Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جہاد کا بیانیہ (3) (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف

Assalam-o-Alaikum 533 (Talha-us-Saif) - liberal pakistan

جہاد کا بیانیہ (3)

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 533)

اَہداف

جہاد کی مشروعیت جن اَہداف کے حصول کے لئے ہے وہ درج ذیل ہیں:

(۱) حفظُ الدعوۃ

کفار کو دعوت اِسلام پہنچانا فرض ہے اور جو کفار اس دعوت کو قبول نہ کریں انہیں جزیہ قبول کرنے کی دعوت دینا اور اگر اسے بھی قبول نہ کریں تو ان سے قتال کرنا۔

اسے اِقدامی جہاد کہا جاتا ہے۔ یہ فرض کفایہ ہے اور اس کا حکم پچھلی قسط میں گزر چکا۔

اس قسم کے جہاد سے پہلے کفار کو دعوت دینا بھی ضروری ہے اور اس اَمر کا اِلتزام بھی کہ ان کفار پر چڑھائی نہ کی جائے جن سے جنگ بندی کا معاہدہ ہو یا جو جزیہ قبول کر چکے ہوں۔ حضرات صحابہ کرام کے لشکروں کا شام و فارس کے خلاف بڑی بڑی جنگیں لڑنا اسی قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔نبی کریم ﷺ کے کفار کے بادشاہوں کو لکھے گئے خطوط کو فرضِ دعوت کی ادائیگی کے لئے کافی سمجھا گیا۔ قتال سے پہلے بھی لشکروں کے سامنے دعوت رکھی گئی لیکن یہ اَمر محال ہے کہ لشکر کفار میں موجود ہر فرد تک اِنفراداً دعوت پہنچائی گئی ہو۔ لشکروں کی کثرت ، آواز رسانی کے آلات کا نہ ہونا اور زبان کا مختلف ہونا بھی اس بات کے واضح ترین قرائن ہیں کہ ہر فرد تک دعوت اِسلام کا پہنچانا ناممکنات میں سے تھا۔ اس کے باوجود ان سے قتال کیا گیا اور لاکھوں کفار تہہِ تیغ کیے گئے۔

دور حاضر کا جدید جہادی بیانیہ وضع کرنے والے غامدی مکتب فکر کا یہ نظریہ سرے سے باطل اور بلا دلیل ہے کہ جہاد اِتمام حجت کے بعد ہے اور اِتمام حجت صرف انبیاء کر سکتے ہیں اس لئے اب کسی کے لئے کفار سے قتال جائز نہیں رہا۔ نبی کریم ﷺ کی نبوت کا ابتدائی زمانہ مکہ مکرمہ میں گذرا۔اس عرصے میں کفار مکہ سے خوب اچھی طرح اِتمام حجت ہوا۔ لیکن وہ لوگ ایمان سے منکر رہے حتی کہ امر قتال آ گیا۔ مشرکین مکہ کے حق میں اگریہ دعویٰ کیا جائے تو کسی حد تک درست ہے کہ ان سے قتل ہر طرح کے اِتمام حجت کے بعد ہوا۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے طائف کا صرف ایک دعوتی سفر فرمایا۔اس میں زیادہ بات چیت کی نوبت بھی نہیں آئی اور نہ ہی اہل طائف کو معجزات دکھائے گئے۔اس ابتدائی زمانے کے سفر کے بعد اہل طائف پر اِتمام حجت کے ذرائع اختیار نہ کئے جا سکے اور تقریباً بیس سال کا طویل عرصہ ان سے انقطاع رہا۔ فتح مکہ کے بعد طائف پر حملہ کیا گیا اور ان سے قتال کیا گیا۔اس میں اتمام حجت کی شرط کہاں پوری ہوئی؟…

غزوۂ تبوک کے لئے نبی کریم ﷺ نے بیس ہزار کے لگ بھگ لشکر کے ساتھ جس قوم کی طرف خروج فرمایا اس کی طرف سوائے ایک نفری قاصد کے اور کوئی دعوتی بات چیت نہ ہوئی تھی اور غزوہ موتہ میں جس قوم سے شدید قتال ہوا، اُن کی طرف بھی صرف خط کے ذریعے دعوت بھیجی گئی تھی۔اس طرح نبی کریم ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ کے آخری سالوں میںبڑی مہمات کا آغاز فرما دیا تھا۔ اور آپ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد حضرات صحابہ کرام نے ان مہمات کا بڑے پیمانے پر اِحیاء کیا اور نبی کریم ﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق بڑے بڑے حملے کر کے روم و فارس کو تاراج کیا۔ ان عظیم الشان طاقتوں پر اِتمام حجت کب ہوا؟

محض ایک نامہ مبارک روم کے قیصر اور ایک فارس کے کسریٰ کے نام بھیجا گیا۔کسریٰ نے خط قوم تک پہنچنے ہی نہ دیااور چاک کرکے گستاخانہ انداز میں حجت ردّ کردی۔ اگر اِتمام حجت لازم ہوتا تو کیا نبی کریم ﷺ صحابہ کرام کو حکم فرماتے اور فتوحات کی بشارتوں سے نوازتے؟

انتہائی بے دلیل اور بے بنیاد بات کی جاتی ہے کہ ’’کفر‘‘ کے خلاف جہاد صرف نبی کر سکتے ہیں کیونکہ اِتمام حجت لازم ہے۔اس پر جب حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے جہاد کو پیش کیا جائے تو جواب میں اس سے بھی بے بنیاد اور بودی بات کہی جاتی ہے کہ حضرات صحابہ کرام کو کارِ نبوت کے شرکاء ہونے کی حیثیت سے خصوصیت حاصل ہے۔ باقی امت سے ان کے احکام جدا ہیں۔ اس طرح ’’اقدامی جہاد ‘‘ کو اُسی قرن اول کی خصوصیت بنا دیا جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کون سا ایسا حکم نازل فرمایا ہے جو حضرات صحابہ کرامؓ کے لئے خاص تھا اور وہ خطاب باقی امت کے لئے نہیں ہے؟…

قرآن مجید میں اگر ایسا کوئی بھی حکم نازل ہوا جو کسی خاص فرد یا جماعت کے لئے تھا تو اس کے لئے خطاب بھی خاص اُسی فرد یا جماعت کو کیا گیا جیسا کہ نبی کریم ﷺ کے لئے جو بعض احکام خاص آپ کی ذات کے لئے اترے اُن میں خطاب آپ کو ہی کیا گیا۔ازواج مطہرات کے لئے کوئی خاص بات آئی تو ’’ یا نساء النبی ‘‘کہہ کر اس خصوصیت کو واضح کر دیا گیا۔جہاد کا حکم مسلمانوں کی جماعت کو ہے، بالکل اُسی طرح جیسے نماز روزے کا حکم مسلمانوں کو، اہل ایمان کو مخاطب کر کے دیا گیا۔ اگر ان تمام احکام میں سے کسی ایک کو ان کے ساتھ خاص کر دیا جائے تو باقی احکام کے اِنکار کا دروازہ کھل جائے گا۔ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ تمام اَحکام میں سے ایک کو بلا دلیل خاص کر دیا جائے اور بقیہ کو عموم پر رکھا جائے اور اگر بالفرض یہ بات تھی تو صحابہ کرامؓ کے ساتھ مل کر تابعین نے جو قتال کیا اس کا کیا حکم ہو گا؟

اور صحابہ کرام بھی پھر یقیناً اپنے بعد والوں کو قتال کے فضائل سنانے ترغیب دینے اور اُس کے اَحکام بتانے کی بجائے اُمت کو منع فرماتے کہ یہ عمل ہماری خصوصیت تھی، اس لئے بعد والے اِسے نہ کریں۔ ذرا سوچئے کہ یہ بے بنیاد بات حضرات صحابہ کرام کی جماعت پر کتنی بڑی تہمت ہے کہ انہوں نے دین کے بارے اگلی نسلوں کو درست رہنمائی نہ فرمائی۔العیاذ باللہ

فرضیت جہاد کے دوسرے اور اہم ترین ہدف کی طرف جانے سے پہلے اس موضوع کی تکمیل مناسب معلوم ہوتی ہے کہ جہاد کسی ایک زمانے کا خاص عمل ہے یا ہمیشہ جاری رہنے والا عمل؟ اس بارے میں قرآن و حدیث کے دلائل سے بات واضح کر دی جائے۔

جہاد کب تک؟

قرآن مجید میں یہ آیت دو جگہ آئی ہے:

’’اور قتال کرتے رہو ان کفار سے، یہاں تک کہ فتنہ ختم ہو جائے اور حکم خالص اللہ کا چلے ‘‘( البقرۃ۔ الأنفال)

اس میں لفظ ’’حتی‘‘ کے ساتھ قتال کی غایت بتائی گئی کہ جب تک ’’فتنہ‘‘ یعنی کفر کی وہ ہر قسم کی قوت جو مسلمان کے ایمان کے لئے خطرہ اور امتحان بن سکے خواہ عسکری قوت یا مادی یا مالی،ہر ایسی قوت ختم نہ ہو جائے اور روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کا کلمہ ہی سربلند نہ ہو جائے، اُس وقت تک کفار سے قتال کرتے رہو۔ تاویل کی گنجائش بھی باقی نہیں چھوڑی گئی کہ قتال کا لفظ لایا گیا، جہاد کا نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اس مقصد کے حصول کے لئے قتال کا آغاز فرمایا۔ جہاں تک ہوا آگے حضرات صحابہ کرام نے سنبھال لیا اور ان کی پوری جماعت تن دہی کے ساتھ اس کے حصول کی محنت میں مشغول رہی حتیٰ کہ اگلوں کو یہ امانت سونپ گئی۔ اب جب تک یہ کام پورا نہیں ہو جاتا اس وقت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔یہ آیت اس کا حکم ہے۔

نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ میں اس بات کو دو مختلف جہتوں سے بیان کیا گیا۔ کچھ روایات میں ایسا ہوتے رہنے کی خبر صادق ہے اور کچھ روایات میں ایسا ماننے کو عقیدے کا لازمی جزو اور اِسلام کے بنیادی عقائد میں سے قرار دیا گیا۔دونوں روایات پیش خدمت ہیں:

صحیح مسلم کی روایت ہے جو متعدد طرق اور متعدد اَلفاظ کے ساتھ وارد ہوئی ہے:

’’میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق کی خاطر قتال کرتی رہے گی اور کفار پر غلبے کی محنت میں رہے گی قیامت کے دن تک‘‘( صحیح مسلم عن جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ)

اسی طرح صحیح مسلم میں حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ،حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی روایت اور ابو داؤد میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی روایت میں ’’المسیح الدجال‘‘ کے قتل تک ’’لاتزال‘‘ کے لفظ کے ساتھ برابر اس عمل کے بغیرانقطاع ہر زمانے میں جاری رہنے کی خبر دی گئی ہے ۔اور ابو داؤد و ترمذی کی ایک روایت میں یہ عقیدہ رکھنے کو اسلام کے بنیادی احکام میں سے قرار دیا گیا ہے کہ جہاد ہر زمانے میں جاری رہے گا۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

تین چیزیں ایمان کی بنیاد ہیں:

(۱) جو شخص کلمہ پڑھ لے اس سے اپنا ہاتھ روک کر رکھنا کہ اسے کسی گناہ کی وجہ سے نہ کافر قرار دو اور نہ قتل کرو۔

(۲) جہاد جب سے اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا تب سے جاری ہے اور میری امت کے آخری لشکر کے دجال کو قتل کرنے تک جاری رہے گا۔

(۳) تقدیر پر ایمان رکھنا ( ابوداؤد، ترمذی)

اس حدیث کے ابتدائی الفاظ پر غور فرمائیں۔ یہ بات واضح ہے کہ آگے جو امور بیان ہو رہے ہیں، اُن کا تعلق عقیدے سے ہے اور تعلق بھی معمولی نہیں بلکہ بنیادی ہے، کہ اگر ان میں سے کوئی بات نہ پائی جائے گی تو دعویٔ ایمان بے بنیاد ہو جائے گا۔اور ان تین امور میں سے ایک یہ ہے کہ جہاد اپنی ابتداء سے دجال کے قتل تک جاری رہے گا۔ اس جملے کو حدیث کے اَساسی مضمون کے تناظر میں دیکھا جائے تو اسے صرف خبر کے طور پر نہیں لیا جا سکتا ہے، اور اگر صرف خبر کے طور پر بھی لیا جائے تو بھی نبی کریم ﷺ کی خبر ہونے کے سبب اس کا تعلق پھر بھی عقیدے کے ساتھ بن جائے گا۔

حدیث کا پہلا جزء خارجیت کی نفی ہے، دوسرا غامدیت کی اور تیسرا نیچریت کی۔ یہ تینوں مکاتب فکر ایمان کی بنیاد سے محروم ہیں۔

اب قرآن و حدیث کے اس واضح مضمون کے تناظر میں اس بے بنیاد دعوے کی حیثیت خود سمجھ لیجئے۔آیات و احادیث کا یہ مضمون خود ساختہ نہیں بلکہ اِجماعی ہے۔ اس لئے امام جصاص رازی رحمہ اللہ نے سورۃ التوبہ کے احکام جہاد کے بیان میں اس حقیقت کو بھی واضح فرما دیا ہے کہ:

 

’’قال ابو حنیفۃ و ابو یوسف و محمد ومالک وسائر فقہاء الامصار: ان الجہاد فرض الی یوم القیامۃ ‘‘

ترجمہ: امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف، محمد اور امام مالک اور تمام عالم اسلام کے فقہاء کا فرمان ہے کہ: جہاد قیامت تک فرض ہے‘‘ (اَحکام القرآن للجصاص۔ ج ۳ ص ۱۴۱)

(یہ بحث مستقل ہے کہ کبھی فرض کفایہ اور کبھی فرض عین )

لیجئے! تمام فقہاء کرام کا متفقہ فیصلہ آ گیا، گویا جہاد کے جاری رہنے اور ہر زمانے کا فریضہ ہونے کا اِجماعی بیانیہ۔اس کے مقابل غامدی اور ان کے متعلقین کا من گھڑت اور بے دلیل بیانیہ اب کیا حیثیت رکھتا ہے؟ یا تو فیصلہ ہی یہ کر لیا جائے کہ دین اب تک کسی زمانے میں سمجھا ہی نہیں گیا تھا اب سمجھ میں آیا ہے۔ نعوذ باللہ من ذلک

اس بحث سے دوسرا مسئلہ بھی ضمناً مکمل ہوگیا کہ جہاد کی مشروعیت کا دوسرا ہدف :

(۳) رَدُّ العُدْوَان ہے: یعنی کفر کی ہر اُس طاقت اور قوت کو توڑ دینا جو اِسلام اور مسلمانوں کے لئے خطرہ ہو اور دنیا سے ان کا نظام مٹا کر اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو سربلند کرنا۔

(جاری ہے)

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor