Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جہاد کا بیانیہ (4) (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف

Assalam-o-Alaikum 534 (Talha-us-Saif) - liberal pakistan

جہاد کا بیانیہ (4)

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 534)

کفر کی ایسی ہر قوت کو توڑ ڈالنا ’’جہاد ‘‘ کے بلند ترین مقاصد میں سے ہے۔ اس کی عظمت و اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ کفر و اسلام کی سب سے پہلی مڈبھیڑ ’’سریہ عبد اللہ بن جحش رضی اللہ عنہ ‘‘ جس کا تذکرہ سورۃ البقرۃ آیت ۱۸۔۲۱۷ میں ہے۔ کفار کے سامان تجارت والے قافلے کو لوٹنے کے لئے لڑی گئی۔ اور اس سے بھی بڑھ کر نبی کریم ﷺ کا سب سے پہلا خروج جس میں آپ ﷺ نے لشکر کی کمان فرمائی ’’غزوہ ابوائ‘‘ دوسرا خروج ’’غزوہ ذات العشیرہ ‘‘ کفار کے تجارتی قافلے کو پکڑنے اور مال چھیننے کے لئے تھے۔ دونوں بار قافلے بچ نکلے اور پھر وہ خروج ہوا جس کا ذکر قرآن مجید کی ایک پوری طویل سورت پر محیط ہے۔ وہ معرکہ جسے ’’الفرقان ‘‘ کا نام دے کر حق و باطل کا معیار بنا دیا گیا۔

جس دن وہ معرکہ برپا ہوا، وہ دن ’’اَیام اللہ ‘‘ میں سے قرار پایا اور جسے ہمارے ایمان کا حصہ بنا دیا گیا یعنی معرکہ ’’بدر‘‘۔اس کے لئے بھی خروج دراصل اسی قافلے کو پکڑنے کے لئے تھا۔ تاویلیں کرنے والے اور معذرت خواہانہ وکالت کے ذریعے اسلام کو کمزور کرنے والے کچھ بھی تاویلیں کرتے رہیں قرآن نے معاملہ صاف کر دیا ہے کہ خروج کا مقصد ابو سفیان کے قافلے پر مسلمانوں کا حملہ تھا ،نا کہ ابوجہل کے لشکر سے دفاع…

’’اور تم اس خواہش میں نکلے تھے کہ غیر مسلح جماعت تمہارے ہاتھ لگے‘‘ ( الانفال)

کفار کو مال سے محروم کر دینا ان کی قوت کو توڑتا ہے۔نبی کریم ﷺ نے اس مقصد کے لئے تین بار خروج فرمایا اور صحابہ کرام کو نکالا۔

کفار کی قیادت کو ختم کر دینا انہیں کمزور کرتا ہے اور ان کی کمر توڑتا ہے۔ قرآن نے اس لئے حکم دیا:

’’پس قتل کرو کفار کے مقتداؤں، پیشواؤں کو‘‘ ( التوبہ)

نبی کریم ﷺ نے کعب بن اشرف، ابو رافع، ابو عفک،خالد بن سفیان ہذلی کے قتل کے لئے خفیہ دستے روانہ فرمائے۔ قلعوں میں آرام کی نیند سو رہے کفار پر رات کی تاریکی میں حملہ کرا کے انہیں جہنم رسید کرایا اور قتل کرنے والوں کو جنت کی بشارتوں سے نواز کر مسلمانوں کو یہ کام جاری رکھنے کی ترغیب دی۔ کفار کے عسکری اور سیاسی اتحاد کو توڑنے کے لئے نعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ کو ’’ خدعۃ‘‘ کی سکیم پر عمل کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور کامیابی کی دعاء سے نوازا اور اس سکیم سے مشرکین و یہود کا اتحاد پارہ پارہ ہو گیا۔ یہود کو ایک بار جلا وطن کر کے ان کی قوت اور یکجائی کو توڑا اور پھر خیبر پر حملہ فرما کر انہیں عسکری شکست سے دوچار کیا۔یہ سب حملے ردّالعدوان تھے۔ اس لئے نہ ان سے پہلے دعوت اسلام کا اہتمام منقول ہے اور نہ ہی بعد میں انہیں حلقہ بگوش اسلام کرنا۔ بلکہ ان تمام کارروائیوں کا مقصد کفر کی قوت کو توڑنا تھا تاکہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیوں سے باز آ جائیں۔ سورۃ الانفال کے نویں پارے کے آخری رکوع میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بتایا ہے کہ کفار تین طرح سے مسلمانوں پر اور ان کے ایمان پر ہمیشہ حملہ آور رہتے ہیں۔

(۱) مال کے ذریعے

(۲) صالح اور غیرتمند قیادت کو نشانہ بنا کر

(۳) ان میں بے راہ روی پھیلا کر

اور یہ تینوں طریقے بیان کر کے متصلاًحکم فرما دیا گیا:

’’ان کفار سے قتال کرتے رہو، یہاں تک کہ فتنہ ختم ہو جائے اور حکم خالص اللہ تعالیٰ کا چلے‘‘ (الانفال)

یعنی اس مقصد کے حصول کے لئے قتال کرتے رہو کہ کفار ان میں سے کسی طرح بھی تمہارے ایمان کو خطرے میں نہ ڈال سکے۔ ( ان آیات اور موضوع کے تفصیلی مطالعہ کے لئے ملاحظہ ہو فتح الجواد جلد دوم)

(۳) نُصْرَۃُ الْمُسْتَضْعَفِینْ :

جہاد کی مشروعیت کا تیسرا ہدف اور موقع ہے جسے ہم ’’دفاعی جہاد‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔

کفار مسلمانوں پر حملہ آور ہو جائیں یا ان کی زمین پر قبضہ کر لیں یا شعائرِاسلام پر روک لگا دیں یا مسلمانوں میں سے کچھ کو قید کر لیں ۔ ان تمام صورتوں میں مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ کفار کے خلاف لڑیں حتیٰ کہ مطلوبہ ہدف حاصل کر لیں۔ قرآن مجید کی کئی آیات میں صراحت کے ساتھ اس مقصد کے حصول کے لئے کفار سے لڑنے کا حکم ہے۔ سب سے صریح حکم سورۃ النساء کی آیت ۷۵ میں اور سب سے تاکیدی حکم بیان ہوا سورۃ الانفال آیت ۷۲ میں…

ترجمہ: اور تمہیں کیا ہو گیا کہ نہیں لڑتے اللہ تعالیٰ کے راستے میں اور ان مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لئے جو مرد ہیں ، عورتیں ہیں اور بچے ہیں ، جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں نکال اس بستی سے جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنی طرف سے کوئی حمایتی اور مددگار مقرر فرما۔ (النساء ۷۵)

یعنی جس طرح فی سبیل اللہ یعنی اعلائے کلمۃ اللہ اور فروغِ دعوت حق کے لئے قتال کرنا شرعی جہاد ہے اسی طرح مظلوم مسلمانوں کی مدد، نصرت اور نجات کے لئے لڑنا بھی مستقل ’’جہاد ‘‘ ہے۔ یہ آیت ان لوگوں کے لئے قرآن کا واضح جواب ہے جو قتال کی مشروعیت صرف دعوت کے لئے مانتے ہیں۔ زمین کے لئے لڑنا، ممالک کی آزادی کے لئے لڑنا، قیدی چھڑانے کے لئے لڑنا سب جہاد کی تعریف سے خارج ہے۔ کئی تو ایسے سادہ دل بھی ہیں جو اس وجہ سے جہاد کو ناجائز قرار دے دیتے ہیں کہ کشمیر و افغانستان میں مجاہدین کفار پر حملہ آور ہوتے وقت انہیں اسلام کی دعوت کیوں نہیں دیتے۔

مسلمانوں میں مسائل جہاد سے یہ ناواقفیت انہی لوگوں کی مہربانی ہے جو جہاد کے علاوہ ہر معاملے میں مسلمانوں کی رہنمائی کرتے ہیں مگر جہاد کا ذکر انہوں نے ترک کر دیا ہے۔ ورنہ یہ احکامات اتنی وضاحت کے ساتھ کتب فقہ و تفسیر میں موجود ہیں کہ کسی قسم کا کوئی اشتباہ قریب بھی نہ پھٹکتا۔ اوپر سے ظلم یہ ہوا کہ اہل باطل جہاد کے بارے میں اپنے من گھڑت نظریات اور مغربی تاویلات لے کر برساتی مینڈکوں کی طرح ہر طرف نکل آئے۔ الیکڑانک میڈنا، پرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا سب پر ان کا زور ہوا۔ ہر طرف ان کا موقف سنایا جانے لگا اور اہل حق نے مگر اپنی خاموشی نہ توڑی۔آج صورتحال یہ آ گئی کہ اچھے دیندار مسلمانوں کا جہاد کے بارے میں وہ نظریہ ہے جو العیاذ باللہ کتب فقہ میں کفر و ضلال سے تعبیر کیا گیا ہے۔

’’نصرۃ المستضعفین ‘‘ کے لئے نکلنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

سب سے پہلے قرآن مجید سے رہنمائی لیتے ہیں:

’’اور اگر وہ مسلمان تمہیں دین کے معاملے میں اپنی مدد کو پکاریں تو تم پر لازم ہے فی الفور ان کی مدد کرنا (الانفال ۷۲)

آیت مبارکہ میں کئی طرح کی تاکیدات ہیں:

(۱) علیکم کا لفظ جو باتفاق وجوب کے لئے ہے۔

(۲) ’’ف‘‘ کے ذریعے عطف جو فوری عمل کو لازم کرتا ہے۔

(۳) مبتداء پر خبر کی تقدیم جو ’’حصر‘‘ کے معنی پیدا کرتی ہے یعنی صرف یہی ایک آپشن ہے اس کے علاوہ کوئی نہیں۔

مزید تاکید کے لئے اگلی آیت میں فرمایا گیا:

’’اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہو گا۔( الانفال ۷۳)

حجۃ الاسلام امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہ نے تصریح کی ہے اس جملے کا تعلق ’’علیکم النصر ‘‘ کے حکم سے ہے۔ یعنی اگر کسی ایک جگہ کے مسلمان مدد کے لئے پکار رہے ہیں اور دوسرے مسلمان فوری ان کی آواز پر لبیک کہنے کے قرآنی حکم پر عمل نہ کریں گے تو زمین میں فتنہ اور فساد کبیر برپا ہو گا۔ کفار ان مظلوم مسلمانوں کی جانیں لے سکتے ہیں ، مال لوٹ سکتے ہیں، عزتیں برباد کر سکتے ہیں، مساجد ویران کر سکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ان کے ایمان کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں جو اصل فتنہ اور حقیقی فساد کبیر ہے۔

اور یہ تب یہ ہو سکتا ہے جب مسلمان اس فرض سے پہلو تہی کریں۔ اگر مسلمان بروقت مدد کو پہنچنا اپنا شعار بنا لیں۔ اس حکم خداوندی کو علی الفور بجا لائیں تو ایسا ممکن نہیں کہ کفار اِعتداء کو دہرا سکیں۔

یہ قرآن مجید کا واضح حکم ہے اور امت کے تمام فقہاء اس کی اسی تفسیر پر اجماع کر چکے ہیں۔

’’ ثم ہذا ( اذا لم یکن النفیر عاما۔ فان کان) بان ھجموا علی بلدۃ من بلاد المسلمین ( فیصیر من فروض الاعیان) سواء کان المستنفر عدلا او فاسقا فیجب علی جمیع اہل تلک البلدۃ النفر و کذا من یقرب منھم ان لم یکن باھلھا کفایۃ و کذا من یقرب ان لم یکن بمن یقرب کفایۃ اوتکا سلوا او عصوا۔ وہکذا الی ان یجب علی جمیع اہل الاسلام شرقا و غربا ( فتح القدیر کتاب السیر)

ترجمہ :’’ اور یہ (جہاد کا فرض کفایہ ہونا ) اس وقت تک ہے جب نفیر نہ ہو۔جب نفیر آ جائے اس طرح کہ کفار مسلمانوں کے شہر پر حملہ آور ہو جائیں تو جہاد فرض عین ہو جاتا ہے۔ بلانے والا عادل ہو یا فاسق۔ پس اس علاقے کے تمام لوگوں پر واجب ہو جاتا ہے کہ قتال کے لئے نکلیں۔ اسی طرح ان کے قریب والوں پر (واجب ہو جاتا ہے) جب کہ اس علاقے کے لوگ کافی نہ ہوں۔ اسی طرح ان کے قریب والوں پر جبکہ پڑوسی کافی نہ ہوں یا سستی کریں یا انکار کر دیں۔ اسی طرح تمام اہل اسلام پر واجب ہوتا چلا جاتا ہے مشرق و مغرب تک‘‘۔

اور یہ ’’الاقرب فالاقرب ‘‘ کا قانون بھی کفار کے حملے کی صورت میں ہے۔اگر کوئی مسلمان کفار کی قید میں چلا جائے تو حکم اس کی نسبت بھی اشد ہے۔

’’بخلاف انقاذ الاسیر وجوبہ علی الکل من اہل المشرق والمغرب ممن علم ‘‘

’’بخلاف قیدی آزاد کرانے کے کہ اس صورت میں وجوب کا حکم مشرق سے مغرب تک ہر اس مسلمان کے لیے برابر ہے جسے اس واقعہ کا علم ہو۔‘‘ ( فتح القدیر کتاب السیر)

اس کو رد المحتار اور خانیہ وغیرہ میں یوں لکھا ہے:

’’امرأۃ سبیت بالمشرق وجب علی اہل المغرب ان یخلصوھا‘‘

خلاصہ

’’حکم جہاد ‘‘ کی بحث کا خلاصہ کرتے ہیں:

(۱) جہاد ابتداء فرض کفایہ ہے۔کفایت کی تعریف ، مقدار اور احکام کو ملحوظ رکھنا لازم ہو گا

(۲) حملے کی صورت میں ، صف آراستہ ہو جانے کی صورت میں فرض عین ہو جاتا ہے۔

(۳) تین مقاصد کے لئے مشروع ہے۔ان میں سے جس کے حصول کے لئے بھی لڑا جائے شرعی جہاد کہلائے گا۔ ہر ایک کے داخلی احکام جدا ہیں۔

(۴) مسلمان اگر مدد کے لئے پکاریں تو نکلنا لازم ہے اگرچہ بلانے والے مسلمان فساق ہی کیوں نہ ہوں۔ سورۃ الانفال کی آیت ۷۲ میں یہ بات واضح کر دی گئی ہے اور ایسے مسلمانوں کی مدد کیلئے فوری نکلنے کا حکم فرمایا گیا جو اپنے اعمال کی برائی کے اعتبار سے مسلمانوں کی قلبی ولایت کے بھی مستحق نہیں، مگر تناصر پر ان کا حق واجب کیا گیا۔

 

(جاری ہے)

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor