Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مؤقر شہادت۔۳ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 434 (Talha-us-Saif) - Muaqar Shahadat-3

مؤقر شہادت (آخری حصہ)

السلام علیکم..طلحہ السیف (کشمیر 434)

اگر کچھ مسلمانوں پر جب کفار کا تسلط ہو جائے، اسلامی سرزمین کفار کے قبضے میں چلی جائے یا مسلمان کفار کی قید میں آ جائیں۔ ایسے میں دوسرے مسلمانوں پر ان کے حوالے سے کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟…

کیا وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں؟

 

اس آفت کو مسلمانوں کے اپنے اعمال کی سزا قرار دے کر مطمئن ہو جائیں؟

زبانی حمایت اور قراردادوں پر اکتفاء کر لیں؟…

یا کچھ اور کرنا لازم قرار دیا گیا ہے…

آئیے! قرآن و سنت سے رہنمائی لیتے ہیں:

ترجمہ:اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کی راہ میں اور اْن بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال کر کہیں اور لے جا۔ اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی بنا۔ اور اپنی ہی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار مقرر فرما۔(سورۃ نسائ)

اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں مسلمانوں کو دو مقاصد کے لئے لڑنے کا حکم فرمایا ہے:

(۱) فی سبیل اللّٰہ یعنی اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے،اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لئے اور اسلام کی دعوت کفار تک پہنچانے کے لئے لڑو۔

(۲)  وفی نصرۃ المستضعفین: مظلوم مسلمانوں کی داد رسی کے لئے،انہیں ظلم سے نجات دلانے کے لئے،کفر کے تسلط سے چھڑانے کے لئے اور غلامی و اسیری سے نجات دلانے کے لئے لڑو۔

اور محض لڑنے کا حکم نہیں فرمایا بلکہ ’’ومالکم‘‘ کے الفاظ سے جھنجھوڑا اور خوئے غفلت پر تازیانہ برسایا کہ’’ تمہیں کیا ہو گیا کہ نہیں لڑتے‘‘۔

’’ومالکم‘‘

یہ الفاظ جہاد کے فرض ہونے کی دلیل ہیں اور مطلب یہ ہے کہ تمہارے لئے جہاد چھوڑنے کا کوئی عذر باقی نہیں ہے کیونکہ کمزور مسلمان مردوں،عورتوں اور بچوں کی مظلومیت اس حد تک پہنچ چکی ہے‘‘ (التفسیر الکبیر)

’’ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں جہاد پر ابھارا گیا ہے اور اس میں کمزور مسلمانوں کو ان کفار سے رہا کرانے کی بھی ترغیب ہے جو انہیں دردناک عذاب پہنچاتے ہیں اور انہیں دین سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔بس اللہ تعالیٰ نے جہاد کو فرض فرمایا اپنے کلمہ کی بلندی۔اپنے دین کے غلبے اور اپنے کمزور مسلمان بندوں کی آزادی کے لئے،اگرچہ اس جہاد میں جانوں کا ظاہری نقصان ہو۔‘‘ (تفسیر قرطبی)

’’یعنی دو واسطے لڑائی تم کو ضرور(یعنی لازمی) ہے، ایک تو اللہ تعالیٰ کا دین بلند کرنے کو،دوسرے مظلوم مسلمانوں کو جو کافروں کے ہاتھ بے بس پڑے ہیں ان کی خلاصی کرنے کو‘‘(موضح قرآن)

’’جبکہ اعلاء کلمۃ اﷲ تو خود جہاد کا ایک مستقل محرک اورقوی داعی ہے یہ (مظلوموں کی مدد) دوسرا داعی جہاد کے لئے ارشاد ہوا، کمزوروںکی دستگیری ونصرت اورمظلوموں کی اعانت اوراُنہیں ظالم کافروں کے پنجہ سے رہائی دلانا بجائے خود مقاصد جہاد میں سے ہے۔‘‘ (تفسیر ماجدی)

’’حق پرستوں کی اسی کمزور جماعت کیلئے سرفروشان اسلام کو میدان جنگ میں آنا لازمی ہے‘‘۔ (حاشیہ حضرت لاہوری رحمہ اﷲ)

اس حوالے سے دوسری رہنما آیت سورۃ انفال میں ہے۔ملاحظہ ہو۔

ترجمہ: اور اگر وہ دین کے معاملے میں تمہاری مدد چاہیں تو تمہیں ان کی مدد کرنا لازم ہے ( الانفال72)

ایسے مسلمان جو دارالحرب میں ہیں اور انہوں نے ہجرت نہیں کی،انہیں کفار کی طرف سے ستایا جائے اور وہ اس پر مسلمانوں سے نصرت و مدد کے طالب ہوں تو مسلمانوں پر ان کی مدد کو پہنچنا لازم ہے،یہاں بھی ’’فعلیکم‘‘  کے الفاظ میں حکم دیا گیا جس کا معنی عربی گرائمر کے مطابق یہ ہے کہ ’’تم پر واجب کر دیا گیا ہے‘‘۔

اس سے اگلی آیت میں ایک جملہ ہے جس کا ترجمہ یوں ہے:

’’اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہو گا‘‘

حضرت شاہ ولی اللہؒ فرماتے ہیں کہ اس جملے کا تعلق ’’فعلیکم النصر‘‘ کے حکم سے ہے۔یعنی تم پر لازم ہے کہ فوراً مظلوم مسلمانوں کی دعوت پر لبیک کہو اور ان کی مدد کو پہنچو،اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین پر فتنہ و فساد ہو گا کہ کفار دلیر و جری ہو کر ہر جگہ اسلامی سرزمینوں پر قبضہ کرتے پھریں گے اور شدید ظلم و ستم کے زور پر مسلمانوں کے ایمان کو خطرے میں ڈال دیں گے اور انہیں ارتداد پر مجبور کریں گے۔اس لئے مسلمانوں کو حکم ہے کہ باہمی تناصر کا ماحول قائم کریں اور کفار سے قطع تعلق کر لیں۔

نبی کریم ﷺ نے ایمان و اسلام کی علامات میں سے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔

’’مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کی مدد ترک کرتا ہے‘‘(مسند احمد)

یعنی جس طرح کسی مسلمان پر ظلم کرنا اسلام کے منافی عمل ہے اسی طرح مسلمانوں کی نصرت سے غافل رہنا اور اس سے اعراض کرنا بھی اسلامی شان کے خلاف ہے۔آقا مدنی ﷺ نے تمام مسلمانوں کو ’’جسد واحد‘‘ ایک جسم کی مانند قرار دیا اور فرمایا کہ جس طرح جسم کا کوئی عضو بھی تکلیف میں ہو تو تمام تر جسم اس کی تکلیف محسوس کرتا ہے۔اسلامی اخوت یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان کہیں بھی تکلیف و پریشانی میں ہو تو تمام مسلمان اس کے درد اور دکھ کو اپنے اوپر محسوس کریں۔اور جس طرح جسمانی تکلیف دور کرنے کے لئے مداوا کیا جاتا ہے اسی طرح ملی درد کو بھی صرف محسوس نہ کرے بلکہ اسے دور کرنے کی محنت اور کوشش بھی کرے۔قرآن و حدیث کی انہی نصوص کو سامنے رکھ کر حضرات فقہاء کرام نے اس مسئلے کی بہت پرزور الفاظ میں وضاحت کی ہے کہ اسلامی سرزمین پر قبضہ یا حملہ ہونے کی صورت میں مسلمانوں پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے،کسی مسلمان کے کفار کی قید میں چلے جانے سے دیگر مسلمانوں پر کیا طرز عمل اختیار کرنا لازم ہو جاتا ہے اور مسلمانوں کو کفار کے تسلط سے آزادی دلانے کی شرعی حیثیت کیا ہے۔

’’ان (مظلوم مسلمانوں) کے ساتھ ہماری ولایت قائم ہے اور ان کی نصرت ہم پر واجب ہے۔یہاں تک کہ کوئی ایک مسلمان بھی ایسا نہ رہے جو (نصرت مانگنے کی صورت میں) ان کی نصرت اور آزادی کے لئے نہ نکلے…یا ہم اپنے تمام اموال خرچ کر کے انہیں چھڑائیں یہاں تک کہ کسی کے پاس ایک درہم بھی باقی نہ رہے۔یہی قول ہے امام مالکؒ اوردیگر تمام علماء کرام کا۔انا للہ وانا الیہ راجعون(کس قدر افسوس کا مقام ہے) کہ مسلمانوں نے اپنے بھائیوں کو کفار کی غلامی اور قید میں چھوڑ رکھا ہے حالانکہ ان کے پاس اموال کے خزانے ہیں،بہترین احوال ہیں اور ہر طرح کی عددی ،مادی اور معاشی قوت رکھتے ہیں۔‘‘ (القرطبی)

 ’’تمام اُمت مسلمہ کا یہ واضح عقیدہ ہے کہ جب کسی مسلمان ملک کی سرحد پر دشمن کے حملے کا خوف ہو اوروہاں  کے مقامی باشندوں میں دشمن سے مقابلہ کی طاقت نہ ہو، اسی طرح ان کے شہر، ان کی جانیں، ان کی اولاد خطرہ میں پڑ جائیں ،تو پوری اُمت پر یہ فرض ہے کہ دشمن کے مقابلہ کے لئے سینہ سپرہوجائیں، تاکہ دشمن کی دست درازی کوروک دیا جائے اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ پوری امت اسپرمتفق ہے اس لئے کہ مسلمانوں میں سے کسی ایک کا بھی ایک ایسا قول نہیں کہ ایسی حالت میں مسلمانوں کے لئے جہاد چھوڑ کر بیٹھے رہنا جائز ہوگا کہ دشمن مسلمانوں کاقتل عام کرتے رہیں اور ان کے اہل وعیال کو قید کر کے ان سے غلاموںجیسا برتائو کرتے رہیں‘‘۔(احکام القرآن )‘‘

 ’’اُس صورت میں جب کہ کفار کسی مسلم علاقے پر ہلّہ بول دیں تو اس وقت مسلمانوں کے ہر فرد پر جو قدرت و استطاعت رکھتا ہو، جہاد فرض عین ہوگا۔

 دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 انفرواخفافا وثقالا (التوبۃ)

’’نکلو جہاد کے لیے ہلکے ہو یا بوجھل‘‘

(کچھ آگے چل کر اس کا حکم یوں بیان کرتے ہیں) چنانچہ اس جہاد میں غلام آقا کی اجازت کے بغیر، عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر حصہ لیں گے اور اسی طرح اولاد اپنے والدین کی اجازت کے بغیر جہاد فی سبیل اللہ کے لئے نکلے گی‘‘۔(بدائع الصنائع)

ان تمام عبارات سے یہ بات مکمل واضح ہو رہی ہے کہ کشمیر کے مسلمانوں نے ایمانی غیرت اور دینی تقاضے کی بنیاد پر کفر کی غلامی قبول کرنے کے جو انکار کیا ہے اور اپنی آزادی کے لئے ہتھیار اٹھایا ہے ان کا یہ عمل’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ ہے اور چونکہ انہوں نے ہم سے مدد مانگی ہے اس لئے قرآن و حدیث کی ان واضح نصوص کی رو سے ہم پر ان کی مدد لازم ہے۔ہم یہ مدد کس طرح کر سکتے ہیں اس کا منہج بھی آپ کو اسلاف کے الفاظ میں ہی بتا دیتے ہیں۔

امام قرطبیؒ لکھتے ہیں کہ’’ اگرسب لوگ جہاد سے روگردانی کرنے لگیں تو اکیلاآدمی کیا کرے؟یعنی اگراکثرلوگ جہاد چھوڑچکے ہوں (نعوذباللہ) توجوآدمی اس آیت پرعمل کرنا چاہے تواس کے لئے کیاطریقہ ہے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں کہ وہ فدیہ دے کر کسی ایک مسلمان قیدی کو آزاد کرائے اور اگر خود جہاد کرسکتاہو توخود لڑے ورنہ جولوگ جہاد کررہے ہوں ان تک سامانِ جہاد لے جائے۔‘‘ (قرطبی)

کشمیر کی تحریک کو جہاد ثابت کرنے اور ہم پر عائد فرض کی نشاندہی کے لئے اتنی موقر شہادات کافی نہیں؟

کتنی عجیب بات ہے کہ بہت سے لوگ ابھی تک جس عظیم جہاد کی شرعی حیثیت کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں امت کے اہل علم اسے اس ’’غزوۃ الہند‘‘ کا مصداق قرار دے چکے ہیں جس کی بشارت حضرت آقا مدنی ﷺ نے دی اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس میں شرکت کی تمنا فرمائی۔لیجیے! اس موضوع پر آخری موقر شہادت…

دور حاضر کے سب سے بڑے محقق عالم دین شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر قدس سرہ اپنے رسالہ’’شوقِ جہاد ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:

’’مختلف زمانوں میں متعدد غازیوں نے ہندوستان کے ساتھ جہاد کیا ہے، جو سب اس حدیث کی بشارت کے بحمداللہ مستحق ہیں اور اس وقت بھی ہندوستان کے خلاف لڑنے والے مجاہدینِ اسلام اس صحیح پیش گوئی کے حقدار ہیں کیونکہ اس وقت ہندوستانی فوجیں اور جنگجو حکام اپنی تعداد اور اسلحہ کی کثرت کے گھمنڈ میں جو مظالم نہتے مسلمانوں پر روا رکھ رہے ہیں اور زندہ مسلمانوں کو جلا رہے ہیں۔ جن میں معصوم بچے اور صنف نازک (خواتین) بیشتر ہیں اور جس طرح ان کی املاک کو نقصان پہنچایا جارہا ہے، (یہ سب) مسلمانوںکے لئے ایک بہت بڑا المیہ ہے اور اس جہاد میں شرکت ان کی مذہبی غیرت کا اولین تقاضا ہے۔‘‘

’’مجاہدین اسلام کی جس جماعت نے کشمیر، مشرقی پاکستان اور دیگر علاقوں کے مظلوم مسلمانوں کی آزادی حاصل کرنے اور اس کو برقرار رکھنے کی خاطر ہندوستان سے جہاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کا صلہ ان کو یوں عطاء فرمائیں گے کہ ان کو جہنم کی آگ سے رہائی اور آزادی کا پروانہ مرحمت فرمائیں گے بلکہ اس کا وعدہ وہ کرچکے ہیں۔ اب ضرورت ہے قدم بڑھانے کی اور ان شاء اللہ تعالیٰ:

اٹھیں تو گردش دوراں قدم بوسی کو حاضر ہو

بڑھیں تو لشکر کفار پر تیغ رواں ہم ہیں

(شوقِ جہاد :۲۷، ۲۸)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor