Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جہاد کا بیانیہ (5) (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف

Assalam-o-Alaikum 535 (Talha-us-Saif) - liberal pakistan

جہاد کا بیانیہ (5)

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 535)

ریاست کی اجازت

شرائط جہاد کا ذکر حصہ دوم میں گزر چکا۔ اس میں اہل سنت والجماعت کے تمام مسالک فقہیہ کے ہاں جو شرائط، فرضیت جہاد کی ہیں ذکر کر دی گئیں ۔کسی ایک امام نے بھی ان شرائط میں امام اور خلیفہ کی موجودگی یا اس کی اجازت کا ذکر نہیں کیا بلکہ اس تاثر کی تردید ضرور منقول ہے کہ جہاد کی درستگی کے لئے اِذنِ امیر شرط ہے۔ جن نصوص میں ’’امیر‘‘ کے بغیر جہاد کی ممانعت اور کراہت مذکور ہے ان کا محمل’’اَمیرِ جہاد‘‘ ہے۔ یعنی مسلمانوں کا کوئی لشکر اس حال میں کفار کے خلاف نہ لڑے کہ ان پر کوئی امیر موجود نہ ہو بلکہ اگر دوران جنگ امیر شہید ہو جائے تو اسی وقت نیا امیر مقرر کیا جائے اور امیر مقرر کرنے کا کام بھی مسلمانوں کی جماعت خود کر سکتی ہے، لازم نہیں کہ ریاست مقرر کرے۔ جیسا کہ غزوہ موتہ میں پہلے تین اُمراء کی شہادت کے بعد حضرات صحابہ کرام نے خود حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اپنا امیر نامزد کر لیا تھا اور نبی کریم ﷺ نے ان کے اس فیصلے کی تصویب فرمائی اور حضرت خالد کو’’سیف من سیوف اللہ ‘‘کا خطاب دیا۔

ہمارے ہاں یہ تاثر عام ہے اور جدید بیانیہ کے واضعین کی طرف سے کئے جانے والے نمایاں اعترضات میں سے یہ بات ہے کہ جہاد صرف ریاست کا کام ہے، اس کی مرضی اور اجازت سے ہو سکتا ہے۔ بقول ان کے ’’پرائیویٹ جہاد‘‘ کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں حتی کہ مسلمان اگر ظلم کے خلاف اپنے دفاع کے لئے بھی لڑیں تو بھی ان کے لئے ریاست کی اجازت و سرپرستی لازم ہے۔

عجیب بات ہے۔ مسلمانوں پر کفار کا تسلط ہو چکا ہو تو اس وقت کون سی ریاست باقی ہو گی جو انہیں قتال کرنے کا حکم دے گی؟…

اور اس سے بھی عجیب بات یہ ہے کہ مخالفینِ جہاد تین باتیں ایک ہی سانس میں کرتے ہیں جن میں سے فیصلہ آپ خود کر لیں کہ کون سی بات دوسری بات کی تکذیب یا تائید ہے؟

(۱) جہاد ریاست کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا، ریاست کا کام ہے وہ جہاد کا فیصلہ کرے، پرائیویٹ جہاد ناجائز ہے۔

(۲) ریاستی ادارے مجاہدین کی خفیہ سرپرستی بند کریں یا مجاہدین کو یہ طعنہ کہ وہ ریاستی اداروں کی اِیماء پر جہاد کرتے ہیں۔

(۳) ریاست سیکولر ہونی چاہیے اس کا مذہبی معاملات سے ہرگز واسطہ نہیں ہونا چاہیے، مذہب ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے۔

ان میں سے اگر پہلی بات درست ہے تو تیسری غلط ہے۔ دوسری درست ہے تو پہلا اعتراض خود ختم ہو گیا اور اگر تیسری درست ہے تو پہلی بکواس ہے۔

لیکن جن نظریات کی بنیاد قرآن و حدیث نہ ہوں ان میں ایسے تضادات کا وجود کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔

اب اصل بات کی طرف آتے ہیں۔

وہ یہ ہے کہ ریاست کا وجود اس کی اجازت اور اس کی ترتیب جہاد کی شرائط میں سے نہیں بلکہ ’’ پرائیویٹ جہاد‘‘ نبی کریم ﷺ کے زمانے سے اسلام کے تقریباً ہر دور میں موجود رہا ہے اور اس بناء پر فقہائِ کرام میں سے کسی نے بھی ریاست کی اجازت کو شرائط جہاد میں شامل نہیں کیا بلکہ شرط نہ ہونے کی تصریح کی ہے۔

پہلا پرائیویٹ جہاد

اس ضمن میں سب سے پہلی اور سب سے مضبوط دلیل حضرت ابو بصیر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔

حضرت ابو بصیر رضی اللہ عنہ قدیم الاسلام صحابہ میں سے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں اسلام لائے مگر کفار کی پابندیوں کی وجہ سے ہجرت نہ کر سکے مگر ہجرت کی کوششوں میں رہتے تھے۔ ۶؁ھ میں ’’حدیبیہ ‘‘ کا معاملہ پیش آیا اور نبی کریم ﷺ کا کفار مکہ سے وہ معروف معاہدہ ہوا جس کی رو سے اہل مکہ مسلمانوںکے لئے ہجرت کا دروازہ بظاہر بالکل بند ہو گیا۔ یہ شرط لکھی گئی کہ آئندہ دس سال تک جو مسلمان بھی المکۃ المکرمۃ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ جائے گا مسلمان اسے واپس کرنے کے پابند ہوں گے۔ جبکہ مدینہ سے ترک اسلام کر کے مکہ آ جانے والوں کے لئے کوئی پابندی نہ تھی۔ یہ وہ سخت ترین شرط تھی جس نے مسلمانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا اور مزید یہ کہ اسی حدیبیہ کے میدان میں ہی اس کی عملی شکل سامنے آ گئی اور زنجیروں میں جکڑے ابو جندل رضی اللہ عنہ واپس لوٹا دیے گئے۔ بظاہر یہ ہجرت کا دروازہ بند ہونا تھا مگر حکمت الٰہی میں یہ بات مقدر تھی کہ یہی معاہدہ دراصل مسلمانوں کے لئے پُر امن اور علانیہ ہجرت کا دروازہ کھولنے کا ذریعہ بنے گا اور اس حکمت کا ظہورحضرت ابو بصیر رضی اللہ عنہ کے پرائیویٹ اور غیر ریاستی جہاد سے ہوااور صرف چھ ماہ میں انہونی ہو گئی۔

ابو بصیر رضی اللہ عنہ اس معاہدے کے دوماہ بعد مکہ مکرمہ سے بھاگ کر مدینہ منورہ آ گئے۔ پیچھے پیچھے وصولی کے لئے دو مشرک بھی ساتھ چلے آئے۔ نبی کریم ﷺ نے صبر کی تلقین فرمائی، ایک بلیغ اشارہ دیا اور ان مشرکین کے ساتھ واپس کر دیا۔ انہوں نے اشارے کے پیغام کوسمجھا، اس پر عمل کرنے کی ایک ترتیب بنائی اور راستے میں پہلا قدم اُٹھا لیا۔ انہی مشرکین سے ہتھیار چھین کر انہیں قتل کیا اور مکہ مکرمہ جانے کی بجائے ساحل سمندر پر جا کر چھپ گئے۔وہاں سے آتے جاتے شناساؤں کے ذریعے اُن صحابہ کرام سے خط و کتابت کی جو انہی کی طرح مکہ مکرمہ میں محصور تھے اور ہجرت نہیں کر پا رہے تھے اور انہیں اپنی طرف آنے کی دعوت دی یہ لوگ چونکہ معاہدے کی رو سے مدینہ منورہ نہیں جا سکتے تھے اور مکہ کے مشرکانہ ماحول اور مشرکین کی ایذاؤں پر صبر بھی مشکل تھا اس لئے انہوں نے موقع غنیمت جانا اور خفیہ طریقے سے نکل کر ابو بصیر رضی اللہ عنہ سے جا ملے اور ان حضرات نے مشرکین کے افراد کو قتل کرنا اور ان کے قافلوں کو لوٹنا شروع کر دیا۔ مشرکین کے مالی مفادات پر چوٹ پڑی تو عقل ٹھکانے آئی اور فوراً انہوں نے یہ ’’جہاد ‘‘ رُکوانے کے لئے ریاست سے رجوع کیا۔ ریاست نے براء ت کی کہ نہ تو ان مجاہدین نے ہمارے کہنے پر یہ کام شروع کیا ہے اور نہ ہم انہیں روکتے ہیں۔ بالآخر مشرکین مکہ کو جھکنا پڑا اور اس معاہدے کے بعدمحض کم وبیش چھ ماہ کے عرصے میں انہوں نے خود آ کر وہ شق ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی جس کا قبول کرنا اہل ایمان پر سخت شاق گزرا تھا۔ انہوں نے یہ تسلیم کرلیا کہ اب مسلمانوں میں سے جو شخص مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ جاناچاہے وہ آزاد ہے۔ بالکل امن کے ساتھ کھلے بندوں جائے اس کی جان و مال سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا۔ نبی کریم ﷺ نے ان کی پیشکش قبول فرمائی اور ان مجاہدین کی طرف اس عظیم فتح کی خوشخبری کے ساتھ والا نامہ ارسال فرمایا اور انہیں مدینہ منورہ آنے کی دعوت بھیجی۔ جب یہ خط پہنچا تو حضرت ابو بصیر رضی اللہ عنہ جان کنی کے عالم میں تھے ۔ نامہ مبارک سینے پر رکھا اور فتح یابی کی خوشی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے۔ باقی حضرات وہاں سے مدینہ منورہ آ گئے۔ ان میں حضرت ابو جندل رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے جن کی مظلومیت نے حدیبیہ کے میدان میں سے سب کو رلا دیا تھا۔ آج وہ ایک عظیم فتح اسلام اورمسلمانوں کو دِلا کر شان اور فخر کے ساتھ اپنے مقصد یعنی ہجرت میں کامیاب ہوئے۔

اس واقعے سے یہ چند باتیں پوری وضاحت کے ساتھ ثابت ہو گئیں :

(۱) ابو بصیر رضی اللہ عنہ اور دیگر مکی اہل ایمان کا یہ خروج جہادِ شرعی تھا۔ اگر ان کا فعل شرعاً ممنوع ہوتا تو نبی کریم ﷺ انہیں حکماً روک دیتے خصوصاً جبکہ مشرکین نے استدعاء بھی کی تھی۔

(۲) ریاست اس ’’جہاد ‘‘ میں بالکل شریک نہ تھی اور نہ اس نے اجازت دی تھی۔ کیونکہ ریاست ۱۰ سالہ معاہدے کی پابند ہو چکی تھی جس کی رو سے ہر طرح کا قتال اور قتال میں معاونت ممنوع ہو چکے تھے۔ ایسے میں خدانخواستہ یہ باور کیا جائے کہ ریاست کسی طرح شریک تھی تو نقص عہد لازم آئے گا جو محال ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ کی ریاست ہرگز اس کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔

(۳) اس عظیم جہاد کی برکت سے مسلمانوں کو وہ فتح مبین ملی کہ ہجرت کا دروازہ کھلا، آمدو رفت آزادانہ بحال ہوئی اور اس کی برکت سے حضرت خالد بن ولید اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر صحابہ حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔

(۴) مسلمانوں کی کوئی جماعت ایسے وقت میں بھی یہ کام کر سکتی ہے جس وقت ریاست اور کفار جنگ بندی کا معاہدہ کر چکے ہوں بشرطیکہ وہ ریاست کی عملداری سے نکل کر کریں۔

(۵) ریاست پر لازم نہیں کہ وہ اس جماعت کو روکے۔

گویا ابو بصیر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ان تمام سوالات کا جواب ہے جو اس خود ساختہ اصول کی بناء پر ہیں۔اور اس واقعہ کا انکار کسی جدت پسند کے لئے ممکن نہیں کیونکہ اس کے سبب پھر جن واقعات کا انکار لازم آئے گا وہ گنتی سے باہر ہیں۔

اس واضح اور بیّن دلیل کے ہوتے ہوئے فقہاء کرام کی اکثریت نے اس مسئلے کو موضوع بحث ہی نہیں بنایا۔ یار لوگ بحث نہ کرنے کو دلیل بناتے ہیں کہ جائز ہوتا تو فقہاء کرام صراحت کے ساتھ لکھ دیتے۔ میں یہ پہلے عرض کر چکا ہوں کہ جہاد کے مسائل میں فقہاء کرام کا فروعی اختلاف نہ ہونے کے برابر ہے۔ مذہب حنبلی کے مشہور امام ابو قدامہ المقدسی نے ’’المغنی ‘‘ میں صراحت کر دی ہے کہ امام کی عدم موجودگی میں جہاد کو موخر نہیں کیا جائے گا۔

’’فان عدم الامام لم یؤخرالجہاد لان مصلحتہ تفوت بتاخیرہ ‘‘ ( المغنی ۱۰/۳۷۴)

(اگر امام موجود نہ ہو تو جہاد کو موخر نہیں کیا جائے گا کیونکہ موخر کرنے سے اس کی مصالح اورمقاصد فوت ہو جائیں گے) اور یہ جزئیہ ’’اقدامی جہاد‘‘ کے ذیل میں منقول ہے جو کہ بالاتفاق فرض کفایہ ہے، جب وہ صورتیں پیش آ جائیں جن میں فقہاء جہاد کو فرض عین قرار دیتے ہیں تو بطریق اولیٰ یہ حکم ہو گا۔ بلکہ احناف کے ہاں تو اس صورت میں صراحت منقول بھی ہے۔

’’ان ھجم العدد فیخرج الکل ولوبلا اذن ‘‘ (الدر المختار)

(اگر دشمن حملہ آور ہو جائے تو ہر ایک نکلے گا اگرچہ بلا اجازت ہو )

اسی طرح ’’المغنی ‘‘ اور فقہ حنفی کی مشہور کتاب بدائع الصنائع میں یہ بحث مذکور ہے کہ اگر مسلمانوں کی ایک جماعت بلا اجازتِ خلیفہ دارالحرب میں گھس کر کارروائی کرے اور مال حاصل کر لائے تو وہ مال غنیمت کہلائے گا اور اس پر غنیمت کی تقسیم کے احکام لاگو ہوں گے اور یہ اصول معلوم ہے کہ غنیمت صرف اس مال کو کہا جاتا ہے جو شرعی جہاد کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، اگر غیر شرعی طریقے سے مال لایا جائے تو اس پر غنیمت کے احکام جاری نہیں ہوتے۔ جیسے سریہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا واقعہ معروف ہے۔ ایک شخص کو کافر قرار دے کر قتل کر دیا گیا تھا اور اس کا مال لوٹ لیا گیا تھا حالانکہ وہ اسلام کا اظہار کر رہا تھا۔ وہ مال غنیمت میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔

عبارت ملاحظہ ہو:

’’اذا دخل جماعۃ لہم منعۃ دارالحرب فاخذوا اموالا فانہا تقسم قسمۃ الغنائم بالاجماع سواء دخلو باذن الامام او بغیر اذنہ ‘‘( بدائع الصنائع)

(اگر ایک قوت والی جماعت دارالحرب میں گھس جائے اور مال پکڑ لائے تو وہ مال بالاجماع غنیمت کے طور پر تقسیم کیا جائے گا۔ برابر ہے کہ یہ جماعت امام کی اجازت سے داخل ہوئی یا بلا اجازت)

تصحیح

گذشتہ قسط کے آخر میں خلاصہ کے عنوان میں فقہاء کے ہاں جہاد کے فرض عین ہونے کی صورتوں میں ’’نفیر عام ‘‘ کا ذکر رہ گیا تھا۔ تصحیح فرما لیں۔

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor