور پاکستان سے بھی ذریعہ معاش، اسباب زندگی اور سامان عیش، نام و نمود فراہم ہوتا ہے، شہید مقبول بٹ صاحب کی فکر اور تحریک کو گاندھی واد میں تبدیل کر کے قوم کے نوجوانوں کی فکر و توانائی کو غلط راستوں پر لگا کے تحریک کو مسخ کر رہے ہیں… ہمارے پاس ایک جذبہ، ایک خواہش، ایک خواب، ایک امید ہے جس کو ہم نے آزادی نام دیا ہے، لیکن اس جذبے اور مقصد کی نہ تعریف (Definition) ہمارے پاس ہے نہ تشریح و وضاحت (Explaination) نہ اس کے لئے کو ئی روڈ میپ یا تحریکی خاکہ، نہ تحریکی آئین (Constitution) نہ کوئی سمت (Direction) نہ کوئی پروگرام و پالیسی، جو اس جذبے کی قابل فہم و یقین اور قابل عمل ترجمانی کرتا… جن کا ہونا تحریک شروع کرنے سے پہلے ضروری ہے، ہمارا سارا انحصار بیرونی طاقت و مدد پر ہے اس لئے وہ طاقت جس طرح چاہتی ہے ہمیں گھما رہی ہے… چونکہ جذبہ آزادی اتنا قوی اور مضبوط، اتنا جائز و مناسب، اتنا ضروری اور ناگزیر کہ یہ جذبہ ہی اب ہماری زندگی کا سامان زندگی بن چکا ہے، یہ جذبہ آزادی ہماری رگوں اور نسوں میں خون اور احساس کی طرح دوڑ رہا ہے، ہم اس جذبے، اس احساس اور فکر کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے، یہ جذبہ آزادی جس کی خاطر ایک لاکھ سے زیادہ جانیں قربان ہوگئیں، ہزاروں عصمتیں تارتار ہوئیں، ہزاروں گھر لٹ گئے، ہزاروں لوگ زندانوں کی نذر ہوگئے… لیکن یہ جذبہ، یہ احساس یہ خواہش بڑھتی ہی جا رہی ہے… یہ جذبہ، یہ احساس، یہ فکر جس کا نام آزادی ہے یہ نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے… اہل ملت اور میرے عزیز وطن کے محترم و عزیز دانشورو! اے اہل علم، اہل رائے، اہل دل! اب ان نوجوانوں کے اسی قومی و ملی جذبے و احساس کو وہ خاکہ وہ روڈ میپ وہ سمت وہ مقصد و ہدف دے دو جس پر چل کر اس قوم و ملت کا یہ نوجوان اپنے ہدف کی طرف یقین و اطمینان کے ساتھ چلتا رہے، بے یقینی، لا علمی، اضطراب میں نماز بھی ادا نہیں کی جاسکتی تو جہاد کو کیسے ادا کیا جا سکتا ہے؟ لہٰذا یقین و علم کے ساتھ ہی جہاد و تحریک جاری رہ سکتی ہے۔‘‘(آئینہ۲۱۸)

ان ساری باتوں کے بعد میرے خیال سے ان لوگوں کے پروپیگنڈے کا بطلان بہت اچھی طرح ہر مسلمان پر واضح ہو جانا چاہیے جو دن رات یہ کہتے رہتے ہیں کہ جہاد کشمیر کی بناء دینی نہیں سیاسی ہے۔اہل کشمیر خود بتا رہے ہیں کہ انہوں نے یہ تحریک ایک دینی نظریے کے تحت برپا کی ہے اور اسی فکر کو لے کر وہ ہر قربانی دے رہے ہیں۔اس سلسلے میں ایک موقر شہادت جناب سید صلاح الدین صاحب کا مظفر آباد میں افضل گورو شہیدؒ کانفرنس میں کیا جانے والا بیان بھی ہے۔انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں یہ بات واضح کی کہ تحریک آزادی کا مقصد اعلاء کلمۃ اللہ ہے۔ہم آزادی اسلام کے لئے چاہتے ہیں،ہمارا مطمح نظر یہ ہے کہ ہماری قوم آزاد ہو کر اسلام کے احکام کے تحت زندگی گزار سکے۔جن حضرات نے یہ بیان سننا ہو وہ ’’القلم‘‘ کی ویب سائٹ پر آ کر سن سکتے ہیں۔سید صاحب کشمیری قوم کے نمائندے ہیں اور ایک عملی مجاہد ہیں ،اپنی قوم کی طرف سے ان کی گواہی ایک سند کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کے بعد اس سوال اور شبہے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔

اور پھر جب اس تحریک کا ’’دینی‘‘ہونا ثابت ہو گیا تو اس کے سلسلے میں اب ہمارا فرض کیا ہے؟

یہ قرض اگلے شمارے میں اتاریں گے ان شاء اللہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor