Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جہاد کا بیانیہ (1) (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف

Assalam-o-Alaikum 531 (Talha-us-Saif) - liberal pakistan

جہاد کا بیانیہ (1)

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 531)

بیانیوں کی بھرمارکا دور ہے اور جدید بیانیوں میں سب سے اہمیت کے ساتھ جو مسئلہ اٹھایا جارہا ہے وہ یہ "جہاد" کا ہے۔ضروری ہے کہ جہاد کا وہ بیانیہ اس وقت امت کے سامنے رکھا جائے جو صدیوں سے متفق علیہ چلا آرہا ہے۔احکام اسلام میں جہاد وہ حکم ہے جس کے باب میں فقہی اختلافات دیگر احکام کی نسبت بہت کم ہیں۔اسکے اکثر معاملات اجماعی ہیں۔وجہ اسکی یہ ہے کہ جہاد کاحکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر عمر مبارک کے آخری دس سالوں میں نازل ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کم ازکم 27بار خود صحابہ کرام کی جماعت کے ساتھ نکلے۔ہر غزوے میں ایک کثیر جماعت ہمرکاب رہی جسکی تعداد بعض اوقات دس ہزار سے بھی متجاوز رہی اس طرح جو عمل بھی نقل ہوا تواتر سے ہوا۔۔احکام جہاد جدلی انداز میں نازل ہوئے اسلئے سب کو یاد رہے۔جہاد کے باب میں جو کوتاہی کسی سے سرزد ہوئی اس پر قرآن نازل ہوگیا اور بات محفوظ ہوگئی۔اسلئے اگلے زمانوں میں بھی اسکی تعبیرو تشریح اور کلیات وجزئیات متفق علیہ رہے۔تبدیلی کی ہوائیں کافی آگے جاکر چلیں اور جہاد اکبر واصغر جیسے مسائل اٹھے مگر امت کا تعامل ہمیشہ ان رجحانات کی نفی کرتا آیا۔یہ پہلا موقع ہے کہ اس حکم شرعی پر چوطرفہ یلغار ہے اور غامدی بیانیے کے ذریعے معنی ،حکم،شرائط اور اہداف ومقاصد سب بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اسلئے ضروری ہے کہ ان ساری چیزوں کا اصل اسلامی مصداق سامنے رکھا جائے۔آج پہلے مرحلے میں جہاد کے معنی سے متعلق اسلامی بیانیہ ملاحظہ ہو۔اسکے بعد حکم اور اہداف اور آخر میں شرائط سے متعلق مغالطوں کی حقیقت بیان کرنے کی کوشش ہوگی۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جو احکام مسلمانوں پرفرض فرمائے ہیں وہ "اصطلاحات" ہیں۔

وہ الصلوٰۃ ہو یا الصوم، الحج ہو یا الزکوۃ و الجہاداوراسی طرح دیگر شرعی اصطلاحات۔یہ الفاظ اب  اپنی لغوی تعبیرات سے ہٹے ہوئے ہیں لیکن ان سب کے معنی متعین ہیں۔ اور احکام ، فضائل، مسائل ، وعیدیں سب کا تعلق اسی معنی سے ہے۔

امت مسلمہ کا اس بارے میں کوئی اختلاف بھی نہیں۔

مگر ’’جہاد‘‘ کے بارے میں بعض لوگوں نے ایک الگ سے رائے قائم کر لی ہے اور آج کل پھر اس کا پر چار زوروں پر ہے۔

ان حضرات کا خیال ہے کہ ’’ جہاد ‘‘ کے کوئی ایک معنی متعین نہیں ہیں بلکہ محنت اور مشقت والے ہر کام کو چونکہ ’’ جہاد ‘‘ کہا جا سکتا ہے اس لئے ہر وہ ایسا کام کر لینے سے فریضہ جہاد ادا ہو جاتا ہے اور فضائل بھی مل جاتے ہیں۔

کیا واقعی ایسا ہے؟؟

محکم اور پختہ شرعی اصولوں کی رو سے ہرگز نہیں۔ ہاں ’’بہانے‘‘(یابیانیے)کی حد تک یہ بات درست ہے اور ’’ جہاد ‘‘ کے باب میں بہانے بنانے والوں کے ذکر سے قرآن مجید بھرا ہوا ہے…

دلیل کے طور پر صرف یہ بات پیش کی جاتی ہے کہ عربی زبان میں ’’ جہاد ‘‘ کا معنی صرف لڑنا نہیں بلکہ محنت اور مشقت کا ہر کام ہے… اور قرآن مجید چونکہ عربی زبان میں نازل ہوا اس لئے اس میں جہاں جہاں بھی لفظ ’’ جہاد ‘‘ آیا ہے اس کا معنی عام ہے …

آئیے ذرا اس بات کو شریعت کے ایک مسلم اصول کی رو سے سمجھ لیں…

ہر لفظ کے چار طرح کے معنی ہوتے ہیں…

(۱) معنی لغوی… کسی بھی لفظ کے وہ معنی جس کے اظہار کے لئے یہ لفظ بنایا گیا…

مثالیں روز مرہ کے کلام میں لاکھوں ہیں اور ہر زبان میں…

(۲) معنی شرعی… ایک لفظ کے معنی لغوی کے علاوہ وہ معنی جسے شریعت میں ( قرآن و حدیث) میں ذکر کیا گیا ہو۔ مثال اس کی تمام فرائضِ اسلام ہیں۔ مثلاً ’’ صلوٰۃ ‘‘ عربی زبان میں ’’ دعا ‘‘ کو کہتے ہیں۔ اسی لئے درود شریف کو بھی ’’ صلوٰۃ ‘‘ کہا جاتا ہے کہ اس کا معنی نبی کریمﷺ کے لئے رحمت کی دعا کرنا ہے اور اس لفظ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کا معنی ہے ’’ رحمت نازل کرنا ‘‘

’’ صوم ‘‘ عربی زبان میں کسی کام سے رک جانے کو کہتے ہیں۔ خواہ کسی بھی کام سے رکنا ہو۔ چلنے سے رکنا، بات کرنے سے رکنا، کھانے پینے سے رکنا وغیرہ

’’ زکوٰۃ ‘‘ کے معنی پاک کرنے کے آتے ہیں… خواہ کسی چیز کا پاک کرنا ہو…

اور ’’ حج ‘‘ کے معنی ارادے اور قصد کے ہیں…

شریعت نے ان الفاظ کو بعض مخصوص عبادات کا نام قرار دے کر ان کے معنی میں خاص کر دیا…

’’ صلوٰۃ ‘‘ نام رکھ دیا گیا اس عبادت کا جو مخصوص افعال کے ساتھ ادا کی جاتی ہے… تکبیر تحریمہ سے شروع اور سلام پر ختم ہوتی ہے۔ ’’ صوم ‘‘ نام رکھا گیا رمضان المبارک کے ایام میں صبح صادق سے غروب آفتاب تک بھوکے پیاسے رہنے اور بیویوں کی قربت سے اجتناب کرنے کا… ’’ زکوٰۃ ‘‘ سال گزر جانے پر اپنے مال کے ایک متعین حصے کو اللہ تعالیٰ کے نام پر خرچ کرنے کو کہا گیا اور ’’ حج ‘‘ بیت اللہ کی طرف سفر اور وہاں مخصوص افعال کی ادائیگی کے معنی میں متعین کر دیا گیا…

اب یہ ان الفاظ کے شرعی معنی ہوئے…

اسلامی فقہ کا مسلمہ اور غیر اختلافی اصول یہ ہے کہ جب کسی لفظ کے شرعی معنی آ جائیں تو پھر وہی اس لفظ کے حقیقی معنی ہوتے ہیں… اور قرآن و حدیث میں جب بھی یہ لفظ وارد ہو تو اسی معنی میں سمجھا جاتا ہے نہ کہ اپنے لغوی معنی میں… اس لفظ سے متعلق نازل ہونے والے احکام ، فضائل، مسائل، مبشرات اور وعیدوں کا تعلق اسی معنی سے متعلق ہوتے ہیں نہ کہ عمومی لغوی معنی سے… فریضے کی ادائیگی بھی اسی معنی  پر عمل کرنے سے ہوتی ہے نہ کہ لغوی معنی پر عمل کر لینے سے…

اب ’’ دعا ‘‘ کرنے یا درود پڑھنے سے ’’ اقیموا الصلوٰۃ ‘‘ کے حکم پر عمل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی نماز کی کوئی فضیلت دعا و درود سے حاصل ہو سکتی ہے حالانکہ لفظ صلوٰۃ کے ایک معنی پر تو دعا کرنے سے عمل ہو جاتا ہے…

اب کسی کے اصطلاح شرعی کے بارے میں یہ باور کرلینا کہ اس کی لغوی تعبیر پر عمل سے اصل فریضہ ادا ہوجاتا ہے پورے دین کا حلیہ بگاڑ دے گا۔اگر جہاد کے بارے میں معیار بدل دیا جائے تو باقی احکام اپنے دائرے میں کیونکر باقی رہ سکیں گے؟۔

آئیے! اس تناظر میں لفظ ’’ جہاد ‘‘ کا جائزہ لیتے ہیں…

جہاد لغت میں کسی مقصد کے حصول کے لیے محنت اور کوشش کو کہتے ہیں جب کسی مخالف فریق کے خلاف ہو۔

ھو استفراغ الوسع فی المدافعۃ بین الطرفین ولو تقدیراً ( لسان العرب)

قرآن مجید کی مکی سورتوں میں ’’جہاد‘‘ اسی معنی میں وارد ہوا ہے۔ حتی کی ان آیات میں کافر کے عمل پر بھی جہاد کا اطلاق ہوا ہے… وان جاھداک علی ان تشرک بی (الآیہ)

ترجمہ: ’’اگر کافر والدین زور ڈالیں کہ تو شرک کر میرے ساتھ‘‘

کافر والدین کے مومن اولاد کو شرک کی طرف بلانے میں زور صرف کرنے کو جہاد کہا گیا…

اس معنی میں جہاد کسی عبادت کا نام نہیں تھا…

مدینہ منورہ میں ’’ جہاد ‘‘ کا لفظ ایک فریضے کے بیان کے طور پر ہوا اور ایک عبادت کا نام رکھ دیا گیا…

ایک ایسی عبادت جسے انسانوں کی دیگر عبادات سے افضل قرار دے دیا گیا…

اس کی طرف شدت سے بلایا گیا… آنے والوں کے لئے خوب انعامات کا اعلان ہوا اور نہ آنے والوں پر سخت وعید اتاری گئی…

اب یقیناً یہ الفاظ اپنے عام لغوی مفہوم میں نہیں رہا بلکہ صلوٰۃ، زکوٰۃ، حج اور صوم کی طرح ایک خاص معنی میں ہو گیا… اب اس کے احکام، مسائل فضائل، مبشرات، اور وعیدیں تمام تر اسی معنی سے متعلق ہوں گے…

وہ معنی کیا ہیں؟؟… احکام شریعت کو امت کے لئے کھول کر بیان کرنے والے فقہاء کرام سے پوچھیں تو وہ تمام تر اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ’’ جہاد ‘‘ کے شرعی معنی ’’ قتال‘‘ میں محنت صرف کرنا ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے چاروں فقہی مسالک کی معتبر کتب سے جہاد کے معنی:

جہاد کی تعریف فقہ حنفی میں

(۱) اَلجِہَادُ بَذلُ الوَسعِ وَالطَّاقَۃِ بِالقِتَالِ فِی سَبِیلِ اللہ عَزَّوَجَلَّ بِالنَّفسِ وَالمَالِ وَالِّلسَانِ وَغَیرِذَالِکَ۔

قتال فی سبیل اللہ میں اپنی جان، مال اور زبان اور دوسری چیزوں سے بھرپور کوشش کرنے کو جہاد کہتے ہیں۔(البدائع والصنائع)

(۲)اَلجِہَادُ دَعوَۃُ الکُفَّارِ اِلَی الدِّ ینِ الحَقِّ وَقِتَالُھُم اِن لَّم یَقبَلْوا۔

جہاد کے معنی کافروں کو دین حق کی طرف دعوت دینا اور ان سے قتال کرنا، اگر وہ دین حق کو قبول نہ کریں۔ (فتح القدیر)

جہاد کی تعریف فقہ مالکی میں

قِتَالُ المْسلِم کَافِراً  غَیرَ ذِی عَہدٍ لِاِعلَائِ کَلِمَۃِ اللہ

جہاد کے معنی ہیں مسلمانوں کاغیر ذی عہد کافروں سے اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لئے قتال کرنا۔ (حاشیہ العدوی ، الشرح الصغیر)

جہاد کی تعریف فقہ شافعی میں

وَشَرعًابَذلُ الجُہدِفِی قِتَالِ الکُفَّارِ۔

اور جہاد کے شرعی معنی، اپنی پوری کوشش کافروں سے قتال کرنے میں صرف کرنا۔(فتح الباری)

جہاد کی تعریف فقہ حنبلی میں

اَلجِہَادُ قِتَالُ الکُفَّارِ

جہا دکافروں سے لڑنے کو کہتے ہیں۔ (مطالب لاولی النہی)( فضائل جہاد ص ۷۲۱)

محدثین کرام کا طرز عمل ملاحظہ ہو کہ وہ اپنی کتب میں ’’ کتاب الجہاد ‘‘ کے عنوان کے تحت وہ احادیث ذکر کرتے ہیں جن کا تعلق حکم قتال سے ہے اور کسی محدث کا طرز عمل بھی اس کے خلاف نہیں…

صحیح بخاری سے ایک آخری درجے کی کتاب تک…

مفسرین کرام نے ’’ جہاد ‘‘ کس معنی میں سمجھا؟… تمام تر معتبر کتب تفسیر میں قرآن مجید کی مدنی آیتوں میں لفظ جہاد کی تشریح قتال سے کی گئی ہے۔ اردوخوان حضرات ’’ فتح الجواد  فی معارف آیات الجہاد ‘‘ ( امیر المجاہدین حضرت مولنا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ تعالیٰ ) میں درج حوالہ جات سے با آسانی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ مزید آسانی درکار ہو تو ترجمہ حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ ملاحظہ کر لیں…

’’جہاد ‘‘ کا ترجمہ تمام مدنی آیات میں ’’ لڑنے ‘‘ سے کیا گیا ہے…

امت کے یہ تین طبقات ہی ایسے ہیں جن کی رائے احکام شریعت کے باب میں معتبر ہے اور ان تینوں کا اتفاقی طرز عمل آپ کے سامنے رکھ دیا گیا ہے…

رہی بات صوفیاء کرام کی اصطلاحات کی… تو علمائِ امت نے صوفیاء کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے بھی یہ بات اتفاقی طور پر لکھ دی ہے کہ صوفیاء کی اصطلاحات کا احکام شریعت کے باب میں کوئی درجہ نہیں ہے…

یوں کہنا کہ ’’ قتال ‘‘ بلاشبہ جہاد کے شعبہ جات میں سے ایک بڑا شعبہ ہے لیکن’’ جہاد ‘‘کے معنی اسی کے لئے خاص نہیں۔ا س لئے قتال کے ترک سے پورے جہاد کا ترک لازم نہیں آتا…قرآن، حدیث اور فقہاء کرام کی تصریحات کے خلاف بات ہے…

(۱) قرآن مجید کی جن آیات میں مسلمانوں کو ترک جہاد پر سخت وعیدیں دی گئیں ان وعیدوں کا مصداق ’’ جہاد ‘‘ کا کونسا شعبہ ہے؟

(۲) صحابہ کرام نے نبی کریمﷺ سے ’’ جہاد ‘‘ کے برابر عمل کا سوال کیا… بخاری و مسلم دونوں میں روایت ہے… اگر دین میںمشقت والا ہر عمل جہاد تھا تو یہ کس عمل کی برابری کی خواہش میں سوال کیا گیا؟ …

(۳) سورۃ النساء میں اور سورۃ توبہ میں ’’ جہاد ‘‘ کر نے والے مسلمانوں کو دیگر تمام سے افضل قرار دیا گیا… درجے اور مقام میں بھی… اجر میں بھی … ان آیات میں ’’ جہاد ‘‘ کا کونسا شعبہ مراد ہے؟ اگر مسلمانوں کے ہر مشقت والے عمل پر جہاد کا اطلاق ہو سکتا ہے تو غیر مجاہد کون سا مسلمان ہوا؟ پھر افضل کون اور کم درجے والا کون؟؟؟…

(۴) امام سرخسی رحمۃ اللہ علیہ نے المبسوط میں امت مسلمہ کا جہاد کے بارے میں جو اجماعی عقیدہ ذکر کیا ہے:الجہاد فریضۃ محکمۃ

( جہاد ایک محکم فریضہ ہے )

اس سے’’ جہاد ‘‘ کا کونسا فرد مراد ہے؟ کیا ہر وہ عمل فرض ہے جس میں محنت اور مشقت کے معنی ہوں؟… کیا امت مسلمہ کا کوئی ایک اہل علم بھی اس بات کا قائل ہے؟؟…

بات طویل ہو جائے گی … خلاصہ کرتے ہیں…

’’ جہاد ‘‘ کے شرعی معنی ’’ قتال فی سبیل اللہ ‘‘ ہیں۔ فقہائ، محدثین، اور مفسرین اس پر متفق ہیں…

شریعت کے مسلمہ اصولوں کی رو سے حکم شرعی، اس کے فضائل و احکام کا تعلق معنی شرعی سے ہوتا ہے نہ کہ معنی لغوی سے… اور یہ اصول نماز سمیت تمام احکام میں لاگو ہے…

لہٰذا قرآن مجید کی مدنی سورتوں اور نبی کریمﷺ کی احادیث مبارکہ میں جہاد عموماً اسی معنی میں استعمال ہوا ہے… اس کے معنی میں عموم کا قول قرآن ، حدیث اور مسلمہ اصول دین کے خلاف ہے۔

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor