Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

کارنامے (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 435 (Talha-us-Saif) - karnamy

کارنامے

السلام علیکم..طلحہ السیف (کشمیر 435)

 ہر قوم کی پہچان اس کے ’’قومی سطح‘‘ پر کئے گئے کارناموں سے ہوتی ہے…

قومیں انہی کارناموں سے دنیا بھر میں جانی جاتی ہیں…ان کا نام تاریخ میں زندہ رہتا ہے…

یہ کارنامے عالمی سطح پر اس کا تعارف ہوتے ہیں، انہی کارناموں سے قوموں کے مزاج اور صلاحیتوں کا بھی اندازہ لگایا جاتا ہے۔پھر یہی کارہائے نمایاں قوموں کا فخر بھی ہوتے ہیں۔مجالس میں ان کا تذکرہ ہوتا ہے۔شاعر ان پر طبع آزمائی کرتے ہیں،ادیب نثر پارے اختراع کرتے ہیں،خطیب جوہر خطابت دکھاتے ہیں۔ہر سطح پر انہیں سراہا جاتا ہے اور جو لوگ ان میں حصہ دار ہوں انہیں ایک قومی ہیرو کا درجہ دیا جاتا ہے…

مگر ہمیں کیا ہوا ہے؟…

ہم ایسا کیوں نہیں کر رہے؟…

جو اخبار اٹھائیں،جس سے محو گفتگو ہوں،جس صاحب قلم کی تحریر پڑھیں وہی پرانی گھسی پٹی باتیں اور اتنا بڑا کارنامہ طاق نسیان میں رکھا ہوا ہے…

بجلی نہیں ہے…

امن نہیں ہے…

معیشت بد حال ہے…

گیس کے ذخائر اختتام پذیر ہیں…

روپیہ بے قدر سے بے قدر تر ہوتا جا رہا ہے…

حکمران کچھ نہیں کر رہے…

کرپشن کا زور زورہ ہے…

یہ پریشانی وہ پریشانی…

یہ بدحالی وہ بدحالی…

لوڈ شیڈنگ پر قابو نہیں پایا جا رہا…

ہسپتالوں میں دوائیں نہیں ،مریض سسک کر مر رہے ہیں…

تعلیم کا فقدان ہے…

قوم نکمی ہے،جاہل ہے،کاہل ہے…

کوئی تاریخ کو کوس رہا ہے اور کوئی مستقبل کے لئے پریشان …

کوئی حکمرانوں کے لتے لینے میں لگا ہے تو کوئی عوام کے…

کوئی قوم کو نہیں بتا رہا… نہ کوئی فخر کر رہا ہے…

نہ نظمیں لکھی جا رہی ہیں اور نہ ترانے…

بس یہی بتایا جا رہا ہے کہ ہم دنیا میں کرپشن میں چونتیسویں ،بد امنی میں نویں اور معاشی بدحالی میں چودھویں نمبر پر آ گئے ہیں…

کوئی نہیں بتا رہا کہ ہم …

دنیا میں سب سے بڑا انسانی پرچم بنانے والی قوم بن گئے ہیں…

’’لاہور میں پنجاب حکومت کے زیر اہتمام ہم نے سب سے بڑا پرچم بنانے کا عالمی ریکارڈ توڑ کر یہ کارنامہ اپنے نام کر لیا ہے‘‘…

مبارک ہو…مبارک ہو…مبارک ہو…

٭…٭…٭

مگر ٹھہریے…

مبارکباد مکمل نہیں… ساتھ ساتھ انتہائی گہرے رنج و الم کا اظہار کر کے آپ سے افسوس بھی کرتا چلوں…

وہ کام نہیں ہو سکا…

ہاں! وہ کام نہیں ہو سکا جو ہو جاتا تو آپ کے سارے غم دھل جاتے…

ساری پریشانیاں اڑ جاتیں…

بے روزگاری ختم ہو جاتی…

لوڈ شیڈنگ اڑن چھو ہو جاتی…

کرپشن کا نام و نشان باقی نہ رہتا…

غربت ڈھونڈنے پر بھی نہ ملتی…

بد عنوانی کو لوگ چراغ لے کر ڈھونڈھا کرتے…

اور بد امنی…اس کا تو نام ہی قوم بھول جاتی…

مگر افسوس وہ نہ ہو سکا…

ہمارے حکمرانوں نے پوری کوشش کی…

تمام وسائل بروئے کار لائے…

اربوں روپے جھونک دیے…

دن رات کا آرام قربان کیا…

اور وسیع تر انتظامات بھی…

مگر قوم کی بد قسمتی … کہ وہ کام نہ ہو سکا …

صرف دو چار ہاتھ ہی لب بام رہ گیا تھا…مگر کمند وہیں آن ٹوٹی…

26فروری بروز پیر…لاہور میں 2 لاکھ لوگوں نے مل کر قومی ترانہ گانے کا عالمی ریکارڈ قائم کرنا تھا مگر یہ پروگرام منسوخ کرنا پڑا…

آہ افسوس! کتنے بھوکے،بھوکے رہ گئے اور کتنے بے روزگار ، بے روزگار…

مگر کیوں؟…

وجہ یہ ہے کہ انتظام صرف دو لاکھ لوگوں کا تھا اور رجسٹریشن کرادی چار لاکھ (بے وقوفوں) نے…

یوں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان اور پاکستانی قوم اس تاریخ ساز عالمی کارنامے سے محروم رہ گئی…

آہ افسوس!…

٭…٭…٭

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے’’میاں پنجاب شریف‘‘ میں دنیا کا سب سے طویل المدتی میلہ جاری ہے

اس کا نام ہے’’ یوتھ فیسٹیول‘‘ …

خوب موج میلہ ہے اور عجیب مستی…

طرح طرح کے کھیل ہیں اور نت نئے تماشے…

انہیں دیکھ کر صوبہ سندھ بھٹو زرداری کی انتظامیہ کے منہ میں بھی پانی آیا اور انہوں نے بھی ایک میلہ منعقد کر ڈالا۔جس کا عنوان ہے ’’سندھ فیسٹیول‘‘…

میاں پنجاب شریف والے فیسٹیول کی قیادت ’’میاں حمزہ شہباز شریف‘‘ اور ’’صوبہ سندھ بھٹو زرداری‘‘ والے میلے کا کپتان ’’ بلاول بھٹو زرداری‘‘ ہے…

دونوں میلوں نے قوم کی حالت بدل کر رکھ دی ہے…

شدت پسندی کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔پنجاب میں کھیلوں میں لڑکیوں کی بھرپور شرکت اور سندھ میں اجرک کے منی سکرٹ پہنی ماڈلوں کی کیٹ واک نے ہر شدت پسند کی کمر کے دو ٹکڑے کر دیے ہیں۔آج کل ہر شدت پسند رات کو بروفن کی دو گولیوں کے بغیر سو نہیں سکتا…اور فیسٹیول منعقد کرنے والوں کے بیان کے مطابق اولین ہدف بھی ان تماشوں کا یہی تھا…

دوسرا ہدف یہ بتایا گیا تھا کہ یہ قوم کے ستے ہوئے چہروں پر مسکراہٹ لانے کی ایک کوشش ہے…

یقین کیجیے یہ ہدف بھی حرف بحرف پورا ہوا…

قوم کے اربوں روپے کے خرچ پر منعقد ہونے والے ان میلوں کے دوران جتنے لوگوں نے بھی بھوک،غربت،بجلی کی اوور بلنگ وغیرہ کے سبب خود کشیاں کیں سب کے چہروں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی جو پہلے نہیں دیکھی جاتی تھی…

سرکاری ہسپتالوں میں دواؤں کی عدم دستیابی کی وجہ سے مرنے والا ہر مریض بھی ہنستا ہوا رخصت ہو رہا ہے…

اور سرکاری اداروں میں فنڈز کی کمیابی کے سبب تنخواہ نہ پانے والے ملازمین بھی ہر وقت مسکراتے رہتے ہیں…

اور ذرا اپنا چہرہ دیکھئے! آپ بھی تو مسکرا رہے ہیں…

یوتھ فیسٹیول زندہ باد

سندھ فیسٹیول پائندہ باد

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor