Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جہاد کا بیانیہ (2) (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف

Assalam-o-Alaikum 532 (Talha-us-Saif) - liberal pakistan

جہاد کا بیانیہ (2)

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 532)

حکم اعتقادی:

قتال فی سبیل اللہ: اللہ تعالی کا نازل فرمودہ محکم فریضہ اور حتمی فیصلہ ہے۔ اس کا منکر کافر قرار دیا جائے گا اوراس سے متعلق عناد رکھنے والے کو گمراہ کہا جائے گا۔ (المحیط للسرخسیؒ بحوالہ فتح القدیر)

جہاد فی سبیل اللہ محکم فریضہ ہے، جس کا منکر کا فر ہے ۔ اس کی فر ضیت کتاب اللہ، سنت رسول اللہ ﷺ اور اجماع امت سے ثابت ہے (فتح القدیربحوالہ الاختیا ر)

حکم عملی:

ابن عطیہ کہتے ہیں:جس بات پر اجما ع قائم ہے، وہ یہ کہ جہاد امت محمدیہ پر فرض علی الکفایہ ہے اگر اتنے لوگ اس کام میں لگے ہوں جو کفایت کر جائیںتو بقیہ سے فریضہ ساقط ہو جاتا ہے،ہا ں مگر دشمن اسلامی حدود میں آجائے تو فرض عین ہو جاتا ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن)

جہاد کا حکم یہ ہے کہ وہ باجماعِ امت فرض کفایہ ہے (ابن رُشد)

ابتدائً فرض کفایہ ہے اگر کفار ہم پر لڑائی مسلط نہ کر یں۔(تنویر الابصار شرح رد المحتار)

کفار اگر اپنے علاقے میں ہوں اور مسلمانوں پر حملے کی نیت سے نہ نکلے ہوں تو فرض کفایہ ہے۔ (النووی)

کفایہ کی مقدار:

مسلمانوں کے امام کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر سال میں ایک مرتبہ یا دو مرتبہ دارالحرب کی طرف لشکر روانہ کرے،اور عوام پر ضروری ہے کہ وہ اس میں اپنے امام کی مدد کریں اگر امام لشکر نہیں بھیجے گا تو گناہ گار ہوگا۔(شامی)

امام پر یہ بھی فرض ہے کہ سال میں ایک بار کفار پر حملہ آور ہو ۔ اس میں یا تو خود قیادت کرے یا کسی کو نائب بنائے۔(القرطبی ج ۸ ص۳۸)

اگر مسلمان تر کِ جہاد پر جمع ہو جائیں تو سب گناہ میں شریک ہو ں گے،اس صورت میں امام پر لازم ہے کہ وہ اس معاملے پر غور کرے کیونکہ وہ مسلمانوں کا مقرر کردہ حکمران اوران کی جماعت کاقائم مقام ہے لہٰذا اس پر لازم ہے کہ سرحدوں کو خالی نہ چھوڑے اور کفار کو دین کی طرف بلانا بند نہ کرے اور مسلمانوں کو جہاد پر اُبھارے۔ اسی طرح کفار کو اسلام میں داخلے یا جزیہ دے کر رہنے کی دعوت حتی الامکان ترک نہ کرے اور اگر کفار مسلمانوں سے کہیں کہ ہم سے اس بات کا معاہدہ کرو کہ ہم اور تم آپس میں قتال نہ کریں گے،تو مسلمانوں کے لیے یہ معاہدہ کر لینا درست نہیںکیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے، ’’اورکمزور نہ پڑو نہ ہی غم کرو تم ہی غالب رہو گے، (آل عمران ۱۲۹)

اور یہ معاہدہ اس وجہ سے بھی درست نہیں کہ انہوں نے ایک فریضہ کے مستقل ترک پر معاہدہ چاہاکیونکہ جہادفرض ہے۔ (شرح السیر الکبیرج۱ ص ۱۹۰۔ ۱۹۱)

فرض عین:

کیا جہاد کبھی فرض عین بھی ہوجا تا ہے یاہمیشہ فر ض کفایہ رہتا ہے؟

اوپر ابن عطیہ کی عبارت جو القرطبی کے حوالے سے منقول ہے اس میں جس طرح جہاد کے ابتداء میں فرض کفایہ ہونے پر اجماع منقول ہے اسی طرح اس بات پر بھی ہے کہ اگردشمن بلاد مسلمین میں داخل ہو جائے یا داخلے کے لیے چل پڑے تو جہاد فرض عین ہوجا تا ہے اور فرض عین ہونے کی صرف یہی نہیں کئی صورتیںہیں۔کئی علماء مثلا امام التابعین سعیدابن مسیب وغیرہ کا فرما ن تو یہ ہے کہ جہاد تمام مسلمانوں پر فرداً فرداً فرض عین ہے،کسی ایک کے اداء کرنے سے دوسرے کا فریضہ ساقط نہیں ہوتا۔ البتہ جواجماعی مسئلہ ہے اس میں فرض عین ہونے کی صورتیں درج ذیل ہیں ـ:

۱) جب کفار مسلمانو ں کے کسی علاقہ پر قبضہ کر لیں یا قبضہ کے لیے لشکر روانہ کر دیںاور کسی علاقہ کے مسلمانوں کو قتل یا قید کر لیں یااس جیسی کوئی اورصورتحال پیش آجائے ۔

امام قرطبی فرماتے ہیں :

کبھی ایسی حالت پیش آتی ہے جس میں سب کا نکلنا لا زم ہو جا تا ہے۔ (منجملہ ان کے) یہ کہ اگر کسی علاقہ پر دشمن کا غلبہ ہو جائے یا وہ اسلامی سرزمین میں گھس آئے، جب یہ صور ت حال پیش آئے تو اس علاقہ کے تمام لو گوں پر واجب ہوجا تا ہے ، کہ قوت مند ہوں یا کمزور، جوان ہو یا بوڑھے ان کے مقابل نکلیں، ہر شخص اپنی وسعت کے بقدر حصہ لے۔جس کا با پ ہو وہ اس کی اجازت کے بغیر نکلے ، جو شخص بھی نکل کر لڑسکتا ہو یا مسلما نوں کے لشکر کی تعدادبڑھا سکتا ہو نکلے اور اگر اس علاقہ کے لوگ نا کا فی ہو ں تو ان کے قریب پڑوس کے علاقے پر لا زم ہے کہ اسی طرح نکلیں جس طرح اس علاقہ کے لوگوں پر لازم ہواتھا یہاں تک کہ اس مقبوضہ علاقے کے لو گوں کو دشمن کے مقابلے کی قوت نصیب ہو اور وہ جا ن لیں کہ اب لڑائی کر سکتے ہیں ، اسی طرح ہر اس مسلمان پر نکلنا لازم ہو جاتا ہے جسے اس مقبوضہ علاقہ کے لو گوں کے احوال معلوم ہوں اور اسے اندازہ ہو کہ وہ ان کی مدد کو پہنچ سکتا ہے اور انکی قوت بڑھا کر انکی مدد کرسکتا ہے ۔

اگر دشمن دارالاسلام کے قریب پہنچ چکا ہو، ابھی اس میں داخل نہ ہوا ہو تب بھی اہل ایمان پر خروج لازم ہو جاتا ہے تاکہ اللہ تعالی کا دین سربلند ہو اوراسلامی سرزمین کی حفاظت ہو اور دشمن کو جواب دیا جاسکے اور اس بات میں علماء کا کوئی اختلاف نہیں ہے (الجامع لاحکام القرآن حوالہ بالا)

(یہی مضمون امام شافعی ؒ کی کتاب الاُمّ ،بدائع الصنائع ، اور الشرح الکبیر میں موجود ہے)

ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:

جب دشمن اسلامی بلاد میں داخل ہو جائے تو کوئی شک نہیں کہ اس کو نکال باہر کرنا فرض ہو جا تا ہے’’ الاقر ب فالاقرب ‘‘کے قانون کے مطابق (یعنی پہلے اس علاقے کے شہریو ں پر پھر ان کے قریب پھر انکے قریب والوں پر) کیونکہ تمام عالم اسلام بمنزلہ ایک شہر کے ہے۔(فتاوی ابن تیمیہ ج۴ ۔ ص۶۰۹)

الامام جصاص رازی الحنفی فرماتے ہیں :

مسلمانوں کا یہ عقیدہ معروف (اجماعی) ہے کہ جب اسلامی سر حد پر مقیم مسلمانو ں کو حملے کا خطرہ ہو اوران میںاپنے دفاع کی قوت نہ ہو اور ان کو جا ن اور عزت کا خوف لاحق ہو جائے تو تمام مسلمانوں پر فرض ہو جا تا ہے کہ ان کی مددکو نکلیں اور دشمن کی جارحیت سے ان کو بچائیں ،یہ ایسی بات ہے جس میں مسلمانوں کا کوئی اختلاف نہیں (احکام القرآن للجصاص ج۳ ص ۱۴۷)

۲)دوسری صورت فرض عین ہو نے کی یہ ہے کہ مسلمانو ں کا امیر شرعی ’’نفیر عام ‘‘ کا اعلان کر دے یعنی تمام مسلمانوں کو نکلنے کا کہہ دے ،اس صورت میں سوائے ان مسلمانوں کے جنہیں امام خودروک دے باقی تمام مسلمانوں پر خروج فرض ہو جا تا ہے خواہ وہ کسی حال میں بھی ہوں ۔           

کیونکہ اللہ تعالی نے نکلنے کا حکم ہوجانے کی صورت میں نکلنا لازم فرمایا ہے ۔(سورۃ توبہ آیت ۳۸۔۳۹)

اور اس آیت کا عام مصداق وہ وقت ہے جب دشمن کے قریب رہنے والے مسلمانوں میں دشمن کی مقاومت کی قوت موجود نہ ہو اور امام انکی مدد کے لیے مسلمانوں کو نکلنے کا حکم دے دے ، لیکن اگر امام بلاضرورت شدیدہ اور ایسی حالت میں بھی نکلنے کا حکم کردے جب سر حدوں والے اپنے دفاع پر خود قادر ہو ں تب بھی جنہیں حکم دیا جا ئے ان پر نکلنا لازم ہو جا تا ہے ۔ (احکام القرآن حوالہ بالا)

یہ مسئلہ اجماعی ہے اور فقہاء کرام نے اس پر یہ اصول وضع کیا ہے کہ امام کا حکم آجانے سے فرض کفایہ بھی فرض عین بن جا تا ہے۔

۳)اور تیسری صورت فرض عین ہونے کی یہ ہے کہ جب دشمن کا آمنا سامنا ہو جا ئے اور لڑائی کا بگل بجا دیا جائے، تو جہاد اس وقت خواہ فرض کفایہ تھا یا نفل لشکر میں موجود ہر شخص پر لڑائی میں حصہ لینا فرض عین ہو جا تا ہے اورفرار اختیار کر ناحرام ہو جا تا ہے۔

شرائط:

 ۱)اسلام:کیونکہ تمام نصوص میں اہل ایمان کو خطاب کر کے جہادکا حکم دیا گیا ہے اور چونکہ جہاد عبادت ہے اور عبادت کا مکلف صرف اہل ایمان ہے۔

۲) بلوغ:

۳) عاقل ہو نا :تمام تکالیف شرعیہ عاقل بالغ مسلمان پر ہیں اسی طرح جہاد بھی ۔

۴)مرد ہو نا :بخاری شریف کی روایت ہے حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے جہاد میںنکلنے کی اجازت طلب کی آپ ﷺ نے فرمایا:تم عورتوں کا جہاد حج ہے۔

اس سے فقہاء نے استنبا ط کیا ہے کہ خواتین پر جہاد لازم نہیں البتہ نفیر عام کی صورت میںاگر امام عورتوں کو بھی نکلنے کا حکم دے دے تو ان پر لازم ہو جا تا ہے۔

۵) آزاد ہو نا:غلام پر اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکلنا فرض نہیں۔

۶) قدرت ہونا :اس کے دو پہلو ہیں:

(۱) بدن کی سلامتی ، ایسا شخص جو جسمانی معذوری کی وجہ سے جہاد میں شرکت سے قاصر ہو وہ جہاد کا مکلف نہیں ، مثلا ، اندھا ،لنگڑا، اور ایسے مرض کا شکار جو چلنے پھرنے سے معذورکر دے، معمولی مرض یا ایساعذر جو جہاد میں مانع نہ ہومستثنیٰ نہیں۔

بدائع الصنائع میں ہے:

اندھے پر ، لنگڑے پر ، دائم المرض،انتہائی بوڑھے  اور ضعیف پر لازم نہیں ۔(ج ۷ ص۹۸)

(۲) زادِ راہ کا ہو نا ،البتہ جب حکومت یا مسلمانوں کی جماعت اسباب کی فراہمی کی ذمہ داری لے لے تو یہ ان کے ذمہ ہو نے کی وجہ سے شرط سے ساقط ہو جا تا ہے ۔

(جاری ہے)

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor