Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جہاد کا بیانیہ (6) (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف

Assalam-o-Alaikum 536 (Talha-us-Saif) - liberal pakistan

جہاد کا بیانیہ (6)

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 536)

استعانت

جہاد کے لئے کفار سے معاونت لی جا سکتی ہے یا نہیں؟

نبی کریم ﷺ نے بعض غزوات میں مشرکین کو ساتھ لے جانے سے یہ کہہ کرمنع فرما دیا :

لا استعین بمشرک

( میں کسی مشرک کافر سے مدد نہیں لے سکتا)

ایسی روایات سے بعض ائمہ اسلام کا خیال ہے کہ جہاد میں کفار سے معاونت نہیں لی جا سکتی۔

البتہ جمہور کے ہاں قتال میں کفار سے کسی بھی قسم کی معاونت لینا جائز ہے اور نبی کریم ﷺ و صحابہ کرام سے کئی مواقع پر ایسا کرنا صحیح روایات سے ثابت ہے۔

(۱) صحیح بخاری میں باب ہے بعنوان ’’ ان اللہ یؤید ھذا الدین بالرجل الفاجر‘‘اور اس کے ذیل میں اس شخص کا قصہ ہے جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے قتال والی رات یہ فرمایا کہ یہ شخص اہل نار میں سے ہے۔ صبح جب لڑائی شروع ہوئی تو اس نے لڑائی میں بہادری کے عجیب جوہر دکھائے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!

آپ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا تھا کہ یہ اہل نار میں سے ہے حالانکہ اس نے تو میدان میں خوب بہادری دکھائی اور قتل ہوا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: وہ جہنم میں گیا ہے۔

لوگ یہ بات سمجھ نہیں پا رہے تھے۔ اتنے میں ایک شخص نے گواہی دی کہ یہ شخص میدان میں قتل نہیں ہوا بلکہ زخمی ہوا تھا اور پھر زخموں کی تکلیف کی وجہ سے اس نے خودکشی کر لی تھی۔ نبی کریم ﷺ کو اس بات کی خبر دی گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

اللہ اکبر ۔میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول اور بندہ ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کہ لوگوں میں اعلان کر دیں کہ جنت میں صرف ایمان والے داخل ہوں گے اور اللہ تعالیٰ اس دین کی نصرت کبھی کبھار فاجر آدمی کے ہاتھوں کرائیں گے ( بخاری)

روایت کے آخر میں ’’الانفس مسلمۃ ‘‘ کے الفاظ اس شخص کے مسلمان نہ ہونے کی طرف اشارہ ہیں اس کے باوجود نبی کریم ﷺ نے اسے قتال میں شرکت کی اجازت مرحمت فرمائی۔

(۲) نبی کریم ﷺ کے ساتھ صفوان بن امیہ نے فتح مکہ کے فوراً بعد غزوہ حنین میں شرکت کی۔ طبری اور ابن ہشام وغیرہ کی روایت میں صراحت ہے کہ وہ اس وقت مشرک تھے بعد میں مسلمان ہوئے۔ اس غزوہ میں جب ابتدائی طور پر مسلمانوں کے لشکر کو ہزیمت ہوئی تو ان کے ماںشریک بھائی کلدہ بن حنبل نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا:

’’ آج مسلمانوں کا جادو ٹوٹ گیا‘‘

اس پر صفوان نے اسے ڈانٹا اور کہا:

’’ مجھ پر قریش کا ایک فرد حاکم ہو یہ اس سے بہتر ہے کہ میں ہوازن کے زیر حکمرانی رہوں۔‘‘…

نبی کریم ﷺ نے غزوہ حنین کے مال غنیمت میں سے صفوان بن امیہ کو انعام بھی عطا فرمایا تھا البتہ غنیمت کا حصہ نہ دیا تھا کیونکہ وہ مسلمان نہ تھے۔

(۳) نصب الرایہ میں امام زیلعی نے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بنو قینقاع کے یہود سے ایک غزوہ میں مدد لی اور انہیں مال غنیمت میں سے کچھ عطاء فرمایا۔

اسی طرح ابوداؤد میں نبی کریم ﷺسے بروایت حسان بن عطیہ رضی اللہ عنہ منقول ہے :

’’ تم نصاریٰ سے ایک امن والی صلح کرو گے اور پھر تم اور وہ مل کر ایک تیسرے دشمن سے قتال کرو گے۔‘‘

صحابہ کرام میں سے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں مصنف ابن ابی شیبہ اور سنن بیہقی میں روایت ہے کہ

’’ غزا بقوم من یہود فرضخ لہم ‘‘

( انہوں نے یہود کی ایک قوم کو ساتھ لے کر قتال کیا اور انہیں ( مال غنیمت میں سے ) کچھ مال دیا۔

اسی طرح سلمان بن ربیعہ الباہلی رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے ’’ لنجر‘‘ کے علاقے پر حملہ کیا اور اس میں مشرکین سے مدد لی اور فرمایا : مناسب ہے کہ اللہ کے دشمنوں کو اللہ کے دشمنوں سے لڑایا جائے ۔ ( الاستیعاب)

(لنجر کا علاقہ آرمینیا میں ہے)

ان سب نصوص کے پیش نظر حضرات فقہاء کرام میں جمہور کا مسلک یہ ہے کہ کفار کے خلاف لڑائی میں کفار سے مدد لی جا سکتی ہے۔

’’ جابر کہتے ہیں کہ میں نے امام شعبی سے پوچھا :

کفار کو ساتھ لے کر قتال کرنا کیسا ہے؟

انہوں نے کہا:

 میں نے ائمہ میں فقہاء و غیر فقہاء سب کو دیکھا کہ وہ اس عمل کو جائز قرار دیتے تھے۔ کفار کو ساتھ لے قتال کرتے تھے اور انہیں انعام و کرام دیتے تھے ( المحلی۔ٰ مصنف ابن ابی شیبہ)

مذاہب الفقہاء

فقہ حنفی میں استعانت بالکفار علی الاطلاق جائز ہے۔

جواز الاستعانۃ بالکفار عند الحاجۃ وقد استعان علیہ الصلوۃ والسلام بالیہود علی الیہودفرضخ لھم ( حاشیہ ابن عابدین)

( ضرورت کے وقت کفار سے قتال میں مدد لینا جائز ہے جیسا کہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے یہود کے بالمقابل یہود سے مدد لی اور انہیں کچھ مال دیا)

معتبر ترین حنفی ماخذ السیر الکبیر میں لکھا ہے:

’’ فعرفنا انہ لا باس بالاستعانۃ  بہم وما ذلک الانظیر الاستعانۃ بالکلاب علی قتال المشرکین۔

( غزوہ حنین میں صفوان اور دیگر مشرکین کے خروج سے معلوم ہوا کہ مشرکین سے مدد لینے میں کوئی حرج نہیں اور اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسی کتوں سے کفار کے خلاف مدد لی جائے )

فقہ مالکی میں کفار سے اس طرح مدد لینا کہ وہ قتال میں شریک ہوں جائز نہیں البتہ خدمت لی جا سکتی ہے جیسے مورچے بنانا، قلعوں کی دیوار گرانا، گڑھے کھودنا وغیرہ ( الشرح الکبیر)

فقہ شافعی میں اگر کافر سے خطرہ ہو کہ ساتھ نکل کر نقصان پہنچائے گا اور شکست کا باعث بنے گا تو استعانت ناجائز ہے بصورت دیگر جائز ہے۔( الاُمّ )

اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ اس کتاب میں دوسری جگہ رقمطراز ہیں کہ اگر کافر بخوشی نکلے تو مدد لینے میں کوئی حرج نہیں اور اسے غنیمت میں سے کچھ مال دیا جائے گا اور اگر اہل ذمہ کو حکماً اور جبراً قتال میں شرکت کا کہا جائے تو انہیں اس کی اُجرت دی جائے گی ( الاُمّ )

فقہ حنبلی میں حکم ہے کہ ضرورت شدیدہ کے وقت اس شرط پر مدد لینے کی گنجائش ہے کہ وہ کفار مسلمانوں کے ساتھ اور اسلام کے ساتھ دشمنی نہ رکھتے ہوں بلکہ اچھی رائے کے حامل ہوں۔

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ حنفیہ اور شافعیہ کے نزدیک قتال میں استعانت علی الاطلاق جائز ہے۔

حنابلہ کے ہاں عند الحاجۃ اس کی گنجائش ہے جبکہ مالکیہ کے ہاں ان سے خدمات لی جا سکتی ہیں۔ قتال میں شریک نہیںکیا جاسکتا۔

٭…٭…٭

مسلمانوں میں جہاد اور مجاہدین پر طعن کے سلسلے میں یہ عام بات ہے کہ ہر جگہ جہاد میں کسی کی معاونت یا کسی کے مقاصدو مفادات ڈھونڈھ کر اس پر اعتراض کی تلوار چلا دیتے ہیں۔ دنیا میں ہر اچھے برے کام کے ساتھ کئی لوگوں کے کئی قسم کے مفادات اور مقاصد وابستہ ہوتے ہیں ۔ کیا کسی اچھے کام کے ساتھ کسی برے انسان کے مفادات وابستہ ہو جانے سے وہ ناجائز ہو جاتا ہے؟

اگر اس کلیے پر پرکھا جائے تو روزہ اور حج بھی اعتراضات سے نہیں بچ سکتے کہ ان دونوں کے ساتھ کیسے کیسے لوگوں کے تجارتی اور دیگر مفادات وابستہ ہیں اور اگر ایک کافر کے خلاف لڑنے سے دوسرے کو پہنچنے والا فائدہ یا خوشی اس لڑائی کے عدم جواز کا سبب ہے تو شاید سب سے پہلے اس کی زد میں صحابہ کرام کا روم کے خلاف خروج آئے گا۔

دنیا میں اس وقت جتنی بھی معروف جہادی تحریکات ہیں مثلاً فلسطین ، کشمیر، افغانستان وغیرہ ان تمام مقامات پر جہاد مسلمانوں نے خود شروع کیا۔ دینی نقطہ نظر سے کیا ،شرعی دلائل کی بناء پر کیا اور شرعی اصولوں کے تحت کیا۔ بعد میں اگر کفار یا اسلامی ریاستوں کے اداروں کے مفادات ان سے وابستہ ہوئے اور انہوں نے شرکت کر لی تو اس کی مثال اس معاونت اور استعانت کی ہے جس کا حکم شرعی آپ کے سامنے اوپر کی سطور میں تفصیل سے رکھا جا چکا اور اس میں سب سے اہم بات جو یاد رکھنے کی ہے وہ ’’السیر الکبیر‘‘ کی عبارت میں درج مثال ہے۔

اگر مسلمانوں نے کسی لڑائی کا آغاز ان کفار یا اداروں کے کہنے پر کیا ہو، یا کسی جہاد کو ان کفار و اداروں کی پالیسیاں بدل جانے سے ترک کر دیا ہو تو معترضین کا حق بنتا تھا کہ وہ کچھ کہتے، لیکن ایسا کسی جگہ بھی ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ مجاہدین نے ان تحریکات کی بنیاد بے سرو سامانی کے عالم میں توکلاً علی اللہ تھوڑے اسباب کے ساتھ رکھی۔ اگر درمیان کے مراحل میں استعانت کی وجہ سے اسباب کی کثرت ہوئی تو ان سے جہاد میں ہی مدد لی اور جب پالیسیاں بدل کر انہیں معاونین نے عرصہ حیات تنگ کیا تو جہاد چھوڑا نہیں گیا بلکہ جس قدر اسباب مہیا ہو سکے انہی کو لے کر جیسے تیسے جاری رکھا ہوا ہے۔ افغانستان اور کشمیر کی تحریکیں، ان تحریکوں میں پاکستان اور امریکہ وغیرہ کے سابقہ رویے اور حالیہ یوٹرن اور ان کے مقابل مجاہدین کا طرز عمل اس امر کے جیتے جاگتے گواہ ہیں۔

البتہ اگر کسی کے ہاں ریاست کے خلاف خروج نہ کرنا ہی ’’ٹاؤٹی‘‘ کہلاتا ہے تو اس کا سوائے اس کے کوئی جواب نہیں:

’’سلام علیکم لانبتغی الجاھلین ‘‘

 

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor