Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جہاد کا بیانیہ (7) (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف

Assalam-o-Alaikum 537 (Talha-us-Saif) - liberal pakistan

جہاد کا بیانیہ (7)

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 537)

کم سے کم مقدار

کسی حکم پر عمل کا کم سے کم درجہ وہ ہوتا ہے جس پرعامل ہو کر انسان وعید سے بچ جائے۔

ترک جہاد پر قرآن و حدیث میں شدید وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔

 (۱)ترجمہ : اے ایمان والو! تمہیں کیا ہوا جب تمہیں کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں کوچ کرو تو زمین پر گرے جاتے ہو، کیا تم آخرت کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر خوش ہو گئے ہو، دنیا کی زندگی کا فائدہ تو آخرت کے مقابلہ میں بہت ہی کم ہے۔(التوبۃ:۳۸)

(۲)ترجمہ :اگر تم نہ نکلو گے تو اللہ تمہیں دردناک عذاب میں مبتلا کرے گا اور تمہاری جگہ اور لوگ پیدا کرے گا اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔(التوبۃ:۳۹)

(۳)ترجمہ:اور تم اس فتنہ سے بچتے رہو جو تم میں سے خاص ظالموں پر ہی نہ پڑے گا، اور جان لو کہ بے شک اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔( سورۃ الانفال آیت 25)

(۴)ترجمہ :جو لوگ پیچھے رہ گئے وہ رسول اللہ کی مرضی کے خلاف بیٹھ رہنے سے خوش ہوتے ہیں اور اس بات کو ناپسند کیا کہ اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کریں اور کہا کہ گرمی میں مت نکلو، کہہ دو کہ دوزخ کی آگ کہیں زیادہ گرم ہے، کاش یہ سمجھ سکتے۔سو وہ تھوڑا سا ہنسیں اور زیادہ روئیں، ان کے اعمال کے بدلے جو کرتے رہے ہیں۔سو اگر تجھے اللہ ان میں سے کسی فرقہ کی طرف پھر لے جائے پھر تجھ سے نکلنے کی اجازت چاہیں تو کہہ دو کہ تم میرے ساتھ کبھی بھی ہرگز نہ نکلو گے اور میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے نہ لڑو گے، تمہیں پہلی مرتبہ بیٹھنا پسند آیا سو پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔اور ان میں سے جو مرجائے کسی پر کبھی نماز نہ پڑھ اور نہ اس کی قبر پر کھڑا ہو، بے شک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے کفر کیا اور نافرمانی کی حالت میں مر گئے۔(سورہ التوبہ آیت81/82/83/84)

علامہ ابن النحاس شہید رحمہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے نقل کے بعد مسلمانوں کو اس طرح مخاطب فرمایا:

’’اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے، ان آیات مبارکہ میں غور کرو کہ جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں اور اس میں جان و مال خرچ نہ کرنے والوں کے لئے کتنی سخت وعید، کتنی بڑی رسوائی اور کتنا دردناک وبال ہے۔ یہ آیات اگرچہ کچھ خاص(منافق) لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، لیکن ان میں ان تمام اَفراد کے لئے سخت تنبیہ اور وعید ہے جو ان منافقوںجیسے کام کریں گے اور منافقوں کی طرح فرض جہاد سے پیچھے رہ جائیں گے،بس اسی سے اندازہ لگالو کہ جہاد کا چھوڑنا کتنا برا کام ہے ( کہ مسلمان کو منافقوں کی صف میں شامل کر دیتا ہے) ور اس پر کتنی سخت وعید ہے۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ العظیم

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم خرید و فروخت میںمشغول ہو جاؤ گے اور گائے کی دم پکڑ لو گے اور کھیتی باڑی سے دل لگا لو گے اور جہاد کو چھوڑ دو گے تو اللہ ( تعالیٰ) تم پر ذلت مسلط فرما دے گا اور اس وقت تک تم سے اس ذلت کو نہیں ہٹائے گا جب تک تم اپنے دین کی طرف نہیں لوٹ آؤ گے۔ ( ابو داؤد)

اس حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ لوگ جب جہاد کو چھوڑ کر کھیتی باڑی اور اس طرح کے دوسرے کاموں میں مشغول ہوں گے تو ذلت اورپستی ان کا مقدر بن جائے گی اور وہ اس ذلت سے اسی وقت چھٹکارہ پا سکیں گے جب کافروں سے جہاد کریں گے، ان سے نفرت اور سختی کا برتاؤ کریں گے، اسلام اور مسلمانوں کی نصرت کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے کلمے کو بلند کرنے اور کفر اور کافروں کو مغلوب کرنے کے لئے محنت کریں گے( یاد رکھئے) یہ سب کچھ ان کے ذمے( اللہ تعالیٰ کی طرف سے)لازم ہے۔‘‘…( فضائل جہاد42/43)

ان تمام نصوص اور ان کے علاوہ قرآن و حدیث کے کئی مقامات پر ترک جہاد پر شدید وعیدیں وارد ہوئیں ہیں۔ ایسے کئی طویل قصے قرآن مجید میں مذکور ہیں جن میں جہاد سے پہلو تہی کرنے، اس میں سستی دکھانے اور جہاد کے موقع پر تاویلات اور بہانے کرنے والے افراد کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ قرآن مجید میں جتنے بھی غزوات کا تفصیلی تذکرہ ہے ان کے واقعہ میں مومنین اور کفار کے ساتھ ان لوگوں کا احوال اور حکم بھی بیان کیا گیا ہے جنہوں نے اس موقع پر اِعراض کا رویہ اپنایا اور جہاد میں شرکت نہ کی۔ ہر موقع پر ان کی مذمت کی گئی اور انہیں شدید عذاب کی تہدید کی گئی۔ البتہ دو احادیث میں یہ مسئلہ صراحت کے ساتھ آ گیا ہے کہ ترک جہاد کی وعید اس ترک کے کس درجے کے ساتھ متعلق ہے اور دو احادیث میں یہ صراحت آ گئی کہ کس حد تک عمل کرنے لینے سے وعید سے بچا جا سکتا ہے۔ وعیدیں دو ہیں اور دونوں انتہائی سخت:

(۱) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں:

جس شخص نے نہ جہاد کیا اور نہ اس نے دل سے جہاد کی سچی نیت کی وہ نفاق کے ایک شعبے پر مرے گا ( مسلم)

پہلی وعید یہ ہوئی کہ اسے ایمان کامل پر نہیں بلکہ نفاق کے ایک درجے پر موت آئے گی اور یہ مسئلہ قرآن مجید کی کئی آیات سے صراحت کے ساتھ ثابت ہے کہ مومن کا ایمان نظریہ جہاد کے بغیر مکمل نہیں ہوتا اس لئے قرآن مجیدمیں نفاق کا سارا موضوع ہی آیات جہاد کے گرد گھومتا ہے۔ اس حدیث میں بھی یہ ارشاد بطور تفسیر وارد ہوا کہ کم از کم سچے دل سے جہاد کی نیت رکھنا ایمان کی تکمیل کے لئے لازم ہے اور یہ مسئلہ بھی خود قرآن نے حل کر دیا کہ نیت کے سچے ہونے نہ ہونے کی علامت کیاہے؟

ترجمہ: اور اگر نیت رکھتے(جہاد میں) نکلنے کی تو ضرور اس کے لئے تیاری رکھتے۔ ( التوبۃ 46)

بقدر استطاعت جہاد کی تیاری رکھنے کو نیت کی سچائی کی علامت کے طور پر خود اللہ رب العزت نے متعین فرما دیا۔ ایک مسلمان پر لازم ہے کہ وہ جس قدر استطاعت ہو اتنی جسمانی و مادی تیاری رکھے اور دل میں سچائی کے ساتھ جہاد کی نیت رکھے تاکہ اس شدید وعید سے بچ سکے۔ ایک مسلمان کے لئے ایمان کامل کے حصول سے بڑھ کر کوئی ہدف نہیں اور ایمان کامل سے محرومی سے بڑھ کر کوئی وعید نہیں۔

(۲) حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

جس شخص نے خود بھی جہاد نہ کیا اور نہ کسی مجاہد کو سامان جہاد فراہم کیا اور نہ کسی مجاہد کے پیچھے اس کے گھر والوں کی بھلائی کے ساتھ دیکھ بھال کی اللہ تعالیٰ قیامت سے پہلے اسے کسی دردناک مصیبت میں مبتلا فرما دے گا ( ابو داؤد)

یعنی اولین درجہ خود جہاد میں عملی شرکت کرنا ہے، اوسط درجہ مجاہد کو سامان جہاد فراہم کرنا اور ادنی درجہ مجاہد کے گھر کی دیکھ بھال اور کفالت کرنا ہے۔ جس نے ان میں سے کسی درجے پر بھی عمل نہ کیا اس کے لئے وعید ہے’’ اصابہ اللہ بقارعۃ قبل یوم القیامۃ ‘‘…

اللہ تعالیٰ اسے ’’قارعۃ ‘‘ میں مبتلا کر دے گا۔ ’’قارعہ‘‘ کس درجے کی مصیبت کو کہا جاتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ قرآن مجید میں قیامت کو ’’القارعۃ ‘‘ کہا گیا ہے۔

اس امر کو دونوں طرح ذکر کیا گیا ہے۔ یہاں وعید کے انداز میں اور دوسری روایت میں وعید کے الفاظ نہیں البتہ جہاد میں شرکت کے درجات کو اسی ترتیب سے واضح کیا گیا ہے۔

’’جس شخص نے کسی غازی کو سامان جہاد فراہم کیا اس نے بھی جہاد میں شرکت کی اور جس نے کسی غازی کے پیچھے اس کے گھر بار کی کفالت کی اس نے بھی جہاد میں شرکت کی ۔ ( متفق علیہ)

یہ ہیں جہاد میں شرکت نہ کرنے پر سخت وعیدیں اور وہ کم سے کم درجہ جس پر عمل پیرا ہو کر وعید سے بچا جا سکتا ہے۔

تربیت

جہاد کی تربیت کرنا اور آلات جہاد کا تیار رکھنا مستقل حکم شرعی ہے اور قرآن مجید میں اس کا امر وارد ہوا ہے:

وَاَعِدُّوْا لَـہُـمْ مَّا اسْتَطَعْتُـمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْہِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّـٰہِ وَعَدُوَّکُمْ وَاٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِـہِـمْ لَا تَعْلَمُوْنَـہُـمُ اللّـٰہُ یَعْلَمُہُـمْ  وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْء ٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّـٰہِ یُوَفَّ اِلَیْکُمْ وَاَنْتُـمْ لَا تُظْلَمُوْنَ

ترجمہ:اور ان سے لڑنے کے لیے جو کچھ قوت سے اور صحت مند گھوڑوں سے جمع کرسکو سو تیار رکھو کہ اس سے اللہ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر اور ان کے سوا دوسروں پر رعب پڑے، جنہیں تم نہیں جانتے اللہ انہیں جانتا ہے، اور اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے تمہیں (اس کا ثواب) پورا ملے گا اور تم سے بے انصافی نہیں ہوگی۔(سورۃ الانفال آیت 60)

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دو چیزیں تیار رکھنے کا حکم فرمایا:

(۱) قوۃ

اور نبی کریم ﷺ نے اس کی تفسیر میں فرمایا:

’’الا ان القوۃ الرمی‘‘

(قوت پھینک کر مارنا ہے)

یوں تو ہر طرح کا جنگی سامان تیار رکھنا اور اس کی مکمل تربیت حاصل کرنا اس آیت کا مصدق ہے لیکن نبی کریمﷺ کی تشریح کے سبب ’’الرمی‘‘ پھینک کر مارے جانے والے اسلحہ کو اس میں خاص مقام حاصل ہے اور اس کی تاکید احادیث مبارکہ میں زیادہ وارد ہوئی ہے۔

امام قرطبی رحمہ اللہ تعالیٰ آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’ امر اللہ سبحانہ المومنین باعداد القوۃ للاعدائ… وکل ماتعدہ لصدیقک من خیر او لعدوک من شر فھو داخل فی عدتک‘‘…

( اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو دشمنوں کے مقابل قوت تیار کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ ہر وہ چیز جو آپ نے اپنے ساتھیوں کی بھلائی اور دشمنوں کو ضرر پہنچانے کے لئے تیار کریں گے وہ اس تربیت میں شامل ہے)

(۲) گھوڑے باندھنا:

گھوڑا زمانہ قدیم کے جہاد میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا اور میدان جنگ میں لشکروں کی فتح و شکست کا مدار گھڑ سواروں کی کروفر پر ہی ہوا کرتا تھا۔ اس کی اس خصوصی حیثیت کے پیش نظر مال غنیمت میں گھڑ سوار کا حصہ پیدل فوجی سے دگنا رکھاگیا۔ گھوڑوں کی ٹاپوں اور حملوں کی قسمیں قرآن مجید میں کھائی گئیں ہیں اور گھوڑنے باندھنے کا تاکیدی حکم اس آیت میں ارشاد فرمایا گیا۔ البتہ عملی جہاد میں گھوڑے کا کردار نہ رہے یا کم ہو جانے سے یہ حکم اور اس کی اہمیت کم نہیں ہوتی کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اس حکم اور فضیلت کو قیامت تک جاری فرما دیا۔

’’ الخیل معقود فی نواصیہا الخیر الاجر والمغنم الی یوم القیامۃ ‘‘ ( صحیح مسلم)

( گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک خیر باندھ دی گئی ہے یعنی اجر اور غنیمت)

اور اس بات سے تو کسی کو انکار نہیں ہو سکتا ہے کہ تربیت جہاد میں گھوڑے کا کردار جیسا زمانہ ماضی میں تھا آج بھی ہے۔ جہاد میں شرکت کے لئے ایک انسان کو جس قدر جسمانی اور قلبی مضبوطی درکار ہوتی ہے اس کے حصول کا گھڑ سواری سے بہتر ذریعہ آج بھی کوئی نہیں۔ چونکہ تربیت جہاد کا حکم قیامت تک کے لئے ہے اور گھوڑے کا اس میں کردار ہمیشہ رہے گا اس لئے گھوڑے باندھنے کا حکم اور فضیلت بھی ہمیشہ کے لئے ہے۔

(گھوڑا پالنے اور رمی کرنے کے فضائل تفصیلاً فضائل جہاد میں ملاحظہ کر لئے جائیں)

آگے امام قرطبی رحمہ اللہ تعالیٰ نے تربیت جہاد کے حکم شرعی کی بات کی ہے:

’’ وتعلم الفروسیۃ واستعمال الاسلحۃ فرض کفایۃ وقد یتعین ( الجامع الاحکام ج 8، ص 35

( گھڑ سواری اور اسلحہ چلانا سیکھنا فرض کفایہ ہے اور بعض حالات میں فرض عین بھی ہو جاتا ہے)

یعنی جس زمانے میں جو حکم جہاد ہو گا وہی حکم تربیت کا بھی ہو گا۔

فقہ کا مشہور و مسلم کلیہ ہے:

’’ ما لا یتم الواجب الا بہ فھو واجب‘‘

( واجب کی ادائیگی جس عمل پر موقوف ہو وہ بھی واجب ہوتا ہے)

فرضیت جہاد کی بات پیچھے بالتفصیل گزر چکی ہے اور جہاد کی ادائیگی تربیت پر موقوف ہے۔ اس اصول کلی کی رو سے بھی تربیت جہاد کا حکم واضح ہے۔

حضرات علماء کرام نے تربیت جہاد کے وجوب پر ان روایات سے بھی استدلال کیا ہے جن میں تیر اندازی سیکھ کر بھلا دینے پر شدید وعید آئی ہے۔ اگر یہ کام واجبات میں سے نہ ہوتا تو اس کے ترک یا بھلا دینے پر وعید وارد نہ ہوتی۔

بہرحال کفار کے مقابلے کے لئے خود کو جسمانی طور پر اور مادی اعتبار سے تیار رکھنا اللہ تعالیٰ کے تاکیدی احکام میں سے ہے اور اس کی اہمیت کا اندازہ نبی کریم ﷺ کی اس خصوصی توجہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو تیاری کا حکم دیا، فضائل بیان فرمائے، ترک پر وعیدیں سنائیں،شوق دلانے کی خاطر مقابلہ بازی کا رجحان پیدا کیا اور مسابقین کو انعامات سے نواز کر حوصلہ افزائی فرمائی اور بہت سے صحابہ کرام کو خاص عسکری فنون کے حصول کے لئے دوسری علاقوں میں بھی بھیجا اور اس کا فقہی حکم اوپر امام قرطبی رحمہ اللہ کی عبارت میں آ چکا۔

٭…٭…٭

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor